حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمہ اللہ

نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
اس پروفائل میں قریبی خاندان یوں محفوظ طور پر پیش کیا گیا ہے: والد محمد زکریا کا تعلق بعد کی روایت سے منسوب حالت میں ہے؛ مناقب المحبوبین میں تین بیٹوں کے نام خواجہ گل محمد چشتی نظامی، خواجہ درویش محمد اور عبد اللہ معصوم درج ہیں، اور کہا گیا ہے کہ تینوں اپنے والد کی زندگی میں وفات پا گئے۔ ۱۹۲۲ء کے پریوی کونسل فیصلے سے بھی آزادانہ طور پر تصدیق ہوتی ہے کہ سلیمان کے بیٹے ان سے پہلے فوت ہوئے۔ گل محمد ان کے مرید اور خلیفہ بھی تھے؛ ادارہ جاتی جانشینی گل محمد کے بیٹے خواجہ اللہ بخش کو ملی، جنہوں نے اپنے دادا سے براہِ راست روحانی تربیت اور خلافت حاصل کی تھی۔ کوئی مستقل تعلقی کوڈ فرض کرکے نہیں بنایا گیا۔
PER-000943 صوفی بزرگ مصدقہ مقامِ تدفین نامعلوم سنی ماخذی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمہ اللہ، جو شاہ محمد سلیمان تونسوی اور پیر پٹھان کے نام سے بھی مشہور ہیں، اٹھارہویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے پہلے نصف کے بڑے چشتی نظامی شیخ تھے۔ دینی علوم کی تحصیل اور حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمہ اللہ کی روحانی تربیت کے بعد انہوں نے تونسہ کو تعلیم، بیعت و تربیت، لنگر اور منظم خانقاہی زندگی کے پائیدار مرکز میں بدل دیا۔ ابتدائی ملفوظات و مناقب، بعد کی چشتی تحقیق، ۱۹۲۲ء کا پریوی کونسل فیصلہ اور جدید علمی مطالعات مل کر دکھاتے ہیں کہ ان کا فیض کثیر خلفاء، بالخصوص حضرت شمس الدین سیالوی رحمہ اللہ، کے ذریعے وسیع ہوا اور ادارہ جاتی جانشینی ان کے پوتے حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی رحمہ اللہ نے سنبھالی۔
ولادت

غالب چشتی سوانحی روایت حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمہ اللہ کی ولادت ۱۱۸۴ھ، تقریباً ۱۷۷۰ء، کوہِ سلیمان کے سرحدی خطے میں رکھتی ہے۔ جدید تحریروں میں ۱۷۸۹ء کی ایک مختلف روایت بھی موجود ہے، مگر اسے بنیادی عوامی زمانہ بندی نہیں بنایا گیا۔

وفات

حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمہ اللہ کا وصال ۷ صفر ۱۲۶۷ھ کو ہوا، جسے جدید عیسوی حساب تقریباً ۱۸۵۰–۱۸۵۱ء میں رکھتا ہے۔ ان کے تینوں نام زد بیٹے ان کی زندگی میں وفات پا چکے تھے، اس لیے ادارہ جاتی سجادگی ان کے پوتے حضرت خواجہ اللہ بخش کو ملی جنہوں نے دادا سے روحانی تربیت اور خلافت حاصل کی تھی۔

مدفن یا منسوب مقام

حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمہ اللہ کو تونسہ میں دفن کیا گیا، جہاں ان کی قائم کردہ خانقاہ آگے چل کر تونسہ شریف کے مرکزی مزار میں تبدیل ہوئی۔ پوتے و جانشین حضرت خواجہ اللہ بخش کے دور کی انیسویں صدی کی توسیعات نے ابتدائی خانقاہ کو بڑے زیارتی و تدریسی کمپلیکس میں بدل دیا، مگر اس کی اصل نسبت بانی کے مدفن سے قائم رہی۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمہ اللہ کی معروف چشتی روایت ولادت ۱۱۸۴ھ، تقریباً ۱۷۷۰ء، بیان کرتی اور اصل وطن کوہِ سلیمان کے سرحدی خطے سے جوڑتی ہے۔ بعد کی روایت میں والد کا نام محمد زکریا بن عبدالوہاب اور خاندان کی نسبت جعفر پٹھان برادری سے ملتی ہے، جس سے «پیر پٹھان» کے معروف لقب کی وضاحت ہوتی ہے۔ جدید تحریروں میں ۱۷۸۹ء کی ولادت بھی ملتی ہے، مگر یہ تاریخ حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمہ اللہ سے ان کی ثابت روحانی نسبت کے ساتھ زمانی دشواری پیدا کرتی ہے کیونکہ مہاروی کا وصال تقریباً ۱۷۹۰ء میں ہوا؛ اس لیے ۱۱۸۴ھ والی روایت زیادہ مربوط تاریخی فریم فراہم کرتی ہے۔

