صحیح بخاری حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی شدید بھوک کا ایک غیر معمولی واقعہ محفوظ کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی حالت پہچانی اور انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے، جہاں ایک چھوٹا پیالہ دودھ بطور ہدیہ آیا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے یہ دودھ صرف حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے لیے نہیں رکھا بلکہ انہیں اہلِ صفہ کو بلانے کا حکم دیا، جو اسلام کے محتاج مہمان تھے۔ ایک ایک شخص اسی پیالے سے سیر ہوکر پیتا گیا، پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بار بار پیا یہاں تک کہ مزید گنجائش نہ رہی، اور آخر میں نبی کریم ﷺ نے اللہ کی حمد اور نام کے ساتھ باقی دودھ نوش فرمایا۔ جامع ترمذی بھی یہی قصہ مستقل طریق سے نقل کرتی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔
اس کے بعد نبی کریم ﷺ تشریف لائے۔ آپ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر مسکرایا اور روایت کے مطابق ان کے چہرے اور دل کی کیفیت کو پہچان لیا۔ آپ نے انہیں اپنے ساتھ آنے کا فرمایا۔ وہ گھر پہنچے تو ایک پیالے میں دودھ موجود تھا جو کسی نے نبی کریم ﷺ کو ہدیہ کیا تھا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فطری طور پر امید رکھتے تھے کہ اس دودھ سے ان کی شدید بھوک کم ہوگی۔ مگر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اہلِ صفہ کو بلا لاؤ۔ حدیث خود اہلِ صفہ کا تعارف ایسے محتاج مہمانوں کے طور پر کراتی ہے جن کے پاس نہ مستقل خاندان کا سہارا تھا نہ مال۔ ہدیہ آتا تو نبی کریم ﷺ انہیں بھی اس میں شریک کرتے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے دل میں خیال آیا کہ یہ تھوڑا سا دودھ اتنے لوگوں کے لیے کیسے کافی ہوگا اور ان کے اپنے حصے میں کیا آئے گا، مگر انہوں نے حکم کی تعمیل کی۔
اہلِ صفہ آئے اور بیٹھ گئے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ پیالہ سب کو پلاؤ۔ انہوں نے ایک شخص کو دیا؛ اس نے سیر ہوکر پیا اور پیالہ واپس کردیا۔ پھر دوسرے نے سیر ہوکر پیا، پھر تیسرے نے۔ یہی ایک پیالہ ایک کے بعد ایک شخص تک پہنچتا رہا، یہاں تک کہ پوری جماعت سیر ہوگئی۔
پھر پیالہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، مسکرائے اور فرمایا کہ اب تم پیو۔ انہوں نے پیا۔ آپ نے دوبارہ فرمایا، پھر دوبارہ، یہاں تک کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اب میرے اندر مزید گنجائش نہیں۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے پیالہ لیا، اللہ کی حمد کی، اس کا نام لیا اور باقی دودھ نوش فرمایا۔
اس واقعے میں اہلِ صفہ کی کوئی قطعی تعداد بیان نہیں ہوئی، اس لیے کسی دوسری روایت سے عدد لاکر شامل کرنا درست نہیں۔ اصل تاثیر یہی ترتیب ہے: ایک شدید بھوکا صحابی، ایک چھوٹا ہدیہ شدہ پیالہ، پہلے محتاج اہلِ صفہ کی سیرابی، پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھرپور پینا، اور آخر میں بھی دودھ کا باقی رہنا۔
خلاصۂ نتیجہ
حیثیتِ واقعہ: یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی صریح صحیح روایت پر قائم اعلیٰ اعتماد والا نبوی معجزہ ہے، جسے جامع ترمذی بھی مستقل طور پر نقل کرتی ہے۔ مضبوط ترین عوامی بیان حدیث کی اصل انسانی اور روحانی ترتیب کو محفوظ رکھتا ہے: شدید بھوک، دودھ کم پڑنے کا اندیشہ، اہلِ صفہ کو اپنی ضرورت پر ترجیح دینا، سب کا سیر ہونا، پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بار بار پینا، اور آخر میں دودھ کا باقی رہنا۔
مآخذ
V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-01 and independently verified Sahih al-Bukhari 6452, Book 81 Hadith 41. It directly gives Abu Hurairah's severe hunger, a single gifted bowl of milk, the People of al-Suffah all drinking to satisfaction, Abu Hurairah repeatedly drinking until he could take no more, and the Prophet praising Allah, pronouncing His name, and drinking the remaining milk.
V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-04 and independently verified Jami` at-Tirmidhi 2477, Book 37 Hadith 63. The same Abu Hurairah/Ahl al-Suffah milk sequence is preserved. Al-Tirmidhi's own Arabic closing judgment 'hadith hasan sahih' was independently verified; Sunnah.com also lists the Darussalam grade as Sahih.
V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: direct Bukhari 6452 row added for CLM-02. The hadith explicitly says the same bowl was passed person to person and the whole group drank to satisfaction.
V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: direct Bukhari 6452 row added for CLM-03. After the People of al-Suffah had all drunk, Abu Hurairah repeatedly drank until he said he had no more room; the Prophet then praised Allah, pronounced His name and drank the remainder.