صفحۂ اول / ممالک / عراق / نینویٰ / موصل
موصل
موصل شمالی عراق میں دجلہ کے کنارے واقع نینویٰ گورنری کا مرکزی شہر ہے۔ اس کی تاریخ جغرافیائی طور پر قریب واقع قدیم آشوری شہر نینویٰ سے مربوط ضرور ہے، مگر دونوں کو ایک ہی شہر سمجھنا درست نہیں۔ اسلامی ادوار میں موصل ایک اہم سیاسی، تجارتی اور فنی مرکز بنا اور بارہویں صدی میں زنگی حکمرانوں کے زمانے میں اسے خاص عروج ملا۔ یونیسکو کے قدیم شہر موصل کے اندراج میں زنگی دور کی شہری تہہ اور جامع نوری کو نمایاں کیا گیا ہے، جبکہ عجائب گھری تحقیق بارہویں اور تیرہویں صدی میں موصل کی جڑاؤ دھات کاری کے فروغ اور پھیلاؤ میں بڑی اہمیت دکھاتی ہے۔ اس طرح شہر اسلامی معماری اور مادی ثقافت دونوں کے مطالعے میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
اسلامی پیڈیا کا یہ شہری صفحہ موصل سے وابستہ مستند مساجد، مزارات، تاریخی شخصیات اور نقشاتی مقامات کو منظم کرتا ہے۔ مقامی روایت میں متعدد مقدس نسبتیں پائی جاتی ہیں، اس لیے جامع نوری جیسی مضبوط طور پر دستاویزی عمارت کو ان قبروں، انبیائی مقامات یا دوسری زیارتی نسبتوں سے الگ رکھا جاتا ہے جو بعد کی روایت پر قائم ہوسکتی ہیں۔ نقشہ موجودہ موصل، قدیم نینویٰ اور وسیع گورنری کے فرق کو بھی واضح رکھتا ہے تاکہ ہر اندراج کی درست جغرافیائی نوعیت سمجھی جاسکے۔
شہری تعارف کے مآخذ
مزارات
جامع المجاہدی (مقام حضرت خضر علیہ السلام)
تاریخی مساجد
جامع نبی جرجیس اور منسوب مقام، موصل
تاریخی مساجد
جامع نبی شیث اور حضرت شیث علیہ السلام سے منسوب مقام، موصل
تاریخی مساجد
مرقد و مسجد شیخ فتحی موصلی رحمۃ اللہ علیہ
اولیاء و صوفیاء
مزار حضرت امام عون الدین بن حسن رحمۃ اللہ علیہ
دیگر مزارات و تاریخی مقامات
مزار شیخ قضیب البان رحمۃ اللہ علیہ
اولیاء و صوفیاء
مقام حضرت عباس علمدار علیہ السلام، شلالات موصل
دیگر مزارات و تاریخی مقامات
🗺️ مزارات کا نقشہ
مرکزی نقشے کی طرح ہر مزار الگ سبز اور قابلِ انتخاب نشان سے دکھایا گیا ہے۔