پیدائش کی صحیح تاریخ اور سال معلوم نہیں۔ وفات کے وقت عمر کی روایات مختلف ہیں، جن میں بیالیس اور باون سال بھی شامل ہیں، اس لیے کوئی ایک حسابی سنِ پیدائش اختیار نہیں کیا گیا۔
داؤد بن علی بن عبد اللہ بن عباس
نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
عباسی ہاشمی نسب: داؤد بن علی بن عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب۔ جانچ کیے گئے ماخذ میں والدہ کا نام موجود نہیں اور ان کا ربط قائم نہیں کیا گیا۔
PER-000203
تاریخی شخصیت
مصدقہ
مقامِ تدفین نامعلوم
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
داؤد بن علی بن عبد اللہ بن عباس عباسی ہاشمی خاندان کے ایک امیر، پہلے عباسی خلفا ابو العباس سفاح اور ابو جعفر منصور کے چچا، حدیث کے راوی اور اموی اقتدار سے عباسی حکومت کی منتقلی کے زمانے کے نمایاں خاندانی رہنما تھے۔ ۱۳۲ھ/۷۵۰ء میں وہ مختصر مدت کے لیے کوفہ کے حاکم رہے، پھر مدینہ، مکہ، موسمِ حج اور بعض مغربی علاقوں کی ذمہ داری انہیں دی گئی۔ کلاسیکی مآخذ ان کی خطابت، سیاسی ہیبت اور نئی حکومت کے قیام میں کردار کو یاد کرتے ہیں، لیکن حجاز میں اموی خاندان کے افراد کے خلاف سخت انتقامی اقدامات بھی ان سے منسوب کرتے ہیں۔ ان کی وفات ربیع الاول ۱۳۳ھ/۷۵۰–۷۵۱ء میں مدینہ میں ہوئی؛ عین قبر کی جگہ معتبر طور پر محفوظ نہیں۔
ربیع الاول ۱۳۳ھ/۷۵۰–۷۵۱ء میں مدینہ میں وفات ہوئی، ۱۳۲ھ کا حج کرانے کے کچھ ہی عرصے بعد۔ وفات کے وقت عمر کے بارے میں مآخذ مختلف ہیں۔
ان کی وفات مدینہ میں ہوئی، مگر استعمال شدہ قدیم اور کلاسیکی مآخذ عین قبر کی جگہ کو معتبر طور پر متعین نہیں کرتے۔ تدفین کی درجہ بندی: مدینہ میں صحیح مقام نامعلوم؛ کوئی مزار یا نقاط مقرر نہیں کیے گئے۔
سوانح و تاریخی تعارف
داؤد کی کنیت ابو سلیمان تھی اور ان کا مکمل نسب داؤد بن علی بن عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب تھا۔ وہ قریش کی ہاشمی شاخ سے تعلق رکھتے تھے جو بعد میں عباسی خاندان کے نام سے معروف ہوئی۔ ان کے والد علی بن عبد اللہ، صحابی عبد اللہ بن عباس کے پوتے تھے، اور اسی نسبت سے داؤد پہلے دو عباسی خلفا ابو العباس سفاح اور ابو جعفر منصور کے حقیقی چچا تھے۔ مکمل نسب بیان کرنا ضروری ہے کیونکہ داؤد بن علی نام کے کئی غیر متعلق اشخاص گزرے ہیں، جن میں بہت بعد کے فقیہ داؤد ظاہری بھی شامل ہیں۔ ابن سعد نے ان کی والدہ کو صرف امِ ولد لکھا ہے اور کوئی یقینی ذاتی نام محفوظ نہیں کیا۔
عباسی خاندان شام کے جنوبی علاقے شراۃ میں واقع حُمَیمہ سے وابستہ تھا، اور ابن عساکر داؤد کو عباسیوں کے علانیہ ظہور سے پہلے اسی مقام پر ذکر کرتے ہیں۔ وہ خاندان کی اس بڑی نسل سے تھے جس نے ان کے بھتیجوں کی شاخ کی قیادت میں چلنے والی تحریک کی حمایت کی۔ خفیہ دعوت کے ہر عملی مرحلے میں ان کا مخصوص کردار مکمل طور پر مستند نہیں، اس لیے انہیں تحریک کے بزرگ خاندانی شریک کے طور پر بیان کرنا زیادہ محتاط ہے، نہ کہ ایسی زیرِ زمین ذمہ داریاں ان سے منسوب کی جائیں جن کی واضح شہادت موجود نہیں۔