ان کی تعلیم قرآن، فارسی اور اعلیٰ مدرسہ علوم کے امتزاج پر مشتمل تھی۔ علاقائی چشتی سوانح تونسہ اور لانگھ سے ہوتے ہوئے کوٹ مٹھن میں ان کی تحصیلِ علم کا ذکر کرتی ہے، جہاں قاضی محمد عاقل کے علمی خاندان سے استفادہ ہوا۔ جدید تاریخی مطالعہ ان کے ابتدائی نصاب میں منطق، عربی قواعد اور حدیث کی معروف کتب کا ذکر بھی کرتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مستقبل کے اس صوفی شیخ کی بنیاد باقاعدہ دینی طالب علم کی حیثیت سے بنی۔

ان کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمہ اللہ سے ملاقات تھی۔ «مناقب المحبوبین» کی روایت کے مطابق وہ کوٹ مٹھن میں زیرِ تعلیم تھے جب حضرت مہاروی اوچ شریف تشریف لائے اور حضرت سید جلال الدین حسین بخاری رحمہ اللہ کے مزار کے سرہانے انہیں بیعت فرمایا۔ اسی قدیم چشتی روایت میں بیعت کے وقت ان کی عمر تقریباً پندرہ برس بتائی گئی ہے اور یہی واقعہ ان کی باقاعدہ چشتی نظامی تربیت کا آغاز بنتا ہے۔

«مناقب» مرشد و مرید کے تعلق کا ایک نہایت دل چسپ علامتی واقعہ بھی محفوظ کرتی ہے۔ روایت ہے کہ حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی رحمہ اللہ نے پہلے ہی حضرت مہاروی کو اوچ میں ملنے والے ایک خاص استعداد کے مرید کی علامتیں بتائی تھیں، اس لیے مہاروی اسے «شہباز» کہتے ہوئے تلاش کرتے تھے۔ حضرت سلیمان کی بیعت کے بعد انہوں نے ایک ساتھی سے کہا کہ اس سال وہ مطلوب شہباز دام میں آگیا۔ چشتی روایت میں یہ حکایت اس بات کی علامت بن گئی کہ مرشد نے اپنے نئے مرید کی روحانی صلاحیت کو کتنی بلند نگاہ سے دیکھا۔

بیعت کے کچھ ہی عرصے بعد حضرت مہاروی نے انہیں دہلی جا کر اپنے دادا مرشد حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی رحمہ اللہ کی زیارت کا حکم دیا۔ مناقبی روایت کہتی ہے کہ حضرت فخر الدین ان کی آمد سے چند دن پہلے وصال فرما چکے تھے مگر ایک خاص مرید کے پاس «سلیمان» نامی آنے والے مرید کے لیے سلام اور ایک فولادی قلم چھوڑ گئے تھے۔ حضرت سلیمان نے وہ قلم وصول کیا اور مزار پر حاضری دی۔ اپنی علامتی نوعیت کے باوجود یہ روایت تونسہ کی نسبت کو براہِ راست دہلی–مہار چشتی زنجیر کے اندر رکھتی ہے۔

دہلی سے واپسی کے بعد حضرت سلیمان تقریباً پانچ برس حضرت نور محمد مہاروی کی گہری تربیت میں رہے۔ «مناقب» رات بھر ذکر، مسجد میں قیام، مجاہدہ اور «فقرات»، «لوائح»، «عشرۂ کاملہ»، «آداب الطالبین» اور «فصوص الحکم» جیسی صوفیانہ کتب کے درس کا ذکر کرتی ہے۔ ایک دوسری علامتی روایت میں مہاروی چشتی سلسلے کی «معرفت کی دیگ» کا ذکر کر کے محمد سلیمان روہیلا کو اس روحانی وراثت کا آئندہ حامل قرار دیتے ہیں۔

