مومنین (عمومی)

PER-000412 اجتماعی موضوع مصدقہ صرف عمومی علاقہ معلوم مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
مومن کی قرآنی تعریف محض کسی مذہبی شناخت یا نام سے نہیں ہوتی۔ قرآن ۴۹:۱۴–۱۵ ظاہری اسلام اور دل میں اترنے والے ایمان کے درمیان فرق واضح کرتا ہے، جبکہ قرآن ۸:۲–۴ حقیقی مومنین کو وہ لوگ قرار دیتا ہے جن کے دل اللہ کے ذکر سے متاثر ہوتے ہیں، آیات سن کر ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے، وہ اپنے رب پر بھروسا کرتے، نماز قائم کرتے اور اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔ سورۂ مؤمنون ۲۳:۱–۱۱ اس تصویر کو مزید مکمل کرتی ہے: نماز میں خشوع، لغو سے اجتناب، زکوٰۃ و پاکیزگی، جنسی حدود کی حفاظت، امانت و وعدے کی پاسداری اور نمازوں کی نگرانی۔ یوں ایمان دل کے یقین سے شروع ہو کر عبادت، کردار، ضبطِ نفس اور ذمہ داری میں ظاہر ہوتا ہے۔ صحیح حدیث بھی یہی جامع تصویر پیش کرتی ہے۔ صحیح مسلم ۸ کی حدیثِ جبرئیل ایمان کے بنیادی ارکان بیان کرتی ہے: اللہ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت اور تقدیر پر ایمان۔ صحیح بخاری ۹ کہتی ہے کہ ایمان کی ساٹھ سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ بخاری ۱۳ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرنے کو کامل ایمان کا حصہ بناتی ہے جو انسان اپنے لیے پسند کرتا ہے؛ بخاری ۲۴۴۶ مومن کو مومن کے لیے عمارت کے حصوں کی طرح بتاتی ہے، اور صحیح مسلم ۲۵۸۶ مومنین کی باہمی رحمت کو ایک جسم سے تشبیہ دیتی ہے۔ اس لیے ایمان عقیدہ، عبادت، اخلاق اور اجتماعی ذمہ داری سب کو جمع کرتا ہے۔ کلاسیکی روحانی کتب قرآن و سنت کی جگہ نہیں لیتیں بلکہ اسی ایمان کی گہرائی سمجھاتی ہیں۔ حضرت علی ہجویری رحمہ اللہ کشف المحجوب میں ایمان پر مستقل باب قائم کرتے ہیں: دل کی تصدیق اور اللہ کے حکم کی عملی پیروی کو باہم مربوط رکھتے اور ایمان کی نشانیاں اعضاء میں بھی بتاتے ہیں—آنکھ حرام سے بچے، کان ہدایت اور کلامِ الٰہی سنے، پیٹ حرام سے محفوظ رہے اور زبان سچی ہو۔ امام غزالی رحمہ اللہ احیاء علوم الدین میں واضح کرتے ہیں کہ اطاعت اور نیک اعمال سے ایمان مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ ظاہر کے اعمال دوبارہ دل پر اثر ڈال کر یقین اور اخلاق کو بڑھاتے ہیں۔ امام قشیری رحمہ اللہ رسالہ قشیریہ میں توبہ، تقویٰ، توکل، شکر، صبر، مراقبہ، اخلاص، صدق، حیا، ذکر اور حسنِ اخلاق کو مومن کی روحانی ترقی کے مراحل کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اسی لیے “مومن”، “صالح” اور “ولی” باہم متعلق ہیں مگر ہر جگہ ایک ہی فنی اصطلاح نہیں۔ ہر حقیقی ولی پہلے مومن ہوتا ہے، لیکن ہر مومن لازماً خاص صوفی اصطلاح میں ولی کے اعلیٰ مرتبے تک نہیں پہنچا ہوتا۔ ہجویری صاف کہتے ہیں کہ ایمان عام ہے اور ولایت خاص، اور کرامت متقی مومن ہی کو ملتی ہے۔ صحیح بخاری ۶۵۰۲ خاص قرب کا راستہ بتاتی ہے: بندہ پہلے فرائض سے اللہ کے قریب ہوتا ہے، پھر نوافل میں بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے محبوب بنا لیتا ہے۔ مومن کا اصل مقصد لقب یا خارق عادت واقعہ نہیں، بلکہ صحیح ایمان، اطاعت، اخلاص، اچھا کردار اور اللہ کا مسلسل قرب ہے۔
ولادت