جب ۱۳۲ھ میں کوفہ میں سفاح کی علانیہ بیعت ہوئی تو تاریخی اور سوانحی مآخذ افتتاحی سیاسی خطابات میں داؤد کا کردار بیان کرتے ہیں۔ ذہبی کے مطابق سفاح خطاب کے دوران رک گئے تو داؤد منبر کے سامنے کھڑے ہوئے، مختصر مگر مؤثر کلام کیا اور نئی حکومت سے متعلق لوگوں کی امیدیں بڑھائیں۔ دوسری روایات بھی چچا اور بھتیجے کو مسجد میں ساتھ دکھاتی ہیں اور داؤد کی فصاحت کو اس لمحے میں اہم قرار دیتی ہیں جب عباسی فوجی کامیابی کو باقاعدہ حکومت میں تبدیل کر رہے تھے۔
سفاح نے پہلے داؤد کو کوفہ اور اس کے سواد پر مقرر کیا، پھر انہیں حجاز بھیج دیا۔ قدیم روایات انہیں مدینہ کا پہلا عباسی والی قرار دیتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ انہوں نے ۱۳۲ھ کا حج بھی کرایا۔ مآخذ میں ان کے زیرِ اختیار مدینہ، مکہ، موسمِ حج، یمن اور یمامہ کے نام آتے ہیں، اگرچہ ہر علاقے میں اختیار کی صحیح مدت اور انتظامی حدود یکساں تفصیل سے محفوظ نہیں۔ ان کی حکومت مختصر تھی، مگر اس نے مقدس شہروں میں اموی اقتدار سے عباسی اقتدار کی رسمی منتقلی کی نشان دہی کی۔
نسبی مآخذ داؤد کا تعلق علی زین العابدینؑ کے خاندان سے بھی جوڑتے ہیں۔ الشجرۃ المبارکۃ کے مطابق انہوں نے پہلے ام الحسن بنت علی زین العابدینؑ سے نکاح کیا، جن سے موسیٰ پیدا ہوئے، اور بعد میں ان کی بہن فاطمہ بنت علی زین العابدینؑ سے نکاح کیا، جن سے ایک بیٹی ہوئی۔
داؤد نے اپنے والد سے روایات نقل کیں اور اوزاعی، سفیان ثوری، شریک، سعید بن عبد العزیز اور دوسرے راویوں کے نام ان سے روایت کرنے والوں میں آتے ہیں۔ محدثین نے ان سے منسوب تمام مواد کو یکساں درجہ نہیں دیا۔ ذہبی نے ان کے واسطے سے منقول طویل دعا کی روایت کو منکر قرار دیا اور ان کی روایت کو مستقل حجت نہیں مانا، جبکہ ابن معین سے منقول قول محتاط طور پر انہیں جھوٹا قرار دینے سے گریز کرتا ہے اور ابن عدی نے والد سے دادا تک ان کی روایات کے بارے میں نسبتاً نرمی دکھائی۔ راوی کی حیثیت سے ان کی تاریخی شناخت واضح ہے، مگر ہر روایت کی سند الگ جانچ کی محتاج ہے۔
عباسی اقتدار کے قیام کے ساتھ شکست خوردہ اموی خاندان اور اس کے حامیوں کے خلاف جبر اور انتقام بھی ہوا۔ بلاذری مدینہ میں داؤد کی حکومت کے تحت ایک نامزد شخص کے قتل اور بعض افراد کی گرفتاری کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ بعد کے حجازی مآخذ مکہ اور مدینہ میں زیادہ وسیع قتل کی نسبت ان کی طرف کرتے اور عبد اللہ بن حسن کی جانب سے نرمی کے مشورے کی روایت محفوظ کرتے ہیں۔ تعداد اور ڈرامائی تفصیلات مختلف ہیں، اس لیے انہیں جوڑ کر ایک مصنوعی عدد نہیں بنایا جا سکتا؛ تاہم متعدد مآخذ کی مشترک سمت ان کے انتظام کی سختی کو حذف کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
