شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ اور مرغی کے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی منقول روایت

ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

یافعی نے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ سے متعلق ایک کلاسیکی روایت محفوظ کی ہے کہ ایک خاتون نے اپنے روحانی میلان رکھنے والے بیٹے کو شیخ کی تربیت میں دے دیا۔ کچھ عرصے بعد اس نے بیٹے کو بھوک اور شب بیداری سے کمزور پایا، جبکہ وہ جو کی روٹی کھا رہا تھا، اور پھر شیخ کے سامنے کھائی ہوئی مرغی کی ہڈیاں دیکھ کر اعتراض کیا۔ روایت کے مطابق شیخ نے ہڈیوں پر ہاتھ رکھا اور مرغی کو اللہ کے اذن سے اٹھنے کا حکم دیا، جس پر وہ صحیح سالم اٹھ کھڑی ہوئی اور آواز نکالی۔ ابن حجر ہیتمی نے بعد میں بھی اسی احیاء والی روایت کا حوالہ دیا۔

یافعی نے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ سے متعلق ایک کلاسیکی حکایت محفوظ کی ہے۔ ایک خاتون کا بیٹا شیخ سے بہت متاثر تھا اور چاہتا تھا کہ ان کی رہنمائی میں روحانی راستہ اختیار کرے۔ خاتون اسے شیخ کے پاس لائی اور اس کی تربیت ان کے سپرد کر دی۔ روایت کے مطابق نوجوان کو مجاہدہ، عبادت اور باقاعدہ روحانی تربیت کی طرف لگایا گیا۔

کچھ عرصے بعد ماں اپنے بیٹے سے ملنے آئی۔ اس نے اسے بھوک اور رات کی عبادت کی وجہ سے دبلا اور زرد پایا، اور وہ سادہ جو کی روٹی کھا رہا تھا۔ یہ منظر اسے پریشان کر گیا۔ پھر وہ شیخ کے پاس پہنچی تو وہاں ایک برتن میں ایسی ابلی ہوئی مرغی کی ہڈیاں دیکھیں جو کھائی جا چکی تھی، اور اس نے اپنے بیٹے کی سخت ریاضت اور اس منظر کے فرق پر اعتراض کیا۔

یہیں روایت کا غیر معمولی حصہ سامنے آتا ہے۔ یافعی نقل کرتے ہیں کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے ہڈیوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور مرغی کو ایسے الفاظ میں مخاطب کیا جن کا مفہوم تھا: اللہ کے اذن سے اٹھ کھڑی ہو، وہ اللہ جو بوسیدہ ہڈیوں کو زندگی دیتا ہے۔ خود روایت کے الفاظ اس واقعے کو صاف طور پر اللہ کے اذن کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔

اس کے بعد روایت کہتی ہے کہ مرغی صحیح سالم اٹھ کھڑی ہوئی اور اس نے آواز نکالی۔ ماں جو اپنے بیٹے کی سخت ریاضت اور شیخ کے سامنے دیکھے ہوئے منظر پر سوال لے کر آئی تھی، اسی غیر معمولی واقعے کو روایت اس سوال کے جواب کا مرکزی منظر بناتی ہے۔ پھر شیخ کی طرف یہ بات منقول ہے کہ جب اس کا بیٹا ایسی روحانی حالت تک پہنچ جائے گا تو وہ بھی جو چاہے کھا سکے گا۔

یافعی نے یہ مکمل حکایت اپنی کتاب نشر المحاسن الغالیہ میں محفوظ کی ہے اور اسے معروف منقول روایت کے طور پر پیش کیا ہے۔ بعد کی ایک نقل اسی واقعے کو مرآۃ الجنان سے بھی منسوب کرتی ہے، جبکہ ابن حجر ہیتمی نے بعد میں شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ سے متعلق گفتگو میں اسی احیاء والی روایت کا ذکر کیا۔

اس لیے عوامی کہانی کو اسی کلاسیکی ترتیب میں رکھنا زیادہ صاف ہے: ماں اپنے بیٹے کو شیخ کی تربیت میں دیتی ہے، اس کی سخت ریاضت دیکھ کر سوال کرتی ہے، اور روایت کے مطابق شیخ کے اللہ کے اذن سے کیے گئے خطاب کے بعد مرغی دوبارہ اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ خود منقول حکایت اس غیر معمولی واقعے کی نسبت کسی مستقل انسانی طاقت کے بجائے اللہ کے اذن کی طرف کرتی ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

روایت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے ہڈیوں پر ہاتھ رکھنے اور اللہ کے اذن کا حوالہ دے کر مرغی کو مخاطب کرنے کے بعد اس کے صحیح سالم دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا واقعہ محفوظ کرتی ہے۔

مآخذ

al-Yafi'i, Nashr al-Mahasin al-Ghaliya, report on Abd al-Qadir al-Jilani
al-Yafi'i, Nashr al-Mahasin al-Ghaliya, same report
al-Yafi'i, Nashr al-Mahasin al-Ghaliya, same report
al-Yafi'i: قومي بإذن الله الذي يحيى العظام وهي رميم
al-Yafi'i, same report
al-Yafi'i: ومن المشهور ما روى مسندا من خمس طرق...
al-Amini, al-Ghadir, quoting al-Yafi'i, Mir'at al-Jinan 3/356
Ibn Hajar al-Haytami, al-Fatawa al-Hadithiyya, question 211
Arabic Collections Online catalog for al-Fatawa al-Hadithiyya
CAND-0252 chain audit synthesis
CAND-0252 taxonomy and publication-boundary synthesis