اس اجتماعی موضوع پر پیدائش کی انفرادی تاریخ لاگو نہیں ہوتی۔ مومنین نسلوں پر پھیلی ایک دینی جماعت ہیں، کوئی ایک تاریخی شخص نہیں جس کی ایک پیدائش کی تاریخ، جائے پیدائش یا انفرادی زمانی سوانح ہو۔

وفات

مومنین کے لیے اجتماعی طور پر بنیادی ماخذی اصول یہ ہے کہ موت حقیقی ہے۔ قرآن ۳:۱۸۵ اور ۲۹:۵۷ بیان کرتے ہیں کہ ہر جان موت کا مزہ چکھتی ہے، اور قرآن ۱۶:۳۲ نیک لوگوں کو موت کے وقت فرشتوں کے سلام اور خوش خبری کے ساتھ قبض کیے جانے کا ذکر کرتا ہے۔ پھر صحیح بخاری ۱۳۷۴ دفن کے بعد مومن کا حال بیان کرتی ہے، جب وہ قبر کے سوالات کا جواب دیتا اور جنت میں اپنا مقام دیکھتا ہے۔ اس لیے بعد کی عبارت کہ مومنین “ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل کیے جاتے ہیں” کو دنیاوی زندگی سے برزخ اور آخرت کی طرف انتقال کی روحانی زبان سمجھنا چاہیے، موت کی لفظی نفی نہیں۔

مدفن یا منسوب مقام

مقام کی نوعیت: اجتماعی موضوع کے لیے لاگو نہیں۔ مومنین کسی ایک وفات یافتہ تاریخی فرد کا نام نہیں، اس لیے اس پورے زمرے کے لیے کوئی ایک مقامِ تدفین، مزار، قبرستان، شہر یا قبر کا نقطہ مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ انفرادی مومنین کی اپنی تدفین گاہیں ہو سکتی ہیں، لیکن پوری جماعتِ مومنین کے لیے کوئی اجتماعی تدفینی جغرافیہ مقرر نہیں کیا جا سکتا۔

سوانح و تاریخی تعارف

یہ ریکارڈ مومنین کو ایک اجتماعی دینی جماعت اور روحانی کیفیت کے طور پر بیان کرتا ہے، کسی ایک تاریخی شخص کی سوانح کے طور پر نہیں۔ اصل موضوع ایمان کی حقیقت ہے: مومن کیا مانتا ہے، ایمان دل اور عمل میں کیسے ظاہر ہوتا ہے، مومنین ایک دوسرے کے ساتھ کیسے رہتے ہیں، ایمان کیسے بڑھتا ہے، اور کلاسیکی روحانی مصنفین نے عام ایمان سے صالحیت اور خاص قرب تک کے سفر کو کس طرح سمجھایا۔

قرآن سب سے پہلے ایمان کو محض دعویٰ بننے سے روکتا ہے۔ سورۂ حجرات ۴۹:۱۴ میں بعض اعراب کے “ہم ایمان لائے” کہنے پر انہیں بتایا گیا کہ ابھی ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا، اس لیے وہ اپنے ظاہری اسلام کا ذکر کریں۔ اگلی آیت ۴۹:۱۵ سچے مومنین کو وہ لوگ کہتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے، پھر شک میں نہیں پڑتے اور اپنے مال و جان کے ذریعے اپنے ایمان کی سنجیدگی ثابت کرتے ہیں۔ پختہ ایمان دل میں اتر کر زندگی کی شکل بدلتا ہے۔

قرآن ۸:۲–۴ حقیقی مومنین کی نہایت جامع مختصر تصویر دیتا ہے۔ اللہ کا ذکر ہو تو ان کے دل متاثر ہوتے ہیں، آیات پڑھی جائیں تو ایمان بڑھتا ہے، وہ رب پر توکل کرتے ہیں، نماز قائم کرتے اور دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔ پھر قرآن انہیں حقیقی مومن قرار دے کر رب کے ہاں درجات، مغفرت اور باعزت رزق کی بشارت دیتا ہے۔