داؤد ۱۳۲ھ کا حج کرانے کے کچھ ہی عرصے بعد ربیع الاول ۱۳۳ھ میں مدینہ میں وفات پا گئے۔ ایک روایت ان کی عمر بیالیس سال، دوسری باون سال اور بعض بعد کی روایات مزید مختلف حساب بیان کرتی ہیں، اس لیے پیدائش کا قطعی سال مقرر نہیں کیا گیا۔ وفات کے قریب ان کے بیٹے موسیٰ نے عارضی طور پر مدینہ کی ذمہ داری سنبھالی، پھر خلیفہ نے دوسرا والی مقرر کیا۔ مدینہ میں وفات مضبوط طور پر ثابت ہے، مگر استعمال شدہ قدیم مآخذ عین قبر، مسلسل مزار کی روایت یا معتبر نقاط ثابت نہیں کرتے؛ لہٰذا تدفین مدینہ میں نامعلوم صحیح مقام کے طور پر درج ہے۔
عباسی خاندان شام کے جنوبی علاقے شراۃ میں واقع حُمَیمہ سے وابستہ تھا، اور ابن عساکر داؤد کو عباسیوں کے علانیہ ظہور سے پہلے اسی مقام پر ذکر کرتے ہیں۔ وہ خاندان کی اس بڑی نسل سے تھے جس نے ان کے بھتیجوں کی شاخ کی قیادت میں چلنے والی تحریک کی حمایت کی۔ خفیہ دعوت کے ہر عملی مرحلے میں ان کا مخصوص کردار مکمل طور پر مستند نہیں، اس لیے انہیں تحریک کے بزرگ خاندانی شریک کے طور پر بیان کرنا زیادہ محتاط ہے، نہ کہ ایسی زیرِ زمین ذمہ داریاں ان سے منسوب کی جائیں جن کی واضح شہادت موجود نہیں۔
جب ۱۳۲ھ میں کوفہ میں سفاح کی علانیہ بیعت ہوئی تو تاریخی اور سوانحی مآخذ افتتاحی سیاسی خطابات میں داؤد کا کردار بیان کرتے ہیں۔ ذہبی کے مطابق سفاح خطاب کے دوران رک گئے تو داؤد منبر کے سامنے کھڑے ہوئے، مختصر مگر مؤثر کلام کیا اور نئی حکومت سے متعلق لوگوں کی امیدیں بڑھائیں۔ دوسری روایات بھی چچا اور بھتیجے کو مسجد میں ساتھ دکھاتی ہیں اور داؤد کی فصاحت کو اس لمحے میں اہم قرار دیتی ہیں جب عباسی فوجی کامیابی کو باقاعدہ حکومت میں تبدیل کر رہے تھے۔
سفاح نے پہلے داؤد کو کوفہ اور اس کے سواد پر مقرر کیا، پھر انہیں حجاز بھیج دیا۔ قدیم روایات انہیں مدینہ کا پہلا عباسی والی قرار دیتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ انہوں نے ۱۳۲ھ کا حج بھی کرایا۔ مآخذ میں ان کے زیرِ اختیار مدینہ، مکہ، موسمِ حج، یمن اور یمامہ کے نام آتے ہیں، اگرچہ ہر علاقے میں اختیار کی صحیح مدت اور انتظامی حدود یکساں تفصیل سے محفوظ نہیں۔ ان کی حکومت مختصر تھی، مگر اس نے مقدس شہروں میں اموی اقتدار سے عباسی اقتدار کی رسمی منتقلی کی نشان دہی کی۔
نسبی مآخذ داؤد کا تعلق علی زین العابدینؑ کے خاندان سے بھی جوڑتے ہیں۔ الشجرۃ المبارکۃ کے مطابق انہوں نے پہلے ام الحسن بنت علی زین العابدینؑ سے نکاح کیا، جن سے موسیٰ پیدا ہوئے، اور بعد میں ان کی بہن فاطمہ بنت علی زین العابدینؑ سے نکاح کیا، جن سے ایک بیٹی ہوئی۔
داؤد نے اپنے والد سے روایات نقل کیں اور اوزاعی، سفیان ثوری، شریک، سعید بن عبد العزیز اور دوسرے راویوں کے نام ان سے روایت کرنے والوں میں آتے ہیں۔ محدثین نے ان سے منسوب تمام مواد کو یکساں درجہ نہیں دیا۔ ذہبی نے ان کے واسطے سے منقول طویل دعا کی روایت کو منکر قرار دیا اور ان کی روایت کو مستقل حجت نہیں مانا، جبکہ ابن معین سے منقول قول محتاط طور پر انہیں جھوٹا قرار دینے سے گریز کرتا ہے اور ابن عدی نے والد سے دادا تک ان کی روایات کے بارے میں نسبتاً نرمی دکھائی۔ راوی کی حیثیت سے ان کی تاریخی شناخت واضح ہے، مگر ہر روایت کی سند الگ جانچ کی محتاج ہے۔
