دیکھے گئے معتبر مآخذ ان کی درست تاریخ یا مقام ولادت محفوظ نہیں کرتے۔ شیخ مفید انہیں صرف امام علی زین العابدین علیہ السلام کی اولاد کی فہرست میں درج کرتے اور والدہ کو ایک غیر مسمیٰ ام ولد بتاتے ہیں۔
علی (سب سے چھوٹے) بن علی زین العابدینؑ
نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
اس بنیادی فہرست میں والدہ کا ذاتی نام درج نہیں؛ غیر معلوم والدہ کے لیے فرضی شخصیت نہیں بنائی گئی۔
PER-000097
اہلِ بیت
قوی امکان
صرف عمومی علاقہ معلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حضرت علی علیہ السلام شیخ مفید کی محفوظ اولاد کی فہرست کے مطابق امام علی زین العابدین علیہ السلام کے سب سے چھوٹے فرزند تھے۔ شیخ مفید انہیں اور ان کی بہن خدیجہ کو ایک غیر مسمیٰ ام ولد کی اولاد قرار دیتے ہیں۔ ان کی مستقل سوانح نہایت محدود ہے۔ ظہیر الدین بیہقی کی ایک بعد کی نسبی کتاب بھی انہیں سب سے چھوٹا فرزند کہتی، ان کی نسل کا ذکر کرتی، اور بیان کرتی ہے کہ ان کی وفات ینبع میں ۳۰ سال کی عمر میں ہوئی اور وہیں دفن ہوئے۔ چونکہ وفات اور تدفین کی یہ جزئیات ابتدائی فہرست میں اسی درجے سے محفوظ نہیں، اس لیے انہیں بعد کی نسبی روایت کے طور پر رکھا گیا ہے۔
ایک بعد کی نسبی روایت کے مطابق ان کی وفات ینبع میں ۳۰ سال کی عمر میں ہوئی۔ درست سال اور وفات کے حالات ابتدائی ماخذ میں مضبوط طور پر محفوظ نہیں۔
ظہیر الدین بیہقی کی بعد کی نسبی کتاب ان کی قبر ینبع میں بتاتی ہے۔ اسے آزادانہ طور پر ثابت شدہ مدفن کے بجائے بعد کی تدفینی روایت کے طور پر محفوظ کیا گیا ہے، اور کوئی الگ مزار یا نقشاتی ربط شامل نہیں کیا گیا۔
سوانح و تاریخی تعارف
حضرت علی علیہ السلام امام علی بن حسین زین العابدین علیہ السلام کے فرزند اور اہل بیت کی حسینی شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔ شیخ مفید امام سجاد علیہ السلام کی پندرہ اولاد کے نام بیان کرتے ہوئے اس علی کو سب سے چھوٹا فرزند قرار دیتے ہیں۔ یہ وضاحت انہیں ان کے والد اور خاندان کے دوسرے علی نامی افراد سے الگ شناخت دیتی ہے۔
شیخ مفید حضرت علی اور خدیجہ کو ایک ہی غیر مسمیٰ ام ولد کی اولاد بتاتے ہیں۔ ماخذ والدہ کا ذاتی نام محفوظ نہیں کرتا، اس لیے کوئی فرضی والدہ یا شخصی کوڈ نہیں بنایا گیا۔ اسی طرح درست تاریخ ولادت، بچپن، اساتذہ، عوامی منصب، زوجہ یا ان سے منقول مستقل اقوال کی قابل اعتماد تفصیل دستیاب نہیں۔
ظہیر الدین بیہقی کی بعد کی نسبی کتاب لباب الانساب والالقاب والاعقاب بھی انہیں علی بن حسین کے سب سے چھوٹے فرزند کے طور پر یاد کرتی ہے۔ یہ کتاب ان کی نسل باقی رہنے اور انہیں عماد الدین نامی ایک بعد کے شخص کا جد قرار دینے کا ذکر کرتی ہے۔ اسی میں ان کی وفات ینبع میں ۳۰ سال کی عمر میں اور قبر بھی وہیں ہونے کی روایت ہے۔ یہ معلومات ابتدائی مختصر ذکر میں اضافہ کرتی ہیں، مگر بعد کے نسبی ماخذ کی سطح پر ہیں۔
دستیاب شہادت اس لیے ایک محتاط اور محدود پروفائل کی اجازت دیتی ہے۔ والد کی نسبت اور سب سے چھوٹا فرزند ہونا سب سے مضبوط نکات ہیں، جبکہ والدہ کا ذاتی نام، مکمل زمانی ترتیب، ازدواج اور عوامی کردار نامعلوم ہیں۔ ینبع کی وفات اور تدفین کی روایت نسبت کے ساتھ درج ہے، اور الگ مرکزی مزار فراہم نہ ہونے کے سبب مزار اور نقشاتی خانے خالی اور محفوظ رکھے گئے ہیں۔
