ہجرت کے دوران سراقہؓ کا تعاقب اور گھوڑے کے زمین میں دھنسنے کا واقعہ

نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیاہلِ ایمان کی نجاتدعا کی قبولیتتاریخی نتیجہصحیح حدیث
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

صحیح بخاری ہجرت کے دوران سراقہ بن مالکؓ کے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکرؓ کا تعاقب کرنے کا تفصیلی واقعہ محفوظ کرتی ہے، جب قریش نے دونوں کو پکڑنے یا قتل کرنے پر بڑا انعام مقرر کیا تھا۔ سراقہؓ قریب پہنچے تو پہلے گھوڑا ٹھوکر کھا کر گرا، پھر دوبارہ تعاقب کے دوران اس کے اگلے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متوازی روایت اس دھنسنے کو نبی ﷺ کی دعا سے جوڑتی ہے؛ سراقہؓ نے رہائی کی دعا مانگی، نقصان نہ پہنچانے کا وعدہ کیا اور آخر میں تحریری امان طلب کی۔

ہجرتِ مدینہ کے دوران قریش نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکرؓ کو گرفتار کرنے یا قتل کرنے والے کے لیے بڑا انعام مقرر کیا تھا۔ انہی دنوں سراقہ بن مالکؓ اپنی قوم کے لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے دور چند مسافروں کو دیکھنے کی خبر دی اور کہا کہ شاید یہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی ہیں۔ سراقہؓ کو بھی اندازہ ہوگیا کہ خبر درست ہوسکتی ہے، مگر انہوں نے مجلس میں بات ٹال دی تاکہ خود تنہا ان کا تعاقب کرسکیں۔

وہ خاموشی سے گھر گئے، سواری تیار کروائی، نیزہ لیا اور چھپے راستے سے نکل پڑے۔ کچھ دیر بعد وہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکرؓ کے قریب پہنچنے لگے۔ اس مرحلے پر ان کا گھوڑا پہلے صرف ٹھوکر کھا کر گرا، مگر سراقہؓ دوبارہ سوار ہوئے اور تعاقب جاری رکھا۔

صحیح بخاری پھر ہجرت کا ایک جاندار منظر بیان کرتی ہے۔ سراقہؓ قریب آرہے تھے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کی قرآن خوانی سنائی دے رہی تھی۔ نبی کریم ﷺ اطمینان کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے، جبکہ حضرت ابو بکرؓ حفاظت کے خیال سے بار بار پیچھے دیکھتے تھے۔ اچانک سراقہؓ کے گھوڑے کے اگلے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے اور وہ گر پڑے۔ گھوڑا بڑی مشکل سے اپنے پاؤں نکال سکا، اور جب کھڑا ہوا تو پاؤں کے نشانوں سے دھول ایسے اٹھی جیسے دھواں اٹھ رہا ہو۔

یہ وہ لمحہ تھا جب سراقہؓ کے دل میں معاملہ بدلنے لگا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب انہوں نے دیکھا کہ انہیں بار بار رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچانے سے روکا جارہا ہے تو ان کے دل میں آیا کہ نبی ﷺ کا معاملہ ضرور غالب ہوگا۔ انہوں نے امن کا اعلان کیا، قریب آئے اور قریش کے انعام اور مکہ میں بننے والے منصوبوں کی خبر رسول اللہ ﷺ کو دی۔

صحیح بخاری 3908 اور صحیح مسلم 2009b اسی واقعے کا ایک اہم پہلو مزید واضح کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کی دعا کے بعد سراقہ کا گھوڑا دھنس گیا۔ سراقہؓ نے عرض کیا کہ میرے لیے اللہ سے نجات کی دعا کیجیے، میں آپ کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔

سراقہؓ نے سفر کا سامان پیش کیا، مگر رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکرؓ نے کچھ قبول نہ کیا۔ نبی ﷺ نے صرف فرمایا کہ ہماری خبر دوسروں کو نہ دینا۔ سراقہؓ نے اپنے لیے تحریری امان مانگی، جو انہیں لکھ کر دے دی گئی، اور رسول اللہ ﷺ مدینہ کی طرف سفر جاری رکھتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

یوں یہ واقعہ تعاقب سے امان اور دشمنی سے پہچان تک ایک مکمل داستان بن جاتا ہے۔ صحیح روایات نہ صرف گھوڑے کے غیر معمولی دھنسنے کو محفوظ کرتی ہیں بلکہ سراقہؓ کے اس یقین کو بھی کہ جس مشن کو وہ روکنے نکلے تھے، وہ آخرکار غالب ہوگا۔

خلاصۂ نتیجہ

صحیح روایات ہجرت کا ایک یادگار منظر محفوظ کرتی ہیں: سراقہؓ رسول اللہ ﷺ کو پکڑنے نکلے، بار بار روک دیے گئے، ان کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا، انہوں نے نبی ﷺ سے دعا اور امان مانگی، اور آخرکار اس یقین کے ساتھ واپس ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ کا مشن غالب ہوگا۔

مآخذ

Sahih al-Bukhari 3906

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-01 and independently verified Sahih al-Bukhari 3906, Book 63 Hadith 131. It directly gives the Quraysh reward, Suraqa's pursuit of the Prophet and Abu Bakr, the earlier stumble, the later sinking of the horse's forelegs to the knees, dust rising from the marks, Suraqa being prevented from harming them, his recognition that the Prophet's cause would prevail, and his request for security.

Sahih al-Bukhari 3908

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-04 and independently verified Sahih al-Bukhari 3908, Book 63 Hadith 133. It explicitly states that the Prophet invoked against Suraqa, the forelegs of Suraqa's horse sank, Suraqa asked the Prophet to invoke Allah to rescue him and promised no harm, and the Prophet then supplicated for him.

Sahih Muslim 2009b

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-05 and independently verified Sahih Muslim 2009b, Book 36 Hadith 113. It independently preserves the Hijrah pursuit, the Prophet's invocation, Suraqa's horse sinking, Suraqa's request for prayer and promise not to harm the Prophet, and the Prophet's subsequent supplication.

Sahih al-Bukhari 3906

V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: direct Bukhari 3906 row added for CLM-02. The hadith explicitly distinguishes an earlier stumble from the later event in which the horse's forelegs sank to the knees, Suraqa fell, the horse struggled free, and dust rose from the marks like smoke.

Sahih al-Bukhari 3906

V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: direct Bukhari 3906 row added for CLM-03. The hadith explicitly says that after being hampered from harming the travelers, Suraqa concluded that the Prophet's cause would become victorious and then called for security.