عباسی اقتدار کے قیام کے ساتھ شکست خوردہ اموی خاندان اور اس کے حامیوں کے خلاف جبر اور انتقام بھی ہوا۔ بلاذری مدینہ میں داؤد کی حکومت کے تحت ایک نامزد شخص کے قتل اور بعض افراد کی گرفتاری کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ بعد کے حجازی مآخذ مکہ اور مدینہ میں زیادہ وسیع قتل کی نسبت ان کی طرف کرتے اور عبد اللہ بن حسن کی جانب سے نرمی کے مشورے کی روایت محفوظ کرتے ہیں۔ تعداد اور ڈرامائی تفصیلات مختلف ہیں، اس لیے انہیں جوڑ کر ایک مصنوعی عدد نہیں بنایا جا سکتا؛ تاہم متعدد مآخذ کی مشترک سمت ان کے انتظام کی سختی کو حذف کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
داؤد ۱۳۲ھ کا حج کرانے کے کچھ ہی عرصے بعد ربیع الاول ۱۳۳ھ میں مدینہ میں وفات پا گئے۔ ایک روایت ان کی عمر بیالیس سال، دوسری باون سال اور بعض بعد کی روایات مزید مختلف حساب بیان کرتی ہیں، اس لیے پیدائش کا قطعی سال مقرر نہیں کیا گیا۔ وفات کے قریب ان کے بیٹے موسیٰ نے عارضی طور پر مدینہ کی ذمہ داری سنبھالی، پھر خلیفہ نے دوسرا والی مقرر کیا۔ مدینہ میں وفات مضبوط طور پر ثابت ہے، مگر استعمال شدہ قدیم مآخذ عین قبر، مسلسل مزار کی روایت یا معتبر نقاط ثابت نہیں کرتے؛ لہٰذا تدفین مدینہ میں نامعلوم صحیح مقام کے طور پر درج ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
داؤد کی بنیادی تاریخی اہمیت عباسی حکومت کے ابتدائی مہینوں میں ہے۔ ان کی خاندانی حیثیت، عوامی خطابت اور صوبائی تقرریاں دکھاتی ہیں کہ نئے خلفا نے انقلابی کامیابی کو انتظامی حکومت میں بدلنے کے لیے عباسی گھرانے کے بزرگ افراد پر اعتماد کیا۔ کوفہ اور حجاز میں ان کی مختصر حکومت ۱۳۲–۱۳۳ھ میں اقتدار کی منتقلی کا سراغ فراہم کرتی ہے۔
وہ ابتدائی عباسی خاندان میں سیاسی قیادت اور حدیثی روایت کے باہمی تعلق کی مثال بھی ہیں۔ مآخذ ان کی اپنے والد سے روایت اور بعد کے محدثین کی تنقیدی احتیاط دونوں محفوظ کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی دینی روایت کو تسلیم کیا جا سکتا ہے، مگر سیاسی مرتبے کو خودکار حدیثی صحت کا بدل نہیں بنایا جا سکتا۔
ان کی سوانح خاندانی انقلاب کی سیاسی اور اخلاقی قیمت بھی واضح کرتی ہے۔ مآخذ فصاحت، اختیار اور علی زین العابدینؑ کی اولاد سے ازدواجی روابط کا ذکر کرتے ہیں، لیکن حجاز میں سخت انتقامی کارروائیاں بھی محفوظ کرتے ہیں۔ متوازن تعارف انہیں نہ صرف ایک رسمی عباسی بزرگ بناتا ہے اور نہ کسی ایک مخالف روایت تک محدود کرتا ہے، بلکہ ایک طاقتور عبوری منتظم کے طور پر پیش کرتا ہے جس کے ریکارڈ میں ادارہ جاتی اہمیت کے ساتھ سنگین تشدد بھی شامل ہے۔
