حضرت خالد بن ولیدؓ کا حیرہ میں زہر پینے کا واقعہ

صحابی/صحابیہ کی کرامتعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

کلاسیکی مآخذ میں حیرہ کا ایک مشہور واقعہ محفوظ ہے جس میں حضرت خالد بن ولیدؓ کو زہر سے خبردار کیا گیا۔ قیس بن ابی حازم کی براہِ راست مشاہدے والی روایت کے مطابق حضرت خالدؓ کے سامنے زہر لایا گیا، آپؓ نے پوچھا کہ یہ کیا ہے، بتایا گیا کہ زہر ہے، تو آپؓ نے اللہ کا نام لیا اور اسے پی لیا۔ دوسری قدیم روایتیں بھی اس واقعے کو حیرہ سے جوڑتی ہیں اور بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے حکم سے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا۔

حضرت خالد بن ولیدؓ کی زندگی سے متعلق کلاسیکی اسلامی مآخذ میں حیرہ کا ایک نہایت مشہور واقعہ محفوظ ہے۔ ایک قدیم روایت کے مطابق جب حضرت خالدؓ حیرہ پہنچے تو ان کے اردگرد موجود لوگوں نے انہیں خبردار کیا کہ زہر سے محتاط رہیں، کہیں مقامی غیر عرب لوگ انہیں زہر نہ پلا دیں۔ حضرت خالدؓ نے اس اندیشے کو محض خوف کی صورت میں باقی رکھنے کے بجائے فرمایا کہ زہر میرے سامنے لاؤ۔

اس واقعے کی بنیادی بات کے لیے سب سے مضبوط روایت قیس بن ابی حازم کی ہے۔ قیس اپنے مشاہدے کے الفاظ میں کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو دیکھا کہ ان کے سامنے زہر لایا گیا۔ حضرت خالدؓ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: زہر ہے۔ آپؓ نے اللہ کا نام لیا اور اسے پی لیا۔ ابن سعد نے الطبقات الکبریٰ میں یہ روایت محفوظ کی ہے، اور اسی نقل میں واقعے کی جگہ حیرہ بیان ہوئی ہے۔

ابن ابی شیبہ کی قدیم روایت اسی منظر کو قدرے زیادہ تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ اس میں حضرت خالدؓ کے حیرہ آنے، زہر سے خبردار کیے جانے، زہر منگوانے، اسے ہاتھ میں لینے، اللہ کا نام لینے اور نگل جانے کا ذکر ہے۔ روایت کہتی ہے کہ اس سے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا۔ بغوی نے بھی قیس بن ابی حازم سے ایک متوازی روایت نقل کی ہے جس میں لائے گئے زہر کو بہت تیز اثر بتایا گیا ہے اور حضرت خالدؓ کے اللہ کا نام لے کر اسے نگلنے کا ذکر موجود ہے۔

ان روایتوں کو ایک ساتھ پڑھیں تو واقعہ بہت واضح صورت اختیار کرتا ہے۔ حضرت خالدؓ کے سامنے ایک ایسی چیز لائی گئی جسے خود لانے والوں نے زہر کہا۔ آپؓ نے پہلے اس کی حقیقت پوچھی، پھر جب صاف بتایا گیا کہ یہ زہر ہے تو اللہ کا نام لیا اور اسے پی لیا۔ قدیم مآخذ اس کے بعد یہی یاد رکھتے ہیں کہ اس واقعے میں انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا۔

بعد کے بڑے محدث اور شارح ابن حجر عسقلانی نے بھی اس واقعے کو نقل کرتے ہوئے حضرت خالدؓ کی سلامتی کو ایک خاص کرامت کے طور پر سمجھا۔ اس تعبیر میں واقعے کا مرکزی پہلو حضرت خالدؓ کا غیر معمولی توکل، جرأت اور اس خاص موقع پر اللہ کی طرف سے ملنے والی حفاظت ہے۔

یوں عوامی کہانی کا اصل حسن کسی طویل فنی بحث میں نہیں بلکہ اسی مختصر مگر مضبوط منظر میں ہے: حیرہ میں خطرے کی تنبیہ، حضرت خالدؓ کے سامنے زہر لایا جانا، آپؓ کا حقیقت پوچھنا، اللہ کا نام لینا، زہر پی لینا اور پھر نقصان سے محفوظ رہنا۔ اسی وجہ سے یہ واقعہ کلاسیکی مآخذ میں حضرت خالد بن ولیدؓ کی شجاعت، توکل اور خصوصی حفاظت کی یاد کے طور پر مشہور ہوا۔

خلاصۂ نتیجہ

مستند کلاسیکی روایات ایک یادگار منظر محفوظ کرتی ہیں: حیرہ میں حضرت خالد بن ولیدؓ کے سامنے زہر لایا گیا، آپؓ نے اللہ کا نام لے کر اسے پی لیا اور روایت کے مطابق محفوظ رہے؛ بعد کے اہلِ علم نے اسے ان کی خاص کرامت، شجاعت اور اللہ پر غیر معمولی توکل کے طور پر یاد کیا۔

مآخذ

Musannaf Ibn Abi Shaybah 33730

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0077-CLM-01 now links this SOURCE to a claim reconstructed only from its supplied locked canonical text.

Ibn Sa'd, al-Tabaqat al-Kabir, vol. 5, p. 40, report 5837 (digital displays may number 5839)

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0077-CLM-02 now links this SOURCE to a claim reconstructed only from its supplied locked canonical text.

Al-Baghawi, Mu'jam al-Sahabah 587

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0077-CLM-03 now links this SOURCE to a claim reconstructed only from its supplied locked canonical text.

Ibn Hajar, Fath al-Bari, commentary on Bukhari's chapter 'Drinking poison and medicine with it'

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0077-CLM-04 now links this SOURCE to a claim reconstructed only from its supplied locked canonical text.