حضرت جابرؓ کا بھاری قرض، نبی ﷺ کی دعا اور وہ کھجوریں جو کم نہ ہوئیں

نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیدعا کی قبولیترحمت یا برکتتاریخی نتیجہصحیح حدیث
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

غزوۂ احد میں حضرت جابر بن عبداللہؓ کے والد شہید ہوئے تو ان کے ذمہ بھاری قرض اور گھر میں چھ بیٹیاں رہ گئیں۔ کھجوروں کی فصل بظاہر قرض ادا کرنے کے لیے ناکافی تھی، حتیٰ کہ ایک صحیح روایت میں حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ کئی سال کی پیداوار بھی کافی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس گئے۔ آپ ﷺ باغ اور کھجوروں کے ڈھیروں کے درمیان تشریف لائے، اللہ سے برکت کی دعا فرمائی، پھر تمام قرض خواہوں کا حق پورا ادا ہوا اور اس کے باوجود بڑی مقدار میں کھجوریں باقی رہیں۔

یہ واقعہ غزوۂ احد کے بعد ایک ایسے گھر سے شروع ہوتا ہے جس پر غم، ذمہ داری اور قرض ایک ساتھ آگئے تھے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے والد شہید ہوچکے تھے۔ ان کے پیچھے چھ بیٹیاں اور بہت سا قرض تھا۔ جب فصل کا وقت آیا تو باغ کی پیداوار بظاہر قرض خواہوں کے پورے مطالبے کے لیے کافی نہیں تھی۔ ایک صحیح روایت میں حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ کئی سال کی پیداوار بھی اس قرض کے برابر پہنچتی دکھائی نہیں دیتی تھی۔

حضرت جابرؓ نے پہلے معمول کے راستے اختیار کیے۔ انہوں نے قرض خواہوں سے درخواست کی کہ باغ کی کھجوریں قبول کرلیں یا کچھ رعایت کردیں، لیکن وہ پورے حق پر قائم رہے۔ اپنے شہید والد کی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے حضرت جابرؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

نبی کریم ﷺ نے قرض خواہوں کا حق منسوخ نہیں کیا۔ آپ ﷺ نے کھجوروں کی مختلف قسمیں الگ الگ ڈھیروں میں رکھنے کی ہدایت فرمائی۔ صحیح روایات میں آتا ہے کہ آپ ﷺ باغ میں تشریف لائے، کھجوروں کے درمیان چلے، ڈھیروں کے گرد گئے اور اللہ سے برکت کی دعا فرمائی۔ ایک روایت میں بڑے ڈھیر کے گرد تین مرتبہ چلنے اور پھر اس پر بیٹھنے کا ذکر ہے، جبکہ دوسری روایت میں حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کی موجودگی بھی محفوظ ہے۔

پھر قرض خواہوں کو بلایا گیا اور ان کا حق ناپ ناپ کر دیا گیا، یہاں تک کہ ہر قرض مکمل ادا ہوگیا۔

حضرت جابرؓ کے لیے یہی کافی تھا۔ صحیح بخاری میں وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ ان کے والد کا قرض ادا کروا دیتا اور وہ اپنی بہنوں کے لیے ایک کھجور بھی واپس نہ لے جاتے تو تب بھی راضی ہوتے۔ لیکن نتیجہ اس سے کہیں بڑھ کر تھا۔ مختلف صحیح طرق باقی کھجوروں کو مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں: کہیں ادا کی گئی مقدار کے برابر باقی رہنے کا ذکر ہے، کہیں ڈھیروں کے تقریباً نہ گھٹنے کا، کہیں تیرہ وسق باقی رہنے کا، اور کہیں گھر والوں کے لیے کچھ کھجوریں بچنے کا۔

واقعے کا اختتام نہایت دل نشین ہے۔ حضرت جابرؓ نے شام کو نبی کریم ﷺ کو نتیجہ بتایا تو آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا کہ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کو بھی خبر دو۔ جب انہیں بتایا گیا تو انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کے عمل کو دیکھ کر انہیں اندازہ تھا کہ اللہ فصل میں برکت عطا فرمائے گا۔

امام بخاری نے اسی واقعے کی ایک بنیادی روایت کو علاماتِ نبوت کے باب میں رکھا ہے۔ یوں اصل معجزہ صرف قرض کی ادائیگی نہیں بلکہ نبی ﷺ کی دعا کے بعد ظاہر ہونے والی وہ غیر معمولی برکت ہے جس سے تمام حقوق ادا ہوئے، گھر کی ذمہ داری محفوظ رہی اور کھجوریں پھر بھی باقی رہیں۔

خلاصۂ نتیجہ

حیثیتِ روایت: یہ متعدد صحیح بخاری روایات سے ثابت ایک اعلیٰ اعتماد والا نبوی معجزہ ہے، اور اس کا ایک بنیادی طریق خود امام بخاری نے علاماتِ نبوت کے باب میں رکھا ہے۔ اس کا مضبوط مرکز واضح ہے: قرض بظاہر فصل سے کہیں زیادہ تھا، نبی ﷺ نے برکت کی دعا فرمائی، تمام قرض خواہوں کا حق پورا ادا ہوا اور اس کے باوجود غیر معمولی مقدار میں کھجوریں باقی رہیں۔

مآخذ

Sahih al-Bukhari 3580

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-01 and independently verified Sahih al-Bukhari 3580, Book 61 Hadith 89, in the chapter on signs of prophethood. It directly states that Jabir's father's date yield appeared insufficient even over many years, the Prophet went around the heaps and invoked Allah, the creditors were paid in full, and an amount equal to what had been paid remained.

Sahih al-Bukhari 2781

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-04 and independently verified Sahih al-Bukhari 2781, Book 55 Hadith 44. It places the debt after Jabir's father was martyred at Uhud, records full repayment of the creditors, and says all heaps remained complete, with the heap beneath the Prophet appearing as though not a single date had been taken.

Sahih al-Bukhari 2709

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-05 and independently verified Sahih al-Bukhari 2709, Book 53 Hadith 19. It explicitly says the Prophet invoked Allah to bless the dates, all creditors were paid in full, and thirteen extra wasqs remained.

Sahih al-Bukhari 2395

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked as an additional source for CLM-05 and independently verified Sahih al-Bukhari 2395, Book 43 Hadith 11. It records the Prophet invoking Allah to bless the fruit, Jabir paying the creditors, and some dates remaining for the household.

Sahih al-Bukhari 3580

V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: direct Bukhari 3580 row added for CLM-02. The hadith explicitly states that the Prophet went around the date heaps, invoked Allah, sat on a heap, ordered the dates to be measured, and the creditors received their full rights.

Sahih al-Bukhari 3580

V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: direct Bukhari 3580 row added for CLM-03. The hadith explicitly states that after the creditors were paid, the amount remaining equaled the amount paid.