محمد ابن حنفیہ بن علیؑ

PER-000040 اہلِ بیت قوی امکان مشترک قبرستانی نقطہ امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
محمد ابنِ حنفیہ، حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور خولہ حنفیہ کے فرزند، پہلی صدی ہجری کی ایک اہم علوی شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنے والد کے عہد میں سیاسی و عسکری واقعات دیکھے، بعد میں فتنۂ ثانی کے زمانے میں محتاط طرزِ عمل اختیار کیا، اور مختار ثقفی کی تحریک نے ان کے نام کو سیاسی و مذہبی دعووں کے لیے استعمال کیا۔ ان کی وفات، بعض تاریخی جزئیات اور مدفن کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔
ولادت

ان کی ولادت مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہوئی۔ قدیم روایات میں اختلاف ہے: بعض اسے عہدِ ابوبکر اور بعض عہدِ عمر کے آخری زمانے میں رکھتی ہیں؛ اس لیے مشہور ۱۶ھ کو قطعی نہیں مانا گیا۔

وفات

وفات کے لیے ۸۰، ۸۱ اور ۸۳ھ کی روایات ملتی ہیں۔ ان کے فرزند عبداللہ سے منقول زیادہ مضبوط خاندانی خبر محرم ۸۱ھ، عمر ۶۵ برس اور جنت البقیع میں تدفین بیان کرتی ہے؛ دوسرے سال اختلافی اقوال کے طور پر محفوظ ہیں۔

مدفن یا منسوب مقام

ان کے فرزند عبداللہ کی براہِ راست خاندانی روایت محرم ۸۱ھ میں مدینہ کے جنت البقیع میں تدفین بیان کرتی ہے۔ بعد کی روایات میں طائف اور دوسرے مقامات بھی آئے ہیں، مگر کلاسیکی شہادت میں جنت البقیع کی نسبت زیادہ مضبوط ہے۔ کسی الگ موجودہ قبر یا نقشاتی مقام کی تصدیق کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔

سوانح و تاریخی تعارف

محمد بن علی اپنی والدہ خولہ بنت جعفر کے قبیلے بنو حنیفہ کی نسبت سے محمد ابنِ حنفیہ کہلائے۔ وہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے فرزند تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں پیدا ہوئے۔ قدیم روایات ولادت کو کبھی عہدِ ابوبکر اور کبھی عہدِ عمر کے آخری زمانے میں رکھتی ہیں، اس لیے مشہور ۱۶ھ قطعی نہیں۔ ان کی کنیت ابو القاسم تھی۔ ابنِ حنفیہ صرف ان کی نسبی شناخت تھی: وہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور خولہ بنت جعفر کے فرزند تھے۔

انہوں نے اپنے والد حضرت علی علیہ السلام کے زمانۂ خلافت میں جوانی پائی اور بعض جنگی مواقع، خصوصاً جنگِ جمل، میں علم اٹھانے اور لشکری ذمہ داری نبھانے کی روایات ان سے منسوب ہیں۔ بعد کے تذکرہ نگار انہیں قوت، حلم اور خاندانِ علی سے وفاداری کے ساتھ یاد کرتے ہیں، اگرچہ ہر واقعے کی جزئیات یکساں درج نہیں۔

امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی شہادتوں کے بعد وہ بنی ہاشم کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوئے، لیکن انہوں نے اپنے لیے کھلی خلافت یا مسلح امامت کا دعویٰ نہیں کیا۔ فتنۂ ثانی میں ان کا رویہ نسبتاً محتاط رہا اور وہ حجاز کے سیاسی تنازعات سے ممکن حد تک بچنے کی کوشش کرتے رہے۔

مختار ثقفی نے ۶۶–۶۷ھ میں اپنی کوفی تحریک کو محمد ابنِ حنفیہ کی نمائندگی اور امام حسین علیہ السلام کے خون کا بدلہ لینے سے جوڑا۔ ابن سعد نے ایسی روایات محفوظ کی ہیں جن میں وفد نے محمد ابنِ حنفیہ سے مختار کے دعوے کی حقیقت پوچھی، انہوں نے جھوٹوں سے خبردار کیا، اور مختار نے ان کے نام سے ایک خط پھیلایا۔ دوسری روایات بتاتی ہیں کہ مختار سے وابستہ مدد نے ابن زبیر کے دباؤ سے بنی ہاشم کو نکالنے میں کردار ادا کیا۔ اس لیے ان کا نام سیاسی طور پر استعمال ہونا ثابت ہے، لیکن مختار کو واضح اور غیر مشروط اختیار دینا مضبوط طور پر ثابت نہیں۔

