معاویہ بن مروان

PER-000184 خاندان کی شخصیت مصدقہ مقامِ تدفین نامعلوم مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
معاویہ بن مروان بن حکم، کنیت ابو المغیرہ، ایک اموی شہزادے اور خلیفہ عبد الملک بن مروان کے حقیقی بھائی تھے۔ مصعب زبیری کی «نسب قریش» ص 45 اور ابن حزم کی «جمہرۃ انساب العرب» ص 87 رملہ بنت علی بن ابی طالبؑ سے ان کا نکاح ان کے پہلے شوہر ابو الہیاج کے بعد صراحت سے محفوظ کرتے ہیں، اور بعد کی امامی کتاب «احقاق الحق» بھی یہی نسبت نقل کرتی ہے۔ ایک الگ نسبی روایت میں زینب بنت الحسن بن الحسن بن علیؑ کو ان کے بیٹے ولید کی والدہ بتایا گیا ہے؛ اسے رملہ بنت علیؑ یا کسی «رملہ بنت حسن» کے ساتھ خلط نہیں کرنا چاہیے۔ ان کی ولادت، وفات اور تدفین کی معتبر تفصیل معلوم نہیں۔
ولادت

ان کی تاریخ اور مقام ولادت زیرِ مطالعہ مآخذ میں یقینی طور پر محفوظ نہیں۔

وفات

ان کی وفات کی تاریخ، مقام اور حالات یقینی طور پر محفوظ نہیں۔

مدفن یا منسوب مقام

ان کا مدفن نامعلوم ہے؛ کوئی مخصوص قبر یا مزار تاریخی طور پر ثابت نہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

معاویہ بن مروان اموی خاندان کی مروانی شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔ ابن سعد مروان بن حکم کو ان کا والد اور عائشہ بنت معاویہ بن مغیرہ کو ان کی والدہ بتاتے ہیں، اور عبد الملک و معاویہ کو ایک ہی والدہ سے پیدا ہونے والے فرزندوں میں شمار کرتے ہیں۔ ابن عساکر بھی انہیں عبد الملک کا حقیقی بھائی کہتے، ابو المغیرہ کی کنیت دیتے اور دمشق میں ان کے گھر کا ذکر کرتے ہیں۔

ان کی شناخت کو اسی نام والے متعدد اموی افراد سے الگ رکھنا ضروری ہے، خصوصاً معاویہ بن مروان بن عبد الملک اور بعد کی نسلوں کے مشابہ ناموں سے۔ کلاسیکی اندراجات میں مکمل سلسلہ معاویہ بن مروان بن حکم بن ابی العاص ہے، اور عبد الملک سے حقیقی برادری شناخت کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

ان کی زندگی کا سب سے مضبوط محفوظ ذاتی واقعہ رملہ بنت علی بن ابی طالبؑ سے نکاح ہے۔ مصعب بن عبداللہ زبیری کی قدیم سنی نسبی کتاب «نسب قریش»، ص 45، صاف لکھتی ہے کہ رملہ پہلے ابو الہیاج عبداللہ بن ابی سفیان بن حارث بن عبدالمطلب کے نکاح میں تھیں، پھر ان کے بعد معاویہ بن مروان نے ان سے نکاح کیا۔ ابن حزم «جمہرۃ انساب العرب»، ص 87، اسی ترتیب کو دوبارہ صراحت سے لکھتے ہیں۔ امامی مآخذ میں شیخ مفیدؒ «الارشاد»، ج 1، ص 354، رملہ کو حضرت علی علیہ السلام کی صاحبزادیوں میں شمار کرتے اور ان کی والدہ ام سعید بنت عروہ ثقفیہ بتاتے ہیں، اگرچہ اسی مقام پر شوہر کا نام نہیں دیتے۔ بعد کی امامی کتاب «احقاق الحق و ازہاق الباطل»، ج 32، ص 685، رملہ کے ابو الہیاج کے بعد معاویہ بن مروان سے نکاح کو صریح طور پر نقل کرتی ہے۔ اس طرح رملہ بنت علیؑ سے نکاح صرف ایک مکتب کی منفرد نقل نہیں رہتا، بلکہ ابتدائی سنی نسبی روایت اور بعد کی امامی نقل دونوں میں محفوظ ہے۔

