صحیح مسلم میں نبی کریم ﷺ سے بعثت سے پہلے کی ایک نہایت دل نشین نشانی محفوظ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ مکہ کے ایک ایسے پتھر کو جانتے ہیں جو نبوت پر مبعوث ہونے سے پہلے آپ کو سلام کیا کرتا تھا، اور بعد میں بھی آپ اسی پتھر کو پہچانتے تھے۔ امام نووی اس روایت کو صریح نبوی معجزہ قرار دیتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ اللہ بعض جمادات میں ان کے مناسب حال ادراک پیدا فرما سکتا ہے۔ یہی بنیادی روایت ترمذی، مسند احمد اور سنن دارمی میں بھی قریب الفاظ کے ساتھ محفوظ ہے۔
حضرت جابر بن سمرہؓ صحیح مسلم میں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں مکہ کے ایک پتھر کو جانتا ہوں جو مجھے مبعوث کیے جانے سے پہلے سلام کیا کرتا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے ایک اور نہایت معنی خیز بات فرمائی کہ میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں۔
حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، مگر ان میں ایک خاص قرب محسوس ہوتا ہے۔ عربی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سلام آپ ﷺ کے لیے پہچانا ہوا معاملہ تھا، محض کسی بے نام بعد کی حکایت کا حصہ نہیں۔ اس کے باوجود حدیث جان بوجھ کر بہت سی تفصیلات بیان نہیں کرتی۔ پتھر کا نام نہیں بتایا گیا، مکہ کی کسی گلی، وادی، پہاڑ یا غار کا تعین نہیں کیا گیا، اس کی شکل اور جسامت نہیں بتائی گئی، اور اسے حجرِ اسود قرار نہیں دیا گیا۔ اسی لیے سب سے مضبوط اور خوبصورت بیان وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے اپنے الفاظ کے قریب رہے: مکہ میں ایک مخصوص پتھر آپ ﷺ کو سلام کیا کرتا تھا اور آپ بعد میں بھی اسے پہچانتے تھے۔
یہ روایت صرف صحیح مسلم تک محدود نہیں۔ امام ترمذی نے حضرت جابر بن سمرہؓ ہی سے قریب المعنی روایت محفوظ کی اور اسے حسن غریب کہا۔ مسند احمد اور سنن دارمی میں بھی یہی بنیادی خبر منقول ہے۔ صحیح مسلم کی اہمیت مزید اس لیے نمایاں ہے کہ امام مسلم نے خود اسے ایسے باب کے تحت رکھا جس کے عنوان میں نبوت سے پہلے پتھر کے سلام کا ذکر موجود ہے۔
کلاسیکی محدثین نے بھی اسے محض مجازی انداز میں نہیں لیا۔ امام نووی صحیح مسلم کی شرح میں صاف لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کا معجزہ ہے۔ وہ توضیح کرتے ہیں کہ اللہ بعض ایسی مخلوقات میں بھی ان کے مناسب حال ادراک پیدا فرما سکتا ہے جنہیں انسان عام طور پر جماد سمجھتا ہے۔ وہ قرآن کے اس عمومی اصول سے بھی مناسبت بیان کرتے ہیں کہ ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، اگرچہ انسان اس تسبیح کو سمجھ نہیں پاتا۔
اس واقعے کی سب سے خوبصورت بات اس کا زمانہ ہے۔ ابھی علانیہ دعوت شروع نہیں ہوئی تھی، ابھی دنیا نے آپ ﷺ کو رسولِ خدا کے طور پر نہیں پہچانا تھا، مگر مکہ کا ایک پتھر آپ ﷺ کو سلام کررہا تھا۔ بعد میں رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو اس پتھر کی تلاش یا اس کی جگہ کو خاص بنانے کی دعوت نہیں دی؛ آپ نے صرف ایک سچی یاد بیان کی کہ میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں۔ یہی سادگی اس روایت کی عظمت اور دیانت دونوں کو محفوظ رکھتی ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
حیثیتِ روایت: یہ صحیح مسلم 2277 سے براہِ راست ثابت ایک اعلیٰ اعتماد والا نبوی معجزہ ہے، جس کی قریب المعنی روایتیں ترمذی، مسند احمد اور دارمی میں بھی محفوظ ہیں، جبکہ امام نووی اسے صریح معجزہ کہتے ہیں۔ اس کا مضبوط مرکز یہی ہے کہ بعثت سے پہلے مکہ کا ایک مخصوص پتھر نبی کریم ﷺ کو سلام کیا کرتا تھا اور آپ ﷺ بعد میں بھی اسے پہچانتے تھے۔
مآخذ
V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-01 and independently verified Sahih Muslim 2277, Book 43 Hadith 2. The chapter title explicitly mentions the stone greeting the Prophet before prophethood, and the hadith states that he recognized a stone in Mecca that used to greet him before he was sent as a prophet and that he still recognized it later.
V3_TASK_4_LINKAGE_AND_BIBLIOGRAPHY_REPAIR: linked to CLM-03 and independently verified the al-Nawawi commentary on Muslim 2277. Al-Nawawi explicitly calls the report a miracle of the Prophet and says it establishes a form of discernment in some inanimate objects. Islamweb displays the commentary in vol. 15, pp. 437-438 digital pagination. A classical cross-reference in al-Siraj al-Wahhaj cites the Nawawi edition as al-Matba'a al-Misriyya, vol. 15, p. 36; this printed locator is recorded as a cross-reference rather than invented.
V3_TASK_4_SOURCE_VERIFICATION: linked directly to CLM-04 and independently verified Qur'an 17:44. The verse establishes the general principle that the heavens, earth and all things glorify Allah, while humans do not ordinarily understand their glorification. It does not narrate the specific Meccan stone-greeting event.
V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: direct Muslim 2277 row added for CLM-02. The hadith explicitly states that the Prophet still recognized the same stone when he later related the report.