آیات، معجزات، کرامات اور عبرت آموز واقعات

منظور شدہ واقعات کو زمرے اور مرکزی رجسٹری کی مستند شخصی نسبت، ثبوتی درجے اور اصل مآخذ کے ساتھ دیکھیں۔ نبوی معجزہ، کرامت، تاریخی واقعہ اور جدید دعویٰ اپنی درست اصطلاح میں الگ رہتے ہیں۔

بنیادی زمرے

نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیالٰہی عذاباہلِ ایمان کی نجاتپیش خبری یا وحیآزمائشعبرتمخالفین پر حجتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیحجدید تحقیقی بحث

حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی: وہ نشانی جسے ثمود نے مانگا، آزمایا اور پھر خود تباہ کیا

قرآن بیان کرتا ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام نے ثمود کو صرف اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور اللہ کی اونٹنی کو ان کے لیے ایک واضح نشانی اور آزمائش کے طور پر پیش کیا۔ قوم کو حکم دیا گیا کہ اسے آزاد چرنے دیں، پانی میں اس کی مقرر باری کا احترام کریں اور اسے نقصان نہ پہنچائیں۔ انہوں نے نافرمانی کرتے ہوئے اونٹنی کو عقر کیا، تین دن کی مہلت پائی، پھر عذاب میں پکڑے گئے، جبکہ صالح علیہ السلام اور اہلِ ایمان بچا لیے گئے۔

حضرت صالح علیہ السلام · PER-000367 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتمخالفین پر حجت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مٹی کا پرندہ: اللہ کے اذن سے زندہ نشانی

قرآنِ مجید مٹی کے پرندے کے واقعے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ان واضح نشانیوں میں شمار کرتا ہے جو وہ بنی اسرائیل کے سامنے اپنے رب کی طرف سے لے کر آئے۔ آپ مٹی سے پرندے جیسی صورت بناتے، اس میں پھونکتے، اور وہ اللہ کے اذن سے پرندہ بن جاتی۔ سورۂ مائدہ اسی واقعے کو بعد میں اللہ کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کی گئی نعمت کے طور پر دوبارہ یاد دلاتی ہے اور الٰہی اذن کو بار بار واضح کرتی ہے۔ یوں معجزہ نبوت کی تصدیق کرتا ہے، مگر تخلیقی قدرت کا سرچشمہ صرف اللہ رہتا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیمخالفین پر حجت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا گہوارے سے کلام: وہ شیر خوار آواز جس نے حضرت مریم علیہا السلام کے سامنے اٹھنے والے اعتراض کا جواب دیا

قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گہوارے میں کلام کو ایک براہِ راست نبوی نشانی اور حضرت مریم علیہا السلام کے سخت امتحان کے وقت الٰہی جواب کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جب وہ نومولود بچے کو اٹھائے اپنی قوم کے پاس آئیں تو لوگوں نے شدید اعتراض کیا۔ حضرت مریم علیہا السلام نے بحث کرنے کے بجائے بچے کی طرف اشارہ کردیا۔ لوگوں نے کہا کہ گہوارے کے بچے سے کیسے بات کریں۔ اسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مربوط کلام کیا، اپنے آپ کو اللہ کا بندہ اور نبی بتایا، عبادت، زکوٰۃ اور والدہ کے ساتھ نیکی کا ذکر کیا۔ اس کلام کی بشارت پہلے آل عمران میں دی گئی تھی اور سورۂ مائدہ میں اسے دوبارہ اللہ کی نعمت کے طور پر یاد کیا گیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیرحمت یا برکت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بغیر انسانی باپ معجزانہ ولادت: اللہ کی عظیم نشانی اور رحمت

قرآنِ مجید حضرت مریم علیہا السلام کے حاملہ ہونے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بغیر انسانی باپ ولادت کو اللہ کی تخلیقی قدرت کی واضح نشانی قرار دیتا ہے۔ اللہ کے فرستادے نے حضرت مریم علیہا السلام کو پاکیزہ بیٹے کی بشارت دی تو انہوں نے تعجب کیا کہ جب کسی مرد نے انہیں چھوا ہی نہیں اور وہ کبھی بدکار نہیں رہیں تو بچہ کیسے ہوگا۔ جواب ملا کہ یہ اللہ کے لیے آسان ہے؛ یہ بچہ لوگوں کے لیے نشانی اور اللہ کی طرف سے رحمت ہوگا۔ پھر حضرت مریم علیہا السلام حاملہ ہوگئیں، ایک دور مقام پر چلی گئیں، ولادت کی تکلیف انہیں کھجور کے تنے تک لے آئی، اور وہاں انہیں تسلی، پانی اور تازہ کھجوریں عطا کی گئیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن
ولی یا صالح کی کرامتعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیح

ملکہ سبا کا تخت پلک جھپکنے سے پہلے لایا جانا

قرآن حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکۂ سبا کے قصے میں ایک غیر معمولی واقعہ بیان کرتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی مجلس سے پوچھا کہ ملکہ اور اس کے ساتھی فرمانبرداری کے ساتھ پہنچنے سے پہلے اس کا تخت کون لا سکتا ہے۔ ایک طاقتور عفریتِ جن نے پیشکش کی کہ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے تخت لے آئے گا۔ پھر ایک ایسے بے نام شخص نے، جسے قرآن «کتاب کا علم رکھنے والا» کہتا ہے، نگاہ پلٹنے سے پہلے تخت لانے کا وعدہ کیا، اور تخت حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے موجود نظر آیا۔ قرآن اس شخص کا نام نہیں بتاتا، جبکہ بڑے قدیم مفسرین اسے عام طور پر صالح آصف بن برخیا قرار دیتے ہیں۔

صاحبِ علمِ کتاب (نامعلوم شخص) · PER-000375 · قرآن
قبول شدہ نبوی دعانبوی تائید کی نشانیدعا کی قبولیتپیش خبری یا وحیرحمت یا برکت

حضرت زکریا علیہ السلام کی خاموش دعا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت

قرآنِ مجید حضرت زکریا علیہ السلام کو ایک ایسے عمر رسیدہ نبی کے طور پر پیش کرتا ہے جو ظاہری اسباب کمزور ہوجانے کے باوجود اپنے رب سے امید نہیں توڑتے۔ ہڈیاں کمزور ہوچکی تھیں، سر بڑھاپے سے سفید تھا اور اہلیہ بانجھ تھیں، پھر بھی آپ نے اللہ سے پاکیزہ وارث مانگا۔ اللہ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دی، جن کا نام خود بتایا گیا اور جنہیں سردار، پاک دامن اور صالح نبی قرار دیا گیا۔ جب حضرت زکریا علیہ السلام نے نشانی مانگی تو تین دن، اور دوسری سورت کے بیان میں تین راتیں، لوگوں سے معمول کی گفتگو نہ کرسکنا علامت بنایا گیا، جبکہ آپ تندرست تھے اور ذکر و تسبیح جاری رہی۔

حضرت زکریا علیہ السلام · PER-000377 · قرآن
نبوی معجزہعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیح

حضرت داؤد علیہ السلام اور نرم کیا گیا لوہا: الٰہی عطا سے حفاظت اور حلال محنت تک

قرآن بیان کرتا ہے کہ اللہ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو ایک خاص فضل عطا کیا اور ان کے لیے لوہے کو نرم اور قابلِ عمل بنا دیا۔ انہیں مکمل زرہیں بنانے اور ان کی کڑیوں کی ساخت کو درست تناسب کے ساتھ تیار کرنے کا حکم دیا گیا۔ ایک دوسری آیت بتاتی ہے کہ اللہ نے انہیں یہ حفاظتی صنعت لوگوں کو جنگ کے نقصان سے بچانے کے لیے سکھائی، یوں غیر معمولی عطا کو ہنر، شکر اور نیک عمل کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔

حضرت داؤد علیہ السلام · PER-000373 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیآزمائشعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیح

حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی بصارت کی واپسی

قرآن مجید حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام سے متعلق شفا کا ایک نہایت واضح واقعہ بیان کرتا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں حضرت یوسف علیہ السلام کے غم سے سفید ہوگئی تھیں۔ مصر میں بھائیوں سے ملاقات اور معافی کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی قمیص دے کر فرمایا کہ اسے والد کے چہرے پر ڈالنا، ان کی بصارت لوٹ آئے گی۔ قافلہ روانہ ہوا تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کی خوشبو محسوس ہونے کا ذکر کیا۔ خوش خبری لانے والے نے قمیص چہرے پر ڈالی تو قرآن بیان کرتا ہے کہ آپ دوبارہ دیکھنے لگے۔ قدیم تفاسیر اس بنیادی مفہوم کی تائید کرتی ہیں، جبکہ قمیص اور قاصد سے متعلق بعض اضافی تفصیلات مختلف روایات میں آتی ہیں۔

حضرت یوسف علیہ السلام · PER-000372 · قرآن
نبوی معجزہعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیح

