نبی کریم ﷺ کی آنکھوں کا سونا اور دل کا بیدار رہنا

نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتصحیح حدیث
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

صحیح بخاری میں نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد صحیح سند کے ساتھ محفوظ ہے کہ میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات وتر سے پہلے آپ ﷺ کے سونے کے تعلق سے نقل کی، اور یہی حدیث بخاری میں ایک دوسری جگہ بھی آئی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اسراء سے متعلق روایت میں بھی یہی خصوصیت مذکور ہے اور بتایا گیا ہے کہ انبیاء کی کیفیت ایسی ہی ہوتی ہے۔ کلاسیکی شرحیں واضح کرتی ہیں کہ دل کی اس خاص بیداری کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ﷺ کبھی حقیقی نیند نہیں سوتے تھے یا بند آنکھوں سے ہر خارجی منظر دیکھتے رہتے تھے۔

نبی کریم محمد ﷺ کی امتیازی خصوصیات میں صحیح بخاری ایک براہ راست ارشاد محفوظ کرتی ہے جو نیند اور باطنی بیداری کا تعلق بیان کرتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے وتر سے پہلے سونے کے بارے میں سوال کیا۔ جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ یہی اس موضوع کا بنیادی صحیح متن اور مضبوط ترین شہادتی بنیاد ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہی روایت صحیح بخاری میں کتاب قیام اللیل کے ایک اور مقام پر بھی آئی ہے۔ امام بخاری نے اس خصوصیت کو باب کے عنوان میں بھی نمایاں کیا کہ نبی ﷺ کی آنکھیں سوتی تھیں مگر دل نہیں سوتا تھا۔ یہ ترتیب بتاتی ہے کہ بخاری میں اسے بعد کی نسبت نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کی ثابت خصوصیت سمجھا گیا۔ ایک حدیث کے مختلف مقامات کو الگ واقعات نہ سمجھا جائے۔

صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسراء کے سیاق میں ایک اور روایت یہی خصوصیت بیان کرتی ہے۔ وہاں نبی کریم ﷺ کی آنکھوں کے سونے اور دل کے نہ سونے کا ذکر ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انبیاء کی کیفیت ایسی ہی ہوتی ہے۔ حاکم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک مثبت متوازی روایت بھی نقل کی اور اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا۔ یہ مواد بخاری سے ثابت بنیادی خصوصیت کی مزید تائید کرتا ہے۔

البتہ اس مفہوم کو کلاسیکی شہادت سے آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔ شارحین نے واضح کیا ہے کہ دل کی بیداری کا یہ مطلب نہیں کہ نبی کریم ﷺ کو حقیقی نیند آتی ہی نہ تھی۔ یہ بھی مراد نہیں کہ آپ ﷺ کی بند آنکھیں نیند کی حالت میں ہر بیرونی بصری واقعے کو عام جاگتی حالت کی طرح مسلسل دیکھتی رہتی تھیں۔ کلاسیکی گفتگو اس فرق کو ایک خاص باطنی ادراک اور نیند کے دوران متعلقہ جسمانی کیفیتوں سے آگاہی کے ساتھ جوڑتی ہے۔

یہ حد اہم ہے کیونکہ سیاق سے الگ کر کے اس جملے میں آسانی سے مبالغہ آ سکتا ہے۔ صحیح الفاظ آنکھوں کی حقیقی نیند کو مانتے ہیں اور اسی کے ساتھ دل کی ایک امتیازی بیداری کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ عبارت اس دعوے کی اجازت نہیں دیتی کہ نیند کے دوران ہر عام حس اور ہر خارجی منظر اسی معمول کی بیداری کے ساتھ مسلسل محسوس ہوتا تھا۔

لہذا مضبوط ترین عوامی نتیجہ بالکل واضح ہے۔ بعد کے مذہبی لٹریچر میں مشہور یہ عبارت اپنے اصل مفہوم کے ساتھ صحیح بخاری میں براہ راست اور صریح طور پر ثابت ہے۔ یہ خصوصیت نبی کریم ﷺ سے متعلق ہے، بخاری کے متعدد مقامات اور انبیاء کے وسیع تر سیاق سے اس کی تائید ہوتی ہے، اور اسے اعلیٰ اعتماد کے ساتھ نبوی امتیازی نشانی کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ دل کے نہ سونے کے مفہوم کو کلاسیکی تشریحی حدود سے آگے نہ بڑھایا جائے۔

خلاصۂ نتیجہ

صحیح بخاری نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کو صراحت کے ساتھ صحیح ثابت کرتی ہے کہ آنکھیں سوتی ہیں مگر دل نہیں سوتا، اور دیگر صحیح مواد اسے انبیاء کی وسیع تر خصوصیت کے سیاق میں رکھتا ہے۔ یہ شہادت اعلیٰ اعتماد کی نبوی امتیازی نشانی کے طور پر کافی ہے، بشرطیکہ اسے حقیقی نیند کی نفی یا مکمل عام حسی بیداری کے دعوے تک نہ بڑھایا جائے۔

مآخذ

Sirr al-Asrar wa Mazhar al-Anwar, ITEM-0008
Sahih al-Bukhari 3569
Sahih al-Bukhari 1147
Sahih al-Bukhari, Book of Virtues, chapter on the Prophet's eyes sleeping while his heart did not sleep
Sahih al-Bukhari 3570
al-Hakim, al-Mustadrak, report 3660
al-Nawawi, Sharh Sahih Muslim, explanation of 'my eyes sleep but my heart does not sleep'
Ibn Hajar, Fath al-Bari, discussion of sleep and Prophetic awareness
BOOK_01_SOURCE_TRACKING: ITEM-0008
CAND-0147 Task 1 evidence synthesis