آیات، معجزات، کرامات اور عبرت آموز واقعات

منظور شدہ واقعات کو زمرے اور مرکزی رجسٹری کی مستند شخصی نسبت، ثبوتی درجے اور اصل مآخذ کے ساتھ دیکھیں۔ نبوی معجزہ، کرامت، تاریخی واقعہ اور جدید دعویٰ اپنی درست اصطلاح میں الگ رہتے ہیں۔

بنیادی زمرے

ولی یا صالح کی کرامت

امام محمد باقرؑ کا اپنی وفات کے دن امام زین العابدینؑ کی پکار سننا

الکافی کی روایت کے مطابق امام محمد باقرؑ نے اپنی وفات کے دن امام زین العابدینؑ کی پکار سنی، جو انہیں جلد آنے کے لیے بلا رہے تھے۔ یہ خبر ایک ابتدائی امامی روایت کے طور پر محفوظ ہے۔ علامہ مجلسی نے بعد میں مرآۃ العقول میں اسی روایت کو سنداً ضعیف، مگر موثّق کے قریب قرار دیا ہے۔

امام محمد باقرؑ · PER-000013 · قدیم تاریخ
ولی یا صالح کی کرامتدعا کی قبولیترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ

امام جعفر صادق علیہ السلام کی تحریری ہدایت، دعا اور داؤد بن زُربی کی صحت یابی

الکافی میں روایت ہے کہ داؤد بن زُربی مدینہ میں سخت بیمار ہوئے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کو بیماری کی خبر پہنچی تو آپ نے تحریری ہدایت بھیجی جس میں ایک صاع گندم، ایک مخصوص دعا اور محتاجوں میں صدقہ شامل تھا۔ اصل روایت دعا کے عربی الفاظ بھی محفوظ کرتی ہے۔ داؤد کہتے ہیں کہ اس عمل کے بعد انہیں یوں محسوس ہوا جیسے کسی بندھن سے آزاد کر دیے گئے ہوں۔ علامہ مجلسی نے مرآۃ العقول میں اس حدیث کو اثنا عشری امامی حدیثی دائرے میں صحیح قرار دیا۔

امام جعفر صادقؑ · PER-000015 · قدیم تاریخ
ولی یا صالح کی کرامت

امام علی رضاؑ کا رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھنا

الکافی میں مسافر سے منقول ہے کہ امام علی رضاؑ نے پہلے ایک قریبی آبی گزرگاہ میں مچھلیوں کے بارے میں پوچھا۔ مسافر نے ان کی موجودگی کی تصدیق کی تو امامؑ نے بتایا کہ گزشتہ رات انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا تھا۔ خواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «يا علي، ما عندنا خير لك» یعنی: “اے علی، ہمارے پاس جو ہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔” بعد کے امامی مصنفین نے اس پیغام کو امامؑ کی قریب آنے والی رحلت کی طرف اشارہ سمجھا۔ الخرائج سے منقول ایک بعد کی روایت یہ بھی بیان کرتی ہے کہ چند دن بعد امام رضاؑ کی وفات ہوگئی۔

امام علی رضاؑ · PER-000019 · قدیم تاریخ
ولی یا صالح کی کرامت

امام محمد جوادؑ کا دوسرا سفرِ بغداد، پیشگی اندیشہ، وفات اور جانشینی

الکافی میں منقول ہے کہ امام محمد جوادؑ کو جب دوسری مرتبہ بغداد بلایا گیا تو آپ نے اسماعیل بن مہران سے فرمایا کہ اب اپنی جان کے بارے میں اندیشہ ہے اور آپ کے بعد امر آپ کے فرزند علی کے لیے ہوگا۔ بعد کی تاریخی تحقیق بتاتی ہے کہ معتصم نے 220ھ/835ء میں آپ کو بغداد بلایا اور آپ اسی قیام کے دوران بغداد میں وفات پا گئے۔ اس کے بعد امام علی الہادیؑ کو آپ کے پیروکاروں نے عمومی طور پر اگلا امام تسلیم کیا۔

امام محمد تقی الجوادؑ · PER-000021 · قدیم تاریخ
صحابی/صحابیہ کی کرامتدعا کی قبولیتتاریخی نتیجہ

اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی اپنے بیٹے کی تدفین سے پہلے دعا کی روایت

کلاسیکی سنی مصادر میں یہ روایت محفوظ ہے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے دعا کی کہ وہ اس وقت تک وفات نہ پائیں جب تک اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے جسم کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہ ہو جائیں۔ لالکائی کی روایت کے مطابق بعد میں جسم اتارنے کی اجازت ملی، اسماء رضی اللہ عنہا نے غسل اور کفن میں حصہ لیا یا اس کی نگرانی کی اور پھر نمازِ جنازہ ادا کی۔ اسی روایت میں ہے کہ اس کے بعد پورا ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ اسماء رضی اللہ عنہا وفات پا گئیں۔ ایک الگ تاریخی روایت تدفین کے بنیادی سلسلے کی تائید کرتی ہے، جبکہ کلاسیکی سوانحی مصادر بیٹے اور والدہ کی وفات کے درمیانی عین عرصے میں اختلاف رکھتے ہیں۔

اسماء بنت ابی بکر · PER-000343 · قدیم تاریخ