اس کے بعد تونسہ حضرت سلیمان کی بالغ دینی خدمت کا مرکز بنا۔ اس کی غیر معمولی آزاد تاریخی تصدیق ۱۹۲۲ء کے پریوی کونسل مقدمہ «خواجہ محمد حامد بنام میاں محمود» میں ملتی ہے۔ فیصلے نے «مناقب المحبوبین» کو خود حضرت سلیمان کے ایک مرید کی تقریباً ۱۸۶۰ء میں لکھی کتاب کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ان کا مکان، ذاتی حجرہ، فقیروں کے لیے دالان، جماعتی مسجد، سایہ دار مجلس گاہ، مزید حجرے، لنگر اور کنواں درج کیا۔ اسی فیصلے کے مطابق نوابِ بہاولپور بھی ان کے مریدوں میں تھے اور انہوں نے ابتدائی کچی مسجد کی جگہ پختہ مسجد تعمیر کرائی۔

تونسہ کا یہ ادارہ محض مزار کے گرد پیدا ہونے والی بعد کی آبادی نہیں تھا۔ حضرت سلیمان کی خانقاہ میں ظاہری دینی علوم، چشتی تربیت، عمومی نصیحت اور زائرین و مسافروں کی خدمت ایک ساتھ چلتی تھی۔ طلبہ، علما، درویش اور عام دیہاتی یہاں تعلیم اور صحبت حاصل کرتے، جبکہ لنگر مہمان نوازی کا مستقل نظام تھا۔ بعد کی عظیم عمارت اسی پہلے سے قائم تعلیمی و روحانی ادارے کی مادی توسیع تھی۔

ان کی تعلیمات خوش قسمتی سے ان کی زندگی کے بہت قریب زمانے میں قلم بند ہوئیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے مخطوطات فہرست میں «ملفوظات خواجہ سلیمان تونسوی» کا ۱۲۵۸ھ/۱۸۴۲ء کے قریب مرتب فارسی نسخہ، خواجہ غلام حیدر کی تالیف، ایک سو چھپن اوراق میں درج ہے اور فہرست خاص طور پر لکھتی ہے کہ اس کی اہمیت اس لیے ہے کہ مرتب شیخ کے نہایت قریبی پیروکار تھے۔ «نافع السالکین» اور ابتدائی «مناقب» بھی ان کے اقوال و معمولات کے بڑے ذخیرے فراہم کرتے ہیں۔

ان ملفوظات میں ان کی تعلیم کا اخلاقی رنگ نمایاں ہے۔ وہ انسانیت کو اچھے اخلاق اور نیک اعمال سے جوڑتے، دنیا کی محبت اور مخلوق کی محتاجی سے بچنے کی نصیحت کرتے، علم کی عظمت بیان کرتے مگر ساتھ یہ بھی کہتے کہ ہدایت کے بغیر علم فائدہ نہیں دیتا، بری صحبت سے احتراز سکھاتے اور قناعت کو ایسا خزانہ قرار دیتے جو خرچ کرنے سے ختم نہیں ہوتا۔ اس تصویر میں اصل زور کرامت کے مظاہرے سے زیادہ کردار، صحبت، اصلاح اور باطنی اخلاص پر ہے۔

ان کے خلفاء کی بڑی تعداد خود ان کے اثر کی وسعت بتاتی ہے۔ ڈیوڈ گلمارٹن نے خلیق احمد نظامی کی «تاریخ مشائخ چشت» کے حوالے سے شاہ سلیمان تونسہ کے تریسٹھ خلفاء لکھے ہیں، جبکہ بعد کی چشتی فہرستوں میں ستر کا عدد ملتا ہے۔ کسی ایک عدد کو مصنوعی طور پر قطعی بنانے کے بجائے مضبوط تاریخی نتیجہ یہ ہے کہ انہوں نے درجنوں مجاز نمائندے تیار کیے جن کے ذریعے تونسہ–مہار چشتی احیاء پنجاب، سندھ، سرحد، شمالی ہند اور دوسرے علاقوں تک پھیلا۔

