امام زین العابدین علیہ السلام کے عہد میں ولادت ہوئی؛ درست سال معتبر طور پر معلوم نہیں۔
حسین بن علی زین العابدینؑ
نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
اس بنیادی فہرست میں والدہ کا ذاتی نام درج نہیں؛ غیر معلوم والدہ کے لیے فرضی شخصیت نہیں بنائی گئی۔
PER-000091
اہلِ بیت
قوی امکان
مقامِ تدفین نامعلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حسین بن علی زین العابدین امام علی زین العابدین علیہ السلام کے ایک فرزند تھے۔ شیخ مفید کی «الارشاد» انہیں حسین اصغر سے الگ شمار کرتی ہے اور ان کی والدہ کو ایک بے نام امِ ولد قرار دیتی ہے۔ بعض نسبی مآخذ دونوں ہم نام بھائیوں میں فرق کے لیے اس حسین کو حسین اکبر کہتے ہیں، لیکن محفوظ مرکزی نام میں صرف حسین درج ہے۔ ان کی الگ زندگی، ولادت، وفات، علمی سرگرمی اور مدفن کے بارے میں مضبوط مستقل مواد محفوظ نہیں، اس لیے اس پروفائل کو محدود مگر محفوظ نسبی تعارف تک رکھا گیا ہے اور حسین اصغر کی محدثانہ سوانح اس سے الگ رکھی گئی ہے۔
وفات کا درست سال اور مقام معتبر مستقل ماخذ سے معلوم نہیں۔
مدفن معلوم نہیں؛ حسین اصغر سے منسوب بقیع کی روایت کو اس الگ شخصیت کا مدفن نہیں بنایا گیا۔
سوانح و تاریخی تعارف
حسین بن علی زین العابدین امام علی زین العابدین علیہ السلام کے فرزند اور امام حسین علیہ السلام کے پوتے تھے۔ ان کا تعلق اہلِ بیت کے حسینی سلسلے سے تھا۔ محفوظ والد کا رشتہ واضح ہے، جبکہ والدہ کا ذاتی نام بنیادی نسبی فہرستوں میں درج نہیں۔
شیخ مفید کی «الارشاد» امام زین العابدین علیہ السلام کی اولاد میں ایک فرزند «حسین» اور ایک الگ فرزند «حسین اصغر» ذکر کرتی ہے۔ پہلے حسین کو عبد اللہ اور حسن کے ساتھ ایک بے نام امِ ولد کی اولاد میں، اور حسین اصغر کو عبد الرحمن اور سلیمان کے ساتھ دوسری بے نام امِ ولد کی اولاد میں رکھا گیا ہے۔ اس براہِ راست تفریق کی بنا پر دونوں کو ایک شخصیت سمجھنا محفوظ نہیں۔
بعض بعد کے نسبی مآخذ امتیاز کے لیے پہلے حسین کو حسین اکبر کہتے ہیں، مگر یہ وصف تمام ابتدائی فہرستوں میں یکساں نہیں۔ اس لیے «حسین اکبر» کو صرف منقول متبادل نام رکھا گیا ہے، جبکہ بنیادی شناخت محفوظ ریکارڈ کے مطابق حسین بن علی زین العابدین ہی ہے۔
حسین اصغر سے متعلق ابو عبد اللہ کی کنیت، روایت، وثاقت، وفات کے سال اور بقیع میں تدفین کی روایات کو اس پروفائل میں شامل نہیں کیا گیا، کیونکہ وہ ایک الگ فرزند کے بارے میں ہیں۔ موجود حسین کے لیے درست سالِ ولادت، وفات، اولاد، علمی منصب یا مدفن کا کوئی ایسا مضبوط مستقل بیان دستیاب نہیں جو قطعیت کے ساتھ شائع کیا جاسکے۔ اسی محتاط حد بندی سے غلط شخص کی سوانح اس ریکارڈ سے جوڑنے کا خطرہ ختم ہوتا ہے۔
شیخ مفید کی «الارشاد» امام زین العابدین علیہ السلام کی اولاد میں ایک فرزند «حسین» اور ایک الگ فرزند «حسین اصغر» ذکر کرتی ہے۔ پہلے حسین کو عبد اللہ اور حسن کے ساتھ ایک بے نام امِ ولد کی اولاد میں، اور حسین اصغر کو عبد الرحمن اور سلیمان کے ساتھ دوسری بے نام امِ ولد کی اولاد میں رکھا گیا ہے۔ اس براہِ راست تفریق کی بنا پر دونوں کو ایک شخصیت سمجھنا محفوظ نہیں۔
