منظور شدہ واقعات کو زمرے اور مرکزی رجسٹری کی مستند شخصی نسبت، ثبوتی درجے اور اصل مآخذ کے ساتھ دیکھیں۔ نبوی معجزہ، کرامت، تاریخی واقعہ اور جدید دعویٰ اپنی درست اصطلاح میں الگ رہتے ہیں۔
نبوی معجزہدعا کی قبولیتعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیح
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ سے مغفرت مانگنے کے بعد ایسی سلطنت کی دعا کی جو ان کے بعد کسی اور کو نہ ملے۔ قرآن بیان کرتا ہے کہ اس الٰہی عطا میں جنات اور شیاطین میں سے بعض معمار، غوطہ خور اور دوسرے کام کرنے والے بنائے گئے، جبکہ سرکشوں کو جکڑ دیا گیا۔ پوری خدمت صرف اللہ کی اجازت اور نگرانی سے تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد خود جنات پر واضح ہوگیا کہ وہ غیب نہیں جانتے تھے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام · PER-000374 · قرآن
نبوی معجزہدعا کی قبولیترحمت یا برکتبعد کی تفسیری توضیح
قرآن بیان کرتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ سے مغفرت اور ایک منفرد بادشاہت مانگی۔ اس کے فوراً بعد اللہ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا، جو ان کے حکم کے مطابق جہاں وہ چاہتے چلتی تھی۔ قرآن مختلف مقامات پر اس ہوا کو نرم و تابع بھی اور تیز و طاقتور بھی بیان کرتا ہے، اور بتاتا ہے کہ اس کا صبح کا سفر ایک ماہ کی مسافت اور شام کا سفر ایک اور ماہ کی مسافت کے برابر تھا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام · PER-000374 · قرآن
الٰہی عذابالٰہی عذاباہلِ ایمان کی نجاتدعا کی قبولیتپیش خبری یا وحیعبرتمخالفین پر حجتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیحجدید تحقیقی بحث
قرآنِ مجید حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے آخری واقعے کو ایک طویل اخلاقی کشمکش کے انجام کے طور پر بیان کرتا ہے۔ قوم نے تنبیہ قبول کرنے کے بجائے عذاب لانے کا مطالبہ کیا، پھر اللہ کے فرستادے مہمانوں کی صورت میں حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے۔ قوم کے لوگ گھر کی طرف دوڑے تو حضرت لوط علیہ السلام سخت پریشان ہوئے، مگر فرشتوں نے اپنی حقیقت ظاہر کرکے بتایا کہ وہ لوگ آپ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ آپ کو رات کے ایک حصے میں اہلِ خانہ کے ساتھ نکلنے کا حکم ملا، جبکہ آپ کی اہلیہ نجات سے مستثنیٰ تھیں۔ صبح بستی الٹ دی گئی اور نشان زدہ سخت مٹی کے پتھروں کی بارش ہوئی، جبکہ حضرت لوط علیہ السلام اور اہلِ ایمان محفوظ رہے۔
حضرت لوط علیہ السلام · PER-000369 · قرآن
الٰہی عذابنبوی تائید کی نشانیالٰہی عذاباہلِ ایمان کی نجاتعبرتمخالفین پر حجتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیحجدید تحقیقی بحث
قرآنِ مجید بیان کرتا ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے طاقتور قومِ عاد کو صرف اللہ کی عبادت کی دعوت دی، مگر انہوں نے انکار کیا، اپنی قوت پر فخر کیا اور عذاب لانے کا مطالبہ کیا۔ جب ایک بادل ان کی وادیوں کی طرف آیا تو وہ اسے بارش سمجھ کر خوش ہوئے، مگر وہ اللہ کی طرف سے تباہ کن ہوا تھی۔ یہ ہوا سات راتوں اور آٹھ دنوں تک مسلسل چلی، قومِ عاد ہلاک ہوئی، جبکہ حضرت ہود علیہ السلام اور اہلِ ایمان اللہ کی رحمت سے محفوظ رہے۔
حضرت ہود علیہ السلام · PER-000368 · قرآن
نبوی معجزہآزمائشعبرتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیح
قرآنِ مجید حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا ایک نہایت ہیبت ناک عہد بیان کرتا ہے: اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے مضبوط میثاق لیا اور طور کو ان کے اوپر بلند کردیا۔ سورۂ اعراف میں پہاڑ ان کے سروں پر سایبان کی طرح دکھائی دیتا ہے اور انہیں گمان ہوتا ہے کہ وہ ان پر گر پڑے گا۔ اسی لمحے حکم دیا جاتا ہے کہ دی گئی کتاب کو مضبوطی سے تھامو، اس کی تعلیمات کو یاد رکھو اور سنجیدگی سے اس کی اطاعت کرو۔ کلاسیکی مفسرین اس کتاب کو تورات قرار دیتے اور «قوت کے ساتھ لینے» کو عزم، اطاعت اور عمل سے تعبیر کرتے ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام · PER-000366 · قرآن
الٰہی نجاترحمت یا برکت
قرآن بنی اسرائیل کی تاریخ میں اس نعمت کو صاف الفاظ میں یاد کرتا ہے کہ اللہ نے ان پر بادل کا سایہ کیا۔ سورۂ بقرہ 2:57 یہ نعمت براہِ راست بیان کرتی ہے، جبکہ سورۂ اعراف 7:160 اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے واضح سیاق میں پانی، من و سلویٰ اور دوسری الٰہی فراہمی کے ساتھ دوبارہ ذکر کرتی ہے۔ قدیم تفسیر اس بادل کے سائے کو صحرائی دور میں دھوپ سے حفاظت اور راحت کے طور پر سمجھتی ہے، لیکن قرآن بادل کی قطعی مادی نوعیت یا مدت بیان نہیں کرتا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام · PER-000366 · قرآن
