الکافی میں منقول ہے کہ امام محمد جوادؑ کو جب دوسری مرتبہ بغداد بلایا گیا تو آپ نے اسماعیل بن مہران سے فرمایا کہ اب اپنی جان کے بارے میں اندیشہ ہے اور آپ کے بعد امر آپ کے فرزند علی کے لیے ہوگا۔ بعد کی تاریخی تحقیق بتاتی ہے کہ معتصم نے 220ھ/835ء میں آپ کو بغداد بلایا اور آپ اسی قیام کے دوران بغداد میں وفات پا گئے۔ اس کے بعد امام علی الہادیؑ کو آپ کے پیروکاروں نے عمومی طور پر اگلا امام تسلیم کیا۔
الکافی ایک معنی خیز روایت محفوظ کرتی ہے جس میں اسماعیل بن مہران امام محمد جوادؑ کے بغداد کے دو سفروں کا موازنہ کرتے ہیں۔ پہلے سفر پر اسماعیل کو امامؑ کے بارے میں خوف ہوا تھا، مگر وہ خطرہ اس وقت پیش نہیں آیا۔ دوسری مرتبہ جب بغداد جانے کا حکم آیا تو صورت مختلف تھی۔ امام محمد جوادؑ نے اپنی جان کے بارے میں اندیشہ ظاہر کیا اور اسماعیل کو بتایا کہ آپ کے بعد امر آپ کے فرزند علی کے لیے ہوگا۔
بعد کی تاریخی صورتِ حال اس روایت کو واضح انجام دیتی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق عباسی خلیفہ معتصم نے امام محمد جوادؑ کو مدینہ سے بغداد بلایا۔ یہ طلبی محرم 220ھ کے آخر، یعنی فروری 835ء کے قریب ہوئی۔ امامؑ بغداد پہنچے اور پھر اسی سال 220ھ/835ء میں تقریباً پچیس برس کی عمر میں بغداد ہی میں وفات پا گئے۔ آپ کو اپنے جد امام موسیٰ کاظمؑ کے قریب مقابرِ قریش میں دفن کیا گیا، جس مقام سے بعد میں کاظمین کی معروف زیارت گاہ وابستہ ہوئی۔
یوں دوسرے سفر سے پہلے بیان کیا گیا اندیشہ بعد کے واقعے سے جڑ جاتا ہے۔ پہلے سفر کے برعکس یہ سفر آخری ثابت ہوا؛ امامؑ بغداد گئے اور مدینہ واپس نہ لوٹے، بلکہ اسی بغداد قیام کے دوران وفات پا گئے۔ الکافی کی اصل روایت خود وفات کا منظر بیان نہیں کرتی، لیکن بعد کی تاریخی شہادت بغداد طلب کیے جانے، وہاں قیام اور اسی شہر میں وفات کے بنیادی تسلسل کی تائید کرتی ہے۔
وفات کی وجہ کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔ امامی روایت میں مشہور ہے کہ امام محمد جوادؑ کو زہر دیا گیا، اور متعدد روایات اس واقعے کو ام الفضل سے منسوب کرکے معتصم کے اکسانے کا ذکر کرتی ہیں۔ دوسری طرف شیخ مفید نے اس دعوے کے ثبوت کو کافی نہیں سمجھا۔ اس لیے زہر دیے جانے کو معروف امامی روایت کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے، مگر اسے غیر متنازع تاریخی حقیقت نہیں کہنا چاہیے۔
جانشینی والا حصہ بھی بعد کے نتیجے سے ملتا ہے۔ الکافی میں امام محمد جوادؑ اپنے فرزند علی کو اپنے بعد امر کا صاحب بتاتے ہیں۔ امامؑ کی بغداد میں وفات کے بعد امام علی الہادیؑ کو آپ کے پیروکاروں نے عمومی طور پر اگلا امام تسلیم کیا، اور ایک علمی تاریخی ماخذ آپ کے والد کی وصیت کا بھی ذکر کرتا ہے۔ اس طرح واقعہ مکمل ہو جاتا ہے: دوسرے سفر سے پہلے خطرے کا بیان، بغداد میں 220ھ/835ء کی وفات، اور پھر امام علی الہادیؑ کی جانشینی۔
مرآۃ العقول نے بعد میں الکافی کی اصل روایت کو حسن قرار دیا۔ یہ حدیثی grading الگ علمی سطح ہے، جبکہ بغداد میں وفات اور بعد کی جانشینی کو تاریخی تحقیق الگ طور پر corroborate کرتی ہے۔ دونوں کو ان کی صحیح شہادتی حیثیت کے ساتھ بیان کرنے سے واقعہ مکمل بھی رہتا ہے اور اختلافی تفصیل کو قطعی حقیقت بھی نہیں بنایا جاتا۔