سورۂ مؤمنون ۲۳:۱–۱۱ اس باطنی ایمان کو ایک مکمل طرزِ زندگی میں بدل دیتی ہے۔ کامیاب مومن نماز میں خشوع رکھتے، لغو اور بے فائدہ باتوں سے ہٹتے، زکوٰۃ و پاکیزگی اختیار کرتے، جنسی حدود کی حفاظت کرتے، امانتوں اور وعدوں کا حق ادا کرتے اور نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔ یہاں دل، زبان، جسم، مال، نجی اخلاق اور اجتماعی اعتبار سب ایمان کے دائرے میں آ جاتے ہیں۔

قرآن ۹:۷۱ ایمان کا اجتماعی رخ واضح کرتا ہے: مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار اور رفیق ہیں، نیکی کا حکم دیتے، برائی سے روکتے، نماز قائم کرتے، زکوٰۃ دیتے اور اللہ و رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ اگلی آیت جنت اور اس سے بھی بڑھ کر رضائے الٰہی کی بشارت دیتی ہے۔

صحیح مسلم ۸ کی حدیثِ جبرئیل ایمان کا عقیدتی مرکز دیتی ہے: اللہ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت اور تقدیر پر ایمان۔ یہی حدیث اسلام، ایمان اور احسان میں فرق بھی کرتی ہے اور تینوں کو ایک دین کے اندر جمع کرتی ہے۔ اسلام ظاہری فرائض، ایمان دل کے عقائد، اور احسان عبادت کے اعلیٰ شعور کو بیان کرتا ہے۔

صحیح بخاری ۹ بتاتی ہے کہ ایمان کی ساٹھ سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا ان میں سے ایک شاخ ہے۔ یہ حدیث ایمان کو محض نظری عقیدے تک محدود نہیں رہنے دیتی۔ ایمان کی شاخوں میں دل کی کیفیتیں، زبان کے اقوال، عبادات، اخلاقی ضبط اور عملی کردار شامل ہوتے ہیں۔

ایمان دوسرے لوگوں کے ساتھ سلوک کو بھی بدلتا ہے۔ بخاری ۱۳ کامل ایمان کو اس بات سے جوڑتی ہے کہ انسان اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ بخاری ۲۴۴۶ ایک مومن کو دوسرے مومن کے لیے عمارت کے حصوں کی طرح قرار دیتی ہے جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔ صحیح مسلم ۲۵۸۶ مومنین کی محبت، رحمت اور ہمدردی کو ایک جسم سے تشبیہ دیتی ہے۔

مومن سے قوت، مقصدیت اور استقامت بھی مطلوب ہے۔ صحیح مسلم ۲۶۶۴ فرماتی ہے کہ قوی مومن اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے، اگرچہ دونوں میں خیر ہے؛ پھر نفع دینے والی چیز کی حرص، اللہ سے مدد مانگنے اور عاجزی و بے عملی کے سامنے ہار نہ ماننے کی تعلیم دیتی ہے۔

صحیح مسلم ۲۹۹۹ مومن کے باطنی توازن کی تصویر پیش کرتی ہے۔ خوش حالی ملے تو وہ شکر کرتا ہے اور اس کے لیے خیر بن جاتی ہے؛ تکلیف آئے تو صبر کرتا ہے اور وہ بھی خیر بن جاتی ہے۔ ایمان مشکل سے پاک زندگی کی ضمانت نہیں دیتا، بلکہ خوشی اور مصیبت دونوں کو عبادت اور تربیت کے موقع میں بدل دیتا ہے۔

حضرت علی ہجویری رحمہ اللہ کی کشف المحجوب میں ایمان پر باقاعدہ مستقل باب ہے۔ وہ صوفی مشائخ اور اہلِ سنت کے درمیان ایمان کی باطنی تصدیق اور ظاہری عمل کی تعبیرات کا ذکر کرتے ہوئے دونوں کی اہمیت برقرار رکھتے ہیں۔ وہ اس غلط روحانیت کی سخت تردید کرتے ہیں جو یہ کہے کہ معرفت حاصل ہو جانے کے بعد اطاعت کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے؛ ان کے نزدیک معرفت بڑھے تو اللہ کے حکم کی عظمت اور اطاعت بھی بڑھتی ہے۔

