سچل سرمست رحمہ اللہ کی ولادت ۱۷۳۹ء میں درازہ، رانی پور کے قریب، موجودہ ضلع خیرپور سندھ میں ہوئی۔ دیکھی گئی مضبوط سوانحی روایت عین دن اور مہینے کو قطعی طور پر ثابت نہیں کرتی۔
حضرت عبد الوہاب فاروقی المعروف سچل سرمست رحمہ اللہ
نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
سچل سرمست رحمہ اللہ کی وفات درازہ میں ہوئی۔ مصادر میں عیسوی سال کے بارے میں اختلاف ہے: ایرانیکا ۱۸۲۶ء لکھتی ہے، متعدد سندھی علمی مطالعات ۱۸۲۷ء استعمال کرتے ہیں، جبکہ بعض مقامی و ورثہ روایات ۱۸۲۹ء دیتی ہیں۔ روایتی تاریخ رمضان ۱۲۴۲ھ معیاری تقویمی مطابقت میں مارچ–اپریل ۱۸۲۷ء میں آتی ہے؛ اس لیے ۱۸۲۷ء کو محتاط ترجیح کے طور پر رکھا گیا ہے، مگر اختلاف حذف نہیں کیا گیا۔
سچل سرمست رحمہ اللہ کا معروف مدفن درازہ شریف، ضلع خیرپور میں ان کے مزار کے اندر ہے۔ سندھ ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور سندھ حکومت کے اوقاف ریکارڈ دونوں درازہ شریف میں درگاہ سچل سرمست کی شناخت کرتے ہیں۔ محفوظ نقشہ جاتی نقطہ 27.305747000, 68.512789000 مزار کے پورے کمپلیکس سے تقریباً عین مطابقت رکھتا ہے؛ اسے قبر کے اندر الگ سروے شدہ نقطہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
سوانح و تاریخی تعارف
ان کے والد بچپن ہی میں وفات پا گئے، جس کے بعد خاندان خصوصاً چچا خواجہ عبد الحق نے ان کی پرورش اور تربیت سنبھالی۔ جوتوانی اور بعد کی سوانح اس بات پر متفق ہیں کہ عبد الحق ان کے استاد بھی بنے اور روحانی پیر بھی۔ حکومت سندھ کے زیر اہتمام شائع ہونے والی درازی مکتب کی تحقیق درازہ کو ایک ایسے خاندانی صوفی مرکز کے طور پر پیش کرتی ہے جہاں قرآنی تعلیم، فارسی علمی روایت اور روحانی تربیت ساتھ ساتھ منتقل ہوتی تھی۔ ایرانیکا بھی لکھتا ہے کہ سچل نے مقامی مدرسے میں تعلیم پائی، عربی و فارسی سیکھی اور اپنے چچا سے راہِ تصوف حاصل کی۔
درازی سوانحی روایت یہ بھی بیان کرتی ہے کہ عبد الحق نے سچل کا نکاح اپنی بیٹی سے کیا، اس طرح ان کے پیر ان کے چچا اور سسر بھی تھے۔ روایت کے مطابق ان کی اہلیہ نکاح کے تقریباً دو سال بعد فوت ہو گئیں اور کوئی اولاد نہ ہوئی، اور سچل نے دوبارہ شادی نہیں کی۔ یہ معلومات خاندانی و مناقبی سوانح میں کافی مشہور ہیں، مگر دیکھی گئی مضبوط تحریری روایت میں اہلیہ کا ذاتی نام واضح نہیں، اس لیے نام گھڑنا درست نہیں۔
سچل سرمست کثیر اللسان صوفی شاعر کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ شاعرِ ہفت زبان کی روایت انہیں سندھی، سرائیکی، فارسی، اردو، پنجابی، بلوچی اور عربی سے وابستہ کرتی ہے، اگرچہ جدید علمی تحقیق خاص طور پر سندھی، سرائیکی، فارسی اور اردو کے محفوظ شعری ذخیرے پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔ ان کی فارسی شاعری میں غزل، مثنوی اور دوسری اصناف ملتی ہیں، اور جامعہ سندھ کی تحقیق فرید الدین عطار، مولانا رومی اور عبدالرحمن جامی کے اثرات کی نشان دہی کرتی ہے۔ دیوانِ آشکار اور درد نامہ ان کی معروف فارسی تصانیف میں شمار ہوتے ہیں۔
