احمد بن ظفر، وزیر ابن ہبیرہ کے پوتے، بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے انہیں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی زیارت کی اجازت دی، کچھ سونا آپ کو پیش کرنے کے لیے دیا اور سلام بھی کہا۔ مجلس ختم ہونے کے بعد احمد ہجوم کی وجہ سے سونا دینے میں دل ہی دل میں جھجکے۔ روایت کے مطابق ان کے اظہار سے پہلے ہی شیخؒ نے فرمایا کہ جو تمہارے پاس ہے دے دو اور لوگوں کی پروا نہ کرو۔ احمد کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسا کیا اور حیران واپس لوٹے۔
احمد بن ظفر، جو وزیر ابن ہبیرہ کے پوتے تھے، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے ساتھ اپنی ایک شخصی ملاقات بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنے دادا سے شیخؒ کی زیارت کی اجازت مانگی۔ دادا نے اجازت دی، ایک مقدار سونا ان کے حوالے کیا تاکہ وہ حضرت شیخ عبدالقادرؒ کو پیش کریں، اور اپنا سلام بھی پہنچانے کو کہا۔
احمد حضرت شیخؒ کی مجلس میں پہنچے۔ مجلس ختم ہوئی اور شیخ عبدالقادرؒ منبر سے نیچے تشریف لائے تو احمد نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ سونا ابھی ان کے پاس تھا، لیکن اردگرد لوگوں کا بڑا ہجوم تھا۔ اسی وجہ سے وہ دل میں اس بات سے جھجکنے لگے کہ اتنے لوگوں کے سامنے سونا کیسے پیش کریں۔ تاریخ الاسلام کی مفصل نقل اس نکتے کو واضح کرتی ہے کہ احمد نے یہ تردد زبان سے ظاہر نہیں کیا تھا؛ یہ ان کے اندر چلنے والی سوچ تھی۔
اسی لمحے روایت کہتی ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادرؒ نے احمد کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ان کی فکر کے مطابق بات شروع کی اور فرمایا: «جو تمہارے پاس ہے دے دو، لوگوں کی پروا نہ کرو»، اور وزیر کو سلام پہنچانے کا بھی فرمایا۔ احمد بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حکم کے مطابق سونا پیش کیا اور وہاں سے حیران و ششدر واپس ہوئے۔
احمد کا یہ کہنا کہ وہ «مدہوش» یا حیران واپس گئے واقعے کے مفہوم کو زیادہ واضح کرتا ہے۔ غیر معمولی بات صرف یہ نہیں تھی کہ حضرت شیخؒ نے سونا قبول کیا، بلکہ یہ تھی کہ ان کا جملہ اس ہچکچاہٹ کا براہِ راست جواب معلوم ہوا جسے احمد نے اپنے دل میں رکھا تھا۔ اس لیے روایت کا دائرہ ایک خاص شخصی واقعے تک رہتا ہے: ایک غیر کہی سوچ اور اس کے مطابق آنے والا جواب۔
اسی مقام کے فوراً بعد ذہبی، مرآۃ الزمان کے مصنف کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت شیخ عبدالقادرؒ «خواطر پر کلام کرتے تھے»۔ یہ عبارت اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کلاسیکی سوانحی روایت ایسے واقعات کو کس زاویے سے دیکھتی تھی؛ البتہ یہ احمد والے واقعے کی الگ سندی تصدیق نہیں بنتی۔
ذہبی اسی سوانح میں عمومی طور پر یہ تنبیہ بھی کرتے ہیں کہ حضرت شیخؒ سے منسوب بہت سی کرامات صحیح نہیں اور بعض منسوبات ناممکن ہیں۔ اس لیے مناسب طرزِ بیان یہ ہے کہ سیر اعلام النبلاء اور تاریخ الاسلام میں محفوظ احمد بن ظفر کی اس شخصی روایت کو اپنی اصل حد کے ساتھ پیش کیا جائے: ہجوم میں سونا دینے کی غیر کہی ہچکچاہٹ، حضرت شیخؒ کا فوری جواب، اور احمد کا حکم پورا کرکے حیرت کے ساتھ واپس ہونا۔
