ان کی درست تاریخ اور مقامِ پیدائش محفوظ نہیں۔ ابتدائی امامی مآخذ انہیں نوبیہ سے منسوب کرتے ہیں، جبکہ ایک منقول روایت انہیں ماریا قبطیہ کے گھرانے یا وسیع خاندان سے جوڑتی ہے۔
سبیکہ
PER-000020
خاندان کی شخصیت
قوی امکان
مقامِ تدفین نامعلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حضرت سبیکہ سلام اللہ علیہا، جنہیں خیزران کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، نوبیہ سے تعلق رکھنے والی امام علی رضا علیہ السلام کی زوجہ اور امام محمد جواد علیہ السلام کی والدہ تھیں۔ ان کی تاریخی شناخت کا مضبوط حصہ بنیادی طور پر قدیم اور کلاسیکی امامی مآخذ میں محفوظ ہے، جہاں انہیں نوبی امِّ ولد کہا گیا اور نام کی متعدد صورتیں نقل ہوئی ہیں۔ ماریا قبطیہ کے گھرانے سے نسبت اور ان کی پاکیزگی کی خصوصی تعریف امامی منقول روایت کے طور پر واضح نسبت کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔
ان کی تاریخ اور مقامِ وفات دستیاب معتبر ابتدائی مآخذ میں محفوظ نہیں۔
ان کا مدفن دستیاب معتبر ابتدائی مآخذ میں متعین نہیں؛ کسی منسلک مزار یا مقام کو ان کی قبر کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔
سوانح و تاریخی تعارف
حضرت سبیکہ سلام اللہ علیہا کا ذکر مآخذ میں زیادہ تر ان کے فرزند امام محمد جواد علیہ السلام کے حالات کے ضمن میں آتا ہے۔ شیخ کلینی اور شیخ مفید نے آپ کی والدہ کو سبیکہ نامی امِّ ولد اور نوبیہ سے تعلق رکھنے والی خاتون بتایا ہے۔ بعد کے مآخذ میں خیزران، درّہ، ریحانہ، سکینہ اور کنیت ام الحسن بھی ملتی ہیں۔ چونکہ یہ صورتیں مختلف کتابوں میں نقل ہوئی ہیں، اس لیے انہیں الگ الگ عورتوں کے بجائے تاریخی ناموں اور القاب کی مختلف روایتیں سمجھنا زیادہ محتاط ہے۔
نوبیہ کی نسبت انہیں مصر کے جنوب میں دریائے نیل کے خطے سے جوڑتی ہے، لیکن محفوظ مآخذ ان کی صحیح جائے پیدائش، والدین یا بچپن کی تفصیل نہیں بتاتے۔ بعض امامی روایات انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم کی والدہ ماریا قبطیہ کے گھرانے یا وسیع خاندان سے منسوب کرتی ہیں۔ یہ نسبت مذہبی یادداشت میں اہم ہے، مگر دستیاب نصوص مکمل قابلِ تحقیق نسب نامہ فراہم نہیں کرتیں؛ اس لیے اسے ثابت شدہ خاندانی شجرے کے بجائے منقول امامی نسبی روایت کے طور پر رکھا گیا ہے۔
امامی حدیثی روایت میں ایک بیان محفوظ ہے جس میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے یزید بن سلیط کو بتایا کہ ان کے فرزند علی رضا علیہ السلام کے ہاں ایک مبارک اور امین بیٹا پیدا ہوگا اور اس بچے کی والدہ ماریا قبطیہ کے گھرانے سے منسوب خاتون ہوں گی۔ اس روایت میں ان کے امام رضا علیہ السلام کے گھرانے میں آنے سے پہلے سلام پہنچانے کا ذکر بھی ہے۔ یہ بیان امامی روایت میں ان کے بلند احترام کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اسے ہر جزئیے کی غیر جانب دار دستاویزی تاریخ کے بجائے منقول مذہبی روایت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
آپ امام علی رضا علیہ السلام کی زوجہ بنیں اور مدینہ منورہ میں محمد بن علی کو جنم دیا، جو بعد میں امام جواد علیہ السلام کے نام سے معروف ہوئے۔ مآخذ سنہ ۱۹۵ھ، مطابق ۸۱۰–۸۱۱ء، پر متفق ہیں، البتہ درست دن کے بارے میں رجب اور رمضان دونوں کی روایات ملتی ہیں۔ تاریخی طور پر آپ کا کردار اس لیے نمایاں ہے کہ امام جواد علیہ السلام امام رضا علیہ السلام کے بعد امامی سلسلے کے تسلسل کا ذریعہ بنے، اور کم سنی میں جانشینی کے سبب ان کی ولادت اور والدہ کی شناخت بعد کی سوانحی کتابوں میں خاص اہمیت اختیار کر گئی۔
