رسالہ قشیریہ میں بشر حافیؒ سے منقول ہے کہ وہ گھر میں داخل ہوئے تو ایک شخص کو اندر موجود پایا۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں اور بغیر اجازت کیسے داخل ہوئے، تو اس شخص نے خود کو خضرؑ بتایا۔ بشرؒ نے دعا کی درخواست کی تو پہلے اللہ کی اطاعت آسان ہونے اور پھر اس اطاعت کے پوشیدہ رہنے کی دعا کی گئی۔ قوت القلوب میں بھی یہی بنیادی روایت محفوظ ہے اور دوسری دعا کے معنی کی وضاحت ملتی ہے۔
رسالہ قشیریہ میں بشر بن حارث، معروف بہ بشر حافیؒ، سے ایک مختصر مگر مکمل واقعہ منقول ہے۔ بشرؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص پہلے سے گھر کے اندر موجود ہے۔ اس غیر متوقع منظر پر انہوں نے اس سے پوچھا: آپ کون ہیں، اور میرے گھر میں میری اجازت کے بغیر کیسے داخل ہوئے؟
روایت کے مطابق اس شخص نے جواب دیا کہ میں تمہارا بھائی خضر ہوں۔ بشر حافیؒ نے اس موقع پر کسی دنیاوی فائدے، مال یا مستقبل کی خبر کا سوال نہیں کیا، بلکہ اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کی۔ اس شخص سے پہلی دعا یہ منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ بشرؒ پر اپنی اطاعت آسان فرما دے۔ بشرؒ نے کہا: مزید دعا کیجیے۔ اس پر دوسری دعا کی گئی کہ اللہ اس اطاعت کو ان پر پوشیدہ بھی رکھے۔
واقعے کا اصل مفہوم دوسری دعا سے مزید واضح ہوتا ہے۔ ابو طالب مکی نے قوت القلوب میں اسی بنیادی روایت کو نقل کیا ہے اور اسے اخلاص اور اپنے روحانی حال کو چھپانے کی بحث کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ وہاں “اور اسے تم پر پوشیدہ رکھے” کے دو معنی بیان ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ بشرؒ کی عبادت اور اطاعت لوگوں کی نگاہوں سے چھپی رہے تاکہ نیکی شہرت یا تعریف کا ذریعہ نہ بنے۔ دوسرا یہ کہ انسان خود بھی اپنے عمل کو دیکھ کر اس پر ناز اور خود پسندی میں مبتلا نہ ہو۔ بعد میں امام غزالی نے احیاء علوم الدین میں یہی دونوں معنی نقل کیے۔
اس پس منظر میں اس ملاقات کا مرکزی نکتہ کسی طویل غیر معمولی منظر کی تفصیل نہیں، بلکہ عبادت اور اخلاص کی ایک نہایت مختصر تعلیم ہے: اللہ کی اطاعت آسان ہو اور بندہ اپنی اطاعت کو دکھاوے اور خود پسندی سے محفوظ رکھے۔ قدیم مصادر اس مخصوص پہلی ملاقات کو اس کے بعد کسی طویل گفتگو یا “نگاہ سے غائب ہونے” کے منظر کے ساتھ جاری نہیں کرتے، اس لیے ایسی اضافی تفصیل یہاں شامل نہیں کی گئی۔
البتہ آنے والے کی شناخت کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔ قشیری کی روایت میں وہ شخص خود کو خضرؑ کہتا ہے، اور قوت القلوب بھی اسی نسبت کے ساتھ روایت نقل کرتی ہے، مگر دستیاب نقل میں ایسی باقاعدہ صحیح یا حسن درجے کی سند موجود نہیں جو اس شناخت کو آزاد طور پر قطعی ثابت کرے۔ اس لیے اسے بشر حافیؒ سے منسوب ایک قدیم، قابل شناخت روایت کے طور پر پیش کرنا مناسب ہے، جبکہ آنے والے کی شناخت ماخذ کی نسبت کے اندر ہی رکھی جائے۔
روایت کے مطابق اس شخص نے جواب دیا کہ میں تمہارا بھائی خضر ہوں۔ بشر حافیؒ نے اس موقع پر کسی دنیاوی فائدے، مال یا مستقبل کی خبر کا سوال نہیں کیا، بلکہ اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کی۔ اس شخص سے پہلی دعا یہ منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ بشرؒ پر اپنی اطاعت آسان فرما دے۔ بشرؒ نے کہا: مزید دعا کیجیے۔ اس پر دوسری دعا کی گئی کہ اللہ اس اطاعت کو ان پر پوشیدہ بھی رکھے۔
واقعے کا اصل مفہوم دوسری دعا سے مزید واضح ہوتا ہے۔ ابو طالب مکی نے قوت القلوب میں اسی بنیادی روایت کو نقل کیا ہے اور اسے اخلاص اور اپنے روحانی حال کو چھپانے کی بحث کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ وہاں “اور اسے تم پر پوشیدہ رکھے” کے دو معنی بیان ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ بشرؒ کی عبادت اور اطاعت لوگوں کی نگاہوں سے چھپی رہے تاکہ نیکی شہرت یا تعریف کا ذریعہ نہ بنے۔ دوسرا یہ کہ انسان خود بھی اپنے عمل کو دیکھ کر اس پر ناز اور خود پسندی میں مبتلا نہ ہو۔ بعد میں امام غزالی نے احیاء علوم الدین میں یہی دونوں معنی نقل کیے۔
اس پس منظر میں اس ملاقات کا مرکزی نکتہ کسی طویل غیر معمولی منظر کی تفصیل نہیں، بلکہ عبادت اور اخلاص کی ایک نہایت مختصر تعلیم ہے: اللہ کی اطاعت آسان ہو اور بندہ اپنی اطاعت کو دکھاوے اور خود پسندی سے محفوظ رکھے۔ قدیم مصادر اس مخصوص پہلی ملاقات کو اس کے بعد کسی طویل گفتگو یا “نگاہ سے غائب ہونے” کے منظر کے ساتھ جاری نہیں کرتے، اس لیے ایسی اضافی تفصیل یہاں شامل نہیں کی گئی۔
البتہ آنے والے کی شناخت کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔ قشیری کی روایت میں وہ شخص خود کو خضرؑ کہتا ہے، اور قوت القلوب بھی اسی نسبت کے ساتھ روایت نقل کرتی ہے، مگر دستیاب نقل میں ایسی باقاعدہ صحیح یا حسن درجے کی سند موجود نہیں جو اس شناخت کو آزاد طور پر قطعی ثابت کرے۔ اس لیے اسے بشر حافیؒ سے منسوب ایک قدیم، قابل شناخت روایت کے طور پر پیش کرنا مناسب ہے، جبکہ آنے والے کی شناخت ماخذ کی نسبت کے اندر ہی رکھی جائے۔
خلاصۂ نتیجہ
اس روایت کو احتیاط کے ساتھ بشر حافیؒ کی ایک کلاسیکی منقول ملاقات کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، جس میں خود کو خضرؑ کہنے والے شخص نے ان کے لیے اطاعت کی آسانی اور عبادت کے اخلاص و پوشیدگی کی دعا کی۔
مآخذ
al-Risala al-Qushayriyya, vol.2 p.554; direct attribution: “wa-qala Bishr ibn al-Harith”.