حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے حکمت، کتاب، فقہ اور تاویل کی نبوی دعائیں

قبول شدہ نبوی دعارحمت یا برکتصحیح حدیث
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

متعدد مضبوط حدیثی طرق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی دعائیں محفوظ کرتے ہیں، مگر انہیں ایک ہی مصنوعی منظر میں جمع نہیں کرنا چاہیے۔ صحیح بخاری کے ایک معانقہ والے طریق میں اللہ سے حکمت سکھانے کی دعا ہے، جبکہ قریب کے بخاری طرق میں کتاب سکھانے کے الفاظ ہیں۔ ایک الگ پانی رکھنے والے سیاق میں بخاری اور صحیح مسلم دین کی سمجھ کی دعا محفوظ کرتے ہیں۔ مسند احمد کے ایک مفصل طریق میں تاویل سکھانے کا اضافہ ہے۔ صحیح بخاری کی ایک بعد کی روایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی غیر معمولی قرآنی بصیرت کو نمایاں کرتی ہے۔

اس قصے کی مضبوط ترین صورت یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی متعدد متعلقہ دعاؤں کو ان کے اپنے اپنے سیاق میں بیان کیا جائے۔ ماخذ ایک ہی لفظی منظر نہیں دیتے، بلکہ قریب المعنی دعاؤں کے الگ طرق محفوظ کرتے ہیں۔ یہی فرق کہانی کو کمزور نہیں بلکہ زیادہ معتبر بناتا ہے۔

صحیح بخاری کی ایک روایتی جماعت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے انہیں اپنے سینے سے لگایا۔ ایک طریق میں دعا کے الفاظ یہ معنی رکھتے ہیں کہ اللہ انہیں حکمت سکھائے۔ اسی روایت کے قریب ایک دوسرے بخاری طریق اور کتاب العلم کی ایک مستقل جگہ میں دعا کتاب سکھانے کے الفاظ کے ساتھ محفوظ ہے۔ اس لیے حکمت اور کتاب دونوں کو اپنے اپنے ماخذی لفظ کے طور پر رکھنا ضروری ہے۔

دوسری دعا ایک مختلف تاریخی سیاق میں آتی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے لیے طہارت کا پانی رکھا۔ جب آپ کو معلوم ہوا کہ یہ کام کس نے کیا ہے تو آپ نے اللہ سے دعا کی کہ انہیں دین کی سمجھ عطا فرمائے۔ صحیح مسلم اسی پانی سے متعلق واقعے کو مستقل طور پر محفوظ کرتی ہے اور مختصر الفاظ میں ان کے لیے سمجھ کی دعا نقل کرتی ہے۔ اسے معانقہ والے واقعے کا لازماً وہی لمحہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

مسند احمد ایک زیادہ مفصل متعلقہ دعا محفوظ کرتی ہے جس میں دین کی سمجھ کے ساتھ تاویل سکھانے کی دعا بھی ہے۔ تاویل کے الفاظ اسی احمدی طریق کے ہیں؛ انہیں بخاری یا مسلم کی مختصر عبارت کے طور پر نقل کرنا درست نہیں۔

اس قصے کا ایک مضبوط بعد کا منظر صحیح بخاری میں آتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بدر کے بزرگ صحابہ کے ساتھ مجلس میں داخل کرتے تھے۔ جب بعض لوگوں نے ان کی کم عمری پر سوال کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سورۂ نصر کے معنی پوچھ کر ان کی علمی بصیرت ظاہر کی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے قریب آتے وصال کی علامت کے طور پر سمجھا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ بھی اس سے یہی سمجھتے ہیں۔

یہ بعد کی روایت خود یہ صریح جملہ نہیں کہتی کہ یہ علم لازماً پہلے کی دعا کا براہِ راست نتیجہ تھا، اس لیے ایسا دعویٰ نہیں گھڑنا چاہیے۔ مگر یہ صحیح ماخذ میں اس غیر معمولی قرآنی فہم کی عملی تصویر ضرور پیش کرتی ہے جس کے لیے نبوی دعاؤں میں اللہ سے حکمت، کتاب اور دینی سمجھ مانگی گئی تھی۔ یوں مضبوط ترین بیان دعا سے علمی پہچان تک جاتا ہے، مگر ہر ماخذ کی حد محفوظ رکھتا ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

حیثیتِ واقعہ: یہ اعلیٰ اعتماد والا قبول شدہ نبوی دعا کا مجموعہ ہے۔ بنیادی دعائیں صحیح بخاری میں متعدد طرق سے محفوظ ہیں، دین کی سمجھ والی دعا صحیح مسلم سے بھی مستقل تائید پاتی ہے، اور مسند احمد ایک مفصل تاویل والا طریق دیتی ہے۔ صحیح بخاری کی بعد کی روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تسلیم شدہ قرآنی بصیرت دکھاتی ہے۔ بہترین اشاعت مختلف دعاؤں کے سیاق اور عین الفاظ کو الگ رکھتی اور بعد کے علمی نتیجے کو محتاط انداز میں پیش کرتی ہے۔

مآخذ

Sahih al-Bukhari 3756
Sahih al-Bukhari 3756b
Sahih al-Bukhari 75
Sahih al-Bukhari 143
Sahih Muslim 2477
Musnad Ahmad 2397
Sahih al-Bukhari 4294