منظور شدہ واقعات کو زمرے اور مرکزی رجسٹری کی مستند شخصی نسبت، ثبوتی درجے اور اصل مآخذ کے ساتھ دیکھیں۔ نبوی معجزہ، کرامت، تاریخی واقعہ اور جدید دعویٰ اپنی درست اصطلاح میں الگ رہتے ہیں۔
الٰہی نجاتاہلِ ایمان کی نجاترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ
صحیح بخاری حضرت ہاجرہ اور شیر خوار اسماعیل علیہ السلام کی بے آب و گیاہ وادی میں مکمل داستان محفوظ کرتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں بیتِ حرام کے قریب تھوڑی کھجوروں اور پانی کے ساتھ چھوڑ گئے۔ جب حضرت ہاجرہ کو معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا حکم ہے تو انہوں نے یقین سے کہا کہ اللہ انہیں ضائع نہیں کرے گا۔ پانی ختم ہونے پر وہ صفا اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ مدد تلاش کرتی رہیں۔ پھر زمزم کے مقام پر فرشتے نے ایڑی یا پر سے زمین کھودی اور پانی نکل آیا۔ حضرت ہاجرہ نے پانی پیا، بچے کو دودھ پلایا، اور بعد میں قبیلۂ جرہم نے اسی پانی کو دیکھ کر ان کی اجازت سے قریب سکونت اختیار کی۔
حضرت ہاجرہ · PER-000381 · قرآن
الٰہی نجاتاہلِ ایمان کی نجاترحمت یا برکتمخالفین پر حجتتاریخی نتیجہ
قرآن اصحابِ کہف کو ایسے مومن نوجوانوں کے طور پر بیان کرتا ہے جن کے دل اللہ نے مضبوط کیے۔ انہوں نے اپنی قوم کے باطل معبودوں سے براءت کی، غار میں پناہ لی اور رحمت و درست رہنمائی مانگی۔ اللہ نے انہیں کئی برس گہری نیند میں محفوظ رکھا اور پھر جگایا۔ انہیں گمان ہوا کہ شاید ایک دن یا دن کا کچھ حصہ گزرا ہے، اس لیے انہوں نے چاندی کا سکہ دے کر ایک ساتھی کو شہر سے اچھا کھانا لانے بھیجا اور سخت احتیاط کی تاکید کی، کیونکہ پہچانے جانے پر سنگسار کیے جانے یا دوبارہ پرانے مذہب میں لوٹائے جانے کا خطرہ تھا۔ آخرکار ان کا ظاہر ہونا اللہ کے وعدے اور قیامت کی سچائی کی نشانی بن گیا۔
اصحابِ کہف · PER-000379 · قرآن
الٰہی نجاترحمت یا برکت
قرآن بنی اسرائیل کی تاریخ میں اس نعمت کو صاف الفاظ میں یاد کرتا ہے کہ اللہ نے ان پر بادل کا سایہ کیا۔ سورۂ بقرہ 2:57 یہ نعمت براہِ راست بیان کرتی ہے، جبکہ سورۂ اعراف 7:160 اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے واضح سیاق میں پانی، من و سلویٰ اور دوسری الٰہی فراہمی کے ساتھ دوبارہ ذکر کرتی ہے۔ قدیم تفسیر اس بادل کے سائے کو صحرائی دور میں دھوپ سے حفاظت اور راحت کے طور پر سمجھتی ہے، لیکن قرآن بادل کی قطعی مادی نوعیت یا مدت بیان نہیں کرتا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام · PER-000366 · قرآن
الٰہی نجاتآزمائشعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیحجدید تحقیقی بحث
فرعون سے نجات کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بے سہارا نہیں چھوڑا۔ قرآن بیان کرتا ہے کہ ان پر بادلوں کا سایہ کیا گیا اور ان کے لیے من و سلویٰ اتارا گیا، اور فرمایا گیا کہ اللہ کی عطا کردہ پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ۔ ساتھ ہی حد سے بڑھنے سے منع کیا گیا۔ بعد میں یہی قوم ایک ہی طرز کے کھانے سے اکتا کر موسیٰ علیہ السلام سے زمین کی عام پیداوار مانگنے لگی۔ یوں یہ واقعہ صرف رزق کے معجزے کی داستان نہیں بلکہ نعمت، شکر، ضبط اور ناشکری کے درمیان ایک گہرا اخلاقی سبق بھی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام · PER-000366 · قرآن
الٰہی نجاتنبوی تائید کی نشانیالٰہی عذاباہلِ ایمان کی نجاتپیش خبری یا وحیعبرتمخالفین پر حجتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیحجدید تحقیقی بحث
قرآنِ مجید موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی نجات کو عظیم الٰہی مدد کے طور پر بیان کرتا ہے۔ سامنے سمندر اور پیچھے فرعون کا لشکر تھا، مگر موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب پر کامل یقین رکھا۔ اللہ کے حکم سے انہوں نے عصا سمندر پر مارا، پانی بڑے پہاڑوں جیسے حصوں میں جدا ہوگیا اور خشک راستہ بن گیا۔ موسیٰ علیہ السلام اور تمام ساتھی محفوظ گزر گئے، جبکہ فرعون اور اس کا لشکر غرق ہوگیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام · PER-000366 · قرآن
الٰہی نجاتنبوی تائید کی نشانیعبرتمخالفین پر حجتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیح
قرآن بیان کرتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کے مخالفین ان کے بتوں کے خلاف دلائل کا جواب نہ دے سکے تو اپنے معبودوں کی حمایت میں انہیں جلانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بھڑکتی آگ تیار کی اور حضرت ابراہیمؑ کو اس میں ڈال دیا، مگر اللہ نے آگ کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمؑ پر ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے۔ صحیح البخاری میں حضرت ابن عباسؓ سے یہ بھی منقول ہے کہ آگ میں ڈالے جاتے وقت حضرت ابراہیمؑ نے کہا: «حسبنا الله ونعم الوكيل»۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام · PER-000365 · قرآن