متعدد صحیح روایات بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی آواز میں کمزوری محسوس کی اور سمجھا کہ آپ بھوکے ہیں۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس صرف چند جو کی روٹیاں تھیں، جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ذریعے بھیجی گئیں۔ نبی کریم ﷺ اپنے ساتھ موجود لوگوں کو لے کر گھر تشریف لائے، روٹی تیار کی گئی اور مہمانوں کو دس دس کے گروہوں میں بلایا گیا۔ ہر گروہ نے پیٹ بھر کر کھایا۔ بعض صحیح طرق میں کل تعداد ستر یا اسی اور بعض میں اسی ہے؛ صحیح مسلم کی ایک روایت نبی کریم ﷺ کے کھانے پر ہاتھ رکھنے، اللہ کا نام لینے اور آخر میں کچھ کھانا باقی رہنے کی تفصیل بھی دیتی ہے۔
روٹیاں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ذریعے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجی گئیں۔ آپ مسجد میں چند صحابہ کے ساتھ موجود تھے۔ جب معلوم ہوا کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے کھانا آیا ہے تو آپ اکیلے نہیں چلے بلکہ ساتھ بیٹھے لوگوں کو بھی اٹھنے کا فرمایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ پہلے گھر پہنچے اور اطلاع دی کہ نبی کریم ﷺ جماعت کے ساتھ تشریف لارہے ہیں۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ پریشان ہوئے کہ مہمان زیادہ اور کھانا بہت کم ہے، مگر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اعتماد کے ساتھ کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔
گھر پہنچ کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو کچھ موجود ہے لے آؤ۔ روٹی کے ٹکڑے کیے گئے اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے دستیاب چکنائی یا سالن اس پر ڈال دیا۔ صحیح بخاری کے مطابق نبی کریم ﷺ نے اس کھانے پر وہ کلمات فرمائے جو اللہ نے چاہے۔ پھر سب لوگوں کو ایک ساتھ اندر نہیں بلایا گیا۔ دس آدمی آئے، پیٹ بھر کر کھایا اور باہر نکل گئے۔ پھر اگلے دس آئے اور اسی طرح سیر ہوکر نکلے۔ یہ سلسلہ بار بار جاری رہا۔
اصل غیر معمولی بات یہی مسلسل کفایت ہے۔ ہر شخص نے محض ایک لقمہ نہیں چکھا، بلکہ ایک کے بعد ایک گروہ نے پیٹ بھر کر کھایا۔ صحیح بخاری کی ایک روایت اور صحیح مسلم کے ایک طریق میں مجموعی تعداد ستر یا اسی بیان ہوئی ہے، جبکہ دوسرے صحیح طرق میں اسی افراد کا ذکر ہے۔ یہ عدد کا ثانوی اختلاف ہے، اصل واقعے کا تضاد نہیں۔
صحیح مسلم کے ایک دوسرے طریق میں مزید تفصیل ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کھانے پر اپنا ہاتھ رکھا، اللہ کا نام لیا اور دس دس افراد کو اندر بلایا، یہاں تک کہ اسی آدمی کھا چکے۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اور گھر والوں نے بھی کھایا اور پھر بھی کچھ کھانا باقی رہا۔ یہ مضبوط صحیح تفصیل ہے، مگر اسے ہر روایت کے عین الفاظ نہ بنایا جائے۔
امام بخاری نے بنیادی روایت کو علاماتِ نبوت کے باب میں رکھا ہے۔ اس لیے یہ صرف سخاوت کا قصہ نہیں۔ حضرت ابوطلحہ، حضرت ام سلیم اور حضرت انس رضی اللہ عنہم نے اپنی محدود چیز پیش کی، اور اسی تھوڑے کھانے سے ایک بڑی جماعت کا سیر ہونا نبوی نشانی اور اللہ کی عطا کردہ برکت کے طور پر سامنے آیا۔
خلاصۂ نتیجہ
حیثیتِ واقعہ: یہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متعدد صحیح روایتوں سے ثابت اعلیٰ اعتماد والا نبوی معجزہ ہے۔ اس کا محفوظ مرکز حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر چند جو کی روٹیوں کا مسلسل بڑی جماعت کے لیے کافی ہونا اور ہر گروہ کا سیر ہونا ہے۔ سب سے درست اشاعت ستر یا اسی اور اسی کے عددی فرق کو شفاف رکھتی اور ہاتھ، ذکرِ الٰہی اور بچے ہوئے کھانے کی تفصیل کو صحیح مسلم کے مخصوص طریق کی اضافہ شدہ تفصیل کے طور پر بیان کرتی ہے۔
مآخذ
V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: SOURCE->CLAIM linkage normalized from the explicit source/claim content match. V3_TASK_4_METADATA_CONFIRMATION: independently verified Sahih al-Bukhari 3578, Book 61 Hadith 87, in the chapter on signs of prophethood. It supports the few barley loaves, food preparation, admission in groups of ten, all eating to their fill, and the seventy-or-eighty total.
V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: SOURCE->CLAIM linkage normalized from the explicit source/claim content match. V3_TASK_4_METADATA_CONFIRMATION: independently verified Sahih al-Bukhari 5381, Book 70 Hadith 9. It narrates the same Abu Talha/Umm Sulaim meal and gives eighty men.
V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: SOURCE->CLAIM linkage normalized from the explicit source/claim content match. V3_TASK_4_METADATA_CONFIRMATION: independently verified Sahih Muslim 2040a, Book 36 Hadith 190. It independently corroborates the few barley loaves, groups of ten, all eating to their fill, and the seventy-or-eighty total.
V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: SOURCE->CLAIM linkage normalized from the explicit source/claim content match. V3_TASK_4_METADATA_CONFIRMATION: independently verified Sahih Muslim 2040d, Book 36 Hadith 193. This route specifically adds the Prophet placing his hand on the food, mentioning Allah's name, eighty people eating, the household eating afterward, and food remaining.
V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: direct Bukhari 3578 row added for CLM-02. The hadith explicitly gives preparation of the small meal, admission in groups of ten, and every group eating to its fill.