ان کے سب سے اہم براہِ راست خلفاء میں حاجی نجم الدین سلیمانی شامل تھے۔ ان کی سوانحی روایت کے مطابق وہ ۱۲۵۰ھ/۱۸۳۴ء میں پہلی مرتبہ تونسہ حاضر ہوئے، بیعت کی اور تقریباً چھ ماہ میں خلافت و اجازت حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے ۱۲۷۸ھ/۱۸۶۱ء میں فارسی «مناقب المحبوبین» مرتب کی، یعنی حضرت سلیمان کے وصال کے تقریباً ایک عشرے بعد۔ اسی وجہ سے یہ محض بہت بعد کی عوامی داستان نہیں بلکہ ایک براہِ راست مرید کی قریب العہد یادداشت کی خاص اہمیت رکھتی ہے۔

دوسرے خلفاء ان کے علمی نیٹ ورک کی وسعت دکھاتے ہیں۔ مولانا محمد علی مکھڈوی نے باقاعدہ درس و تدریس اور چشتی تربیت کو جمع کیا اور مکھڈ میں ان کے پاس ہند، کابل، قندھار اور بخارا تک سے طلبہ آئے۔ حافظ سید محمد علی خیرآبادی کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سلیمان سے صحیح مسلم کا سماع کیا اور بعد میں خیرآباد کو اہم چشتی علمی مرکز بنایا۔ یوں تونسوی خلافت صرف خانقاہی سجادگی نہیں بلکہ علمی تدریس اور مختلف علاقوں میں دینی ادارہ سازی کا ذریعہ بھی بنی۔

حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رحمہ اللہ بعد کے پنجاب میں ان کے سب سے اثر انگیز خلفاء میں سے ہوئے۔ روایتی سوانح کے مطابق وہ نوجوان عالم کی حیثیت سے اپنے استاد مولانا محمد علی مکھڈوی کے ساتھ تونسہ آئے اور حضرت سلیمان کے مرید ہوئے۔ تقریباً چھتیس برس کی عمر میں حضرت سلیمان نے انہیں خلافت دیتے ہوئے یادگار ہدایت کی کہ بیعت و تربیت کے کام کو اہتمام سے کرنا اور اپنے ذاتی ذکر و اشغال میں اتنے مشغول نہ ہوجانا کہ لوگوں کی رہنمائی رہ جائے۔ بعد میں سیالوی سلسلہ جلال پور اور گولڑہ جیسے بڑے مراکز تک پہنچا۔

خاندانی جانشینی وسیع خلفاء نیٹ ورک سے الگ تھی۔ «مناقب» حضرت سلیمان کے تین بیٹے—خواجہ گل محمد چشتی نظامی، خواجہ درویش محمد اور حضرت عبداللہ معصوم—نام زد کرتی اور کہتی ہے کہ تینوں والد کی زندگی ہی میں وفات پا گئے۔ ۱۹۲۲ء کا عدالتی فیصلہ بھی آزاد طور پر تصدیق کرتا ہے کہ ان کے بیٹے ان سے پہلے وفات پا چکے تھے۔ بڑے صاحبزادے خواجہ گل محمد خود مرید و خلیفہ تھے؛ حضرت سلیمان کے وصال کے بعد سجادگی گل محمد کے بیٹے، پوتے حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی کو ملی، جنہوں نے اپنے دادا سے باطنی تربیت اور خلافت حاصل کی تھی۔

قریب العہد مناقبی ذخیرے میں بعض کرامات بھی محفوظ ہیں جو جماعتی یادداشت کا حصہ بن گئیں۔ «مناقب المحبوبین» ص ۴۹۳ پر باجرے کی فصل کو نقصان پہنچانے والی مکڑیوں یا کیڑوں کا واقعہ بیان کرتی ہے: حضرت سلیمان نے اہلِ دیہہ کو ایک تنبیہی پیغام پہنچانے کو کہا اور روایت کے مطابق نقصان رک گیا۔ ص ۴۸۹ پر حسن علی کے گم شدہ بیٹے کا واقعہ ہے؛ حضرت سلیمان نے باپ کو تسلی دی، دعا کی اور سورۂ فاتحہ پڑھ رہے تھے کہ بچے کی واپسی کی خبر آگئی، جبکہ بچے نے ایک نامعلوم سوار کے ذریعے واپس لائے جانے کی بات بیان کی۔ ان واقعات کو یہاں ابتدائی چشتی مناقبی روایت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمہ اللہ کا وصال ۷ صفر ۱۲۶۷ھ کو ہوا، جسے جدید عیسوی ماخذ تقریباً ۱۸۵۰–۱۸۵۱ء میں بیان کرتے ہیں، اور انہیں تونسہ میں دفن کیا گیا۔ مزار و خانقاہ کی تعمیر کئی مرحلوں میں بڑھی، خاص طور پر پوتے و جانشین حضرت خواجہ اللہ بخش کے زمانے میں۔ نیلی کاشی، نقاشی، قرآنی کتیبے اور بعد کی سنگ مرمر تفصیلات اس خانقاہ کی مادی تاریخ محفوظ کرتی ہیں جس کا روحانی و علمی اثر ان کی زندگی ہی میں درجنوں خلفاء کے ذریعے دور دور تک پہنچ چکا تھا۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