الٰہی نجاتآزمائشعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیحجدید تحقیقی بحث
فرعون سے نجات کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بے سہارا نہیں چھوڑا۔ قرآن بیان کرتا ہے کہ ان پر بادلوں کا سایہ کیا گیا اور ان کے لیے من و سلویٰ اتارا گیا، اور فرمایا گیا کہ اللہ کی عطا کردہ پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ۔ ساتھ ہی حد سے بڑھنے سے منع کیا گیا۔ بعد میں یہی قوم ایک ہی طرز کے کھانے سے اکتا کر موسیٰ علیہ السلام سے زمین کی عام پیداوار مانگنے لگی۔ یوں یہ واقعہ صرف رزق کے معجزے کی داستان نہیں بلکہ نعمت، شکر، ضبط اور ناشکری کے درمیان ایک گہرا اخلاقی سبق بھی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام · PER-000366 · قرآن
قبول شدہ نبوی دعاعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیح
قرآن بنی اسرائیل کے سفر میں پانی کی ایک عظیم الٰہی فراہمی بیان کرتا ہے۔ جب لوگوں کو پانی کی سخت ضرورت پیش آئی تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پانی مانگا، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لیے اللہ سے پانی طلب کیا۔ اللہ نے حکم دیا کہ عصا سے چٹان پر ضرب لگائیں۔ اس کے بعد بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر جماعت نے اپنا پینے کا مقام پہچان لیا۔ یہ معجزہ صرف پیاس بجھانے تک محدود نہ رہا بلکہ پوری قوم کے لیے منظم فراہمی بن گیا، اور قرآن اسی نعمت کے بعد اللہ کے رزق سے کھانے پینے اور زمین میں فساد نہ کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام · PER-000366 · قرآن
الٰہی نجاتنبوی تائید کی نشانیالٰہی عذاباہلِ ایمان کی نجاتپیش خبری یا وحیعبرتمخالفین پر حجتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیحجدید تحقیقی بحث
قرآنِ مجید موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی نجات کو عظیم الٰہی مدد کے طور پر بیان کرتا ہے۔ سامنے سمندر اور پیچھے فرعون کا لشکر تھا، مگر موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب پر کامل یقین رکھا۔ اللہ کے حکم سے انہوں نے عصا سمندر پر مارا، پانی بڑے پہاڑوں جیسے حصوں میں جدا ہوگیا اور خشک راستہ بن گیا۔ موسیٰ علیہ السلام اور تمام ساتھی محفوظ گزر گئے، جبکہ فرعون اور اس کا لشکر غرق ہوگیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام · PER-000366 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیعبرتمخالفین پر حجتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیح
قرآن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سفید ہاتھ کو ایک مکمل نبوی نشانی کے طور پر بیان کرتا ہے۔ عصا کی نشانی دکھانے کے بعد اللہ نے انہیں حکم دیا کہ ہاتھ اپنے پہلو کی طرف لے جائیں یا لباس کے گریبان میں داخل کریں۔ جب ہاتھ باہر آیا تو وہ کسی بیماری اور عیب کے بغیر نمایاں سفید تھا۔ پھر یہی ہاتھ عصا کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے سامنے پیش کیے جانے والے دو الٰہی برہانوں میں شامل ہوا۔ جب فرعون نے کھلی نشانی مانگی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہاتھ نکالا اور وہ تمام دیکھنے والوں کے لیے نمایاں سفید ہوگیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام · PER-000366 · قرآن
صحابی/صحابیہ کی کرامتنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکت
صحیح بخاری اور صحیح مسلم حضرت ابو بکر صدیقؓ کے گھر پیش آنے والا ایک حیرت انگیز واقعہ محفوظ کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو اہلِ صفہ کے محتاج افراد کو اپنے کھانے میں شریک کرنے کی ترغیب دی تو حضرت ابو بکرؓ تین مہمان گھر لے گئے۔ جب سب نے کھانا شروع کیا تو ہر لقمے کے نیچے سے اس سے زیادہ کھانا بڑھتا رہا۔ سب سیر ہوگئے، مگر کھانا پہلے سے زیادہ ہوگیا۔ حضرت ابو بکرؓ کی اہلیہ نے اسے تقریباً تین گنا بتایا، پھر باقی کھانا نبی ﷺ کے پاس لے جایا گیا اور بعد میں بارہ جماعتوں کے لوگوں نے بھی اسی میں سے کھایا۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ · PER-000387 · صحیح حدیث
صحابی/صحابیہ کی کرامتعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ
کلاسیکی مآخذ میں حیرہ کا ایک مشہور واقعہ محفوظ ہے جس میں حضرت خالد بن ولیدؓ کو زہر سے خبردار کیا گیا۔ قیس بن ابی حازم کی براہِ راست مشاہدے والی روایت کے مطابق حضرت خالدؓ کے سامنے زہر لایا گیا، آپؓ نے پوچھا کہ یہ کیا ہے، بتایا گیا کہ زہر ہے، تو آپؓ نے اللہ کا نام لیا اور اسے پی لیا۔ دوسری قدیم روایتیں بھی اس واقعے کو حیرہ سے جوڑتی ہیں اور بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے حکم سے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ · PER-000394 · بعد کی مناقب و کرامات