حضرت عبد الوہاب فاروقی المعروف سچل سرمست رحمہ اللہ

نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
موتی لال جوتوانی سچل سرمست کے والد کا نام صلاح الدین فاروقی اور ان کے چچا و روحانی مرشد کا نام خواجہ عبد الحق بتاتے ہیں۔ سوانحی روایت میں فاروقی نسبت مضبوط ہے، مگر طویل نسبی سلسلوں کو زیادہ مضبوط طور پر ثابت قریبی خاندان سے الگ رکھا گیا ہے۔ درازی کی سوانح عبد الحق کی بیٹی سے شادی اور اس کے بے اولاد انتقال کا ذکر کرتی ہے، لیکن زیرِ نظر زیادہ مضبوط ماخذوں میں زوجہ کا ذاتی نام مضبوط طور پر ثابت نہیں؛ کوئی نام یا شخصی شناختی کوڈ ایجاد نہیں کیا گیا۔
PER-000918 صوفی عارف اور کثیر لسانی شاعر مصدقہ مقامِ تدفین نامعلوم مختلف مآخذ سے تائید
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
حضرت عبد الوہاب فاروقی المعروف سچل سرمست رحمہ اللہ (پیدائش ۱۷۳۹ء، درازہ) سندھ کے ممتاز صوفی شاعر اور کثیر اللسان ادبی شخصیت تھے۔ انہوں نے سندھی، سرائیکی، فارسی اور اردو سمیت متعدد زبانوں میں عرفانی شاعری کی، خواجہ عبد الحق سے دینی و روحانی تربیت پائی، اور وحدت الوجود، عشق اور باطنی حقیقت ان کے کلام کے نمایاں موضوعات رہے۔ وفات کے عیسوی سال میں ۱۸۲۶، ۱۸۲۷ اور ۱۸۲۹ کی روایات ملتی ہیں؛ رمضان ۱۲۴۲ھ کی روایت ۱۸۲۷ء کے ساتھ زیادہ موافق ہے۔ ان کا معروف اور سرکاری طور پر درج مزار درازہ شریف، ضلع خیرپور میں ہے۔
ولادت

سچل سرمست رحمہ اللہ کی ولادت ۱۷۳۹ء میں درازہ، رانی پور کے قریب، موجودہ ضلع خیرپور سندھ میں ہوئی۔ دیکھی گئی مضبوط سوانحی روایت عین دن اور مہینے کو قطعی طور پر ثابت نہیں کرتی۔

وفات

سچل سرمست رحمہ اللہ کی وفات درازہ میں ہوئی۔ مصادر میں عیسوی سال کے بارے میں اختلاف ہے: ایرانیکا ۱۸۲۶ء لکھتی ہے، متعدد سندھی علمی مطالعات ۱۸۲۷ء استعمال کرتے ہیں، جبکہ بعض مقامی و ورثہ روایات ۱۸۲۹ء دیتی ہیں۔ روایتی تاریخ رمضان ۱۲۴۲ھ معیاری تقویمی مطابقت میں مارچ–اپریل ۱۸۲۷ء میں آتی ہے؛ اس لیے ۱۸۲۷ء کو محتاط ترجیح کے طور پر رکھا گیا ہے، مگر اختلاف حذف نہیں کیا گیا۔

مدفن یا منسوب مقام

سچل سرمست رحمہ اللہ کا معروف مدفن درازہ شریف، ضلع خیرپور میں ان کے مزار کے اندر ہے۔ سندھ ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور سندھ حکومت کے اوقاف ریکارڈ دونوں درازہ شریف میں درگاہ سچل سرمست کی شناخت کرتے ہیں۔ محفوظ نقشہ جاتی نقطہ 27.305747000, 68.512789000 مزار کے پورے کمپلیکس سے تقریباً عین مطابقت رکھتا ہے؛ اسے قبر کے اندر الگ سروے شدہ نقطہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت عبد الوہاب فاروقی المعروف سچل سرمست رحمہ اللہ سندھ کے بڑے صوفی شعرا اور عارفوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی ولادت ۱۷۳۹ء میں درازہ، رانی پور کے قریب موجودہ ضلع خیرپور میں ہوئی۔ موتی لال جوتوانی ان کے والد کا نام صلاح الدین فاروقی اور چچا کا نام عبد الحق لکھتے ہیں۔ سچل یا سچو ان کی معروف شعری شناخت بن گئی، جبکہ بعد کے اہل عقیدت نے انہیں شاعرِ ہفت زبان جیسے القاب سے بھی یاد کیا۔ فاروقی نسبت سوانحی روایت میں مضبوط ہے، مگر طویل نسبی سلسلوں کو فوری خاندانی معلومات سے الگ رکھنا زیادہ محتاط ہے۔

