قرآنِ مجید حضرت زکریا علیہ السلام کو ایک ایسے عمر رسیدہ نبی کے طور پر پیش کرتا ہے جو ظاہری اسباب کمزور ہوجانے کے باوجود اپنے رب سے امید نہیں توڑتے۔ ہڈیاں کمزور ہوچکی تھیں، سر بڑھاپے سے سفید تھا اور اہلیہ بانجھ تھیں، پھر بھی آپ نے اللہ سے پاکیزہ وارث مانگا۔ اللہ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دی، جن کا نام خود بتایا گیا اور جنہیں سردار، پاک دامن اور صالح نبی قرار دیا گیا۔ جب حضرت زکریا علیہ السلام نے نشانی مانگی تو تین دن، اور دوسری سورت کے بیان میں تین راتیں، لوگوں سے معمول کی گفتگو نہ کرسکنا علامت بنایا گیا، جبکہ آپ تندرست تھے اور ذکر و تسبیح جاری رہی۔
حضرت زکریا علیہ السلام کی خواہش صرف اولاد کی خواہش نہ تھی۔ آپ کو اپنے بعد کے حالات کی فکر تھی، اس لیے اللہ سے ایسا وارث مانگا جو آپ کا اور آلِ یعقوب کا وارث ہو اور رب کی رضا والا ہو۔ سورۂ آل عمران اسی طلب کو مختصر الفاظ میں بیان کرتی ہے: اے میرے رب، مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بے شک تو دعا سننے والا ہے۔
جواب نہایت واضح آیا۔ حضرت زکریا علیہ السلام محراب میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دی۔ قرآن آنے والے بیٹے کو اللہ کے ایک کلمے کی تصدیق کرنے والا، سردار، پاک دامن اور صالحین میں سے نبی قرار دیتا ہے۔ سورۂ مریم ایک اور خاص بات بتاتی ہے: بچے کا نام «یحییٰ» خود اللہ نے بتایا اور فرمایا کہ اس سے پہلے کسی کے لیے یہ نام مقرر نہیں کیا گیا تھا۔
حضرت زکریا علیہ السلام نے تعجب سے پوچھا کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا جبکہ بڑھاپا پہنچ چکا ہے اور اہلیہ بانجھ ہیں۔ جواب انسانی امکانات کی حد سے اوپر اٹھاتا ہے: اللہ کے لیے یہ آسان ہے؛ اسی نے زکریا علیہ السلام کو اس وقت پیدا کیا تھا جب وہ کچھ بھی نہ تھے۔
پھر حضرت زکریا علیہ السلام نے اس بشارت کی نشانی مانگی۔ سورۂ آل عمران میں فرمایا گیا کہ تین دن لوگوں سے گفتگو نہ کرسکو گے مگر اشارے سے، جبکہ سورۂ مریم اسی علامت کو تین راتیں بیان کرتی ہے۔ امام طبری «سَوِيًّا» کی توضیح کرتے ہیں کہ آپ صحت مند تھے؛ کوئی عام بیماری، گونگاپن یا جسمانی عیب گفتگو کو نہیں روک رہا تھا۔
یہ نشانی ذکر سے محرومی نہیں بنی۔ حکم ہوا کہ اپنے رب کو کثرت سے یاد کرو اور صبح و شام تسبیح کرو۔ سورۂ مریم بتاتی ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام محراب سے اپنی قوم کے پاس آئے اور اشارے سے انہیں بھی صبح و شام اللہ کی تسبیح کرنے کی تلقین کی۔
یوں داستان کمزوری سے امید، دعا سے بشارت اور بشارت سے شکر تک پہنچتی ہے۔ ایک عمر رسیدہ نبی تنہائی میں اپنے رب کو پکارتا ہے، اللہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی خوش خبری دیتا ہے، ظاہری ناممکنات اپنی حیثیت کھو دیتی ہیں، اور نشانی کا وقت بھی اللہ کے ذکر سے بھر جاتا ہے۔ اصل پیغام یہی ہے کہ سچی دعا کو اللہ سنتا ہے اور جہاں انسان کو راستہ دکھائی نہیں دیتا وہاں اپنی قدرت سے راستہ پیدا فرماتا ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
یہ قبول شدہ نبوی دعا کا نہایت مضبوط واقعہ ہے: حضرت زکریا علیہ السلام نے بڑھاپے میں پاکیزہ اولاد کے لیے اللہ کو پکارا اور اللہ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت کے ذریعے جواب دیا۔ گفتگو کی عارضی پابندی تصدیقی نشانی تھی، جبکہ داستان کا گہرا مرکز دعا، اللہ کی قدرت اور شکر کے ساتھ ذکر ہے۔