وہ ابتدائی عباسی خاندان میں سیاسی قیادت اور حدیثی روایت کے باہمی تعلق کی مثال بھی ہیں۔ مآخذ ان کی اپنے والد سے روایت اور بعد کے محدثین کی تنقیدی احتیاط دونوں محفوظ کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی دینی روایت کو تسلیم کیا جا سکتا ہے، مگر سیاسی مرتبے کو خودکار حدیثی صحت کا بدل نہیں بنایا جا سکتا۔
ان کی سوانح خاندانی انقلاب کی سیاسی اور اخلاقی قیمت بھی واضح کرتی ہے۔ مآخذ فصاحت، اختیار اور علی زین العابدینؑ کی اولاد سے ازدواجی روابط کا ذکر کرتے ہیں، لیکن حجاز میں سخت انتقامی کارروائیاں بھی محفوظ کرتے ہیں۔ متوازن تعارف انہیں نہ صرف ایک رسمی عباسی بزرگ بناتا ہے اور نہ کسی ایک مخالف روایت تک محدود کرتا ہے، بلکہ ایک طاقتور عبوری منتظم کے طور پر پیش کرتا ہے جس کے ریکارڈ میں ادارہ جاتی اہمیت کے ساتھ سنگین تشدد بھی شامل ہے۔
خاندانی روابط
ماخذ
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | vol. 5, p. 382, entry 1125 | https://read.shamela.ws/book/1686/1810 | exact Abbasid-Hashimite lineage; mother recorded only as an umm waladTarikh Madinat Dimashq | Ibn Asakir | vol. 17, biography 2052; pagination varies by edition | https://shamela.ws/book/71/7502 | residence at al-Humayma, governorships, hadith teachers and transmitters
Tarikh Madinat Dimashq | Ibn Asakir, citing Khalifa ibn Khayyat and al-Zubayr ibn Bakkar | biographical continuation; pagination varies | https://ablibrary.net/book_content/5191/165 | Hajj leadership in 132 AH, first Abbasid governor of Medina, death in Medina and temporary succession by his son Musa
Siyar A'lam al-Nubala | al-Dhahabi | vol. 5, pp. 444-445 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/908/%D8%AF%D8%A7%D9%88%D8%AF-%D8%A8%D9%86-%D8%B9%D9%84%D9%8A | kinship to al-Saffah, oratory, hadith transmission, death in Rabi al-Awwal 133 AH and one age report
Ansab al-Ashraf | al-Baladhuri | vol. 9, p. 335, section on Umayyad casualties | https://shamela.ws/book/9773/3749 | named coercive actions and detention under Dawud's Medina administration
Al-Iqd al-Thamin fi Tarikh al-Balad al-Amin | Taqi al-Din al-Fasi | vol. 4, p. 64, entry 1160 | https://ftp.shamela.ws/book/20989/1375 | Hijaz governorship, death in Medina in Rabi al-Awwal 133 AH, conflicting age reports and later account of reprisals
Al-Shajara al-Mubaraka fi Ansab al-Talibiyya | attributed to Fakhr al-Din al-Razi | vol. 1, p. 88; Marashi edition p. 74 | https://lib.eshia.ir/86520/1/88 ; https://lib.eshia.ir/10457/1/74 | marriages to Umm al-Hasan and Fatima, daughters of Ali Zayn al-Abidin, and their children
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