وہ کھجور کا تنا جو رسول اللہ ﷺ کے منبر پر جانے پر رو پڑا

نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتصحیح حدیث
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

صحیح بخاری کی متعدد معتبر روایات میں اس کھجور کے تنے کا واقعہ محفوظ ہے جس کے پاس رسول اللہ ﷺ منبر بننے سے پہلے جمعے کا خطبہ دیا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ نئے منبر پر تشریف لے گئے تو صحابہؓ نے اس تنے کے رونے اور حنین کی آواز سنی۔ رسول اللہ ﷺ منبر سے اترے، اسے اپنے ساتھ لگایا یا اس پر ہاتھ رکھا تو وہ پرسکون ہوگیا۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ وہ اس ذکر اور دینی علم کی جدائی میں رو رہا تھا جو پہلے آپ کے قریب سنتا تھا۔

مسجدِ نبوی میں منبر بننے سے پہلے رسول اللہ ﷺ جمعے کا خطبہ ایک درخت یا کھجور کے تنے کے پاس کھڑے ہو کر دیا کرتے تھے۔ یہ سادہ سا مقام صحابہ کرامؓ کے لیے مانوس ہوچکا تھا۔ اسی کے قریب وہ رسول اللہ ﷺ سے اللہ کا ذکر، نصیحت، دین کی تعلیم اور ہدایت بھری باتیں سنتے تھے۔

بعد میں رسول اللہ ﷺ کے لیے منبر بنایا گیا تاکہ آپ لوگوں سے اس پر کھڑے یا بیٹھ کر خطاب فرما سکیں۔ اگلا جمعہ آیا تو نبی کریم ﷺ اس تنے کے بجائے نئے منبر کی طرف تشریف لے گئے۔ اسی لمحے مسجد میں ایک غیر معمولی آواز سنائی دی۔ کھجور کا وہ تنا رونے لگا۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ کی صحیح بخاری والی روایت اسے بچے کے رونے سے تشبیہ دیتی ہے، جبکہ ایک دوسری صحیح روایت میں صحابہؓ نے اس سے اونٹنی جیسی بلند حنین کی آواز سنی۔

رسول اللہ ﷺ نے اس آواز کو نظر انداز نہیں فرمایا۔ آپ ﷺ منبر سے نیچے اترے اور سیدھے اس تنے کے پاس تشریف لے گئے۔ ایک صحیح روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ وہ اس وقت بھی ایسے سسک رہا تھا جیسے کسی روتے ہوئے بچے کو آہستہ آہستہ چپ کرایا جارہا ہو۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس پر اپنا مبارک ہاتھ رکھا۔ پھر اس کی آواز تھم گئی اور وہ پرسکون ہوگیا۔

اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ کو خود اس رونے کا مفہوم بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تنا اس چیز کی جدائی میں رو رہا تھا جو پہلے آپ کے پاس کھڑے رہتے ہوئے ذکر اور دینی علم کی صورت میں سنا کرتا تھا۔ یوں یہ صرف ایک غیر معمولی آواز کا واقعہ نہیں رہا، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی صحبت اور ذکرِ الٰہی سے وابستگی کا ایک نہایت دل نشین منظر بن گیا۔

امام بخاری نے اس واقعے کو متعدد صحیح طریقوں سے محفوظ کیا اور اس کی تفصیلی روایت کو علاماتِ نبوت کے باب میں ذکر کیا۔ تمام معتبر روایتوں کا مرکزی منظر ایک ہی ہے: رسول اللہ ﷺ نئے منبر پر گئے، صحابہؓ نے کھجور کے تنے کا رونا سنا، آپ ﷺ نیچے اتر کر اس کے پاس آئے، اسے چھوا یا اپنے ساتھ لگایا، اور وہ خاموش ہوگیا۔ خود رسول اللہ ﷺ نے اس حنین کو اس ذکر اور علم کی جدائی سے جوڑا جو وہ پہلے آپ کے قریب سنتا تھا۔

یہ مسجدِ نبوی کے نہایت پُراثر واقعات میں سے ایک ہے: ایک ایسا منظر جس میں نبوی نشانی کے ساتھ ذکرِ الٰہی سے محبت اور رسول اللہ ﷺ کی شفقت دونوں نمایاں ہوتی ہیں۔

خلاصۂ نتیجہ

صحیح روایات ایک نہایت دل نشین نبوی نشانی محفوظ کرتی ہیں: کھجور کا تنا رسول اللہ ﷺ اور اس ذکر کی جدائی میں رویا جو وہ آپ کے پاس سنا کرتا تھا، پھر آپ ﷺ کے لوٹ کر اسے چھونے یا اپنے ساتھ لگانے پر خاموش ہوگیا۔

مآخذ

Sahih al-Bukhari 3584

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-01 and independently verified Sahih al-Bukhari 3584, Book 61 Hadith 93, in the signs-of-prophethood chapter. It gives the pre-pulpit Friday setting, the date-palm crying like a child, the Prophet descending and embracing it while it moaned, and his explanation that it cried for what it used to hear of remembrance/religious knowledge.

Sahih al-Bukhari 3585

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-04 and independently verified Sahih al-Bukhari 3585, Book 61 Hadith 94. It preserves the pulpit transition, a sound like a pregnant she-camel, and the trunk becoming quiet after the Prophet placed his hand on it.

Sahih al-Bukhari 918

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-05 and independently verified Sahih al-Bukhari 918, Book 11 Hadith 42, in the Friday Prayer book. It preserves the same event with the pregnant-she-camel sound simile and the Prophet descending and placing his hand on the trunk.

Sahih al-Bukhari 3584

V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: direct Bukhari 3584 row added for CLM-02; the hadith explicitly gives the trunk crying like a child and moaning after the Prophet moved to the new pulpit.

Sahih al-Bukhari 3584

V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: direct Bukhari 3584 row added for CLM-03; the hadith explicitly gives the Prophet descending, embracing the trunk, and explaining its grief over remembrance/religious knowledge.