الکافی میں روایت ہے کہ داؤد بن زُربی مدینہ میں سخت بیمار ہوئے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کو بیماری کی خبر پہنچی تو آپ نے تحریری ہدایت بھیجی جس میں ایک صاع گندم، ایک مخصوص دعا اور محتاجوں میں صدقہ شامل تھا۔ اصل روایت دعا کے عربی الفاظ بھی محفوظ کرتی ہے۔ داؤد کہتے ہیں کہ اس عمل کے بعد انہیں یوں محسوس ہوا جیسے کسی بندھن سے آزاد کر دیے گئے ہوں۔ علامہ مجلسی نے مرآۃ العقول میں اس حدیث کو اثنا عشری امامی حدیثی دائرے میں صحیح قرار دیا۔
ہدایت میں دعا اور صدقہ دونوں شامل تھے۔ داؤد سے کہا گیا کہ ایک صاع گندم لیں، اپنی پشت کے بل لیٹیں اور گندم کو اپنے سینے پر پھیلا دیں۔ اس کے بعد یہ دعا پڑھیں:
اصل عربی دعا:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي إِذَا سَأَلَكَ بِهِ الْمُضْطَرُّ كَشَفْتَ مَا بِهِ مِنْ ضُرٍّ، وَمَكَّنْتَ لَهُ فِي الْأَرْضِ، وَجَعَلْتَهُ خَلِيفَتَكَ عَلَى خَلْقِكَ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تُعَافِيَنِي مِنْ عِلَّتِي.
اردو ترجمہ:
“اے اللہ! میں تجھ سے تیرے اس نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ جب کوئی بے قرار شخص تجھے اس نام سے پکارتا ہے تو تو اس کی تکلیف دور فرما دیتا ہے، اسے زمین میں اقتدار عطا کرتا ہے اور اسے اپنی مخلوق پر اپنا خلیفہ بناتا ہے؛ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمد اور آلِ محمد پر رحمت نازل فرما اور مجھے میری بیماری سے عافیت عطا فرما۔”
روایت کے مطابق اس دعا کے بعد داؤد کو بیٹھنا تھا، اپنے اردگرد پھیلی ہوئی گندم جمع کرنی تھی، وہی دعا دوبارہ پڑھنی تھی اور گندم کو ایک ایک مد کے حساب سے محتاجوں میں تقسیم کرتے ہوئے بھی یہی دعا پڑھنی تھی۔ اس طرح روایت میں اللہ تعالیٰ سے دعا اور محتاجوں کو صدقہ ایک ہی عمل میں جمع ہیں۔
داؤد کہتے ہیں کہ انہوں نے وہ سب کچھ کیا جو انہیں لکھ کر بتایا گیا تھا۔ اس کے بعد اپنی کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ گویا وہ کسی بندھن سے کھول دیے گئے ہوں۔ روایت میں یہ بھی محفوظ ہے کہ بعد میں ایک سے زیادہ لوگوں نے یہی عمل کیا اور انہیں فائدہ پہنچا۔ یہ باتیں خود منقول روایت کے الفاظ کا حصہ ہیں۔
الکافی واقعے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا کردار بھی واضح رکھتی ہے: آپ کو داؤد کی بیماری کی خبر پہنچی اور آپ نے تحریری ہدایت بھیجی، جبکہ دعا داؤد نے خود پڑھی اور گندم خود محتاجوں میں تقسیم کی۔ الکافی کے تنقیدی متن میں “داؤد بن زُربی” کی قراءت کی تائید کی گئی ہے اور سند کی صورت بھی بیان ہوئی ہے، ساتھ ہی نام کی بعض پرانی مختلف قراءتیں بھی درج ہیں۔
علامہ مجلسی نے مرآۃ العقول میں اسی باب کی دوسری حدیث کو صحیح قرار دیا۔ یوں اصل ماخذ میں شدید بیماری، امام جعفر صادق علیہ السلام کی تحریری ہدایت، محفوظ عربی دعا، گندم کا صدقہ اور اس کے بعد داؤد بن زُربی کا بیان کردہ واضح افاقہ سب ایک ہی روایت میں موجود ہیں۔
خلاصۂ نتیجہ
الکافی کے مطابق داؤد بن زُربی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی تحریری ہدایت پر عمل کیا، محفوظ دعا پڑھی، گندم محتاجوں میں صدقہ کی اور پھر اپنی کیفیت کو یوں بیان کیا جیسے کسی بندھن سے آزاد ہوگئے ہوں۔
مآخذ
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0085-CLM-01 links this SOURCE to its source-grounded claim.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0085-CLM-02 links this SOURCE to its source-grounded claim.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0085-CLM-03 links this SOURCE to its source-grounded claim.