ان کے والد بچپن ہی میں وفات پا گئے، جس کے بعد خاندان خصوصاً چچا خواجہ عبد الحق نے ان کی پرورش اور تربیت سنبھالی۔ جوتوانی اور بعد کی سوانح اس بات پر متفق ہیں کہ عبد الحق ان کے استاد بھی بنے اور روحانی پیر بھی۔ حکومت سندھ کے زیر اہتمام شائع ہونے والی درازی مکتب کی تحقیق درازہ کو ایک ایسے خاندانی صوفی مرکز کے طور پر پیش کرتی ہے جہاں قرآنی تعلیم، فارسی علمی روایت اور روحانی تربیت ساتھ ساتھ منتقل ہوتی تھی۔ ایرانیکا بھی لکھتا ہے کہ سچل نے مقامی مدرسے میں تعلیم پائی، عربی و فارسی سیکھی اور اپنے چچا سے راہِ تصوف حاصل کی۔

درازی سوانحی روایت یہ بھی بیان کرتی ہے کہ عبد الحق نے سچل کا نکاح اپنی بیٹی سے کیا، اس طرح ان کے پیر ان کے چچا اور سسر بھی تھے۔ روایت کے مطابق ان کی اہلیہ نکاح کے تقریباً دو سال بعد فوت ہو گئیں اور کوئی اولاد نہ ہوئی، اور سچل نے دوبارہ شادی نہیں کی۔ یہ معلومات خاندانی و مناقبی سوانح میں کافی مشہور ہیں، مگر دیکھی گئی مضبوط تحریری روایت میں اہلیہ کا ذاتی نام واضح نہیں، اس لیے نام گھڑنا درست نہیں۔

سچل سرمست کثیر اللسان صوفی شاعر کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ شاعرِ ہفت زبان کی روایت انہیں سندھی، سرائیکی، فارسی، اردو، پنجابی، بلوچی اور عربی سے وابستہ کرتی ہے، اگرچہ جدید علمی تحقیق خاص طور پر سندھی، سرائیکی، فارسی اور اردو کے محفوظ شعری ذخیرے پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔ ان کی فارسی شاعری میں غزل، مثنوی اور دوسری اصناف ملتی ہیں، اور جامعہ سندھ کی تحقیق فرید الدین عطار، مولانا رومی اور عبدالرحمن جامی کے اثرات کی نشان دہی کرتی ہے۔ دیوانِ آشکار اور درد نامہ ان کی معروف فارسی تصانیف میں شمار ہوتے ہیں۔

ان کی شاعری کا مرکزی فکری حوالہ وحدت الوجود کی صوفی روایت ہے۔ سندھی بولی ریسرچ جرنل سچل کے کلام میں حق، حسن، عشق، روحانی سرمستی اور ماورائیت کو نمایاں قرار دیتا ہے۔ ان کے اشعار خارجی شناخت سے گزر کر براہ راست حقیقت اور وحدت کے تجربے کی طرف جاتے ہیں۔ اسی بے باک انداز کی وجہ سے عقیدت مندوں نے انہیں منصورِ ثانی جیسے القاب بھی دیے؛ یہ القاب ان کی مناقبی پذیرائی کا حصہ ہیں، کسی رسمی عہدے یا مرتبے کا ثبوت نہیں۔

ان کی شعری زبان اسلامی علوم سے الگ نہ تھی۔ عربی زبان کے اثرات پر شائع ہونے والی علمی تحقیق ان کی سندھی شاعری میں عربی الفاظ، قرآنی تعبیرات اور مذہبی اشارات کی کثرت دکھاتی ہے۔ درازی مکتب کی سوانح بھی انہیں دینی تعلیم یافتہ شخصیت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اس لیے ان کے بعض تیز اور رسمی مذہب پر تنقیدی اشعار کو مکمل ترکِ شریعت کا سادہ ثبوت سمجھنا درست نہیں؛ ان کا زور باطنی اخلاص اور حقیقتِ عشق پر تھا۔

ادبی اعتبار سے بھی ان کا مقام بلند ہے۔ بعد کی تنقیدی روایت ان کے ہاں کافی، بیت، غزل، مثنوی، سی حرفی اور دوسری اصناف کے استعمال کا ذکر کرتی ہے۔ سندھی اور سرائیکی کلام خاص طور پر زبانی موسیقی اور صوفیانہ گائیکی کی روایت میں زندہ رہا، جبکہ فارسی نے انہیں وسیع فارسی صوفی فلسفیانہ دنیا سے جوڑا۔ یوں وہ مقامی سندھی ثقافت اور وسیع فارسیاتی اسلامی ادب کے درمیان ایک اہم پل بن گئے۔

مریدین اور خلفا کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔ درازی روایت متعدد پیروکاروں اور بعد کے اہل نسبت کے نام دیتی ہے، جن میں نانک یوسف جیسے افراد شامل ہیں، جبکہ روہڑی کے مشہور شاعر بیدل نے سچل کی وفات پر مرثیہ کہا اور ان کے اسلوب و فکر سے گہرا اثر لیا۔ ہر متاثر شاعر کو باقاعدہ بیعت یافتہ مرید کہنا درست نہیں جب تک کسی خاص ماخذ میں صراحت نہ ہو۔ البتہ درازہ کا خانقاہی و سجادة نشینی نظام سچل کے بعد بھی جاری رہا اور سالانہ عرس آج تک مذہبی، موسیقی اور ادبی اجتماع کی صورت رکھتا ہے۔

