آیات، معجزات، کرامات اور عبرت آموز واقعات

منظور شدہ واقعات کو زمرے اور مرکزی رجسٹری کی مستند شخصی نسبت، ثبوتی درجے اور اصل مآخذ کے ساتھ دیکھیں۔ نبوی معجزہ، کرامت، تاریخی واقعہ اور جدید دعویٰ اپنی درست اصطلاح میں الگ رہتے ہیں۔

بنیادی زمرے

صحابی/صحابیہ کی کرامتالٰہی عذابدعا کی قبولیتتاریخی نتیجہ

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حملہ آور کے خلاف دعا کی روایت

امام لالکائی کی محفوظ کردہ ایک کلاسیکی روایت میں ابو قلابہ کا ذکر ہے کہ شام کے سفر میں انہیں ایک نابینا شخص ملا جس کے ہاتھ اور ٹانگیں نہیں تھیں۔ اس شخص نے کہا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھر کے محاصرے کے دوران وہ اندر داخل ہونے والوں میں تھا، اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کو مارا، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ اللہ اس کے ہاتھ اور ٹانگیں لے لے، اسے نابینا کر دے اور جہنم میں داخل کرے۔ اس شخص کے مطابق دعا کے جسمانی حصے بعد میں پورے ہوئے اور اس نے اپنی حالت کو اسی دعا کا نتیجہ سمجھا۔ لالکائی نے اسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کرامات میں ذکر کیا، مگر سند کمزور ہے اور بعد کی نقلیں کوئی مضبوط مستقل سند فراہم نہیں کرتیں۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ · PER-000402 · بعد کی مناقب و کرامات
صحابی/صحابیہ کی کرامتالٰہی عذابتاریخی نتیجہ

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عصا کے توڑے جانے اور بعد کی عبرت ناک آفت کی روایت

کلاسیکی سنی مصادر میں ایک روایت محفوظ ہے کہ جہجاہ غفاری نامی شخص نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے، جب آپ منبر پر تھے، عصا لے کر توڑ دیا۔ اسی روایت کے مجموعے میں ہے کہ اس کے بعد جہجاہ کو الآکِلَہ نامی آفت لاحق ہوئی، اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک متصل طریق میں ہے کہ ایک سال گزرنے سے پہلے اسی سے اس کی موت ہوگئی۔ اللالکائی نے اس واقعے کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کرامات کے ضمن میں ذکر کیا ہے، جبکہ ابو نعیم نے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہ سے متصل روایت کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق نشانیوں کے باب میں محفوظ کیا ہے۔ مختلف طرق میں جسم کے متاثرہ حصے کی تعیین مختلف ہے، اس لیے الآکِلَہ کو ایک تاریخی مرض کا نام ہی رہنے دینا چاہیے اور اسے کسی جدید تشخیص کے برابر قرار نہیں دینا چاہیے۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ · PER-000402 · قدیم تاریخ
صحابی/صحابیہ کی کرامتدعا کی قبولیترحمت یا برکت

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے استسقاء کے بعد بارش اور بادل سے آواز کی روایت

ایک کلاسیکی روایت کے مطابق حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سخت قحط پڑا تو آپ نے لوگوں کو نمازِ استسقاء پڑھائی، چادر کے دونوں کنارے بدلے، اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور بارش کی دعا کی، اور لوگوں کے واپس ہونے سے پہلے بارش ہوگئی۔ اسی ضعیف روایت میں یہ بھی ہے کہ بعد میں کچھ اعرابی آئے اور انہوں نے بتایا کہ ایک بادل نے ان پر سایہ کیا اور اس میں سے آواز سنی کہ ابو حفص کے لیے کشادگی آگئی ہے۔ صحیح احادیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اجتماعی استسقاء اور نبی کریم ﷺ کے دو رکعت پڑھنے اور چادر پلٹنے کے طریقے کی الگ سے تصدیق کرتی ہیں، مگر بادل سے آواز والی اسی مخصوص روایت کو صحیح ثابت نہیں کرتیں۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ · PER-000393 · قدیم تاریخ
صحابی/صحابیہ کی کرامتتاریخی نتیجہ

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بار بار درست ثابت ہونے والی فراست

صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان محفوظ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کسی معاملے میں اپنی رائے ظاہر کرتے تو بارہا معاملہ اسی طرح سامنے آتا جیسا انہوں نے سمجھا تھا۔ اسی روایت میں ایک واضح مثال بھی ہے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گزرنے والے مسلمان کے بارے میں گمان کیا کہ وہ زمانۂ جاہلیت میں اپنی قوم کا کاہن رہا ہوگا، اور اس شخص نے خود اس کی تصدیق کی۔ ایک دوسری صحیح نبوی روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر مُحَدَّثین کے ضمن میں آتا ہے، جبکہ ابن حجر اس سے نبوت کے بغیر سچی فراست یا الہام یافتہ بصیرت مراد لیتے ہیں۔ دیگر روایات میں وہ معروف مواقع بھی محفوظ ہیں جہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق بعد میں قرآنی وحی نازل ہوئی، لیکن اس سے ان کے لیے عصمت یا وحی ثابت نہیں ہوتی۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ · PER-000393 · صحیح حدیث
صحابی/صحابیہ کی کرامتپیش خبری یا وحیتاریخی نتیجہ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بنت خارجہ کے حمل میں موجود بچی کے بارے میں قول

امام مالک کی الموطأ میں ایک روایت محفوظ ہے کہ اپنی آخری بیماری کے دوران حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بنت خارجہ کے حمل کے بارے میں کہا: “أراها جارية” — “میرا خیال ہے کہ وہ لڑکی ہے۔” الموطأ کی ایک قدیم روایت میں بعد میں لڑکی پیدا ہونے کا ذکر ہے، جبکہ امام لالکائی اسے ام کلثوم قرار دیتے ہیں اور اس درست اندازے کے پورا ہونے کو کرامت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس واقعے کو پورا ہونے والا قوی گمان ہی رہنے دینا چاہیے؛ اسے نبوی وحی، مستقل علمِ غیب یا طبی پیش گوئی کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ · PER-000387 · بعد کی مناقب و کرامات
الٰہی نجاتاہلِ ایمان کی نجاترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ

حضرت ہاجرہ اور شیر خوار اسماعیل علیہ السلام کے لیے زمزم: توکل، تلاش اور الٰہی نجات

صحیح بخاری حضرت ہاجرہ اور شیر خوار اسماعیل علیہ السلام کی بے آب و گیاہ وادی میں مکمل داستان محفوظ کرتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں بیتِ حرام کے قریب تھوڑی کھجوروں اور پانی کے ساتھ چھوڑ گئے۔ جب حضرت ہاجرہ کو معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا حکم ہے تو انہوں نے یقین سے کہا کہ اللہ انہیں ضائع نہیں کرے گا۔ پانی ختم ہونے پر وہ صفا اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ مدد تلاش کرتی رہیں۔ پھر زمزم کے مقام پر فرشتے نے ایڑی یا پر سے زمین کھودی اور پانی نکل آیا۔ حضرت ہاجرہ نے پانی پیا، بچے کو دودھ پلایا، اور بعد میں قبیلۂ جرہم نے اسی پانی کو دیکھ کر ان کی اجازت سے قریب سکونت اختیار کی۔

حضرت ہاجرہ · PER-000381 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیعبرتمخالفین پر حجت

چلتا ہوا پتھر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی علانیہ براءت

صحیح بخاری ایک غیر معمولی واقعہ محفوظ کرتی ہے جس کے ذریعے اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک تکلیف دہ جسمانی الزام سے لوگوں کے سامنے بری فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نہایت باحیا تھے اور تنہائی میں غسل کرتے تھے، مگر بنی اسرائیل میں سے بعض لوگوں نے اسی حیا کو شک کا سبب بنا کر ان کے بارے میں عیب کی بات پھیلائی۔ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے کپڑے پتھر پر رکھے تو پتھر کپڑے لے کر چل پڑا، حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے گئے، اور آخرکار الزام غلط ثابت ہوگیا۔ صحیح بخاری اس براءت کو سورۂ احزاب ۳۳:۶۹ سے جوڑتی ہے، جبکہ دوسری صحیح روایت بھی چلتے پتھر کے بنیادی واقعے کی تائید کرتی ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام · PER-000366 · صحیح حدیث
قبول شدہ نبوی دعانبوی تائید کی نشانیدعا کی قبولیتآزمائشعبرترحمت یا برکت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا اور آسمانی مائدہ: عید، نشانی اور امتحان

قرآنِ مجید حواریوں کی ایک غیر معمولی درخواست بیان کرتا ہے: انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آسمان سے مائدہ نازل ہونے کی دعا کرنے کو کہا تاکہ وہ اس میں سے کھائیں، ان کے دل مطمئن ہوں، انہیں آپ کی صداقت پر مزید یقین حاصل ہو اور وہ اس نشانی کے گواہ بنیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پہلے انہیں تقویٰ کی نصیحت کی، پھر دعا کی کہ یہ مائدہ پہلے اور بعد والوں کے لیے عید، اللہ کی طرف سے نشانی اور رزق بنے۔ اللہ نے جواب دیا کہ وہ اسے نازل فرمائے گا، مگر اس کے بعد کفر پر غیر معمولی سخت تنبیہ بھی فرمائی۔ بڑے کلاسیکی مفسرین اس جواب کو حقیقی نزول پر محمول کرتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن
الٰہی نجاتاہلِ ایمان کی نجاترحمت یا برکتمخالفین پر حجتتاریخی نتیجہ