حضرت سبیکہ سلام اللہ علیہا کی اپنی زندگی کا محفوظ عوامی ریکارڈ محدود ہے۔ بعد کے امامی مصنفین نے انہیں پاکیزہ، عبادت گزار اور اپنے زمانے کی ممتاز خواتین میں شمار کیا، لیکن ان کی مستقل تدریسی سرگرمی، تصانیف، عوامی منصب یا مکمل شخصی زمانی ترتیب کا قابلِ اعتماد ریکارڈ موجود نہیں۔ تاریخ و مقامِ وفات اور مدفن بھی معتبر ابتدائی مآخذ میں محفوظ نہیں۔ اس لیے ذمہ دار پروفائل ان کے اہل بیت کے گھرانے میں ثابت مقام کا احترام کرتا ہے، مضبوط شناخت اور بعد کی مناقبی تعریف میں فرق رکھتا ہے اور نامعلوم تفصیل نہیں گھڑتا۔
نوبیہ کی نسبت انہیں مصر کے جنوب میں دریائے نیل کے خطے سے جوڑتی ہے، لیکن محفوظ مآخذ ان کی صحیح جائے پیدائش، والدین یا بچپن کی تفصیل نہیں بتاتے۔ بعض امامی روایات انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم کی والدہ ماریا قبطیہ کے گھرانے یا وسیع خاندان سے منسوب کرتی ہیں۔ یہ نسبت مذہبی یادداشت میں اہم ہے، مگر دستیاب نصوص مکمل قابلِ تحقیق نسب نامہ فراہم نہیں کرتیں؛ اس لیے اسے ثابت شدہ خاندانی شجرے کے بجائے منقول امامی نسبی روایت کے طور پر رکھا گیا ہے۔
امامی حدیثی روایت میں ایک بیان محفوظ ہے جس میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے یزید بن سلیط کو بتایا کہ ان کے فرزند علی رضا علیہ السلام کے ہاں ایک مبارک اور امین بیٹا پیدا ہوگا اور اس بچے کی والدہ ماریا قبطیہ کے گھرانے سے منسوب خاتون ہوں گی۔ اس روایت میں ان کے امام رضا علیہ السلام کے گھرانے میں آنے سے پہلے سلام پہنچانے کا ذکر بھی ہے۔ یہ بیان امامی روایت میں ان کے بلند احترام کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اسے ہر جزئیے کی غیر جانب دار دستاویزی تاریخ کے بجائے منقول مذہبی روایت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
آپ امام علی رضا علیہ السلام کی زوجہ بنیں اور مدینہ منورہ میں محمد بن علی کو جنم دیا، جو بعد میں امام جواد علیہ السلام کے نام سے معروف ہوئے۔ مآخذ سنہ ۱۹۵ھ، مطابق ۸۱۰–۸۱۱ء، پر متفق ہیں، البتہ درست دن کے بارے میں رجب اور رمضان دونوں کی روایات ملتی ہیں۔ تاریخی طور پر آپ کا کردار اس لیے نمایاں ہے کہ امام جواد علیہ السلام امام رضا علیہ السلام کے بعد امامی سلسلے کے تسلسل کا ذریعہ بنے، اور کم سنی میں جانشینی کے سبب ان کی ولادت اور والدہ کی شناخت بعد کی سوانحی کتابوں میں خاص اہمیت اختیار کر گئی۔
حضرت سبیکہ سلام اللہ علیہا کی اپنی زندگی کا محفوظ عوامی ریکارڈ محدود ہے۔ بعد کے امامی مصنفین نے انہیں پاکیزہ، عبادت گزار اور اپنے زمانے کی ممتاز خواتین میں شمار کیا، لیکن ان کی مستقل تدریسی سرگرمی، تصانیف، عوامی منصب یا مکمل شخصی زمانی ترتیب کا قابلِ اعتماد ریکارڈ موجود نہیں۔ تاریخ و مقامِ وفات اور مدفن بھی معتبر ابتدائی مآخذ میں محفوظ نہیں۔ اس لیے ذمہ دار پروفائل ان کے اہل بیت کے گھرانے میں ثابت مقام کا احترام کرتا ہے، مضبوط شناخت اور بعد کی مناقبی تعریف میں فرق رکھتا ہے اور نامعلوم تفصیل نہیں گھڑتا۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
حضرت سبیکہ سلام اللہ علیہا امام محمد جواد علیہ السلام کی والدہ اور امام علی رضا علیہ السلام کے گھرانے میں نوبی اصل رکھنے والی خاتون کی حیثیت سے تاریخی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کی سوانح ابتدائی اسلامی معاشرت کا ایک اہم پہلو محفوظ کرتی ہے کہ افریقی اور سابقہ مملوک پس منظر رکھنے والی خواتین اہل بیت کے خاندان کی مرکزی شخصیات بنیں اور بعد کی امامی مذہبی تاریخ کو تشکیل دینے والی ہستیوں کی مائیں قرار پائیں۔