سچل سرمست کی زندگی کے آخری حصے کی تاریخ نویسی میں وفات کے سال کا اختلاف باقی ہے، مگر درازہ میں ان کی وفات اور وہیں معروف مدفن کی شناخت زیادہ مضبوط ہے۔ ان کی خانقاہی روایت، سالانہ عرس اور سندھی و سرائیکی کلام کی مسلسل گائیکی نے ان کی ادبی و روحانی میراث کو زندہ رکھا۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

سچل سرمست رحمہ اللہ کی تاریخی اہمیت اس لیے غیر معمولی ہے کہ وہ سندھی ادبی تاریخ اور وسیع فارسی صوفی روایت کے سنگم پر کھڑے ہیں۔ سندھی اور سرائیکی میں انہوں نے پیچیدہ روحانی تصورات کو مقامی شعری زبان میں منتقل کیا، جبکہ فارسی کلام نے انہیں عطار، رومی، جامی اور وحدت و عشق کی وسیع فارسیاتی روایت سے جوڑا۔

شاعرِ ہفت زبان کا لقب ان کی کثیر اللسان شناخت کی یادگار ہے، اگرچہ ساتوں زبانوں میں محفوظ اور علمی طور پر مطالعہ شدہ کلام کی مقدار برابر نہیں۔ اس کثیر لسانی حیثیت نے انہیں صرف ایک درگاہی بزرگ نہیں بلکہ ایسا ادبی مبدع بنایا جس کے الفاظ، اصناف اور استعارے علاقائی حدوں سے آگے گئے۔

ان کی روحانی اہمیت درازی مکتب اور پیر عبد الحق سے تعلق کے ساتھ جڑی ہے۔ وحدت الوجود سے منسوب ان کا کلام جنوبی ایشیا کے سب سے بے باک صوفیانہ اظہاروں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ درازہ شریف کا مزار زیارت، سماع، شاعری، عرس اور ادبی کانفرنسوں کا مستقل مرکز بن گیا۔ سندھی اور سرائیکی میں ان کے کلام کی مسلسل گائیکی ان کی میراث کو زندہ رکھتی ہے۔

ان کی میراث کی تحقیق میں ایک اہم سبق ماخذوں کی درجہ بندی ہے: وفات کے سال میں اختلاف کو ظاہر رکھنا چاہیے، جبکہ درازہ شریف کے مزار، سرکاری اوقاف اندراج اور مقام کی جغرافیائی شناخت نسبتاً مضبوط اور الگ سطح کے شواہد ہیں۔ اس طرح سچل کی شخصیت، شاعری اور مزار کو ایک دوسرے سے جوڑا جا سکتا ہے مگر ہر دعوے کی اپنی یقینی حد برقرار رہتی ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Motilal Jotwani | Sufis of Sindh | Sachal Sarmast chapter begins at p. 146 | https://books.google.com/books/about/Sufis_Of_Sindh.html?id=xvgADgAAQBAJ
Sakhi Qabool Muhammad Faruqi | Study of Mysticism in Darazi School of Sufi Thought | 2nd ed., Culture & Tourism Department, Government of Sindh, 2009, 224 pp. | https://books.google.com/books/about/Study_of_Mysticism_in_Darazi_School_of_S.html?id=SDQpTdSZ6_kC
Annemarie Schimmel | Encyclopaedia Iranica, “ʿABD-AL-VAHHĀB SAČAL” | Vol. I, Fasc. 2, p. 171 | https://www.iranicaonline.org/articles/abd-al-vahhab-sacal-18th-early-19th-century-sindhi-mystical-poet/
Rashad ullah Makhmoor Bukhari | Persian Poetry of Sachal Sarmast and its Inspiration | Keenjhar Research Journal, University of Sindh | https://sujo.usindh.edu.pk/index.php/Keenjhar/article/view/3599
Hakim Ali Bariro; Irfan Qaisar | Impacts of Arabic Language about Sindhi Poetry of Hazrat Sachal Sarmast | JAR, AIOU, 2023 | https://ojs.aiou.edu.pk/index.php/jar/article/view/1376
Sindh Tourism Development Corporation | Shrine of Sachal Sarmast, Daraza | https://stdc.gos.pk/2024/10/15/shrine-of-sachal-sarmast/
Sindh Government Auqaf | List of Dargahs and Mosques — Dargah Hazrat Sachal Sarmast, Daraza Sharif, District Khairpur | https://arazud.sindh.gov.pk/list-of-dargahs-mosques
Sindh Government Auqaf | Calendar of Annual Urs — Sachal Sarmast, 13–15 Ramadan | https://arazud.sindh.gov.pk/calendar-of-annual-urs-of-auqaf-department
Wikimedia Commons | Shrine monument photo geotag 27.305746, 68.512788 | https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Dargah_Hazrat_Sachal_Sarmast_ra_Daraza_Sharif_Rani_Pur.jpg

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