قرآن بیان کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سفر کے دوران آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں کو ٹھہرنے کا کہہ کر اس کی طرف گئے۔ وہاں اللہ نے انہیں وادیِ مقدس طویٰ میں پکارا، جوتے اتارنے کا حکم دیا، بتایا کہ انہیں چن لیا گیا ہے اور وحی کو غور سے سننے کی ہدایت فرمائی۔ سورۂ قصص اس مقام کو وادی کے دائیں جانب، مبارک جگہ میں، درخت کی سمت سے آنے والی پکار کے طور پر مزید واضح کرتی ہے۔ کلاسیکی تفسیر درخت کو پکار کے مقام یا سمت کے طور پر سمجھتی ہے، جبکہ بعد کی کتاب سرّ الاسرار اسی منظر پر نور اور صفتِ کلام کے حوالے سے روحانی غور کرتی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ قرآنی واقعہ ایک سفر کے دوران شروع ہوتا ہے۔ سورۂ طٰہٰ کے مطابق انہوں نے آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ وہ ٹھہرے رہیں، جبکہ وہ اس کی طرف جاتے ہیں۔ ان کی امید تھی کہ وہاں سے کوئی جلتا ہوا انگارا لے آئیں یا راستے کی کوئی رہنمائی مل جائے۔ یوں ایک معمولی سفری ضرورت کا لمحہ اچانک نبوتی پکار کے آغاز میں بدل جاتا ہے۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو انہیں پکارا گیا۔ قرآن بتاتا ہے کہ پکارنے والا ان کا رب ہے اور انہیں حکم دیا گیا کہ اپنے جوتے اتار دیں، کیونکہ وہ وادیِ مقدس طویٰ میں ہیں۔ پھر انہیں بتایا گیا کہ انہیں چن لیا گیا ہے، اس لیے جو وحی کی جا رہی ہے اسے پوری توجہ سے سنیں۔ اس مقام پر زمین کی تقدیس اور براہِ راست الٰہی خطاب دونوں ایک ساتھ سامنے آتے ہیں۔
اس کے بعد وحی میں اللہ کی یکتائی بیان ہوتی ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس کی عبادت اور یاد کے لیے نماز قائم کرنے کا حکم ملتا ہے۔ اس لیے یہ واقعہ صرف آگ کے قریب ایک غیر معمولی آواز سننے کا نام نہیں، بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے وحی، عبادت اور رسالتی ذمہ داری کے آغاز کا لمحہ ہے۔ قرآن ان سب معانی کو ایک ہی مسلسل منظر میں پیش کرتا ہے۔
سورۂ قصص مقام کی مزید باریک تفصیل بیان کرتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وادی کے دائیں جانب، مبارک جگہ میں، درخت کی سمت سے پکارا گیا اور اعلان ہوا کہ پکارنے والا اللہ، تمام جہانوں کا رب ہے۔ کلاسیکی مفسرین درخت کو اس مقام یا سمت کی علامت سمجھتے ہیں جہاں سے پکار حضرت موسیٰ تک پہنچی؛ اسے ذاتِ الٰہی کے درخت میں موجود ہونے کے معنی میں نہیں لیا جاتا۔
بعد کی روحانی کتاب سرّ الاسرار اسی آگ اور درخت کے منظر کو نور، تجلی اور صفتِ کلام کے بارے میں غور کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یہ قرآن کے لفظی واقعے کے بعد کی ایک روحانی تعبیر ہے، اصل قرآنی حکایت کا بدل نہیں۔ دونوں سطحوں کو الگ رکھنے سے قرآنی قصہ اپنی سادگی اور ترتیب کے ساتھ واضح رہتا ہے، جبکہ بعد کی صوفیانہ فکر کا ذکر بھی اپنی جگہ محفوظ رہتا ہے۔
اس کے بعد قرآن میں آنے والا سوال کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے، عصا کے نشان والے اگلے مرحلے کی ابتدا کرتا ہے اور ابتدائی پکار سے بعد کا سیاق ہے۔ اس واقعے کا مرکزی اختتام یہی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام وادیِ مقدس میں اللہ کی پکار سنتے ہیں، چنے جاتے ہیں اور وحی سننے کا حکم پاتے ہیں۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو انہیں پکارا گیا۔ قرآن بتاتا ہے کہ پکارنے والا ان کا رب ہے اور انہیں حکم دیا گیا کہ اپنے جوتے اتار دیں، کیونکہ وہ وادیِ مقدس طویٰ میں ہیں۔ پھر انہیں بتایا گیا کہ انہیں چن لیا گیا ہے، اس لیے جو وحی کی جا رہی ہے اسے پوری توجہ سے سنیں۔ اس مقام پر زمین کی تقدیس اور براہِ راست الٰہی خطاب دونوں ایک ساتھ سامنے آتے ہیں۔
اس کے بعد وحی میں اللہ کی یکتائی بیان ہوتی ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس کی عبادت اور یاد کے لیے نماز قائم کرنے کا حکم ملتا ہے۔ اس لیے یہ واقعہ صرف آگ کے قریب ایک غیر معمولی آواز سننے کا نام نہیں، بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے وحی، عبادت اور رسالتی ذمہ داری کے آغاز کا لمحہ ہے۔ قرآن ان سب معانی کو ایک ہی مسلسل منظر میں پیش کرتا ہے۔
سورۂ قصص مقام کی مزید باریک تفصیل بیان کرتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وادی کے دائیں جانب، مبارک جگہ میں، درخت کی سمت سے پکارا گیا اور اعلان ہوا کہ پکارنے والا اللہ، تمام جہانوں کا رب ہے۔ کلاسیکی مفسرین درخت کو اس مقام یا سمت کی علامت سمجھتے ہیں جہاں سے پکار حضرت موسیٰ تک پہنچی؛ اسے ذاتِ الٰہی کے درخت میں موجود ہونے کے معنی میں نہیں لیا جاتا۔
بعد کی روحانی کتاب سرّ الاسرار اسی آگ اور درخت کے منظر کو نور، تجلی اور صفتِ کلام کے بارے میں غور کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یہ قرآن کے لفظی واقعے کے بعد کی ایک روحانی تعبیر ہے، اصل قرآنی حکایت کا بدل نہیں۔ دونوں سطحوں کو الگ رکھنے سے قرآنی قصہ اپنی سادگی اور ترتیب کے ساتھ واضح رہتا ہے، جبکہ بعد کی صوفیانہ فکر کا ذکر بھی اپنی جگہ محفوظ رہتا ہے۔
اس کے بعد قرآن میں آنے والا سوال کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے، عصا کے نشان والے اگلے مرحلے کی ابتدا کرتا ہے اور ابتدائی پکار سے بعد کا سیاق ہے۔ اس واقعے کا مرکزی اختتام یہی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام وادیِ مقدس میں اللہ کی پکار سنتے ہیں، چنے جاتے ہیں اور وحی سننے کا حکم پاتے ہیں۔
خلاصۂ نتیجہ
اس معجزاتی واقعے کا مرکز وادیِ مقدس طویٰ میں آگ کے پاس حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ کی پکار، ان کا انتخاب اور وحی سننے کا حکم ہے۔
مآخذ
Taha 20:9-10
Taha 20:11-14
al-Qasas 28:30
al-Qurtubi on Taha 20:11
al-Baghawi on al-Qasas 28:30
Sirr al-Asrar, ITEM-0018
Taha 20:17
CAND-0157 Task 1 synthesis