ولادت کی تاریخ اور مقام معتبر طور پر محفوظ نہیں۔ وہ امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی صاحبزادی تھیں، مگر دستیاب مآخذ کسی متعین زمانی اندازے کی اجازت نہیں دیتے۔
میمونہ بنت علیؑ
PER-000060
اہلِ بیت
قوی امکان
مقامِ تدفین نامعلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
میمونہ بنت علی علیہا السلام کو امامی اور نسبی مآخذ میں امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی صاحبزادیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ محفوظ تاریخی مواد مختصر ہے، مگر عبد اللہ اکبر بن عقیل بن ابی طالب سے ان کا نکاح متعدد نسبی کتابوں میں درج ہے، جس سے ابو طالب کی علوی اور عقیلی شاخیں باہم مربوط ہوئیں۔ اولاد کی درست فہرست میں مآخذ کا اختلاف ہے، جبکہ ولادت، وفات، مدفن یا کسی مستقل عوامی کردار کی قطعی خبر محفوظ نہیں۔ اس لیے کربلا میں حاضری یا اسیری سے متعلق بعد کے دعوے ثابت شدہ حقیقت کے طور پر شامل نہیں کیے گئے۔
وفات کی تاریخ اور حالات معتبر طور پر محفوظ نہیں۔ «المحبر» عبد اللہ بن عقیل کے بعد تمام بن عباس سے نکاح کا ذکر کرتی ہے، مگر اس سے قطعی تاریخِ وفات معلوم نہیں ہوتی۔
زیرِ نظر معتبر مآخذ میں مدفن معلوم نہیں۔ اس پروفائل میں جنت البقیع، کسی جدید قبر، مزار یا نقشاتی مقام کی نسبت کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔
سوانح و تاریخی تعارف
میمونہ بنت علی علیہا السلام امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی اولاد کی فہرستوں میں ان صاحبزادیوں کے ساتھ مذکور ہیں جو مختلف ماؤں سے تھیں۔ قدیم تذکروں میں ان کی والدہ کا ذاتی نام کافی یقین کے ساتھ محفوظ نہیں؛ بعض بعد کے خلاصے صرف یہ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ ایک غیر نام زد امِ ولد تھیں۔ ولادت کا کوئی مضبوط متعین سال نہیں ملا، اس لیے بعد کے اندازوں سے تاریخ یا مقام گھڑنا درست نہیں۔
ان کی سوانح کا سب سے واضح حصہ نکاح ہے۔ ابن عنبہ کی «عمدۃ الطالب»، مصعب زبیری کی «نسب قریش»، بلاذری کی «انساب الاشراف» اور دوسرے نسبی مجموعے ان کے شوہر کو عبد اللہ اکبر بن عقیل بن ابی طالب بتاتے ہیں۔ اس نکاح نے بنی ہاشم کی علوی اور عقیلی شاخوں کو جوڑا، اور یہ نسبت ان کی زندگی سے منسوب اکثر بعد کی تفصیلات سے زیادہ مضبوط طور پر محفوظ ہے۔
نسب نگار ان کی اولاد کے بارے میں یکساں فہرست نہیں دیتے۔ «نسب قریش» کے مطابق ان سے عقیل نامی بیٹا پیدا ہوا۔ «انساب الاشراف» محمد، رقیہ اور ام کلثوم کو عبد اللہ بن عقیل اور میمونہ کی اولاد قرار دیتی ہے۔ چونکہ امام علی علیہ السلام کی دوسری صاحبزادیاں بھی خاندانِ عقیل میں بیاہی گئی تھیں اور خاندان میں کئی نام بار بار آتے ہیں، اس لیے ان اختلافات کو ایک قطعی فہرست میں ملانے کے بجائے ماخذی اختلاف کے طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔
«المحبر» کے مطابق عبد اللہ بن عقیل کے بعد تمام بن عباس بن عبد المطلب نے میمونہ سے نکاح کیا۔ اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے نکاح کے اختتام کے بعد زندہ تھیں، مگر دونوں نکاحوں کی محفوظ زمانی ترتیب مکمل نہیں۔ بعد کے مقتل مآخذ عبد اللہ اکبر بن عقیل کو بنی ہاشم کے شہدائے کربلا میں شمار کرتے ہیں؛ اسی سے میمونہ کی کربلا میں موجودگی کے بعد کے دعوے پیدا ہوئے ہوں گے، لیکن کوئی کافی قدیم اور واضح روایت انہیں امام حسین علیہ السلام کے قافلے، خیمہ گاہ یا بعد کی اسیری میں قطعی طور پر موجود ثابت نہیں کرتی۔