عبداللہ بن زبیر کے دور میں مکہ میں ان پر بیعت کا دباؤ ڈالا گیا اور بعض روایات کے مطابق انہیں اور ان کے ساتھیوں کو قید یا دھمکی کا سامنا ہوا۔ کوفہ سے آنے والی مدد نے انہیں اس بحران سے نکالا۔ بعد میں وہ دمشق گئے اور اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان سے بھی رابطہ ہوا، مگر ان کی عمومی روش کھلی بغاوت سے اجتناب کی رہی۔

وفات کے لیے ۸۰، ۸۱ اور ۸۳ھ کے اقوال ملتے ہیں۔ ان کے فرزند عبداللہ سے منقول خاندانی خبر محرم ۸۱ھ، عمر ۶۵ برس اور جنت البقیع میں تدفین بیان کرتی ہے، اس لیے یہ وفات و تدفین کی سب سے مضبوط کلاسیکی نسبت ہے۔ وفات کے بعد کیسانیہ کی بعض شاخوں نے انہیں امام اور مہدی مانا، جبکہ بعض نے وفات کا انکار کرکے کوہِ رضویٰ میں غیبت کا عقیدہ اختیار کیا۔ یہ بعد کے پیروکاروں کے عقائد تھے؛ مآخذ میں مبالغہ آمیز خطاب سے ان کی احتیاط بھی محفوظ ہے اور ان کا خود کو آخری زمانے کا مہدی قرار دینا ثابت نہیں۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

محمد ابنِ حنفیہ کی اہمیت اس لیے ہے کہ وہ کربلا کے بعد علوی خاندان کی ایک نمایاں اور نسبتاً محتاط سیاسی شخصیت بنے۔ ان کے گرد جمع ہونے والی توقعات نے ابتدائی شیعی سیاست، علوی وفاداری اور اموی مخالف تحریکوں کی تشکیل پر اثر ڈالا۔

مختار اور بعد کے کیسانی گروہوں نے ان کے نام کو امامت اور مہدویت سے جوڑا۔ اس نسبت نے مہدی، غیبت اور علوی جانشینی کے ابتدائی تصورات کی تاریخ پر اثر ڈالا، لیکن موجود شہادت پیروکاروں کے دعووں اور محمد ابنِ حنفیہ کے اپنے محتاط سیاسی طرزِ عمل میں فرق کرتی ہے اور شدید مہدوی دعووں کو ان کی صریح تعلیم سے ثابت نہیں کرتی۔

ان کے فرزند ابو ہاشم کے بعد کئی کیسانی حلقوں نے مختلف جانشینی دعوے قائم کیے۔ عباسی تحریک نے بعد میں اپنی قیادت کو ابو ہاشم کی مبینہ وصیت سے جوڑا؛ یہ ایک بعد کا جواز فراہم کرنے والا دعویٰ تھا، محمد ابنِ حنفیہ کی ثابت شدہ ہدایت نہیں۔ یوں ان کی میراث فتنۂ ثانی اور ابتدائی علوی وفاداری کو بعد کی فرقہ وارانہ اور عباسی روایات سے جوڑتی ہے، مگر تاریخ اور بعد کے دعووں میں فرق ضروری ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 4, displayed pp. 110-129 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/478/ and https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/479/ | lineage, birth variants, military role, Ibn al-Zubayr crisis, attitude to al-Mukhtar, Mahdi address, death variants and the family report of burial in al-Baqi
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Vol. 5, Muhammad ibn al-Hanafiyya entry, displayed p. 73 and following | https://shamela.ws/book/1686/1501 | al-Mukhtar's political use of his name, the envoys' inquiry, warning against liars and the disputed authorization
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Jamal al-Din al-Mizzi | Entry 7995, displayed p. 375 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/11429/ | Umm Awn bint Muhammad ibn Ja'far identified as the wife of Muhammad ibn al-Hanafiyya and mother of his son Awn
Kaysaniya | Encyclopaedia Iranica | Wilferd Madelung and later editorial revision; online entry | https://www.iranicaonline.org/articles/kaysaniya/ | Kaysani imamate and Mahdi claims, posthumous occultation belief, Abu Hashim succession branches and the later Abbasid bequest claim
Islam in Iran VI: The Concept of Mahdi in Sunni Islam | Said Amir Arjomand | Encyclopaedia Iranica, Vol. XIV, Fasc. 2, pp. 134-136 | https://www.iranicaonline.org/articles/islam-in-iran-vi-the-concept-of-mahdi-in-sunni-islam/ | Kaysani belief that Muhammad ibn al-Hanafiyya remained in occultation at Mount Radwa and would return as Mahdi

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