احمد حضرت شیخؒ کی مجلس میں پہنچے۔ مجلس ختم ہوئی اور شیخ عبدالقادرؒ منبر سے نیچے تشریف لائے تو احمد نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ سونا ابھی ان کے پاس تھا، لیکن اردگرد لوگوں کا بڑا ہجوم تھا۔ اسی وجہ سے وہ دل میں اس بات سے جھجکنے لگے کہ اتنے لوگوں کے سامنے سونا کیسے پیش کریں۔ تاریخ الاسلام کی مفصل نقل اس نکتے کو واضح کرتی ہے کہ احمد نے یہ تردد زبان سے ظاہر نہیں کیا تھا؛ یہ ان کے اندر چلنے والی سوچ تھی۔
اسی لمحے روایت کہتی ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادرؒ نے احمد کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ان کی فکر کے مطابق بات شروع کی اور فرمایا: «جو تمہارے پاس ہے دے دو، لوگوں کی پروا نہ کرو»، اور وزیر کو سلام پہنچانے کا بھی فرمایا۔ احمد بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حکم کے مطابق سونا پیش کیا اور وہاں سے حیران و ششدر واپس ہوئے۔
احمد کا یہ کہنا کہ وہ «مدہوش» یا حیران واپس گئے واقعے کے مفہوم کو زیادہ واضح کرتا ہے۔ غیر معمولی بات صرف یہ نہیں تھی کہ حضرت شیخؒ نے سونا قبول کیا، بلکہ یہ تھی کہ ان کا جملہ اس ہچکچاہٹ کا براہِ راست جواب معلوم ہوا جسے احمد نے اپنے دل میں رکھا تھا۔ اس لیے روایت کا دائرہ ایک خاص شخصی واقعے تک رہتا ہے: ایک غیر کہی سوچ اور اس کے مطابق آنے والا جواب۔
اسی مقام کے فوراً بعد ذہبی، مرآۃ الزمان کے مصنف کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت شیخ عبدالقادرؒ «خواطر پر کلام کرتے تھے»۔ یہ عبارت اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کلاسیکی سوانحی روایت ایسے واقعات کو کس زاویے سے دیکھتی تھی؛ البتہ یہ احمد والے واقعے کی الگ سندی تصدیق نہیں بنتی۔
ذہبی اسی سوانح میں عمومی طور پر یہ تنبیہ بھی کرتے ہیں کہ حضرت شیخؒ سے منسوب بہت سی کرامات صحیح نہیں اور بعض منسوبات ناممکن ہیں۔ اس لیے مناسب طرزِ بیان یہ ہے کہ سیر اعلام النبلاء اور تاریخ الاسلام میں محفوظ احمد بن ظفر کی اس شخصی روایت کو اپنی اصل حد کے ساتھ پیش کیا جائے: ہجوم میں سونا دینے کی غیر کہی ہچکچاہٹ، حضرت شیخؒ کا فوری جواب، اور احمد کا حکم پورا کرکے حیرت کے ساتھ واپس ہونا۔
خلاصۂ نتیجہ
اسے احتیاط کے ساتھ احمد بن ظفر کی کلاسیکی شخصی روایت کے طور پر شائع کیا جا سکتا ہے: وہ ہجوم میں سپرد کیا گیا سونا دینے سے دل میں جھجکے، حضرت شیخ عبدالقادرؒ نے ان کے اظہار سے پہلے جو کچھ پاس تھا دینے کو کہا، اور احمد کے مطابق وہ حکم پورا کرکے حیران واپس لوٹے۔
مآخذ
Siyar al-A‘lam al-Nubala 20:449 reports Ahmad ibn Zafar ibn Hubayra hesitating to hand over gold in the gathering and Abd al-Qadir saying to give what he had with him.
Tarikh al-Islam, vol. 39, preserves Ahmad ibn Zafar ibn Hubayra’s report: he hesitated to hand over gold in the crowd and Abd al-Qadir told him to give what he had and not mind the people.
Al-Dhahabi states in the same biography that many karamat attributed to Abd al-Qadir are not sound and some attributed claims are impossible.