ان کی شاعری کا مرکزی فکری حوالہ وحدت الوجود کی صوفی روایت ہے۔ سندھی بولی ریسرچ جرنل سچل کے کلام میں حق، حسن، عشق، روحانی سرمستی اور ماورائیت کو نمایاں قرار دیتا ہے۔ ان کے اشعار خارجی شناخت سے گزر کر براہ راست حقیقت اور وحدت کے تجربے کی طرف جاتے ہیں۔ اسی بے باک انداز کی وجہ سے عقیدت مندوں نے انہیں منصورِ ثانی جیسے القاب بھی دیے؛ یہ القاب ان کی مناقبی پذیرائی کا حصہ ہیں، کسی رسمی عہدے یا مرتبے کا ثبوت نہیں۔
ان کی شعری زبان اسلامی علوم سے الگ نہ تھی۔ عربی زبان کے اثرات پر شائع ہونے والی علمی تحقیق ان کی سندھی شاعری میں عربی الفاظ، قرآنی تعبیرات اور مذہبی اشارات کی کثرت دکھاتی ہے۔ درازی مکتب کی سوانح بھی انہیں دینی تعلیم یافتہ شخصیت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اس لیے ان کے بعض تیز اور رسمی مذہب پر تنقیدی اشعار کو مکمل ترکِ شریعت کا سادہ ثبوت سمجھنا درست نہیں؛ ان کا زور باطنی اخلاص اور حقیقتِ عشق پر تھا۔
ادبی اعتبار سے بھی ان کا مقام بلند ہے۔ بعد کی تنقیدی روایت ان کے ہاں کافی، بیت، غزل، مثنوی، سی حرفی اور دوسری اصناف کے استعمال کا ذکر کرتی ہے۔ سندھی اور سرائیکی کلام خاص طور پر زبانی موسیقی اور صوفیانہ گائیکی کی روایت میں زندہ رہا، جبکہ فارسی نے انہیں وسیع فارسی صوفی فلسفیانہ دنیا سے جوڑا۔ یوں وہ مقامی سندھی ثقافت اور وسیع فارسیاتی اسلامی ادب کے درمیان ایک اہم پل بن گئے۔
مریدین اور خلفا کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔ درازی روایت متعدد پیروکاروں اور بعد کے اہل نسبت کے نام دیتی ہے، جن میں نانک یوسف جیسے افراد شامل ہیں، جبکہ روہڑی کے مشہور شاعر بیدل نے سچل کی وفات پر مرثیہ کہا اور ان کے اسلوب و فکر سے گہرا اثر لیا۔ ہر متاثر شاعر کو باقاعدہ بیعت یافتہ مرید کہنا درست نہیں جب تک کسی خاص ماخذ میں صراحت نہ ہو۔ البتہ درازہ کا خانقاہی و سجادة نشینی نظام سچل کے بعد بھی جاری رہا اور سالانہ عرس آج تک مذہبی، موسیقی اور ادبی اجتماع کی صورت رکھتا ہے۔
سچل سرمست کی زندگی کے آخری حصے کی تاریخ نویسی میں وفات کے سال کا اختلاف باقی ہے، مگر درازہ میں ان کی وفات اور وہیں معروف مدفن کی شناخت زیادہ مضبوط ہے۔ ان کی خانقاہی روایت، سالانہ عرس اور سندھی و سرائیکی کلام کی مسلسل گائیکی نے ان کی ادبی و روحانی میراث کو زندہ رکھا۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
شاعرِ ہفت زبان کا لقب ان کی کثیر اللسان شناخت کی یادگار ہے، اگرچہ ساتوں زبانوں میں محفوظ اور علمی طور پر مطالعہ شدہ کلام کی مقدار برابر نہیں۔ اس کثیر لسانی حیثیت نے انہیں صرف ایک درگاہی بزرگ نہیں بلکہ ایسا ادبی مبدع بنایا جس کے الفاظ، اصناف اور استعارے علاقائی حدوں سے آگے گئے۔
