منظور شدہ واقعات کو زمرے اور مرکزی رجسٹری کی مستند شخصی نسبت، ثبوتی درجے اور اصل مآخذ کے ساتھ دیکھیں۔ نبوی معجزہ، کرامت، تاریخی واقعہ اور جدید دعویٰ اپنی درست اصطلاح میں الگ رہتے ہیں۔
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیعبرتمخالفین پر حجت
صحیح بخاری ایک غیر معمولی واقعہ محفوظ کرتی ہے جس کے ذریعے اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک تکلیف دہ جسمانی الزام سے لوگوں کے سامنے بری فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نہایت باحیا تھے اور تنہائی میں غسل کرتے تھے، مگر بنی اسرائیل میں سے بعض لوگوں نے اسی حیا کو شک کا سبب بنا کر ان کے بارے میں عیب کی بات پھیلائی۔ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے کپڑے پتھر پر رکھے تو پتھر کپڑے لے کر چل پڑا، حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے گئے، اور آخرکار الزام غلط ثابت ہوگیا۔ صحیح بخاری اس براءت کو سورۂ احزاب ۳۳:۶۹ سے جوڑتی ہے، جبکہ دوسری صحیح روایت بھی چلتے پتھر کے بنیادی واقعے کی تائید کرتی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام · PER-000366 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتمخالفین پر حجت
قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مردوں کو زندہ کرنے کو بنی اسرائیل کے لیے ان کی رسالت کی نہایت واضح نشانیوں میں شمار کرتا ہے۔ سورۂ آل عمران ۳:۴۹ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کے اذن سے مردوں کو زندہ کرتے ہیں۔ سورۂ مائدہ ۵:۱۱۰ اسی عمل کو اللہ کی نعمت کے طور پر دوبارہ یاد کرتی ہے اور پھر اللہ کے اذن کی قید دہراتی ہے۔ یوں معجزہ نبوت کی دلیل ہے، مستقل ذاتی قدرت نہیں۔ قریب کی آیات اسے رسول کی اطاعت، صرف اللہ کی عبادت اور سیدھے راستے کی دعوت سے جوڑتی ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتمخالفین پر حجت
قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اکمہ اور برص والے مریض کو شفا دینے کو بنی اسرائیل کے لیے ان کی رسالت کی واضح نشانیوں میں شمار کرتا ہے۔ سورۂ آل عمران میں یہ شفائیں ان غیر معمولی دلائل کے اندر آتی ہیں جنہیں وہ اپنے رب کی طرف سے نشانی قرار دیتے ہیں۔ سورۂ مائدہ انہی شفاؤں کو دوبارہ اللہ کی نعمت کے طور پر یاد کرتی ہے اور صاف بتاتی ہے کہ وہ اللہ کے اذن سے ہوئیں۔ یہ واقعات مستقل ذاتی شفائی طاقت نہیں بلکہ نبوی دلیل ہیں جو اللہ کی اطاعت اور اسی کی عبادت کی دعوت سے جڑی ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیالٰہی عذاباہلِ ایمان کی نجاتپیش خبری یا وحیآزمائشعبرتمخالفین پر حجتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیحجدید تحقیقی بحث
قرآن بیان کرتا ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام نے ثمود کو صرف اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور اللہ کی اونٹنی کو ان کے لیے ایک واضح نشانی اور آزمائش کے طور پر پیش کیا۔ قوم کو حکم دیا گیا کہ اسے آزاد چرنے دیں، پانی میں اس کی مقرر باری کا احترام کریں اور اسے نقصان نہ پہنچائیں۔ انہوں نے نافرمانی کرتے ہوئے اونٹنی کو عقر کیا، تین دن کی مہلت پائی، پھر عذاب میں پکڑے گئے، جبکہ صالح علیہ السلام اور اہلِ ایمان بچا لیے گئے۔
حضرت صالح علیہ السلام · PER-000367 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتمخالفین پر حجت
قرآنِ مجید مٹی کے پرندے کے واقعے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ان واضح نشانیوں میں شمار کرتا ہے جو وہ بنی اسرائیل کے سامنے اپنے رب کی طرف سے لے کر آئے۔ آپ مٹی سے پرندے جیسی صورت بناتے، اس میں پھونکتے، اور وہ اللہ کے اذن سے پرندہ بن جاتی۔ سورۂ مائدہ اسی واقعے کو بعد میں اللہ کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کی گئی نعمت کے طور پر دوبارہ یاد دلاتی ہے اور الٰہی اذن کو بار بار واضح کرتی ہے۔ یوں معجزہ نبوت کی تصدیق کرتا ہے، مگر تخلیقی قدرت کا سرچشمہ صرف اللہ رہتا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیمخالفین پر حجت
قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گہوارے میں کلام کو ایک براہِ راست نبوی نشانی اور حضرت مریم علیہا السلام کے سخت امتحان کے وقت الٰہی جواب کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جب وہ نومولود بچے کو اٹھائے اپنی قوم کے پاس آئیں تو لوگوں نے شدید اعتراض کیا۔ حضرت مریم علیہا السلام نے بحث کرنے کے بجائے بچے کی طرف اشارہ کردیا۔ لوگوں نے کہا کہ گہوارے کے بچے سے کیسے بات کریں۔ اسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مربوط کلام کیا، اپنے آپ کو اللہ کا بندہ اور نبی بتایا، عبادت، زکوٰۃ اور والدہ کے ساتھ نیکی کا ذکر کیا۔ اس کلام کی بشارت پہلے آل عمران میں دی گئی تھی اور سورۂ مائدہ میں اسے دوبارہ اللہ کی نعمت کے طور پر یاد کیا گیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیرحمت یا برکت
