کلاسیکی سنی مصادر میں یہ روایت محفوظ ہے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے دعا کی کہ وہ اس وقت تک وفات نہ پائیں جب تک اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے جسم کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہ ہو جائیں۔ لالکائی کی روایت کے مطابق بعد میں جسم اتارنے کی اجازت ملی، اسماء رضی اللہ عنہا نے غسل اور کفن میں حصہ لیا یا اس کی نگرانی کی اور پھر نمازِ جنازہ ادا کی۔ اسی روایت میں ہے کہ اس کے بعد پورا ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ اسماء رضی اللہ عنہا وفات پا گئیں۔ ایک الگ تاریخی روایت تدفین کے بنیادی سلسلے کی تائید کرتی ہے، جبکہ کلاسیکی سوانحی مصادر بیٹے اور والدہ کی وفات کے درمیانی عین عرصے میں اختلاف رکھتے ہیں۔
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں میں تھے جو بعد میں اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس یہ خبر لے کر آئے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کا جسم اتارنے کی اجازت مل گئی ہے۔ پھر روایت جنازے کے مراحل بیان کرتی ہے۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے بیٹے کے ٹکڑے کیے گئے جسم کے غسل اور کفن میں حصہ لیا یا نگرانی کی، اور تیاری مکمل ہونے کے بعد ان پر نمازِ جنازہ ادا کی۔ لالکائی کی روایت میں یوں ان کی پہلی دعا کی خواہش پوری ہوئی: وہ اتنی دیر زندہ رہیں کہ بیٹے کا جسم اتارا، تیار کیا اور اس پر نماز پڑھی گئی۔
اسی روایت میں ہے کہ پورا ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ اسماء رضی اللہ عنہا وفات پا گئیں۔ لالکائی نے واقعے کو اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی کرامات کے باب میں ذکر کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کلاسیکی مصنف نے اس دعا اور وفات تک مختصر وقفے کو غیر معمولی قبولِ دعا کے واقعے کے طور پر سمجھا۔
تاہم شواہد میں احتیاط ضروری ہے۔ اصل مفصل دعا والی سند ابو عامر الخزاز، صالح بن رستم، سے گزرتی ہے۔ ابن حجر نے انہیں صدوق مگر کثیر الخطا قرار دیا اور پہلے ناقدین کی آرا بھی مختلف تھیں۔ جویریہ بن اسماء اپنی دادی سے ایک الگ روایت نقل کرتے ہیں جو جنازے کے بنیادی سلسلے کی تائید کرتی ہے: اجازت کے بعد اسماء رضی اللہ عنہا نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو غسل دیا، خوشبو لگائی، کفن دیا اور نمازِ جنازہ ادا کی۔ یہ روایت تاریخی اصل کو مضبوط کرتی ہے، لیکن اصل دعا والی سند کی ہر تفصیل کو یکساں یقینی نہیں بناتی۔
کلاسیکی سوانحی مصادر عبداللہ رضی اللہ عنہ اور اسماء رضی اللہ عنہا کی وفات کے درمیانی عرصے میں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ روایات میں ایک ہفتہ، تین دن، دس دن، بیس دن اور دوسرے مختصر ادوار ملتے ہیں۔ اس لیے مضبوط نتیجہ محدود مگر واضح ہے: کلاسیکی سنی مصادر اسماء رضی اللہ عنہا کی دعا محفوظ کرتے ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کو دیکھنے اور دفن کرنے تک زندہ رہیں، اور یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ وہ کچھ ہی عرصے بعد وفات پا گئیں۔ دنوں کی قطعی تعداد کو یقینی تاریخ بنانے کے بجائے منقول اختلاف رہنے دینا چاہیے۔
خلاصۂ نتیجہ
کلاسیکی سنی مصادر اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی یہ دعا محفوظ کرتے ہیں کہ وہ اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو دیکھنے اور دفن کرنے تک زندہ رہیں، اور اس کے بعد ان کی جلد وفات کی روایات بھی ملتی ہیں۔ یہ واقعہ احتیاط کے ساتھ درمیانے درجے کے اعتماد سے شامل کیا جا سکتا ہے، جبکہ تدفین کے بعد کے عین وقفے کو منقول اختلاف ہی رہنا چاہیے۔