زیرِ نظر مآخذ میں میمونہ علیہا السلام کی کوئی مستقل تقریر، حدیثی روایت، عوامی منصب، متعین تاریخِ وفات یا مدفن معتبر طور پر محفوظ نہیں۔ اس لیے یہ پروفائل محتاط نسبی سوانح تک محدود رکھا گیا ہے۔ اس کی مضبوط تاریخی قدر امام علی علیہ السلام کی صاحبزادی کے طور پر شناخت، خاندانِ عقیل میں ثابت شدہ نکاح اور اولاد سے متعلق مختلف روایات کو بغیر فرضی توسیع کے محفوظ کرنے میں ہے۔
ان کی سوانح کا سب سے واضح حصہ نکاح ہے۔ ابن عنبہ کی «عمدۃ الطالب»، مصعب زبیری کی «نسب قریش»، بلاذری کی «انساب الاشراف» اور دوسرے نسبی مجموعے ان کے شوہر کو عبد اللہ اکبر بن عقیل بن ابی طالب بتاتے ہیں۔ اس نکاح نے بنی ہاشم کی علوی اور عقیلی شاخوں کو جوڑا، اور یہ نسبت ان کی زندگی سے منسوب اکثر بعد کی تفصیلات سے زیادہ مضبوط طور پر محفوظ ہے۔
نسب نگار ان کی اولاد کے بارے میں یکساں فہرست نہیں دیتے۔ «نسب قریش» کے مطابق ان سے عقیل نامی بیٹا پیدا ہوا۔ «انساب الاشراف» محمد، رقیہ اور ام کلثوم کو عبد اللہ بن عقیل اور میمونہ کی اولاد قرار دیتی ہے۔ چونکہ امام علی علیہ السلام کی دوسری صاحبزادیاں بھی خاندانِ عقیل میں بیاہی گئی تھیں اور خاندان میں کئی نام بار بار آتے ہیں، اس لیے ان اختلافات کو ایک قطعی فہرست میں ملانے کے بجائے ماخذی اختلاف کے طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔
«المحبر» کے مطابق عبد اللہ بن عقیل کے بعد تمام بن عباس بن عبد المطلب نے میمونہ سے نکاح کیا۔ اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے نکاح کے اختتام کے بعد زندہ تھیں، مگر دونوں نکاحوں کی محفوظ زمانی ترتیب مکمل نہیں۔ بعد کے مقتل مآخذ عبد اللہ اکبر بن عقیل کو بنی ہاشم کے شہدائے کربلا میں شمار کرتے ہیں؛ اسی سے میمونہ کی کربلا میں موجودگی کے بعد کے دعوے پیدا ہوئے ہوں گے، لیکن کوئی کافی قدیم اور واضح روایت انہیں امام حسین علیہ السلام کے قافلے، خیمہ گاہ یا بعد کی اسیری میں قطعی طور پر موجود ثابت نہیں کرتی۔
زیرِ نظر مآخذ میں میمونہ علیہا السلام کی کوئی مستقل تقریر، حدیثی روایت، عوامی منصب، متعین تاریخِ وفات یا مدفن معتبر طور پر محفوظ نہیں۔ اس لیے یہ پروفائل محتاط نسبی سوانح تک محدود رکھا گیا ہے۔ اس کی مضبوط تاریخی قدر امام علی علیہ السلام کی صاحبزادی کے طور پر شناخت، خاندانِ عقیل میں ثابت شدہ نکاح اور اولاد سے متعلق مختلف روایات کو بغیر فرضی توسیع کے محفوظ کرنے میں ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
میمونہ علیہا السلام کی اہمیت خاندانِ ابو طالب کے داخلی نسب میں ہے۔ عبد اللہ اکبر بن عقیل سے ان کا نکاح امام علی علیہ السلام اور عقیل بن ابی طالب کی نسلوں کو جوڑتا ہے اور ابتدائی اسلامی عہد میں بنی ہاشم کے قریبی خاندانی روابط دکھاتا ہے۔