یہیں ایک اہم نامی خلط بھی حل ہوتا ہے۔ بعض جدید تحریروں میں «رملہ بنت حسن» کو معاویہ کی اہلیہ اور ولید کی والدہ لکھ دیا جاتا ہے، مگر جانچے گئے قدیم نسبی متن میں یہ نام اس صورت میں نہیں ملا۔ ابن حزم «جمہرۃ انساب العرب»، ص 91 اور ص 108، معاویہ بن مروان کے چھ بیٹے مغیرہ، عبد الملک، بشر، محمد، خالد اور ولید لکھتے ہیں، اور ولید کی والدہ کو صراحت سے «زینب بنت الحسن بن الحسن بن علی بن ابی طالب» کہتے ہیں۔ ابن حزم کی اموی و ہاشمی مصاہرتوں والی دوسری تحریر میں مزید صاف ہے کہ زینب پہلے ولید بن عبد الملک کے نکاح میں تھیں، پھر طلاق کے بعد اس کے چچا معاویہ بن مروان نے ان سے نکاح کیا اور ان سے ولید پیدا ہوا۔ لہٰذا رملہ بنت علیؑ اور زینب بنت الحسن بن الحسنؑ دو الگ علوی خواتین ہیں؛ «رملہ بنت حسن» کہہ کر دونوں نسبتوں کو ملا دینا درست نہیں۔ تاہم ولید کی بعد کی سیاسی شناخت میں بھی احتیاط ضروری ہے: ابن عساکر «تاریخ دمشق»، ج 63، ص 296، دمشق کے آخری اموی والی ولید کے نسب کی کئی صورتیں نقل کرتے اور «ولید بن معاویہ بن مروان بن عبد الملک» کو زیادہ ثابت کہتے ہیں؛ والدہ کے بارے میں بھی ام ولد بربریہ اور زینب بنت الحسن بن الحسن دونوں اقوال نقل کرتے ہیں۔ اس لیے ابن حزم کی نسبی روایت محفوظ رکھی گئی ہے، مگر آخری دور کے والیِ دمشق کی پوری سیاسی سوانح کو بلا اختلاف اسی معاویہ کے بیٹے پر منتقل نہیں کیا گیا۔

معاویہ بن مروان کے اپنے سیاسی و انتظامی کردار کے بارے میں مواد بہت محدود ہے۔ ابن عساکر «تاریخ دمشق»، ج 59، ص 276، انہیں ابو المغیرہ، عبد الملک بن مروان کا حقیقی بھائی بتاتے اور دمشق کے سوقِ کبیر میں ان کے گھر کا ذکر کرتے ہیں۔ اس سے ان کا دمشق میں رہنا اور پہلی مروانی حکمران نسل سے قریبی تعلق ثابت ہوتا ہے، مگر جانچے گئے معتبر مآخذ میں ان کے لیے کوئی متعین گورنری، فوجی منصب یا باقاعدہ انتظامی عہدہ ثابت نہیں ہوا۔ اس لیے یہ کہنا کہ وہ لازماً اپنے والد مروان یا بھائی عبد الملک کے دور میں کسی مخصوص درباری یا انتظامی منصب پر فائز تھے، موجود شہادت سے زیادہ بڑا دعویٰ ہوگا۔ بعض ادبی کتابوں کی منفی حکایات بھی ان کی مکمل شخصیت یا اہلیت کا محفوظ تاریخی بدل نہیں ہیں؛ پروفائل کو ثابت نسب، خاندانی مصاہرت اور محدود دمشقی معلومات تک محتاط رکھنا زیادہ درست ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

معاویہ بن مروان کی تاریخی اہمیت کسی ثابت گورنری سے زیادہ پہلی مروانی نسل اور اموی خاندان کے نسبی جال میں ان کی جگہ سے ہے۔ ابن سعد اور ابن عساکر انہیں مروان بن حکم اور عائشہ بنت معاویہ بن مغیرہ کے صاحبزادے اور عبد الملک بن مروان کے حقیقی بھائی کے طور پر محفوظ کرتے ہیں۔ اسی واضح شناخت کی وجہ سے انہیں معاویہ بن مروان بن عبد الملک یا بعد کی نسل کے ہم نام افراد سے الگ رکھنا ضروری ہے۔