جب پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرتے تھے

قرآنِ مجید بار بار حضرت داؤد علیہ السلام کو عطا کی گئی ایک عظیم خصوصی نعمت بیان کرتا ہے: اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو ان کے ساتھ اپنی تسبیح کے لیے مسخر کردیا۔ سورۂ ص میں شام اور سورج نکلنے کے بعد پہاڑوں کی حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ تسبیح اور پرندوں کے جمع ہونے کا ذکر ہے۔ سورۂ سبا میں پہاڑوں کو حکم ہے کہ داؤد علیہ السلام کے ساتھ حمد لوٹاؤ، جبکہ سورۂ انبیاء صاف بتاتی ہے کہ یہ سب خود اللہ نے کیا۔ کلاسیکی تفسیر اس منظر کو حضرت داؤد علیہ السلام کی زبور خوانی اور خوش آوازی سے جوڑتی ہے، اور صحیح احادیث داؤدی خاندان کی غیر معمولی خوش الحانی کا پس منظر بھی محفوظ کرتی ہیں۔

حضرت داؤد علیہ السلام · PER-000373 · قرآن
قبول شدہ نبوی دعااہلِ ایمان کی نجاتآزمائشعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیح

حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا: سخت آزمائش سے شفا اور نعمتوں کی واپسی

قرآنِ مجید حضرت ایوب علیہ السلام کو ایک نہایت باادب اور مختصر دعا کے ساتھ یاد کرتا ہے: انہیں تکلیف پہنچی، مگر انہوں نے صرف یہ عرض کیا کہ تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فوراً فرماتا ہے کہ ہم نے ان کی دعا قبول کی، تکلیف دور کردی اور اہل و عیال کی نعمت واپس عطا کی۔ سورۂ ص شفا کا عملی لمحہ بھی بیان کرتی ہے: زمین پر پاؤں مارنے کا حکم، پھر غسل اور پینے کے لیے ٹھنڈا پانی۔ واقعہ بیماری پر نہیں بلکہ اللہ کی اس تعریف پر ختم ہوتا ہے کہ ایوب علیہ السلام صابر، بہترین بندے اور بار بار اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔

حضرت ایوب علیہ السلام · PER-000371 · قرآن
قبول شدہ نبوی دعااہلِ ایمان کی نجاتدعا کی قبولیتپیش خبری یا وحیآزمائشعبرترحمت یا برکتمخالفین پر حجتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیحجدید تحقیقی بحث

حضرت یونسؑ کا مچھلی کے پیٹ سے نجات پانا

قرآن مجید حضرت یونس علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے واقعے کو آزمائش، دعا اور الٰہی نجات کے ایک مکمل سلسلے کے طور پر بیان کرتا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام ناراضی کی حالت میں روانہ ہوئے، بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوئے اور قرعہ میں ان کا نام نکلا۔ پھر ایک بڑی مچھلی نے انہیں نگل لیا۔ مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں میں انہوں نے توحید، اللہ کی پاکی اور اپنی کوتاہی کے اعتراف کے ساتھ دعا کی۔ اللہ فرماتا ہے کہ اس نے ان کی پکار قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی۔ سورۂ صافات آگے بیان کرتی ہے کہ انہیں بیمار حالت میں کھلے ساحل پر ڈال دیا گیا، یقطین کا پودا اگایا گیا اور پھر ان کی نبوی ذمہ داری کا سلسلہ جاری رہا۔

حضرت یونس علیہ السلام · PER-000370 · قرآن
نبوی معجزہعبرترحمت یا برکتبعد کی تفسیری توضیح

چیونٹی کی تنبیہ اور ہدہد کی خبر: حضرت سلیمان علیہ السلام کو عطا کردہ غیر معمولی فہم

قرآن حضرت سلیمان علیہ السلام کے غیر انسانی کلام سمجھنے کو اللہ کی عطا کردہ خاص نعمت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ انہیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور اسے اللہ کا نمایاں فضل قرار دیتے ہیں۔ چیونٹیوں کی وادی میں وہ ایک چیونٹی کی تنبیہ سمجھتے ہیں، اس کی بات پر مسکراتے ہیں اور فوراً شکر، نیک عمل اور اللہ کی رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ یہی عطا ہدہد کے واقعے میں دوبارہ ظاہر ہوتی ہے؛ ہدہد سبا سے تفصیلی خبر لاتا ہے، مگر حضرت سلیمان علیہ السلام اسے بلا تحقیق قبول نہیں کرتے بلکہ سچائی جانچنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور پھر اسے خط دے کر بھیجتے ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام · PER-000374 · قرآن