ان کا مختصر تذکرہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ خواتین کی سوانح میں نسبی کتابوں کو کس احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ مآخذ ان کا نام اور نکاح نسبتاً واضح رکھتے ہیں، مگر زمانی حالات، سرگرمیوں، مدفن اور اولاد کی فہرست میں محدود یا مختلف معلومات دیتے ہیں۔ ان اختلافات کو محفوظ رکھنا غیر موافق فہرستوں سے ایک مصنوعی مکمل کہانی بنانے سے زیادہ ذمہ دارانہ ہے۔
یہ پروفائل بعد کی مناقبی توسیع سے بچاؤ کی مثال بھی ہے۔ اہلِ بیت کی کسی شخصیت کا احترام کربلا میں غیر ثابت حاضری، اسیری، خطبات، کرامات یا جدید قبر کے دعوے کا محتاج نہیں۔ محتاط تحریر ثابت شدہ خاندانی نسبت کو نمایاں اور باقی شہادت کی حدود کو واضح رکھتی ہے۔
ان کا مختصر تذکرہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ خواتین کی سوانح میں نسبی کتابوں کو کس احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ مآخذ ان کا نام اور نکاح نسبتاً واضح رکھتے ہیں، مگر زمانی حالات، سرگرمیوں، مدفن اور اولاد کی فہرست میں محدود یا مختلف معلومات دیتے ہیں۔ ان اختلافات کو محفوظ رکھنا غیر موافق فہرستوں سے ایک مصنوعی مکمل کہانی بنانے سے زیادہ ذمہ دارانہ ہے۔
یہ پروفائل بعد کی مناقبی توسیع سے بچاؤ کی مثال بھی ہے۔ اہلِ بیت کی کسی شخصیت کا احترام کربلا میں غیر ثابت حاضری، اسیری، خطبات، کرامات یا جدید قبر کے دعوے کا محتاج نہیں۔ محتاط تحریر ثابت شدہ خاندانی نسبت کو نمایاں اور باقی شہادت کی حدود کو واضح رکھتی ہے۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
امام علی ابن ابی طالبؑ
قوی امکان
🌱 اولاد
ماخذ
Al-Mustajad min al-Irshad | Attributed to al-Allama al-Hilli; abridgment of al-Irshad by Shaykh al-Mufid | Biographical listing; pagination varies by edition | https://ar.lib.eshia.ir/15110/1/140 | lists Maymuna among the daughters of Imam AliUmdat al-Talib fi Ansab Aal Abi Talib | Ibn Inaba | Vol. 1, p. 64 in the displayed edition | https://lib.eshia.ir/10392/1/64 | identifies Maymuna as a daughter of Ali married to Abd Allah al-Akbar ibn Aqil
Nasab Quraysh | Musab ibn Abd Allah al-Zubayri | Genealogical entry; p. 45 in the cited print edition | https://shamela.ws/book/2922/43 | records Maymuna married to Abd Allah al-Akbar ibn Aqil and a son named Aqil
Ansab al-Ashraf | Ahmad ibn Yahya al-Baladhuri | Genealogical entry for the children of Aqil; pagination varies by edition | https://shamela.ws/book/9773/803 | attributes Muhammad, Ruqayya, and Umm Kulthum to Abd Allah ibn Aqil through Maymuna
Al-Muhabbar | Muhammad ibn Habib al-Baghdadi | p. 56 in the displayed edition | https://shamela.ws/book/12205/56 | records marriage to Abd Allah ibn Aqil and a later marriage to Tammam ibn al-Abbas
Lubab al-Ansab wa-l-Alqab wa-l-Aqab | Zahir al-Din al-Bayhaqi | p. 19 in the displayed edition | https://shamela.ws/book/355/19 | lists Maymuna among Ali's daughters and records marriage to Abd Allah ibn Aqil with a son named Aqil
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