حضرت سلیمان تونسوی کی تاریخی اہمیت اس لیے نمایاں ہے کہ انہوں نے ایک نسبتاً کم آباد سرحدی مقام کو ایسی پائیدار چشتی خانقاہ میں بدل دیا جہاں عبادت، تعلیم، بیعت و تربیت، مہمان نوازی اور اجتماعی نظم ایک ساتھ موجود تھے۔ ۱۹۲۲ء کا پریوی کونسل فیصلہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس نے آزاد عدالتی شہادت کے طور پر تونسہ کے ادارے کو حقیقی خانقاہ تسلیم کیا اور اس کے دینی و تعلیمی تسلسل کو ریکارڈ کیا۔

چشتی نظامی احیاء میں ان کا مقام انتقالِ فیض کے ذریعے واضح ہوتا ہے: حضرت نور محمد مہاروی نے انہیں تربیت دی اور حضرت سلیمان نے آگے درجنوں خلفاء کو اجازت دی۔ ڈیوڈ گلمارٹن کی علمی تحقیق، خلیق احمد نظامی کے حوالے سے، تریسٹھ خلفاء بتاتی ہے، جبکہ بعد کی چشتی روایت ستر کا عدد دیتی ہے۔ دونوں اعداد ایک محدود مقامی حلقے کے بجائے غیر معمولی وسیع نیٹ ورک کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

حضرت شمس الدین سیالوی سے تعلق نے تونسہ کی میراث کو بہت طویل ادارہ جاتی زندگی دی۔ سیالوی سلسلے نے آگے بڑی خانقاہیں اور تدریسی زنجیریں پیدا کیں، اور اسی نسبت کے ذریعے تونسوی روحانی سلسلہ سیال شریف، جلال پور اور گولڑہ جیسے اہم مراکز کے تاریخی پس منظر کا حصہ بنا۔

تونسوی صاحب دستاویزی صوفی تاریخ کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ تقریباً ۱۸۴۲ء میں خواجہ غلام حیدر نے فارسی ملفوظات مرتب کیے جنہیں پنجاب یونیورسٹی کا فہرست نویس شیخ کے نہایت قریبی پیروکار کی تالیف قرار دیتا ہے، جبکہ براہِ راست مرید حاجی نجم الدین سلیمانی نے ۱۸۶۱ء میں «مناقب المحبوبین» مرتب کی۔ یہ قریب العہد ذخیرہ ان کی تعلیم و جماعت کو ان کی اپنی زندگی کے بہت قریب زمانے سے دیکھنے کی اجازت دیتا ہے۔

خانقاہ کا سماجی نظم بھی انفرادی کرامت سے کم اہم نہیں۔ ابتدائی شہادت میں نماز، درس، فقیروں، لنگر، پانی اور انتظامی ذمہ داریوں کے الگ مقامات و نظام ملتے ہیں، جبکہ نوابِ بہاولپور مرید اور سرپرست دونوں کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ تونسہ اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ صوفی خانقاہ روحانی مرکز کے ساتھ علاقائی سماجی ادارہ بھی بن سکتی تھی۔

خاندانی جانشینی حیاتیاتی وراثت اور روحانی اجازت کے فرق کو بھی واضح کرتی ہے۔ تین نام زد بیٹے والد سے پہلے وفات پا گئے؛ بڑے صاحبزادے گل محمد خود خلیفہ تھے، اور ادارہ جاتی سجادگی آخرکار پوتے اللہ بخش کو ملی جنہوں نے دادا سے براہِ راست تربیت اور خلافت پائی تھی۔ اس کے ساتھ وسیع تبلیغی نیٹ ورک غیر خاندانی خلفاء کے ذریعے بھی جاری رہا۔

