حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بغیر انسانی باپ معجزانہ ولادت: اللہ کی عظیم نشانی اور رحمت

نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیرحمت یا برکتقرآن
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

قرآنِ مجید حضرت مریم علیہا السلام کے حاملہ ہونے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بغیر انسانی باپ ولادت کو اللہ کی تخلیقی قدرت کی واضح نشانی قرار دیتا ہے۔ اللہ کے فرستادے نے حضرت مریم علیہا السلام کو پاکیزہ بیٹے کی بشارت دی تو انہوں نے تعجب کیا کہ جب کسی مرد نے انہیں چھوا ہی نہیں اور وہ کبھی بدکار نہیں رہیں تو بچہ کیسے ہوگا۔ جواب ملا کہ یہ اللہ کے لیے آسان ہے؛ یہ بچہ لوگوں کے لیے نشانی اور اللہ کی طرف سے رحمت ہوگا۔ پھر حضرت مریم علیہا السلام حاملہ ہوگئیں، ایک دور مقام پر چلی گئیں، ولادت کی تکلیف انہیں کھجور کے تنے تک لے آئی، اور وہاں انہیں تسلی، پانی اور تازہ کھجوریں عطا کی گئیں۔

قرآنِ مجید اس عظیم واقعے کا آغاز حضرت مریم علیہا السلام کی خلوت سے کرتا ہے۔ وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہوکر مشرقی جانب ایک جگہ چلی گئیں اور پردہ اختیار کیا۔ اسی تنہائی میں اللہ نے اپنا فرستادہ ان کے پاس بھیجا جو مکمل انسان کی صورت میں ظاہر ہوا۔ حضرت مریم علیہا السلام نے اسے دیکھ کر رحمٰن کی پناہ مانگی اور کہا کہ اگر تم اللہ سے ڈرتے ہو تو مجھ سے دور رہو۔

فرستادے نے بتایا کہ وہ ان کے رب کی طرف سے ایک پاکیزہ بیٹے کی بشارت دینے آیا ہے۔ سورۂ آلِ عمران میں فرشتے مزید بتاتے ہیں کہ بچے کا نام مسیح عیسیٰ ابنِ مریم ہوگا، وہ دنیا اور آخرت میں باعزت اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔

حضرت مریم علیہا السلام نے تعجب سے پوچھا کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا جبکہ کسی مرد نے مجھے چھوا تک نہیں؟ سورۂ مریم ان کی یہ گواہی بھی محفوظ کرتی ہے کہ وہ کبھی بدکار نہیں رہیں۔ جواب کسی عام انسانی سبب کی طرف نہیں گیا؛ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور جب کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے تو کہتا ہے «ہو جا»، اور وہ ہوجاتا ہے۔ بتایا گیا کہ یہ ان کے رب کے لیے آسان ہے اور یہ بچہ لوگوں کے لیے نشانی اور اللہ کی طرف سے رحمت ہوگا۔

پھر قرآن بشارت سے حقیقت کی طرف بڑھتا ہے: حضرت مریم علیہا السلام حاملہ ہوگئیں اور ایک دور جگہ چلی گئیں۔ ولادت کی تکلیف انہیں کھجور کے ایک تنے تک لے گئی۔ اس سخت لمحے میں انہوں نے شدید رنج کا اظہار کیا اور چاہا کہ کاش اس سے پہلے وہ بھلا دی گئی ہوتیں۔

اسی مقام پر رنج کا منظر رحمت میں بدلتا ہے۔ نیچے سے ایک آواز نے انہیں کہا کہ غم نہ کرو؛ تمہارے رب نے تمہارے نیچے پانی کی دھار مہیا کردی ہے۔ حکم ہوا کہ کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلائیں تو تازہ پکی کھجوریں گریں گی۔ پھر فرمایا گیا کہ کھاؤ، پیو اور دل کو سکون دو۔ اگر کسی انسان سے سامنا ہو تو اشارے سے بتا دینا کہ میں نے رحمٰن کے لیے گفتگو سے رکنے کی نذر مانی ہے۔

قرآن اس واقعے کو کسی پیچیدہ جسمانی نظریے کا محتاج نہیں بناتا۔ اس کا بیان واضح ہے: حضرت مریم علیہا السلام کو کسی مرد نے نہیں چھوا تھا، اللہ نے بچے کا فیصلہ فرمایا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حمل قائم ہوا اور ولادت ہوئی، اور یہ غیر معمولی پیدائش لوگوں کے لیے نشانی اور رحمت قرار دی گئی۔

اسی لیے یہ قرآن کے نمایاں نبوی معجزات میں شمار ہوتا ہے۔ معجزہ نہ حضرت مریم علیہا السلام کی مستقل طاقت ہے اور نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی؛ یہ اللہ کی تخلیق اور حکم کا ظہور ہے۔ داستان پاکدامنی، تنہائی، حیرت، ولادت کی تکلیف، الٰہی تسلی اور رزق کو ایک ایسی نشانی میں جوڑ دیتی ہے جو اللہ کی بے حد قدرت ظاہر کرتی ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بغیر انسانی باپ ولادت قرآن سے صراحت کے ساتھ ثابت نبوی معجزہ اور اللہ کی تخلیقی قدرت کی عظیم نشانی ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام کی پاکدامنی واضح کی گئی، بچے کو نشانی اور رحمت قرار دیا گیا، اور بشارت سے حمل، ولادت اور تسلی تک پوری داستان اللہ کے حکم اور نگہداشت کے گرد گھومتی ہے۔

مآخذ

Ali 'Imran 3:45-47
Maryam 19:16-22
Tafsir al-Tabari on Ali 'Imran 3:47 and Maryam 19:21
Maryam 19:22-26