ہجویری ایمان کی نہایت عملی نشانیاں بھی بتاتے ہیں۔ دل میں توحید پر مضبوطی ہو؛ آنکھ حرام مناظر سے رکے اور اللہ کی نشانیوں میں غور کرے؛ کان کلامِ الٰہی اور ہدایت سنیں؛ پیٹ حرام سے خالی رہے؛ زبان سچ بولے۔ دوسری جگہ وہ کہتے ہیں کہ ایمان عام اصطلاح ہے اور ولایت خاص، اور کرامات صرف اس متقی مومن کو عطا ہوتی ہیں جو رسول ﷺ کی صداقت کا گواہ ہو۔

امام غزالی رحمہ اللہ احیاء علوم الدین میں ایمان کے بڑھنے کی نہایت بامعنی تشریح کرتے ہیں۔ قواعد العقائد میں وہ سلف کی اس تعلیم کو محفوظ کرتے ہیں کہ ایمان اطاعت اور نیک اعمال سے بڑھتا اور گناہ سے کمزور ہوتا ہے۔ ان کی وضاحت یہ ہے کہ اعمال دل کی کیفیتوں سے پیدا ہوتے ہیں، لیکن بار بار کیے جانے والے اعمال دوبارہ دل پر اثر انداز ہو کر انہی صفات کو مضبوط کرتے ہیں۔ رحم کا عمل رحم کو بڑھاتا ہے اور تواضع کا عمل تواضع کو گہرا کرتا ہے۔

امام قشیری رحمہ اللہ رسالہ قشیریہ میں مومن کی روحانی ترقی کو عجائبات کی تلاش نہیں بلکہ تربیتی منازل کی صورت میں دکھاتے ہیں: توبہ، مجاہدہ، تقویٰ، ورع، خوف و امید، قناعت، توکل، شکر، یقین، صبر، مراقبہ، رضا، عبودیت، استقامت، اخلاص، صدق، حیا، ذکر اور حسنِ اخلاق۔ توکل کے باب میں ابو علی دقاق سے یہ درجہ بندی نقل کی گئی ہے کہ توکل عام مومنین کی صفت ہے، تسلیم خواص کی، اور تفویض خواص الخواص کی صفت۔

اخلاص اور اخلاق اس روحانی لٹریچر میں خاص مرکز رکھتے ہیں۔ قشیری اخلاص کو اس بات سے تعبیر کرتے ہیں کہ عبادت میں اللہ ہی مقصود ہو اور عمل کو لوگوں کی نمائش سے بچایا جائے۔ حسنِ اخلاق کے باب میں وہ ایسی تعلیمات محفوظ کرتے ہیں جن میں بہتر ایمان کو بہتر کردار کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، دوسروں کو نقصان نہ پہنچانا، تکلیف پر صبر کرنا، امانت اور حسنِ معاشرت کو روحانی کمال کی علامت بتایا جاتا ہے۔

اب مومن اور ولی کے تعلق کو واضح کیا جا سکتا ہے۔ ہر ولی پہلے مومن ہے جس کا ایمان، تقویٰ اور اطاعت گہری ہوئی؛ ہر مومن خودکار طور پر صوفی اصطلاح کے خاص ولی کے مرتبے پر نہیں ہوتا۔ صحیح بخاری ۶۵۰۲ اسی ترقی کا راستہ بیان کرتی ہے: بندہ فرائض سے اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے، پھر نوافل کے ذریعے بڑھتا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے محبوب بنا لیتا ہے۔

موت اور آخرت مومن کی داستان کا حصہ ہیں، مگر مومن کی پوری تعریف نہیں۔ قرآن ۳:۱۸۵ اور ۲۹:۵۷ ہر جان کی موت بیان کرتے ہیں، ۱۶:۳۲ نیک لوگوں کو فرشتوں کے سلام اور خوش خبری کے ساتھ قبض کرنے کا منظر دکھاتی ہے، اور بخاری ۱۳۷۴ دفن کے بعد مومن کے سوالات اور جنت میں اس کے مقام کے دکھائے جانے کا ذکر کرتی ہے۔ فخر الدین رازی بعد میں یہ یادگار تعبیر محفوظ کرتے ہیں کہ مومنین ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہوتے ہیں؛ اسے جسمانی موت کی نفی کے بجائے آخرت کی طرف انتقال کی ایک کلاسیکی روحانی تعبیر سمجھنا زیادہ درست ہے۔