قرآنِ مجید حضرت مریم علیہا السلام کے حاملہ ہونے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بغیر انسانی باپ ولادت کو اللہ کی تخلیقی قدرت کی واضح نشانی قرار دیتا ہے۔ اللہ کے فرستادے نے حضرت مریم علیہا السلام کو پاکیزہ بیٹے کی بشارت دی تو انہوں نے تعجب کیا کہ جب کسی مرد نے انہیں چھوا ہی نہیں اور وہ کبھی بدکار نہیں رہیں تو بچہ کیسے ہوگا۔ جواب ملا کہ یہ اللہ کے لیے آسان ہے؛ یہ بچہ لوگوں کے لیے نشانی اور اللہ کی طرف سے رحمت ہوگا۔ پھر حضرت مریم علیہا السلام حاملہ ہوگئیں، ایک دور مقام پر چلی گئیں، ولادت کی تکلیف انہیں کھجور کے تنے تک لے آئی، اور وہاں انہیں تسلی، پانی اور تازہ کھجوریں عطا کی گئیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن
نبوی معجزہعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیح
قرآن بیان کرتا ہے کہ اللہ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو ایک خاص فضل عطا کیا اور ان کے لیے لوہے کو نرم اور قابلِ عمل بنا دیا۔ انہیں مکمل زرہیں بنانے اور ان کی کڑیوں کی ساخت کو درست تناسب کے ساتھ تیار کرنے کا حکم دیا گیا۔ ایک دوسری آیت بتاتی ہے کہ اللہ نے انہیں یہ حفاظتی صنعت لوگوں کو جنگ کے نقصان سے بچانے کے لیے سکھائی، یوں غیر معمولی عطا کو ہنر، شکر اور نیک عمل کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔
حضرت داؤد علیہ السلام · PER-000373 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیآزمائشعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیح
قرآن مجید حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام سے متعلق شفا کا ایک نہایت واضح واقعہ بیان کرتا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں حضرت یوسف علیہ السلام کے غم سے سفید ہوگئی تھیں۔ مصر میں بھائیوں سے ملاقات اور معافی کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی قمیص دے کر فرمایا کہ اسے والد کے چہرے پر ڈالنا، ان کی بصارت لوٹ آئے گی۔ قافلہ روانہ ہوا تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کی خوشبو محسوس ہونے کا ذکر کیا۔ خوش خبری لانے والے نے قمیص چہرے پر ڈالی تو قرآن بیان کرتا ہے کہ آپ دوبارہ دیکھنے لگے۔ قدیم تفاسیر اس بنیادی مفہوم کی تائید کرتی ہیں، جبکہ قمیص اور قاصد سے متعلق بعض اضافی تفصیلات مختلف روایات میں آتی ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام · PER-000372 · قرآن
نبوی معجزہعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیح
قرآنِ مجید بار بار حضرت داؤد علیہ السلام کو عطا کی گئی ایک عظیم خصوصی نعمت بیان کرتا ہے: اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو ان کے ساتھ اپنی تسبیح کے لیے مسخر کردیا۔ سورۂ ص میں شام اور سورج نکلنے کے بعد پہاڑوں کی حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ تسبیح اور پرندوں کے جمع ہونے کا ذکر ہے۔ سورۂ سبا میں پہاڑوں کو حکم ہے کہ داؤد علیہ السلام کے ساتھ حمد لوٹاؤ، جبکہ سورۂ انبیاء صاف بتاتی ہے کہ یہ سب خود اللہ نے کیا۔ کلاسیکی تفسیر اس منظر کو حضرت داؤد علیہ السلام کی زبور خوانی اور خوش آوازی سے جوڑتی ہے، اور صحیح احادیث داؤدی خاندان کی غیر معمولی خوش الحانی کا پس منظر بھی محفوظ کرتی ہیں۔
حضرت داؤد علیہ السلام · PER-000373 · قرآن
نبوی معجزہعبرترحمت یا برکتبعد کی تفسیری توضیح
قرآن حضرت سلیمان علیہ السلام کے غیر انسانی کلام سمجھنے کو اللہ کی عطا کردہ خاص نعمت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ انہیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور اسے اللہ کا نمایاں فضل قرار دیتے ہیں۔ چیونٹیوں کی وادی میں وہ ایک چیونٹی کی تنبیہ سمجھتے ہیں، اس کی بات پر مسکراتے ہیں اور فوراً شکر، نیک عمل اور اللہ کی رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ یہی عطا ہدہد کے واقعے میں دوبارہ ظاہر ہوتی ہے؛ ہدہد سبا سے تفصیلی خبر لاتا ہے، مگر حضرت سلیمان علیہ السلام اسے بلا تحقیق قبول نہیں کرتے بلکہ سچائی جانچنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور پھر اسے خط دے کر بھیجتے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام · PER-000374 · قرآن
نبوی معجزہدعا کی قبولیتعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیح
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ سے مغفرت مانگنے کے بعد ایسی سلطنت کی دعا کی جو ان کے بعد کسی اور کو نہ ملے۔ قرآن بیان کرتا ہے کہ اس الٰہی عطا میں جنات اور شیاطین میں سے بعض معمار، غوطہ خور اور دوسرے کام کرنے والے بنائے گئے، جبکہ سرکشوں کو جکڑ دیا گیا۔ پوری خدمت صرف اللہ کی اجازت اور نگرانی سے تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد خود جنات پر واضح ہوگیا کہ وہ غیب نہیں جانتے تھے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام · PER-000374 · قرآن