ان کی علوی مصاہرت اس مختصر سوانح کا سب سے اہم توضیحی حصہ ہے۔ «نسب قریش» ص 45 اور ابن حزم ص 87 رملہ بنت علیؑ سے ان کے نکاح پر متفق ہیں، جبکہ شیخ مفیدؒ رملہ کا حضرت علیؑ کی صاحبزادی ہونا محفوظ کرتے ہیں اور بعد کی امامی «احقاق الحق» بھی معاویہ سے اسی نکاح کو نقل کرتی ہے۔ الگ طور پر ابن حزم زینب بنت الحسن بن الحسنؑ کو ولید کی والدہ اور معاویہ کی اہلیہ قرار دیتے ہیں۔ اس لیے رملہ بنت علیؑ اور زینب بنت الحسن بن الحسنؑ کو الگ رکھنا ضروری ہے؛ «رملہ بنت حسن» والی مخلوط عبارت اس تحقیق شدہ نسبی تصویر کی درست نمائندگی نہیں کرتی۔ یہ رشتے اموی اور علوی/ہاشمی خاندانوں کے درمیان حقیقی مصاہرت دکھاتے ہیں، مگر خود بخود سیاسی ہم آہنگی یا ہر تاریخی اختلاف کے خاتمے کا ثبوت نہیں بنتے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Al-Tabaqat al-Kubra | Ibn Sad | Vol. 5, p. 36, biography of Marwan ibn al-Hakam | https://ablibrary.net/book_content/4729/36 | Identifies Marwan as father, Aisha bint Muawiya ibn al-Mughira as mother, and Abd al-Malik and Muawiya as full brothers
Al-Maarif | Ibn Qutayba al-Dinawari | Biographical notice; pagination varies by edition | https://www.islamicbook.ws/tarekh/almaarf-002.html | Preserves later adab-style anecdotes and the names Abd al-Malik, al-Mughira and Bishr among his sons; used only as literary context
Nasab Quraysh | Musab ibn Abd Allah al-Zubayri | Vol. 1, p. 45 | https://ar.lib.eshia.ir/40519/1/45 | Directly states that Ramla bint Ali was first married to Abu al-Hayaj and that Muawiya ibn Marwan married her afterward
al-Irshad | Shaykh al-Mufid | Vol. 1, p. 354 | https://ar.lib.eshia.ir/27035/1/354 | Lists Ramla among Imam Ali's daughters and identifies her mother as Umm Sa'id bint Urwa al-Thaqafiyya; this passage does not name Ramla's husband
Ihqaq al-Haqq wa Izhaq al-Batil | Imami compilation attributed to Qadi Nur Allah al-Shushtari, expanded edition | Vol. 32, p. 685 | https://ar.lib.eshia.ir/10271/32/685 | Transmits that Ramla married Muawiya ibn Marwan after Abu al-Hayaj
Jamharat Ansab al-Arab | Ibn Hazm | p. 87 | https://usul.ai/ar/t/jamharat-ansab-1/87 | Identifies Muawiya ibn Marwan as Abd al-Malik's full brother and explicitly records his marriage to Ramla bint Ali after Abu al-Hayaj
Jamharat Ansab al-Arab | Ibn Hazm | p. 91 | https://www.masaha.org/book/view/2330/page/91 | Lists six sons of Muawiya and identifies al-Walid's mother as Zaynab bint al-Hasan ibn al-Hasan ibn Ali
Jamharat Ansab al-Arab | Ibn Hazm | p. 108 | https://shamela.ws/book/9793/108 | States that al-Walid ibn Muawiya's mother was Zaynab bint al-Hasan ibn al-Hasan ibn Ali
Rasa'il Ibn Hazm / Umayyad-Hashimite intermarriages | Ibn Hazm | p. 109 in the cited edition | https://ablibrary.net/book_content/8433/109 | States that al-Walid ibn Abd al-Malik first married Zaynab bint al-Hasan ibn al-Hasan, then after divorce his uncle Muawiya ibn Marwan married her and she bore al-Walid
Tarikh Madinat Dimashq | Ibn Asakir | Vol. 59, p. 276 | https://ar.lib.eshia.ir/22014/59/276 | Identifies Muawiya ibn Marwan ibn al-Hakam as Abu al-Mughira, full brother of Abd al-Malik, and records his house in Damascus; no specific office is stated
Tarikh Madinat Dimashq | Ibn Asakir | Vol. 63, p. 296 | https://ar.lib.eshia.ir/22014/63/296 | Preserves competing lineages for the late Umayyad governor al-Walid and prefers al-Walid ibn Muawiya ibn Marwan ibn Abd al-Malik; also preserves variant reports about his mother

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