مزار کی معماری اسی طویل تاریخ کا مادی اظہار ہے۔ انیسویں صدی کی توسیعات، کاشی کاری، رنگین نقاشی، قرآنی کتیبے اور بعد کا سنگ مرمر ایک سادہ تدریسی خانقاہ کے بڑے زیارتی کمپلیکس میں بدلنے کی تاریخ محفوظ کرتے ہیں۔ تونسہ شریف کی مسلسل اہمیت حضرت سلیمان کی تعلیم، خلفاء کے نیٹ ورک، خاندانی جانشینی اور ادارہ جاتی یادداشت کے مجموعی اثر کی نمائندگی کرتی ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Malfuzat Khwaja Suleman Taunsavi | Khwaja Ghulam Haider | c. 1258 AH / 1842, Persian manuscript, 156 folios | Punjab University Library manuscript catalogue describes the compiler as one of Taunsvi's nearest followers and notes another copy at Makhad | https://studylib.net/doc/7003121/nastaliq--persian----punjab-university-library
Manaqib al-Mahbubin | Haji Najmuddin Sulaimani | Persian; compiled 1278 AH / 1861; printed Rampur, 1289 AH / 1872 | direct-disciple hagiographic source for Nur Muhammad Maharvi and Muhammad Suleman Taunsvi; key pages used: 296, 299, 304, 314, 316, 448, 489, 493, 578-587 | https://toobaafoundation.com/product/manaqibulmujubin-%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8%DB%8C%D9%86%E1%B8%A5a%E1%BA%93rat-qiblah-%CA%BBalam-khvajah-nur-mu%E1%B8%A5ammad-maharvi-o-%E1%B8%A5a
Tazkirah Hazrat Khwaja Suleman Taunsi / Urdu translation of Nafi al-Salikin | trans. Sahibzada Muhammad Hussain Ilahi | Lahore: Sang-e-Meel Publications, 1994, 312 pp. | sayings and malfuzat of Taunsvi | https://ci.nii.ac.jp/ncid/BD1957809X?l=en
Hazrat Khwaja Muhammad Sulaiman Taunsvi aur un ke Khulafa | Muhammad Husain Lillavi; ed. Muhammad Irshad Quraishi | Lahore: Islamic Book Foundation, 1979, viii + 368 pp. | research book based on the author's Karachi University doctoral dissertation; includes biographical studies of Taunsvi and his khalifas | https://cir.nii.ac.jp/crid/1970023484983893766
Religious Leadership and the Pakistan Movement in the Punjab | David Gilmartin | Modern Asian Studies | cites K. A. Nizami, Tarikh-e-Mashaikh-e-Chisht, for 63 khalifas of Shah Suleman Taunsa and places him in the major Chishti revival line | https://www.cambridge.org/core/journals/modern-asian-studies/article/abs/religious-leadership-and-the-pakistan-movement-in-the-punjab/3E95D1707D8992773CA2DA5A3B2B4BE0
Khawaja Muhammad Hamid v. Mian Mahmud | Privy Council, 2 Nov 1922 | independent legal-historical evidence for Suleman's discipleship under Nur Muhammad Maharvi, Taunsa khanqah, mosque, hujras, langar, well, Nawab of Bahawalpur as disciple/patron, sons predeceasing him, and succession of grandson Allah Bakhsh | https://indiankanoon.org/doc/586008/?type=print
History of Shrine Architecture: Studying Cultural History of Sufi Shrines in Colonial Punjab | Hussain Ahmad Khan | Pakistan Vision, Vol. 16, No. 2 (2015), esp. pp. 229-233 | modern academic source for Taunsa shrine architecture, nineteenth-century construction phases, artisans, tilework and inscriptions | https://pu.edu.pk/images/journal/studies/PDF-FILES/Artical-10_v16_2_2015.pdf
Shari'a, Shi'as and Chishtiya Revivalism: Contextualising the Growth of Sectarianism in the Tradition of the Sialvi Saints of the Punjab | Tahir Kamran and Amir Khan Shahid | Journal of the Royal Asiatic Society 24.3 (2014), pp. 477-492 | academic context for Maharvi-Taunsvi-Sialvi Chishti revival network | https://www.jstor.org/stable/43307314
District Profile — Shrines | Government of the Punjab, District Dera Ghazi Khan | official identification of the shrine of Hazrat Khawaja Shah Muhammad Suleman Taunsvi, known as Peer Pathan, at Taunsa Sharif | https://dgkhan.punjab.gov.pk/district_profile

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