بعض بعد کے نسبی مآخذ امتیاز کے لیے پہلے حسین کو حسین اکبر کہتے ہیں، مگر یہ وصف تمام ابتدائی فہرستوں میں یکساں نہیں۔ اس لیے «حسین اکبر» کو صرف منقول متبادل نام رکھا گیا ہے، جبکہ بنیادی شناخت محفوظ ریکارڈ کے مطابق حسین بن علی زین العابدین ہی ہے۔
حسین اصغر سے متعلق ابو عبد اللہ کی کنیت، روایت، وثاقت، وفات کے سال اور بقیع میں تدفین کی روایات کو اس پروفائل میں شامل نہیں کیا گیا، کیونکہ وہ ایک الگ فرزند کے بارے میں ہیں۔ موجود حسین کے لیے درست سالِ ولادت، وفات، اولاد، علمی منصب یا مدفن کا کوئی ایسا مضبوط مستقل بیان دستیاب نہیں جو قطعیت کے ساتھ شائع کیا جاسکے۔ اسی محتاط حد بندی سے غلط شخص کی سوانح اس ریکارڈ سے جوڑنے کا خطرہ ختم ہوتا ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
اس شخصیت کی بنیادی اہمیت امام زین العابدین علیہ السلام کی اولاد کے درست نسبی اندراج میں ہے۔ ایک ہی خاندان میں حسین اور حسین اصغر جیسے قریب الاسم افراد کو الگ رکھنا اہلِ بیت کی شخصی رجسٹری اور خاندانی روابط کی صحت کے لیے ضروری ہے۔
یہ پروفائل ماخذی احتیاط کی مثال بھی ہے: کم معلومات والی شخصیت کے لیے دوسری ہم نام شخصیت کی مفصل محدثانہ یا سوانحی معلومات منتقل نہیں کی گئیں۔ جہاں مستقل ثبوت موجود نہیں وہاں ولادت، وفات، مدفن اور اولاد کو نامعلوم رکھنا مصنوعی تفصیل پیدا کرنے سے زیادہ معتبر ہے۔
یہ پروفائل ماخذی احتیاط کی مثال بھی ہے: کم معلومات والی شخصیت کے لیے دوسری ہم نام شخصیت کی مفصل محدثانہ یا سوانحی معلومات منتقل نہیں کی گئیں۔ جہاں مستقل ثبوت موجود نہیں وہاں ولادت، وفات، مدفن اور اولاد کو نامعلوم رکھنا مصنوعی تفصیل پیدا کرنے سے زیادہ معتبر ہے۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
امام علی زین العابدینؑ
قوی امکان
والدہ
ام عبداللہ بنت حسن مجتبیٰؑ
مصدقہ
ماخذ
Kitab al-Irshad fi Ma'rifat Hujaj Allah ala al-Ibad | Shaykh al-Mufid | Vol. 2, p. 155 | https://books.rafed.net/view/429/page/155 | directly distinguishes a son named Husayn from a separate son named Husayn al-Asghar and places them under two separate unnamed umm-walad mothersLubab al-Ansab wa al-Alqab wa al-Aqab | Zahir al-Din al-Bayhaqi | children of Imam Zayn al-Abidin, displayed p. 43 | https://shamela.ws/book/355/43 | later genealogical distinction between Husayn al-Akbar and Husayn al-Asghar; used only for the reported alternative name
A'yan al-Shi'a | Sayyid Muhsin al-Amin | Vol. 6, p. 111 | https://lib.eshia.ir/71735/6/111/418 | synthesized notice showing that the fuller transmitter, death and burial dossier belongs to Husayn al-Asghar, not automatically to the unqualified Husayn
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