شیخ مفید حضرت علی اور خدیجہ کو ایک ہی غیر مسمیٰ ام ولد کی اولاد بتاتے ہیں۔ ماخذ والدہ کا ذاتی نام محفوظ نہیں کرتا، اس لیے کوئی فرضی والدہ یا شخصی کوڈ نہیں بنایا گیا۔ اسی طرح درست تاریخ ولادت، بچپن، اساتذہ، عوامی منصب، زوجہ یا ان سے منقول مستقل اقوال کی قابل اعتماد تفصیل دستیاب نہیں۔
ظہیر الدین بیہقی کی بعد کی نسبی کتاب لباب الانساب والالقاب والاعقاب بھی انہیں علی بن حسین کے سب سے چھوٹے فرزند کے طور پر یاد کرتی ہے۔ یہ کتاب ان کی نسل باقی رہنے اور انہیں عماد الدین نامی ایک بعد کے شخص کا جد قرار دینے کا ذکر کرتی ہے۔ اسی میں ان کی وفات ینبع میں ۳۰ سال کی عمر میں اور قبر بھی وہیں ہونے کی روایت ہے۔ یہ معلومات ابتدائی مختصر ذکر میں اضافہ کرتی ہیں، مگر بعد کے نسبی ماخذ کی سطح پر ہیں۔
دستیاب شہادت اس لیے ایک محتاط اور محدود پروفائل کی اجازت دیتی ہے۔ والد کی نسبت اور سب سے چھوٹا فرزند ہونا سب سے مضبوط نکات ہیں، جبکہ والدہ کا ذاتی نام، مکمل زمانی ترتیب، ازدواج اور عوامی کردار نامعلوم ہیں۔ ینبع کی وفات اور تدفین کی روایت نسبت کے ساتھ درج ہے، اور الگ مرکزی مزار فراہم نہ ہونے کے سبب مزار اور نقشاتی خانے خالی اور محفوظ رکھے گئے ہیں۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
حضرت علی کی اہمیت بنیادی طور پر امام زین العابدین علیہ السلام کے خانوادے کی نسبی تاریخ میں ہے۔ ان کا اندراج حسینی خاندان کی کم معلومات والی شاخ کو محفوظ کرتا اور سب سے چھوٹے فرزند کو ان کے والد یا دوسرے علی نامی سادات سے خلط ہونے سے بچاتا ہے۔
یہ پروفائل ماخذی احتیاط کی مثال بھی ہے۔ شیخ مفید خاندانی فہرست، سب سے چھوٹا ہونے اور غیر مسمیٰ والدہ کی مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، جبکہ بیہقی نسل، ینبع میں وفات، ۳۰ سال عمر اور تدفین کی بعد کی تفصیل دیتے ہیں۔ ان درجوں کو الگ رکھنے سے مفید نسبی معلومات محفوظ رہتی ہیں اور مآخذ سے زیادہ بڑی سوانح نہیں بنائی جاتی۔
یہ پروفائل ماخذی احتیاط کی مثال بھی ہے۔ شیخ مفید خاندانی فہرست، سب سے چھوٹا ہونے اور غیر مسمیٰ والدہ کی مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، جبکہ بیہقی نسل، ینبع میں وفات، ۳۰ سال عمر اور تدفین کی بعد کی تفصیل دیتے ہیں۔ ان درجوں کو الگ رکھنے سے مفید نسبی معلومات محفوظ رہتی ہیں اور مآخذ سے زیادہ بڑی سوانح نہیں بنائی جاتی۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
امام علی زین العابدینؑ
قوی امکان
🌱 اولاد
ماخذ
Kitab al-Irshad | Shaykh al-Mufid | Volume 2, page 155, child list of Ali ibn al-Husayn | https://ballandalus.wordpress.com/2014/04/28/children-of-the-first-ten-imams-of-ahl-al-bayt-according-to-shaykh-al-mufid-d-1022/ | Identifies Ali as the youngest child of Imam al-Sajjad and places him with Khadija under an unnamed umm walad motherImam Ali b. al-Husayn al-Sajjad, wives and children section | WikiShia, citing al-Shaykh al-Mufid | Child-list entry; accessed 2026-08-02 | https://en.wikishia.net/view/Imam_Ali_b._al-Husayn_al-Sajjad_%28a%29 | Corroborates the fifteen-child list, youngest-son identification, and shared unnamed mother with Khadija
Lubab al-Ansab wa-l-Alqab wa-l-Aqab | Zahir al-Din al-Bayhaqi | Part 2, section on the children of Zayn al-Abidin, digital page 43 | https://shamela.ws/book/355/43 | Later genealogy attributing posterity, death at Yanbu at age 30, and burial there
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