حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور نورانی ظہور کو رد کرنے کا واقعہ

ولی یا صالح کی کرامتآزمائشقدیم تاریخ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

ابن رجب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ایک مشہور روایت محفوظ کرتے ہیں جو آپ کے صاحبزادے موسیٰ کے ذریعے منقول ہے۔ روایت کے مطابق ایک نورانی صورت ظاہر ہوئی، اس نے خود کو رب قرار دیا اور کہا کہ آپ کے لیے شرعی ممنوعات حلال کر دی گئی ہیں۔ حضرت شیخ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ نے اس دعوے کو شریعت کے خلاف ہونے کی وجہ سے رد کیا اور اسے شیطانی فریب قرار دیا۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی سوانح میں ایک مشہور واقعہ منقول ہے جسے ابن رجب نے اپنی کتاب ذیل طبقات الحنابلہ میں محفوظ کیا ہے۔ یہ روایت قدیم مناقبی مواد سے آپ کے صاحبزادے موسیٰ کے ذریعے نقل ہوتی ہے۔ واقعے کا اصل مرکز نورانی منظر کی غیر معمولی کیفیت نہیں، بلکہ وہ امتحان ہے جو اس نورانی ظہور کے پیغام میں پوشیدہ تھا۔

روایت کے مطابق حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے ایک نورانی صورت ظاہر ہوئی۔ اس کا ظہور غیر معمولی تھا اور اس نے انتہائی بڑا دعویٰ کیا: اس نے خود کو آپ کا رب بتایا۔ پھر اس نے کہا کہ جو چیزیں شریعت میں حرام اور ممنوع ہیں، وہ اب آپ کے لیے حلال کر دی گئی ہیں۔ یوں ایک حیرت انگیز ظاہری تجربے کے ساتھ ایسا پیغام پیش ہوا جو ثابت شدہ دینی احکام کو ایک ذاتی غیر معمولی تجربے کے تابع کرنا چاہتا تھا۔

حضرت شیخ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ نے اس دعوے کو قبول نہیں کیا۔ روایت انہیں اس موقع پر ایک واضح دینی معیار پر قائم دکھاتی ہے۔ انہوں نے نورانی ظہور کی چمک یا غیر معمولی کیفیت کو دلیل نہیں بنایا، بلکہ اس کے پیغام کو شریعت کے معلوم احکام پر پرکھا۔ چونکہ وہ دعویٰ حلال و حرام کے ثابت شدہ حکم سے ٹکراتا تھا، اس لیے آپ نے اسے رد کیا اور اس تجربے کو شیطانی فریب سمجھا۔

اسی پہلو نے اس حکایت کو سوانحی اور مناقبی روایت میں خاص اہمیت دی۔ اس کا بنیادی سبق روحانی امتیاز اور دینی بصیرت ہے: کوئی عجیب منظر، روشنی، آواز یا باطنی کیفیت اس اختیار کی مالک نہیں کہ وہ وحی سے ثابت شدہ فرائض اور ممنوعات کو منسوخ کر دے۔ اصل میزان شریعت ہے۔ روایت حضرت شیخ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ کو ایسے شخص کے طور پر پیش کرتی ہے جو غیر معمولی کیفیت سے مرعوب ہونے کے بجائے دینی اصول پر قائم رہے۔

ابن رجب اس مخصوص حکایت کو مشہور قرار دے کر نقل کرتے ہیں، البتہ وہ شطنوفی کے وسیع تر مناقبی مواد پر بلا امتیاز اعتماد سے الگ طور پر خبردار بھی کرتے ہیں۔ اس لیے اس واقعے کو اسی حیثیت کے ساتھ بیان کرنا مناسب ہے: ایک مشہور منقول سوانحی روایت، جس کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ غیر معمولی روحانی تجربات کو شریعت کے میزان پر پرکھا جائے، نہ کہ شریعت کو ایسے تجربات کے تابع کیا جائے۔

خلاصۂ نتیجہ

یہ واقعہ احتیاط کے ساتھ ایک مشہور سوانحی روایت کے طور پر شائع کیا جا سکتا ہے جس میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے نورانی ظہور کے اس دعوے کو شریعت سے متصادم ہونے کی وجہ سے رد کیا کہ ممنوعات آپ کے لیے حلال کر دی گئی ہیں۔

مآخذ

Ibn Rajab, Dhayl Tabaqat al-Hanabila, biography of Abd al-Qadir al-Jilani: report via Musa ibn Abd al-Qadir; Ibn Rajab says the story is famous while warning against indiscriminate reliance on Shatnufi.