مکمل تصویر یوں بنتی ہے کہ مومن وہ ہے جس کے پاس حدیثِ جبرئیل والا عقیدہ، وحی سے متاثر ہونے والا دل، جسم کو نظم دینے والی عبادت، نجی زندگی میں سچائی اور پاکیزگی، معاشرے میں رحمت و تعاون، آسانی میں شکر، مشکل میں صبر، اور نیت و اخلاق کو پاک کرنے کی مسلسل کوشش ہو۔ صالحیت اور ولایت کا پورا راستہ سچے ایمان ہی سے شروع ہوتا اور اطاعت، توبہ اور قربِ الٰہی سے بڑھتا ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

مومن کا تصور اسلامی فکر میں مرکزی ہے کیونکہ قرآن اسے محض عقیدے کے نام کے بجائے مکمل اخلاقی اور اجتماعی زندگی سے جوڑتا ہے۔ سورۂ حجرات ۴۹:۱۴–۱۵ زبانی دعوے اور دل میں اترنے والے ایمان میں فرق کرتی ہے، جبکہ ۸:۲–۴ اور ۲۳:۱–۱۱ مومن کی باطنی، عبادی اور اخلاقی نشانیاں بیان کرتی ہیں۔

صحیح حدیث اسی تصویر کو مزید وسیع کرتی ہے۔ حدیثِ جبرئیل ایمان کے عقائد متعین کرتی ہے؛ بخاری کی شاخوں والی حدیث ایمان کے متعدد عملی پہلو دکھاتی ہے؛ بھائی چارے اور ایک جسم والی احادیث رحمت و تعاون کو ایمان سے جوڑتی ہیں؛ اور قوی مومن، شکر اور صبر والی صحیح مسلم کی احادیث ایمان کو باہمت اور متوازن زندگی میں بدلتی ہیں۔

کلاسیکی صوفی لٹریچر اسی وقت سب سے مفید ہے جب اسے قرآن و سنت کی بنیاد پر پڑھا جائے۔ ہجویری ایمان کو دل، آنکھ، کان، پیٹ اور زبان کی تربیت بناتے ہیں؛ غزالی باطن اور بار بار کیے گئے عمل کے دو طرفہ تعلق کو واضح کرتے ہیں؛ اور قشیری توبہ، تقویٰ، توکل، اخلاص، صبر، ذکر اور حسنِ اخلاق کو مومن کی اصلاح کے مراحل بناتے ہیں۔

یہی مواد عام مومن اور خاص ولایت کا تعلق بھی واضح کرتا ہے۔ ہجویری ایمان کو عام اور ولایت کو خاص کہتے ہیں، جبکہ بخاری ۶۵۰۲ فرائض سے نوافل اور پھر محبتِ الٰہی تک بندے کے سفر کو بیان کرتی ہے۔ ولی مومنین کی جماعت سے باہر نہیں؛ خاص ولایت ایمان، تقویٰ اور اطاعت ہی پر قائم ہوتی ہے۔

مومن کی اجتماعی شناخت بھی بنیادی ہے۔ قرآن ۹:۷۱ اور عمارت و ایک جسم والی صحیح احادیث مومنین کو ایک دوسرے کی نصرت، رحمت، اخلاقی خیر خواہی، نماز اور خیرات کا ذمہ دار بناتی ہیں۔ جو ایمان انسان کے دوسرے لوگوں کے ساتھ سلوک تک نہ پہنچے وہ قرآنی و نبوی تصویر کے مقابل ناقص رہ جاتا ہے۔