سبیکہ، خیزران، درّہ، ریحانہ اور سکینہ جیسے محفوظ نام یہ بھی دکھاتے ہیں کہ قرونِ وسطیٰ کے مآخذ میں خواتین کی شناخت کئی ناموں، القاب اور علاقائی نسبتوں کے ذریعے منتقل ہوسکتی تھی۔ ان کے پروفائل کا پائیدار سبق واقعات کی مصنوعی فہرست نہیں بلکہ ایک مضبوط طور پر یاد رکھی گئی والدہ کی محتاط پہچان ہے، جن کی عزت اور خاندانی حیثیت امامی روایت میں بلند رہی، اگرچہ ان کی ذاتی زندگی کی بہت سی تاریخیں محفوظ نہ ہوسکیں۔
سبیکہ، خیزران، درّہ، ریحانہ اور سکینہ جیسے محفوظ نام یہ بھی دکھاتے ہیں کہ قرونِ وسطیٰ کے مآخذ میں خواتین کی شناخت کئی ناموں، القاب اور علاقائی نسبتوں کے ذریعے منتقل ہوسکتی تھی۔ ان کے پروفائل کا پائیدار سبق واقعات کی مصنوعی فہرست نہیں بلکہ ایک مضبوط طور پر یاد رکھی گئی والدہ کی محتاط پہچان ہے، جن کی عزت اور خاندانی حیثیت امامی روایت میں بلند رہی، اگرچہ ان کی ذاتی زندگی کی بہت سی تاریخیں محفوظ نہ ہوسکیں۔
خاندانی روابط
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
امام علی رضاؑ
قوی امکان
🌱 اولاد
ماخذ
al-Kafi | Muhammad ibn Yaqub al-Kulayni | Vol. 1, p. 492 in a cited edition; succession report hadith 14, pagination varies by edition | https://ar.al-shia.org/%D8%A3%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84-%D8%A3%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%A5%D9%85%D8%A7%D9%85-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%AF/ | Sabika the Nubian, Khayzuran name variant, reported association with Maria al-Qibtiyya's household, and the advance-greeting reportKitab al-Irshad | Muhammad ibn Muhammad al-Mufid | Mother of Abu Ja'far II entry; p. 316 in a cited edition, pagination varies | https://ar.al-shia.org/%D8%A3%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84-%D8%A3%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%A5%D9%85%D8%A7%D9%85-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%AF/ | Classical Imami identification of al-Jawad's mother as Sabika and Nubian
Manaqib Aal Abi Talib | Ibn Shahr Ashub | Vol. 4, pp. 379 and 394 in cited editions | https://ar.al-shia.org/%D8%A3%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84-%D8%A3%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%A5%D9%85%D8%A7%D9%85-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%AF/ | Durra, Khayzuran, Rayhana and Umm al-Hasan variants and birth-related reports
I'lam al-Wara / Kashf al-Ghumma transmission | al-Tabrisi / Ali ibn Isa al-Irbili | Biographical entry; pagination varies by edition | https://books.rafed.net/view/4277/page/369 | Name variants, Nubian origin and the disputed date of al-Jawad's birth
Encyclopaedia Iranica: Mohammad al-Jawad | Wilferd Madelung / Encyclopaedia Iranica | Online academic entry | https://www.iranicaonline.org/articles/mohammad-al-jawad/ | Academic confirmation of Sabika or Khayzuran, Nubian origin, reported Maria connection and source caution
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