قرآنِ مجید واقعۂ اسراء کو اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا مظہر قرار دیتا ہے: وہ اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گیا، جس کے گرد و نواح کو بابرکت بنایا، تاکہ اسے اپنی نشانیاں دکھائے۔ صحیح مسلم میں نبی کریم ﷺ کا براق پر بیت المقدس پہنچنا، سواری کو انبیاء کے استعمال کردہ حلقے سے باندھنا اور مسجد میں دو رکعت نماز ادا کرنا ثابت ہے۔ صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت میں آپ ﷺ کو انبیاء علیہم السلام کی ایک جماعت کے درمیان دیکھنا، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام کو نماز میں دیکھنا اور نماز کا وقت آنے پر ان کی امامت فرمانا بھی صراحت سے محفوظ ہے۔ قریش کے سوالات پر اللہ نے بیت المقدس کو آپ ﷺ کے سامنے نمایاں کردیا تاکہ آپ اس کی نشانیاں بیان فرمائیں۔
صحیح مسلم اس مبارک رات کے زمینی سفر کو واضح ترتیب کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ آپ کے پاس براق لایا گیا۔ وہ سفید سواری تھی، گدھے سے بڑی اور خچر سے چھوٹی، اور اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی تھی۔ آپ ﷺ اس پر سوار ہوئے اور بیت المقدس پہنچے۔ وہاں براق کو اس حلقے کے ساتھ باندھا جس کے ساتھ انبیاء علیہم السلام اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔
اسی صحیح روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام دو برتن لائے؛ ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی۔ نبی کریم ﷺ نے دودھ اختیار فرمایا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بتایا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا۔ اس کے بعد حدیث معراج کے اگلے مرحلے کی طرف بڑھتی ہے، جبکہ یہاں مرکزی موضوع مسجدِ اقصیٰ تک اسراء ہے۔
صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت اس رات کا نہایت عظیم منظر محفوظ کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خود کو انبیاء علیہم السلام کی ایک جماعت کے درمیان دیکھا۔ آپ ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نماز پڑھتے دیکھا۔ پھر جب جماعت کی نماز کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ نے انبیاء علیہم السلام کی اس جماعت کی امامت فرمائی۔
یوں بیت المقدس صرف سفر کی منزل نہیں رہا؛ وہ مقدس مقام بن کر سامنے آیا جہاں خاتم النبیین ﷺ سابق انبیاء علیہم السلام کے درمیان نماز میں ان کی امامت فرماتے ہیں۔
جب نبی کریم ﷺ مکہ واپس تشریف لائے اور قریش کو اس رات کے سفر کی خبر دی تو انہوں نے بیت المقدس کے متعلق سوالات شروع کردیے۔ صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں محفوظ ہے کہ بعض ایسی جزئیات پوچھی گئیں جو آپ ﷺ نے ذہن میں محفوظ نہ کی تھیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو آپ ﷺ کے سامنے نمایاں فرما دیا۔ آپ ﷺ حجر میں کھڑے اسے دیکھتے جاتے اور قریش جو نشانیاں پوچھتے، ان کے جواب دیتے جاتے۔
یوں مستند داستان مکمل ہوتی ہے: اللہ اپنے رسول ﷺ کو مسجدِ اقصیٰ تک لے جاتا ہے؛ براق پر بیت المقدس پہنچایا جاتا ہے؛ آپ ﷺ وہاں نماز پڑھتے ہیں؛ انبیاء علیہم السلام کی جماعت کی امامت فرماتے ہیں؛ اور قریش کے سوالات کے وقت اللہ بیت المقدس کو آپ ﷺ کے سامنے ظاہر کردیتا ہے۔ پورا واقعہ اللہ کی قدرت، سلسلۂ نبوت کی وحدت اور نبی آخر الزمان ﷺ کے عظیم مقام کی روشن نشانی ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
واقعۂ اسراء قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت اعلیٰ اعتماد کا نبوی معجزہ ہے۔ اس کی مستند داستان صرف ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے تک محدود نہیں: نبی کریم ﷺ براق پر بیت المقدس پہنچے، وہاں نماز ادا کی، انبیاء علیہم السلام کی جماعت کی امامت فرمائی، اور بعد میں قریش کے سوالات کے وقت اللہ نے بیت المقدس کو آپ ﷺ کے سامنے نمایاں کردیا۔ ہر مرحلہ اسی حقیقت کی طرف لوٹتا ہے کہ یہ سفر اللہ کی قدرت اور اس کی دکھائی ہوئی نشانیوں کا عظیم مظہر تھا۔
مآخذ
V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: blank SOURCE->CLAIM linkage repaired from the explicit one-to-one claim/source code and content match.
V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: blank SOURCE->CLAIM linkage repaired from the explicit one-to-one claim/source code and content match. V3_TASK_4_METADATA_REPAIR: independently verified Sahih Muslim 162a with in-book reference Book 1, Hadith 316. This source supports al-Buraq, arrival at Bayt al-Maqdis, tethering and two rak'ahs, and then continues into the wider Mi'raj narrative; the CSV keeps the Qur'an-17:1 Isra core distinct.
V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: blank SOURCE->CLAIM linkage repaired from the explicit one-to-one claim/source code and content match. V3_TASK_4_METADATA_CONFIRMATION: independently verified Sahih al-Bukhari 3886, in-book reference Book 63, Hadith 111; it supports the Quraysh challenge and Allah displaying Jerusalem so the Prophet could describe its features.
V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: blank SOURCE->CLAIM linkage repaired from the explicit one-to-one claim/source code and content match. V3_TASK_4_SOURCE_URL_REPAIR: prior URL [https://tafsirtool.com/tafsir/tabari/17/1] replaced with independently verified al-Tabari 17:1 page. Al-Tabari identifies al-Masjid al-Aqsa as Bayt al-Maqdis and argues for the bodily night journey as a prophetic proof, while also transmitting wider Isra/Mi'raj reports. V3_SOURCE_METADATA_GAP: current volume_page is only a commentary locator, not edition-specific printed pagination.
TASK_6_PHASE_A2: added because the expanded public story materially uses the sahih-hadith detail of the gathering of prophets and the Prophet leading them in prayer; direct source verified as Sahih Muslim 172, Book 1, Hadith 335.