بعد کی تاریخی صورتِ حال اس روایت کو واضح انجام دیتی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق عباسی خلیفہ معتصم نے امام محمد جوادؑ کو مدینہ سے بغداد بلایا۔ یہ طلبی محرم 220ھ کے آخر، یعنی فروری 835ء کے قریب ہوئی۔ امامؑ بغداد پہنچے اور پھر اسی سال 220ھ/835ء میں تقریباً پچیس برس کی عمر میں بغداد ہی میں وفات پا گئے۔ آپ کو اپنے جد امام موسیٰ کاظمؑ کے قریب مقابرِ قریش میں دفن کیا گیا، جس مقام سے بعد میں کاظمین کی معروف زیارت گاہ وابستہ ہوئی۔
یوں دوسرے سفر سے پہلے بیان کیا گیا اندیشہ بعد کے واقعے سے جڑ جاتا ہے۔ پہلے سفر کے برعکس یہ سفر آخری ثابت ہوا؛ امامؑ بغداد گئے اور مدینہ واپس نہ لوٹے، بلکہ اسی بغداد قیام کے دوران وفات پا گئے۔ الکافی کی اصل روایت خود وفات کا منظر بیان نہیں کرتی، لیکن بعد کی تاریخی شہادت بغداد طلب کیے جانے، وہاں قیام اور اسی شہر میں وفات کے بنیادی تسلسل کی تائید کرتی ہے۔
وفات کی وجہ کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔ امامی روایت میں مشہور ہے کہ امام محمد جوادؑ کو زہر دیا گیا، اور متعدد روایات اس واقعے کو ام الفضل سے منسوب کرکے معتصم کے اکسانے کا ذکر کرتی ہیں۔ دوسری طرف شیخ مفید نے اس دعوے کے ثبوت کو کافی نہیں سمجھا۔ اس لیے زہر دیے جانے کو معروف امامی روایت کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے، مگر اسے غیر متنازع تاریخی حقیقت نہیں کہنا چاہیے۔
جانشینی والا حصہ بھی بعد کے نتیجے سے ملتا ہے۔ الکافی میں امام محمد جوادؑ اپنے فرزند علی کو اپنے بعد امر کا صاحب بتاتے ہیں۔ امامؑ کی بغداد میں وفات کے بعد امام علی الہادیؑ کو آپ کے پیروکاروں نے عمومی طور پر اگلا امام تسلیم کیا، اور ایک علمی تاریخی ماخذ آپ کے والد کی وصیت کا بھی ذکر کرتا ہے۔ اس طرح واقعہ مکمل ہو جاتا ہے: دوسرے سفر سے پہلے خطرے کا بیان، بغداد میں 220ھ/835ء کی وفات، اور پھر امام علی الہادیؑ کی جانشینی۔
مرآۃ العقول نے بعد میں الکافی کی اصل روایت کو حسن قرار دیا۔ یہ حدیثی grading الگ علمی سطح ہے، جبکہ بغداد میں وفات اور بعد کی جانشینی کو تاریخی تحقیق الگ طور پر corroborate کرتی ہے۔ دونوں کو ان کی صحیح شہادتی حیثیت کے ساتھ بیان کرنے سے واقعہ مکمل بھی رہتا ہے اور اختلافی تفصیل کو قطعی حقیقت بھی نہیں بنایا جاتا۔
خلاصۂ نتیجہ
یہ واقعہ احتیاط کے ساتھ ایک مکمل تسلسل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے: امام محمد جوادؑ نے دوسرے سفرِ بغداد سے پہلے اپنی جان کا اندیشہ ظاہر کیا اور علیؑ کو جانشین بتایا؛ پھر آپ 220ھ/835ء میں بغداد ہی میں وفات پا گئے اور امام علی الہادیؑ کو آپ کے بعد عمومی طور پر امام تسلیم کیا گیا۔
مآخذ
Al-Kafi 1/4/74/1 reports Ismail ibn Mihran comparing al-Jawad’s two Baghdad journeys; on the second, the Imam expresses fear for his life and names his son Ali as successor.
Displayed grading for the same al-Kafi hadith: حسن.