صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں نبی کریم ﷺ کی یہ تعلیم معتبر طور پر محفوظ ہے کہ جو شخص آپ ﷺ کو خواب میں دیکھے اس نے حقیقتاً آپ ہی کو دیکھا، کیونکہ شیطان آپ ﷺ کی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ صحیح مسلم میں یہ ہم معنی تعبیر بھی آئی ہے کہ جس نے نبی ﷺ کو دیکھا اس نے حق دیکھا۔ اس روایت کا غیر معمولی پہلو نبی کریم ﷺ کی خواب میں ظاہر ہونے والی صورت کا شیطانی مشابہت سے مخصوص طور پر محفوظ ہونا ہے۔ یہ حدیث ہر ذاتی خواب کو نئی وحی، شرعی حکم یا عقیدہ بنانے کی اجازت نہیں دیتی۔
صحیح مسلم اور صحیح بخاری نبی کریم ﷺ کی خواب میں زیارت کے بارے میں ایک خاص نبوی تعلیم محفوظ کرتے ہیں۔ روایت کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص آپ ﷺ کو خواب میں دیکھے اس نے حقیقتاً آپ ہی کو دیکھا، کیونکہ شیطان آپ ﷺ کی صورت اختیار یا نقل نہیں کر سکتا۔ اسی شیطانی مشابہت سے حفاظت اس واقعے کا بنیادی غیر معمولی پہلو ہے، نہ کہ ہر خواب کو بذاتِ خود حجت بنا دینا۔
صحیح مسلم کی حدیث ۲۲۶۶ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے یہ تعلیم صریح انداز میں آتی ہے۔ صحیح بخاری میں بھی قریب المعنی روایات محفوظ ہیں جن میں واضح کیا گیا ہے کہ شیطان نبی کریم ﷺ کی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ صحیح مسلم میں یہ متعلقہ تعبیر بھی ملتی ہے کہ جس نے نبی ﷺ کو دیکھا اس نے حق دیکھا۔ یہ سب ایک ہی نبوی تعلیم کے مختلف الفاظ ہیں، الگ الگ معجزاتی واقعات نہیں۔
یہ روایت مومن کے لیے نبی کریم ﷺ کی حقیقی خواب زیارت کے بارے میں ایک اہم اطمینان فراہم کرتی ہے، مگر اس کا مفہوم خود حدیث کی حد کے اندر رہنا چاہیے۔ دعویٰ یہ نہیں کہ خواب میں آنے والی ہر صورت خود بخود قطعی طور پر درست سمجھی جائے، اور نہ یہ کہ ہر ذاتی خواب سے نیا دینی حکم اخذ کیا جا سکتا ہے۔ کلاسیکی شروح نے نبوی خواب زیارت کی صداقت کے مفہوم پر گفتگو کرتے ہوئے نبی ﷺ کی صورت کی مخصوص حفاظت اور انفرادی خواب کی تعبیر کے درمیان فرق برقرار رکھا ہے۔
بعد کی کتاب سر الاسرار بھی خوابوں کی بحث میں اسی نبوی تعلیم کا حوالہ دیتی ہے، لیکن اس دعوے کا ثبوت اس متاخر صوفیانہ کتاب پر موقوف نہیں۔ اصل اور فیصلہ کن دلیل پہلے ہی حدیث کے بنیادی معتبر مجموعوں میں موجود ہے، جہاں صحیح مسلم اور صحیح بخاری دونوں اس مرکزی مفہوم کو مضبوط درجے کے ساتھ محفوظ کرتے ہیں۔
اس لیے محتاط عوامی نتیجہ واضح ہے: معتبر سنی حدیث ایک خاص نبوی امتیاز ثابت کرتی ہے کہ شیطان نبی کریم ﷺ کی صورت بنا کر حقیقی خواب زیارت میں آپ کی نقل نہیں کر سکتا۔ یہ روایت نبوی تصدیقی نشانی اور اہل ایمان کے لیے رحمت کے طور پر بلند درجے کے اعتماد کے ساتھ شامل کی جا سکتی ہے۔ ساتھ ہی اسے اس اصول میں نہیں بدلا جانا چاہیے کہ ذاتی خواب قرآن اور ثابت شدہ سنت سے باہر نئی وحی، شرعی احکام یا عقائد پیدا کر سکتے ہیں۔