اصحابِ کہف: ایمان، طویل نیند، بیداری اور قیامت کی نشانی

قرآن اصحابِ کہف کو ایسے مومن نوجوانوں کے طور پر بیان کرتا ہے جن کے دل اللہ نے مضبوط کیے۔ انہوں نے اپنی قوم کے باطل معبودوں سے براءت کی، غار میں پناہ لی اور رحمت و درست رہنمائی مانگی۔ اللہ نے انہیں کئی برس گہری نیند میں محفوظ رکھا اور پھر جگایا۔ انہیں گمان ہوا کہ شاید ایک دن یا دن کا کچھ حصہ گزرا ہے، اس لیے انہوں نے چاندی کا سکہ دے کر ایک ساتھی کو شہر سے اچھا کھانا لانے بھیجا اور سخت احتیاط کی تاکید کی، کیونکہ پہچانے جانے پر سنگسار کیے جانے یا دوبارہ پرانے مذہب میں لوٹائے جانے کا خطرہ تھا۔ آخرکار ان کا ظاہر ہونا اللہ کے وعدے اور قیامت کی سچائی کی نشانی بن گیا۔

اصحابِ کہف · PER-000379 · قرآن
وحیانی نشانی یا پیش خبرینبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیمخالفین پر حجت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لوگوں کے کھانے اور گھریلو ذخیرے کی خبر دینا: رب کی طرف سے نشانی

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بنی اسرائیل کے سامنے ظاہر ہونے والی نشانیوں میں قرآن ایک غیر معمولی علم کا ذکر کرتا ہے: آپ انہیں بتاتے تھے کہ وہ کیا کھاتے ہیں اور اپنے گھروں میں کیا ذخیرہ کرتے ہیں۔ یہی آیت اس خبر کو دوسری نبوی نشانیوں کے ساتھ رکھ کر ایمان والوں کے لیے دلیل قرار دیتی ہے۔ کلاسیکی تفسیر واضح کرتی ہے کہ یہ ایسے نجی گھریلو امور تھے جنہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عام انسانی مشاہدے سے نہیں جانا تھا بلکہ اللہ نے انہیں یہ علم عطا فرمایا تھا؛ بعد کی تفصیلی حکایات قرآن کے صریح الفاظ کا حصہ نہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتمخالفین پر حجت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا: اللہ کے اذن سے نبوت کی عظیم نشانی

قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مردوں کو زندہ کرنے کو بنی اسرائیل کے لیے ان کی رسالت کی نہایت واضح نشانیوں میں شمار کرتا ہے۔ سورۂ آل عمران ۳:۴۹ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کے اذن سے مردوں کو زندہ کرتے ہیں۔ سورۂ مائدہ ۵:۱۱۰ اسی عمل کو اللہ کی نعمت کے طور پر دوبارہ یاد کرتی ہے اور پھر اللہ کے اذن کی قید دہراتی ہے۔ یوں معجزہ نبوت کی دلیل ہے، مستقل ذاتی قدرت نہیں۔ قریب کی آیات اسے رسول کی اطاعت، صرف اللہ کی عبادت اور سیدھے راستے کی دعوت سے جوڑتی ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتمخالفین پر حجت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نابینا اور برص والے مریض کو شفا دینا: اللہ کے اذن سے نبوت کی نشانیاں

قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اکمہ اور برص والے مریض کو شفا دینے کو بنی اسرائیل کے لیے ان کی رسالت کی واضح نشانیوں میں شمار کرتا ہے۔ سورۂ آل عمران میں یہ شفائیں ان غیر معمولی دلائل کے اندر آتی ہیں جنہیں وہ اپنے رب کی طرف سے نشانی قرار دیتے ہیں۔ سورۂ مائدہ انہی شفاؤں کو دوبارہ اللہ کی نعمت کے طور پر یاد کرتی ہے اور صاف بتاتی ہے کہ وہ اللہ کے اذن سے ہوئیں۔ یہ واقعات مستقل ذاتی شفائی طاقت نہیں بلکہ نبوی دلیل ہیں جو اللہ کی اطاعت اور اسی کی عبادت کی دعوت سے جڑی ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن