پیدائش کا مقام اور سال معلوم نہیں۔ بعض بعد کے مآخذ نوبہ کی نسبت دیتے ہیں، مگر اصل وطن قطعی طور پر ثابت نہیں۔
حدیث
PER-000024
خاندان کی شخصیت
قوی امکان
منسوب مقام
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حدیث، جنہیں امامی مآخذ میں سلیل، سوسن، حدیثہ اور بعض دوسرے ناموں سے بھی یاد کیا گیا ہے، امام حسن عسکری علیہ السلام کی والدہ اور امام علی ہادی علیہ السلام کے گھرانے سے وابستہ ایک معزز خاتون تھیں۔ قدیم و بعد کے امامی تذکروں میں انہیں ام ولد، صالحہ اور صاحبِ تدبیر بتایا گیا ہے۔ ۲۶۰ ہجری، یعنی ۸۷۴ء میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے وصال کے بعد بھی وہ زندہ تھیں اور وصیت، میراث اور ابتدائی غیبت کے حساس دور میں ان کا کردار محفوظ ہے۔ ان کی پیدائش، اصل وطن، وفات کے درست سال اور قبر کی تفصیلات قطعی طور پر معلوم نہیں۔
وفات کا درست سال معلوم نہیں۔ وہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے ۲۶۰ ہجری، یعنی ۸۷۴ء میں وصال کے بعد زندہ تھیں۔
بعد کی امامی روایت تدفین کو سامرا کے عسکری خاندانی گھر اور موجودہ حرم کے احاطے سے منسوب کرتی ہے۔ درست تاریخ اور الگ شناخت شدہ قبر آزاد طور پر ثابت نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
تاریخی و امامی مآخذ اس خاتون کے لیے حدیث یا حدیثہ، سلیل، سوسن اور حریبہ جیسے متعدد نام محفوظ کرتے ہیں، جبکہ ایک امامی روایت سمانہ اور کنیت ام الحسن بھی بیان کرتی ہے۔ ناموں کا یہ اختلاف لازماً مختلف خواتین کی دلیل نہیں، کیونکہ مآخذ مسلسل اسی شخصیت کو امام حسن عسکری علیہ السلام کی والدہ سے جوڑتے ہیں۔ چونکہ حدیث ایک ثابت نامی صورت ہے مگر واحد قطعی اصل نام نہیں، اس لیے محفوظ شناخت برقرار رکھتے ہوئے اہم متبادل نام شامل کیے گئے ہیں۔
امامی سوانحی مآخذ انہیں امام علی ہادی علیہ السلام کے گھرانے کی ام ولد اور ان کے فرزند امام حسن عسکری علیہ السلام کی والدہ بتاتے ہیں۔ بعض بعد کے تذکرے انہیں نوبہ، یعنی مصر کے جنوب کے علاقے سے منسوب کرتے ہیں، مگر پیدائش کا درست مقام اور گھرانے تک پہنچنے کی تفصیلی راہ مضبوط طور پر محفوظ نہیں۔ اسی لیے محفوظ ازدواجی نسبت کو احتمال کے درجے میں رکھنا ایک قطعی تفصیلی نکاحی داستان بنانے سے زیادہ محتاط ہے۔
سلیل کا نام امامی مذہبی سوانح میں خاص طور پر نمایاں ہے۔ امام علی ہادی علیہ السلام سے منسوب ایک روایت میں انہیں عیوب اور آلودگیوں سے پاک قرار دے کر سراہا گیا ہے۔ بعد کے مصنفین نے انہیں پاک دامن، متقی، ضبط رکھنے والی اور صاحبِ تدبیر خاتون کے طور پر یاد کیا۔ یہ اوصاف امامی روایت کی نسبت سے بیان کیے گئے ہیں؛ ان کی اپنی روایات کا کوئی مستقل مضبوط مجموعہ معلوم نہیں، اگرچہ ایک بعد کے رجالی ماخذ میں حدیثہ کو خواتینِ روایت میں شمار کیا گیا۔
ان کا سب سے مضبوط خاندانی تعارف امام حسن عسکری علیہ السلام کی والدہ ہونا ہے، جنہیں اثنا عشری عقیدے میں گیارہواں امام مانا جاتا ہے۔ آپ کی ولادت کی جزئیات میں ۲۳۰ ہجری کے ابتدائی برسوں اور مدینہ یا سامرا کے مقام کے بارے میں اختلاف ہے، مگر والدہ کے لیے یہی نامی مجموعہ بار بار آتا ہے۔ اس طرح ان کی زندگی اس گھرانے سے وابستہ تھی جو عباسی نگرانی اور بعد کے ائمہ کے گرد سیاسی دباؤ سے گزرا، اگرچہ ان کے ابتدائی برسوں کے شخصی واقعات بہت کم محفوظ ہیں۔
زیادہ واضح روایت امام حسن عسکری علیہ السلام کے ۲۶۰ ہجری، یعنی ۸۷۴ء میں وصال کے بعد سامنے آتی ہے۔ شیخ صدوق کی روایت کے مطابق خبر ملنے پر حدیث مدینہ سے سامرا آئیں۔ اس کے بعد میراث کا تنازع پیدا ہوا اور امامی مآخذ کہتے ہیں کہ امام عسکری علیہ السلام نے اپنی والدہ اور بھائی جعفر کے حق میں وصیت قاضی کے سامنے درج کرائی تھی۔ حکیمہ بنت امام محمد جواد علیہ السلام سے منقول ایک دوسری روایت میں اثنا عشری عقیدے کے مطابق نوجوان امام کے پردۂ اخفا کے زمانے میں جماعت کو جدہ، یعنی امام عسکری علیہ السلام کی والدہ، کی طرف رجوع کی ہدایت ملتی ہے۔
ان کی وفات کا درست سال معلوم نہیں، لیکن وہ ۲۶۰ ہجری کے بعد اپنے فرزند سے زیادہ زندہ رہیں۔ بعد کی امامی روایت ان کی تدفین کو سامرا کے اسی خاندانی گھر سے جوڑتی ہے جہاں امام علی ہادی اور امام حسن عسکری علیہما السلام مدفون ہوئے۔ اسے الگ تاریخ اور مستقل نشان والی ثابت قبر کے بجائے منقول تدفینی روایت سمجھنا چاہیے۔ ان کی پائیدار اہمیت مادری نسبت، تقویٰ، خاندانی امور کی نگرانی اور ایسے وقت میں امامی جماعت کے تسلسل سے وابستہ کردار میں ہے جب کھلی قیادت سیاسی طور پر خطرناک تھی۔
امامی سوانحی مآخذ انہیں امام علی ہادی علیہ السلام کے گھرانے کی ام ولد اور ان کے فرزند امام حسن عسکری علیہ السلام کی والدہ بتاتے ہیں۔ بعض بعد کے تذکرے انہیں نوبہ، یعنی مصر کے جنوب کے علاقے سے منسوب کرتے ہیں، مگر پیدائش کا درست مقام اور گھرانے تک پہنچنے کی تفصیلی راہ مضبوط طور پر محفوظ نہیں۔ اسی لیے محفوظ ازدواجی نسبت کو احتمال کے درجے میں رکھنا ایک قطعی تفصیلی نکاحی داستان بنانے سے زیادہ محتاط ہے۔
سلیل کا نام امامی مذہبی سوانح میں خاص طور پر نمایاں ہے۔ امام علی ہادی علیہ السلام سے منسوب ایک روایت میں انہیں عیوب اور آلودگیوں سے پاک قرار دے کر سراہا گیا ہے۔ بعد کے مصنفین نے انہیں پاک دامن، متقی، ضبط رکھنے والی اور صاحبِ تدبیر خاتون کے طور پر یاد کیا۔ یہ اوصاف امامی روایت کی نسبت سے بیان کیے گئے ہیں؛ ان کی اپنی روایات کا کوئی مستقل مضبوط مجموعہ معلوم نہیں، اگرچہ ایک بعد کے رجالی ماخذ میں حدیثہ کو خواتینِ روایت میں شمار کیا گیا۔
ان کا سب سے مضبوط خاندانی تعارف امام حسن عسکری علیہ السلام کی والدہ ہونا ہے، جنہیں اثنا عشری عقیدے میں گیارہواں امام مانا جاتا ہے۔ آپ کی ولادت کی جزئیات میں ۲۳۰ ہجری کے ابتدائی برسوں اور مدینہ یا سامرا کے مقام کے بارے میں اختلاف ہے، مگر والدہ کے لیے یہی نامی مجموعہ بار بار آتا ہے۔ اس طرح ان کی زندگی اس گھرانے سے وابستہ تھی جو عباسی نگرانی اور بعد کے ائمہ کے گرد سیاسی دباؤ سے گزرا، اگرچہ ان کے ابتدائی برسوں کے شخصی واقعات بہت کم محفوظ ہیں۔
زیادہ واضح روایت امام حسن عسکری علیہ السلام کے ۲۶۰ ہجری، یعنی ۸۷۴ء میں وصال کے بعد سامنے آتی ہے۔ شیخ صدوق کی روایت کے مطابق خبر ملنے پر حدیث مدینہ سے سامرا آئیں۔ اس کے بعد میراث کا تنازع پیدا ہوا اور امامی مآخذ کہتے ہیں کہ امام عسکری علیہ السلام نے اپنی والدہ اور بھائی جعفر کے حق میں وصیت قاضی کے سامنے درج کرائی تھی۔ حکیمہ بنت امام محمد جواد علیہ السلام سے منقول ایک دوسری روایت میں اثنا عشری عقیدے کے مطابق نوجوان امام کے پردۂ اخفا کے زمانے میں جماعت کو جدہ، یعنی امام عسکری علیہ السلام کی والدہ، کی طرف رجوع کی ہدایت ملتی ہے۔
ان کی وفات کا درست سال معلوم نہیں، لیکن وہ ۲۶۰ ہجری کے بعد اپنے فرزند سے زیادہ زندہ رہیں۔ بعد کی امامی روایت ان کی تدفین کو سامرا کے اسی خاندانی گھر سے جوڑتی ہے جہاں امام علی ہادی اور امام حسن عسکری علیہما السلام مدفون ہوئے۔ اسے الگ تاریخ اور مستقل نشان والی ثابت قبر کے بجائے منقول تدفینی روایت سمجھنا چاہیے۔ ان کی پائیدار اہمیت مادری نسبت، تقویٰ، خاندانی امور کی نگرانی اور ایسے وقت میں امامی جماعت کے تسلسل سے وابستہ کردار میں ہے جب کھلی قیادت سیاسی طور پر خطرناک تھی۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
حدیث یا سلیل کی تاریخی اہمیت اس نسبت میں ہے کہ وہ امام علی ہادی علیہ السلام کے گھرانے اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی مادری زندگی کو جوڑتی ہیں۔ محدود شخصی معلومات کے باوجود ان کے نام کا بار بار آنا ظاہر کرتا ہے کہ امامی سوانح میں ماؤں اور امہاتِ اولاد کی شناخت نسبی تسلسل کا اہم حصہ تھی۔
۲۶۰ ہجری، یعنی ۸۷۴ء کے بعد کی روایات انہیں صرف والدہ نہیں بلکہ وصیت اور خاندانی اموال کی نگہبان اور حساس ابتدائی غیبت کے دور میں جماعت کے لیے ایک قابلِ رجوع بزرگ خاتون کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ یہ کردار اثنا عشری روایت سے مخصوص ہے اور اسی نسبت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
ان کی متعدد نامی صورتیں، ممکنہ نوبی اصل، غیر معلوم وفات اور منقول سامرائی تدفین یہ سکھاتی ہیں کہ مذہبی احترام کو تاریخی احتیاط کے ساتھ جمع کرنا ضروری ہے۔ ان کی میراث کسی مفصل یقینی سوانح سے زیادہ پاکیزگی، مادری نسبت اور بحران کے وقت خاندانی و مذہبی تسلسل کی علامت ہے۔
۲۶۰ ہجری، یعنی ۸۷۴ء کے بعد کی روایات انہیں صرف والدہ نہیں بلکہ وصیت اور خاندانی اموال کی نگہبان اور حساس ابتدائی غیبت کے دور میں جماعت کے لیے ایک قابلِ رجوع بزرگ خاتون کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ یہ کردار اثنا عشری روایت سے مخصوص ہے اور اسی نسبت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
ان کی متعدد نامی صورتیں، ممکنہ نوبی اصل، غیر معلوم وفات اور منقول سامرائی تدفین یہ سکھاتی ہیں کہ مذہبی احترام کو تاریخی احتیاط کے ساتھ جمع کرنا ضروری ہے۔ ان کی میراث کسی مفصل یقینی سوانح سے زیادہ پاکیزگی، مادری نسبت اور بحران کے وقت خاندانی و مذہبی تسلسل کی علامت ہے۔
خاندانی روابط
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
امام علی نقی الہادیؑ
قوی امکان
🌱 اولاد
ماخذ
Kitab al-Irshad | Shaykh al-Mufid | Hasan al-Askari biographical notice, p. 335 in the cited edition | https://al-islam.org/shiah-women-transmitters-hadith-nahleh-gharavi-naeini/147-sawsan-mother-imam-al-askari | mother identified as an umm walad named Hadithah and connection with Imam Ali al-Hadi's householdAl-Kafi | Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni | Vol. 1, pp. 461-462 in the cited edition | https://al-islam.org/shiah-women-transmitters-hadith-nahleh-gharavi-naeini/147-sawsan-mother-imam-al-askari | identity as mother of Hasan al-Askari and testamentary or inheritance material
Kamal al-Din wa Tamam al-Ni'ma | Shaykh al-Saduq | Vol. 2, pp. 474 and 501 in the cited edition | https://al-islam.org/shiah-women-transmitters-hadith-nahleh-gharavi-naeini/147-sawsan-mother-imam-al-askari | journey from Medina after 260 AH, inheritance dispute, and the Imami report directing followers to the grandmother
Ithbat al-Wasiyya | Attributed to al-Mas'udi | p. 205 in the cited edition | https://al-islam.org/shiah-women-transmitters-hadith-nahleh-gharavi-naeini/147-sawsan-mother-imam-al-askari | Salil name and the praise attributed to Imam al-Hadi
The Life of Imam Hasan al-Askari | Baqir Sharif al-Qurashi | PDF p. 6 | https://al-islam.org/printpdf/book/export/html/21381 | name variants Salil, Sawsan, Hadithah and Haribah, piety tradition, and later Nubian-origin claim
Racial Othering in Shi'i Sacred History | Amina Inloes | Note 67 and surrounding discussion | https://al-islam.org/racial-othering-shii-sacred-history-jawn-ibn-huwayy-and-ethnicities-twelve-imams-amina-inloes/racial | modern critical discussion of multiple names and the reported Nubian origin
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