صحیح مسلم کی حدیث ۲۲۶۶ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے یہ تعلیم صریح انداز میں آتی ہے۔ صحیح بخاری میں بھی قریب المعنی روایات محفوظ ہیں جن میں واضح کیا گیا ہے کہ شیطان نبی کریم ﷺ کی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ صحیح مسلم میں یہ متعلقہ تعبیر بھی ملتی ہے کہ جس نے نبی ﷺ کو دیکھا اس نے حق دیکھا۔ یہ سب ایک ہی نبوی تعلیم کے مختلف الفاظ ہیں، الگ الگ معجزاتی واقعات نہیں۔
یہ روایت مومن کے لیے نبی کریم ﷺ کی حقیقی خواب زیارت کے بارے میں ایک اہم اطمینان فراہم کرتی ہے، مگر اس کا مفہوم خود حدیث کی حد کے اندر رہنا چاہیے۔ دعویٰ یہ نہیں کہ خواب میں آنے والی ہر صورت خود بخود قطعی طور پر درست سمجھی جائے، اور نہ یہ کہ ہر ذاتی خواب سے نیا دینی حکم اخذ کیا جا سکتا ہے۔ کلاسیکی شروح نے نبوی خواب زیارت کی صداقت کے مفہوم پر گفتگو کرتے ہوئے نبی ﷺ کی صورت کی مخصوص حفاظت اور انفرادی خواب کی تعبیر کے درمیان فرق برقرار رکھا ہے۔
بعد کی کتاب سر الاسرار بھی خوابوں کی بحث میں اسی نبوی تعلیم کا حوالہ دیتی ہے، لیکن اس دعوے کا ثبوت اس متاخر صوفیانہ کتاب پر موقوف نہیں۔ اصل اور فیصلہ کن دلیل پہلے ہی حدیث کے بنیادی معتبر مجموعوں میں موجود ہے، جہاں صحیح مسلم اور صحیح بخاری دونوں اس مرکزی مفہوم کو مضبوط درجے کے ساتھ محفوظ کرتے ہیں۔
اس لیے محتاط عوامی نتیجہ واضح ہے: معتبر سنی حدیث ایک خاص نبوی امتیاز ثابت کرتی ہے کہ شیطان نبی کریم ﷺ کی صورت بنا کر حقیقی خواب زیارت میں آپ کی نقل نہیں کر سکتا۔ یہ روایت نبوی تصدیقی نشانی اور اہل ایمان کے لیے رحمت کے طور پر بلند درجے کے اعتماد کے ساتھ شامل کی جا سکتی ہے۔ ساتھ ہی اسے اس اصول میں نہیں بدلا جانا چاہیے کہ ذاتی خواب قرآن اور ثابت شدہ سنت سے باہر نئی وحی، شرعی احکام یا عقائد پیدا کر سکتے ہیں۔
خلاصۂ نتیجہ
صحیح مسلم اور صحیح بخاری معتبر طور پر یہ تعلیم محفوظ کرتے ہیں کہ شیطان خواب میں نبی کریم ﷺ کی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ اس بنا پر یہ روایت بلند درجے کے اعتماد کے ساتھ نبوی تصدیقی نشانی کے طور پر شامل ہوتی ہے، جبکہ ذاتی خواب نئی وحی یا نئے شرعی حکم کا مقام حاصل نہیں کرتے۔
مآخذ
Sirr al-Asrar, ITEM-0016
Sahih Muslim 2266
Sahih al-Bukhari 6994
Sahih al-Bukhari 110
Sahih Muslim 2267 variants
CAND-0155 Task 1 synthesis
Sahih al-Bukhari 6993, chapter note from Ibn Sirin on seeing the Prophet in his known form
Sahih al-Bukhari 6994