الکافی کی روایت کے مطابق امام محمد باقرؑ نے اپنی وفات کے دن امام زین العابدینؑ کی پکار سنی، جو انہیں جلد آنے کے لیے بلا رہے تھے۔ یہ خبر ایک ابتدائی امامی روایت کے طور پر محفوظ ہے۔ علامہ مجلسی نے بعد میں مرآۃ العقول میں اسی روایت کو سنداً ضعیف، مگر موثّق کے قریب قرار دیا ہے۔
الکافی میں امام صادقؑ سے ایک روایت منقول ہے جو ان کے والد امام محمد باقرؑ کے آخری دن سے متعلق ہے۔ روایت کے مطابق امام محمد باقرؑ نے فرمایا کہ اپنی وفات کے دن انہوں نے امام علی بن الحسینؑ، یعنی امام زین العابدینؑ، کی پکار سنی۔ وہ انہیں بلا رہے تھے اور جلد آنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ یوں روایت اس پکار کو کسی پہلے زمانے کے واقعے کے طور پر نہیں بلکہ امام باقرؑ کی وفات کے اسی دن پیش کرتی ہے۔
اس واقعے کی اصل غیر معمولی بات یہی پکار ہے۔ امام زین العابدینؑ اس وقت پہلے ہی وفات پا چکے تھے، مگر امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ انہوں نے ان کی آواز سنی۔ روایت میں کوئی طویل گفتگو بیان نہیں ہوئی؛ پیغام مختصر اور واضح ہے کہ وہ امام باقرؑ کو جلد آنے کے لیے بلا رہے تھے۔ اسی مختصر پکار اور اس کے وقت کی وجہ سے یہ روایت خاص اہمیت رکھتی ہے۔
روایت کے بیان سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ پکار سننے اور امام باقرؑ کی وفات کو الگ الگ دنوں کے واقعات نہیں بنایا گیا۔ الفاظ کے مطابق انہوں نے یہ پکار اپنی وفات کے دن سنی۔ اس لیے اس واقعے کو یوں سمجھنا زیادہ درست ہے کہ امام باقرؑ کے آخری دن ایک ایسی پکار کا ذکر ہوا جسے انہوں نے اپنے والد امام زین العابدینؑ کی طرف منسوب کیا اور جس میں انہیں جلد آنے کے لیے کہا گیا۔
اس خبر کا بنیادی ماخذ الکافی ہے اور اسے امام صادقؑ کے ذریعے نقل کیا گیا ہے۔ بعد کے دور میں مرآۃ العقول میں اسی روایت کی سندی درجہ بندی بھی مذکور ہوئی۔ علامہ مجلسی نے مرآۃ العقول میں اس روایت کو سنداً ضعیف، مگر موثّق کے قریب قرار دیا ہے۔ یہ بعد کی سندی درجہ بندی اسی خبر کے ساتھ منقول رہتی ہے، جبکہ اصل واقعہ اپنی مختصر اور سادہ صورت میں قائم رہتا ہے۔
یوں روایت کا اختتام اسی مختصر منظر پر ہوتا ہے: امام محمد باقرؑ نے اپنی وفات کے دن امام زین العابدینؑ کی پکار سنی، جو انہیں جلد آنے کے لیے بلا رہے تھے۔ اصل خبر الکافی میں محفوظ ہے اور اس کی بعد کی سندی درجہ بندی مرآۃ العقول میں مذکور ہے۔
اس واقعے کی اصل غیر معمولی بات یہی پکار ہے۔ امام زین العابدینؑ اس وقت پہلے ہی وفات پا چکے تھے، مگر امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ انہوں نے ان کی آواز سنی۔ روایت میں کوئی طویل گفتگو بیان نہیں ہوئی؛ پیغام مختصر اور واضح ہے کہ وہ امام باقرؑ کو جلد آنے کے لیے بلا رہے تھے۔ اسی مختصر پکار اور اس کے وقت کی وجہ سے یہ روایت خاص اہمیت رکھتی ہے۔
روایت کے بیان سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ پکار سننے اور امام باقرؑ کی وفات کو الگ الگ دنوں کے واقعات نہیں بنایا گیا۔ الفاظ کے مطابق انہوں نے یہ پکار اپنی وفات کے دن سنی۔ اس لیے اس واقعے کو یوں سمجھنا زیادہ درست ہے کہ امام باقرؑ کے آخری دن ایک ایسی پکار کا ذکر ہوا جسے انہوں نے اپنے والد امام زین العابدینؑ کی طرف منسوب کیا اور جس میں انہیں جلد آنے کے لیے کہا گیا۔
اس خبر کا بنیادی ماخذ الکافی ہے اور اسے امام صادقؑ کے ذریعے نقل کیا گیا ہے۔ بعد کے دور میں مرآۃ العقول میں اسی روایت کی سندی درجہ بندی بھی مذکور ہوئی۔ علامہ مجلسی نے مرآۃ العقول میں اس روایت کو سنداً ضعیف، مگر موثّق کے قریب قرار دیا ہے۔ یہ بعد کی سندی درجہ بندی اسی خبر کے ساتھ منقول رہتی ہے، جبکہ اصل واقعہ اپنی مختصر اور سادہ صورت میں قائم رہتا ہے۔
یوں روایت کا اختتام اسی مختصر منظر پر ہوتا ہے: امام محمد باقرؑ نے اپنی وفات کے دن امام زین العابدینؑ کی پکار سنی، جو انہیں جلد آنے کے لیے بلا رہے تھے۔ اصل خبر الکافی میں محفوظ ہے اور اس کی بعد کی سندی درجہ بندی مرآۃ العقول میں مذکور ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
روایت کا مرکزی منظر یہی ہے کہ امام محمد باقرؑ نے اپنی وفات کے دن امام زین العابدینؑ کی مختصر پکار سنی، جو انہیں جلد آنے کے لیے بلا رہے تھے۔
مآخذ
Al-Kafi 1/4/47/7 reports from Imam al-Sadiq that, on his father al-Baqir’s final day, al-Baqir referred to hearing Ali ibn al-Husayn call him to come quickly.
Displayed grading for the same al-Kafi hadith: ضعيف كالموثق.