اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے منقول ایک کلاسیکی روایت میں بیان ہوا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی محمد ﷺ کی خدمت میں مشغول رہے اور غروبِ آفتاب سے پہلے عصر ادا نہ کر سکے۔ امام طحاوی نے دو طرق نقل کیے ہیں جن میں نبی ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں اور پھر سورج کے دوبارہ ظاہر ہونے کا ذکر آتا ہے تاکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز ادا کر سکیں۔ محدثین نے اس روایت کی صحت پر شدید اختلاف کیا: ابن العراقی نے ایک سند کو حسن کہا، جبکہ ابن کثیر نے تمام طرق کے لحاظ سے اسے منکر قرار دیا۔
امام طحاوی دوسرا طریق بھی نقل کرتے ہیں جس میں منظر زیادہ تفصیل سے سامنے آتا ہے۔ یہ روایت واقعے کو صہباء اور غزوۂ خیبر کے زمانے سے جوڑتی ہے۔ اس میں نبی ﷺ عصر کی نماز ادا کر چکے تھے، پھر آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں سر رکھا اور سورج غروب ہو گیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے دعا کی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے سورج کی روشنی واپس کر دی جائے۔ اسماء رضی اللہ عنہا کے بیان کے مطابق دھوپ دوبارہ پہاڑوں اور زمین پر ظاہر ہوئی، حضرت علی رضی اللہ عنہ اٹھے، وضو کیا اور عصر کی نماز ادا کی، پھر سورج دوبارہ غروب ہو گیا۔ دونوں طرق کا مشترک مرکزی نقشہ یہی ہے کہ نماز غروب سے پہلے ادا نہ ہو سکی، نبی ﷺ نے دعا کی، اور پھر سورج کے دوبارہ ظاہر ہونے کا واقعہ بیان کیا گیا۔
امام طحاوی نے روایت کو علاماتِ نبوت میں شمار کیا اور احمد بن صالح کا یہ قول نقل کیا کہ اہلِ علم کو حدیثِ اسماء سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ قاضی عیاض نے دونوں روایات کو ثابت اور ان کے راویوں کو ثقہ کہا۔ ابن العراقی نے اسماء رضی اللہ عنہا کے ایک طریق کی سند کو حسن قرار دیا، جبکہ امام سیوطی نے اسماء اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے منقول طرق کی اسناد کو حسن کہا۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں ابن الجوزی اور ابن تیمیہ کے اسے موضوع قرار دینے کو غلط کہا۔ اس لیے اسے بے اصل یا محض کچی روایت کہنا درست نہیں۔ البتہ ابن کثیر سمیت بعض ناقدین نے اسانید پر اعتراض کیا۔ مناسب یہ ہے کہ اسے مضبوط کلاسیکی تائید رکھنے والی معروف روایت کے طور پر پیش کیا جائے اور صرف مختصر طور پر بتایا جائے کہ آخری درجہ بندی پر مکمل اتفاق نہیں ہوا۔
خلاصۂ نتیجہ
نبی کریم ﷺ کی دعا سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے سورج لوٹنے کی روایت بے اصل حکایت نہیں؛ متعدد بڑے سنی محدثین نے اسے قبول یا تقویت دی ہے۔ زیادہ درست انداز یہ ہے کہ اسے مضبوط کلاسیکی تائید رکھنے والی روایت کے طور پر بیان کیا جائے، اگرچہ آخری درجہ بندی پر مکمل اتفاق نہیں ہوا۔
مآخذ
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0082-CLM-01 links this SOURCE to its source-grounded claim.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0082-CLM-02 links this SOURCE to its source-grounded claim.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0082-CLM-03 links this SOURCE to its source-grounded claim.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0082-CLM-04 links this SOURCE to its source-grounded claim.
NEW_SOURCE_LINK=PASS
NEW_SOURCE_LINK=PASS
NEW_SOURCE_LINK=PASS