ان کی روحانی اہمیت درازی مکتب اور پیر عبد الحق سے تعلق کے ساتھ جڑی ہے۔ وحدت الوجود سے منسوب ان کا کلام جنوبی ایشیا کے سب سے بے باک صوفیانہ اظہاروں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ درازہ شریف کا مزار زیارت، سماع، شاعری، عرس اور ادبی کانفرنسوں کا مستقل مرکز بن گیا۔ سندھی اور سرائیکی میں ان کے کلام کی مسلسل گائیکی ان کی میراث کو زندہ رکھتی ہے۔
ان کی میراث کی تحقیق میں ایک اہم سبق ماخذوں کی درجہ بندی ہے: وفات کے سال میں اختلاف کو ظاہر رکھنا چاہیے، جبکہ درازہ شریف کے مزار، سرکاری اوقاف اندراج اور مقام کی جغرافیائی شناخت نسبتاً مضبوط اور الگ سطح کے شواہد ہیں۔ اس طرح سچل کی شخصیت، شاعری اور مزار کو ایک دوسرے سے جوڑا جا سکتا ہے مگر ہر دعوے کی اپنی یقینی حد برقرار رہتی ہے۔
خاندانی روابط
ماخذ
Motilal Jotwani | Sufis of Sindh | Sachal Sarmast chapter begins at p. 146 | https://books.google.com/books/about/Sufis_Of_Sindh.html?id=xvgADgAAQBAJSakhi Qabool Muhammad Faruqi | Study of Mysticism in Darazi School of Sufi Thought | 2nd ed., Culture & Tourism Department, Government of Sindh, 2009, 224 pp. | https://books.google.com/books/about/Study_of_Mysticism_in_Darazi_School_of_S.html?id=SDQpTdSZ6_kC
Annemarie Schimmel | Encyclopaedia Iranica, “ʿABD-AL-VAHHĀB SAČAL” | Vol. I, Fasc. 2, p. 171 | https://www.iranicaonline.org/articles/abd-al-vahhab-sacal-18th-early-19th-century-sindhi-mystical-poet/
Rashad ullah Makhmoor Bukhari | Persian Poetry of Sachal Sarmast and its Inspiration | Keenjhar Research Journal, University of Sindh | https://sujo.usindh.edu.pk/index.php/Keenjhar/article/view/3599
Hakim Ali Bariro; Irfan Qaisar | Impacts of Arabic Language about Sindhi Poetry of Hazrat Sachal Sarmast | JAR, AIOU, 2023 | https://ojs.aiou.edu.pk/index.php/jar/article/view/1376
Sindh Tourism Development Corporation | Shrine of Sachal Sarmast, Daraza | https://stdc.gos.pk/2024/10/15/shrine-of-sachal-sarmast/
Sindh Government Auqaf | List of Dargahs and Mosques — Dargah Hazrat Sachal Sarmast, Daraza Sharif, District Khairpur | https://arazud.sindh.gov.pk/list-of-dargahs-mosques
Sindh Government Auqaf | Calendar of Annual Urs — Sachal Sarmast, 13–15 Ramadan | https://arazud.sindh.gov.pk/calendar-of-annual-urs-of-auqaf-department
Wikimedia Commons | Shrine monument photo geotag 27.305746, 68.512788 | https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Dargah_Hazrat_Sachal_Sarmast_ra_Daraza_Sharif_Rani_Pur.jpg
تصویری گیلری
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