حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نابینا اور برص والے مریض کو شفا دینا: اللہ کے اذن سے نبوت کی نشانیاں

نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتمخالفین پر حجتقرآن
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اکمہ اور برص والے مریض کو شفا دینے کو بنی اسرائیل کے لیے ان کی رسالت کی واضح نشانیوں میں شمار کرتا ہے۔ سورۂ آل عمران میں یہ شفائیں ان غیر معمولی دلائل کے اندر آتی ہیں جنہیں وہ اپنے رب کی طرف سے نشانی قرار دیتے ہیں۔ سورۂ مائدہ انہی شفاؤں کو دوبارہ اللہ کی نعمت کے طور پر یاد کرتی ہے اور صاف بتاتی ہے کہ وہ اللہ کے اذن سے ہوئیں۔ یہ واقعات مستقل ذاتی شفائی طاقت نہیں بلکہ نبوی دلیل ہیں جو اللہ کی اطاعت اور اسی کی عبادت کی دعوت سے جڑی ہیں۔

قرآنی قصے کا آغاز طب سے نہیں بلکہ رسالت سے ہوتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے جاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں۔ انہی نشانیوں میں دو نمایاں شفائیں ذکر ہوتی ہیں: اکمہ کی شفا اور برص سے متاثر شخص کی شفا۔ قرآن انہیں دوسری نبوی نشانیوں کے ساتھ رکھتا ہے، اس لیے مقصد شروع ہی سے واضح ہے۔ یہ عام طبی علاج نہیں بلکہ نبوت کی صداقت سے وابستہ غیر معمولی دلیل ہے۔

اکمہ کی اصطلاح کو احتیاط سے سمجھنا ضروری ہے۔ بہت سے قدیم مفسرین اسے پیدائشی نابینائی کے معنی میں لیتے ہیں، جبکہ دوسری قدیم توضیحات میں عمومی نابینائی یا سخت مٹ چکی بینائی کا مفہوم ملتا ہے۔ امام طبری سورۂ مائدہ کی تفسیر میں اسے ایسا نابینا شخص بیان کرتے ہیں جس کی بینائی مٹ چکی ہو۔ اس لیے پیدائشی نابینا ہونا معروف تفسیری قول ہے، مگر اسے واحد قطعی قرآنی معنی نہیں بنایا جانا چاہیے۔

دوسرا مرض برص ہے، جسے قدیم زبان میں نمایاں جلدی بیماری کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ قرآن مریضوں کے نام، تعداد، طبی تاریخ، دوا یا معالجے کے مراحل نہیں دیتا۔ وہ صرف غیر معمولی نتیجہ بیان کرتا ہے: حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے مبتلا لوگوں کو اپنی نبوی نشانیوں کے اندر شفا دیتے ہیں۔

اس واقعے کی سب سے اہم عقیدتی حد سورۂ مائدہ میں پوری صراحت سے سامنے آتی ہے۔ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور اکمہ اور برص والے کو شفا دینے کا ذکر کرتے ہوئے صاف فرماتا ہے کہ یہ اللہ کے اذن سے ہوا۔ یوں مؤثر قدرت اللہ کی طرف منسوب رہتی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہ معزز نبی ہیں جن کے ہاتھ پر نشانی ظاہر ہوتی ہے۔

قصہ شفا پر ختم نہیں ہوتا۔ سورۂ آل عمران میں انہی نشانیوں کے فوراً بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو اللہ سے ڈرنے، رسول کی اطاعت کرنے اور یہ ماننے کی دعوت دیتے ہیں کہ اللہ ان کا بھی رب ہے اور قوم کا بھی رب؛ لہٰذا عبادت صرف اسی کی ہونی چاہیے۔ یوں جسمانی شفا ایک بڑے نبوی مقصد کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

سورۂ مائدہ ایک مشکل ردعمل بھی محفوظ کرتی ہے۔ واضح نشانیاں سامنے آنے کے باوجود بنی اسرائیل کے بعض منکرین نے انہیں کھلا جادو کہا۔ یہاں قصے کی آخری کشمکش سامنے آتی ہے: معجزہ دلیل بن سکتا ہے، مگر ضد پر قائم دل کو ایمان پر مجبور نہیں کرتا۔

اس لیے سب سے مضبوط عوامی بیان مریضوں کی غیر ثابت فہرست نہیں بلکہ قرآنی سفر ہے: بیماری سے شفا، شفا سے نبوی دلیل، اور دلیل سے توحید و اطاعت کی دعوت۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے اذن سے شفا دیتے ہیں، مبتلا انسان راحت پاتے ہیں، اور معجزہ توجہ اسی رب کی طرف لوٹاتا ہے جس نے یہ نشانی عطا فرمائی۔

خلاصۂ نتیجہ

حیثیتِ واقعہ: یہ اعلیٰ اعتماد کے ساتھ براہِ راست قرآنی نبوی معجزہ ہے۔ سورۂ آل عمران شفاؤں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت کی نشانیوں میں رکھتی ہے، سورۂ مائدہ انہیں صاف طور پر اللہ کے اذن کی طرف منسوب کرتی ہے، اور قریب کا قرآنی پیغام ان نشانیوں کو اطاعت، صرف اللہ کی عبادت اور سیدھے راستے سے جوڑتا ہے۔ سب سے وفادار بیان غیر معمولی شفا اور اللہ پر نبوی انحصار دونوں کو ساتھ رکھتا ہے۔

مآخذ

Ali 'Imran 3:49

V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: blank SOURCE->CLAIM linkage repaired from the explicit one-to-one claim/source code and content match.

Al-Ma'idah 5:110

V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: blank SOURCE->CLAIM linkage repaired from the explicit one-to-one claim/source code and content match.

Tafsir al-Tabari on Al-Ma'idah 5:110

V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: blank SOURCE->CLAIM linkage repaired from the explicit one-to-one claim/source code and content match. V3_TASK_4_SOURCE_URL_REPAIR: prior URL [https://quran.com/en/5%3A110/tafsirs/ar-tafsir-al-tabari] replaced with independently verified accessible al-Tabari commentary page for Qur'an 5:110. The passage glosses al-akmah as a blind person whose sight is effaced and describes Isa's clear signs as miraculous evidences of prophethood. V3_SOURCE_METADATA_GAP: volume_page currently functions only as a verse/commentary locator; edition-specific printed volume/page is not supplied and must be completed in Task 1.

Qur'an Ali 'Imran 3:50-51