آخر میں مومن کی امید موت سے آگے جاتی ہے مگر موت کی حقیقت کو رد نہیں کرتی۔ قرآن اور صحیح حدیث موت، برزخ، قیامت اور آخری اجر کو ثابت کرتے ہیں۔ ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہونے جیسی بعد کی روحانی تعبیر اس امید کو یادگار زبان دیتی ہے، جبکہ اصل عقیدہ وحی ہی پر قائم رہتا ہے۔ ایمان دل سے شروع ہوتا، عمل میں ثابت ہوتا، اطاعت سے بڑھتا اور اللہ کی رحمت و رضا کی امید پر ختم ہوتا ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Qur'an | al-Hujurat 49:14-15 | https://legacy.quran.com/49/14-15 | distinguishes outward submission from faith entering the heart and describes truthful believers
Qur'an | al-Anfal 8:2-4 | https://legacy.quran.com/8/2-4 | hearts affected by Allah's remembrance; faith increases with revelation; tawakkul, prayer and spending
Qur'an | al-Mu'minun 23:1-11 | https://quran.com/23/1-11 | successful believers: khushu, avoidance of idle speech, purification, chastity, trusts, promises and prayer
Qur'an | al-Tawbah 9:71-72 | https://legacy.quran.com/9/71-72 | believing men and women as allies; right conduct, prayer, zakat, obedience, mercy and divine pleasure
Sahih Muslim | Hadith 8a, Hadith of Jibril | https://sunnah.com/muslim/1/1 | defines iman through Allah, angels, books, messengers, Last Day and divine decree; distinguishes Islam, iman and ihsan
Sahih al-Bukhari | Hadith 9 | https://sunnah.com/bukhari:9 | faith has more than sixty branches; haya is a branch of faith
Sahih al-Bukhari | Hadith 13 | https://sunnah.com/bukhari/2/6 | perfected faith includes loving for one's brother what one loves for oneself
Sahih al-Bukhari | Hadith 2446 | https://sunnah.com/bukhari:2446 | believer to believer is like a building whose parts strengthen one another
Sahih Muslim | Hadith 2586a | https://sunnah.com/muslim:2586a | believers in mutual love, mercy and sympathy are like one body
Sahih Muslim | Hadith 2664 | https://sunnah.com/muslim/46/52 | strong believer is better and more beloved to Allah; pursue benefit and seek Allah's help
Sahih Muslim | Hadith 2999 | https://sunnah.com/muslim:2999 | believer's affair is good through gratitude in ease and patience in hardship
Sahih al-Bukhari | Hadith 6502 | https://sunnah.com/bukhari:6502 | path from obligations to voluntary worship and special divine love
Kashf al-Mahjub | Ali ibn Uthman al-Hujwiri | Chapter XVII: Concerning Faith, Nicholson trans. pp. 286-290 | https://www.gutenberg.org/files/64786/64786-h/64786-h.htm | inward verification and outward obedience; signs of belief in heart, eye, ear, stomach and tongue
Kashf al-Mahjub | Ali ibn Uthman al-Hujwiri | sections on faith, saintship and karamat | https://www.gutenberg.org/files/64786/64786-h/64786-h.htm | faith is general while saintship is special; karamat belong to the pious believer
Ihya Ulum al-Din, Kitab Qawa'id al-Aqa'id | Abu Hamid al-Ghazali | https://www.ghazali.org/works/gz-itiqad.htm | faith increases through obedience and good works; repeated outward actions strengthen inward qualities
Al-Risala al-Qushayriyya | Abu al-Qasim al-Qushayri | chapters on spiritual stations, tawakkul, ikhlas and khuluq | https://lib.zu.edu.pk/ebookdata/Law/Al-Qushayri%E2%80%99s%20Epistle%20on%20Sufism%20al-Risala%20al-Qushayriyya%20fiIlm%20al-Tasawwuf-by%20Alexander%20D.%20Knysh.pdf | repentance, taqwa, trust, gratitude, patience, sincerity, truthfulness, remembrance and good character as spiritual disciplines
Al-Risala al-Qushayriyya | Abu al-Qasim al-Qushayri | Tawakkul section | same edition | Abu Ali al-Daqqaq: tawakkul of ordinary believers, deeper surrender of the elect, full delegation of the elect of the elect
Qur'an | Ali Imran 3:185; al-Ankabut 29:57; al-Nahl 16:32 | https://quran.com/3/185 ; https://quran.com/29/57 ; https://quran.com/16/32 | mortality and the righteous believer's peaceful reception at death
Sahih al-Bukhari | Hadith 1374 | https://sunnah.com/bukhari:1374 | believer's questioning after burial and being shown a place in Paradise
Mafatih al-Ghayb | Fakhr al-Din al-Razi | Tafsir of al-Ankabut 29:57 | https://www.altafsir.com/Tafasir.asp?tMadhNo=1&tTafsirNo=4&tSoraNo=29&tAyahNo=57&tDisplay=yes&LanguageId=1 | later classical expression of believers being transferred from one abode to another

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