حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، غیبی آواز، قرض اور سونے کی دریافت کا واقعہ

ولی یا صالح کی کرامتآزمائشقدیم تاریخ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے طالب علمی کے زمانے کا ایک قابلِ توجہ واقعہ کلاسیکی سوانحی مآخذ میں محفوظ ہے۔ شدید غربت اور بھوک کے دوران، ان کے اپنے منقول بیان کے مطابق، انہوں نے ایک ایسے بولنے والے کی آواز سنی جو دکھائی نہیں دے رہا تھا اور جس نے ضرورت کے لیے قرض لینے کو کہا۔ انہوں نے ایک دکاندار سے ادھار کھانا لیا، پھر ایک جگہ کی طرف رہنمائی ہوئی جہاں سونے کا بڑا ٹکڑا ملا اور اسی سے قرض ادا کیا گیا۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے طالب علمی کے زمانے کا ایک قابلِ توجہ واقعہ کلاسیکی سوانحی مآخذ میں نقل ہوا ہے۔ روایت کی اہمیت یہ بھی ہے کہ اسے محض ایک بے نام حکایت کے طور پر نقل نہیں کیا گیا، بلکہ ابن النجار اسے عبداللہ بن ابی الحسن الجباعی کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، اور الجباعی کے مطابق حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے یہ واقعہ خود ان سے بیان کیا تھا۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ حصولِ علم میں مشغول تھے اور سخت تنگ دستی کا سامنا کر رہے تھے۔ غربت اس حد تک تھی کہ کھانے کے لیے بھی کچھ میسر نہ تھا اور بھوک ان کے لیے ایک حقیقی آزمائش بن چکی تھی۔ اسی پریشانی کی حالت میں، ان کے اپنے منقول بیان کے مطابق، انہیں ایک آواز سنائی دی، مگر آواز دینے والا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس آواز نے انہیں کہا کہ اپنی ضرورت کے لیے قرض لے لو۔

حضرت شیخؒ نے اس ہدایت کے مطابق ایک دکاندار سے ادھار کھانا لے لیا۔ اس وقت ان کی فوری ضرورت تو پوری ہوگئی اور بھوک سے کچھ راحت ملی، لیکن اب ایک قرض ان کے ذمہ تھا جسے ادا کرنا بھی ضروری تھا۔

روایت یہاں ایک غیر معمولی رخ اختیار کرتی ہے۔ بعد میں حضرت شیخؒ کو ایک مخصوص جگہ کی طرف رہنمائی ہوئی۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں سونے کا ایک بڑا ٹکڑا ملا۔ جو معاملہ شدید تنگ دستی اور بے بسی سے شروع ہوا تھا، اب اسی میں قرض کی ادائیگی کا ذریعہ بھی پیدا ہوگیا۔ حضرت شیخؒ نے اس سونے سے دکاندار کا قرض ادا کردیا۔

اس واقعے کی ترتیب نہایت سادہ مگر اثر انگیز ہے: علم حاصل کرنے والا ایک طالب علم شدید غربت اور بھوک میں ہے، اسے ایک نظر نہ آنے والی آواز ضرورت کے لیے قرض لینے کو کہتی ہے، وہ ادھار کھانا حاصل کرتا ہے، پھر اسے ایک جگہ کی طرف رہنمائی ملتی ہے، وہاں سونا ملتا ہے اور آخرکار اسی کے ذریعے قرض ادا ہوجاتا ہے۔ یوں واقعہ صرف بھوک دور ہونے پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس ذمہ داری کی ادائیگی پر مکمل ہوتا ہے جو مشکل وقت میں قرض لینے سے پیدا ہوئی تھی۔

اس روایت کے الفاظ امام ذہبی کی سیر اعلام النبلاء میں محفوظ ہیں، جبکہ تاریخ الاسلام میں بھی اس کا متوازی بیان موجود ہے۔ جس صورت میں یہ روایت ہم تک پہنچی ہے، اس میں اسے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی طالب علمی کے زمانے کا ان کا اپنا بیان کردہ غیر معمولی روحانی تجربہ پیش کیا گیا ہے۔

یوں کلاسیکی مآخذ میں محفوظ یہ واقعہ شدید تنگ دستی، غیبی آواز سے ملنے والی ہدایت، ضرورت کے وقت قرض لینے، غیر متوقع طور پر سونا ملنے اور پھر اسی ذریعے سے قرض ادا کرنے کی ایک منقول کرامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

اسے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے براہِ راست منسوب ایک کلاسیکی روایت کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے، جس میں غیبی آواز، شدید تنگ دستی میں مدد، سونے کی دریافت اور قرض کی ادائیگی کا ذکر ہے۔

مآخذ

Siyar al-A‘lam al-Nubala 20:445–446: Ibn al-Najjar says al-Jubba‘i wrote to him that Abd al-Qadir told him of an unseen voice instructing him to borrow, followed later by direction to a large piece of gold used to repay the grocer.
Tarikh al-Islam, vol. 39, independently preserves Abd al-Qadir’s self-report of an unseen speaker instructing him to borrow and his later finding a large piece of gold used to repay the grocer.
Al-Dhahabi states in the same biography that many karamat attributed to Abd al-Qadir are not sound and some attributed claims are impossible.