درست تاریخ اور مقام پیدائش نامعلوم ہیں۔ قدیم مآخذ انہیں بلوغ سے پہلے کا کم سن لڑکا بتاتے ہیں؛ گیارہ سال کی مشہور عمر بعد کا اندازہ ہے۔ والدہ کو بعض مآخذ سلیل بن عبداللہ بجلی کی بیٹی اور بعض غیر مسمّی امِّ ولد بتاتے ہیں۔
عبداللہ بن حسن مجتبیٰؑ
PER-000072
اہلِ بیت
قوی امکان
صرف عمومی علاقہ معلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حضرت عبداللہ بن حسن علیہ السلام، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے کم سن فرزند اور امام حسین علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ قدیم اور کلاسیکی مآخذ انہیں کربلا میں موجود بتاتے ہیں اور آخری حملے کے وقت خیموں سے نکل کر اپنے چچا کی حفاظت کے لیے آنے، زخمی ہونے اور ۱۰ محرم ۶۱ھ، مطابق ۶۸۰ء، کو شہید ہونے کا واقعہ نقل کرتے ہیں۔ ان کی شہادت مضبوط طور پر ثابت ہے، لیکن والدہ، مہلک زخم لگانے والے شخص اور ایک ہم نام عبداللہ سے متعلق نکاح کی روایات کو اس کم سن شہید پر منطبق کرنے کے بارے میں مآخذ مختلف ہیں۔
۱۰ محرم ۶۱ھ، مطابق ۶۸۰ء، کربلا میں اپنے چچا امام حسین علیہ السلام کی حفاظت کی کوشش کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ تلوار چلانے والے اور مہلک زخم لگانے والے شخص کے نام میں مآخذ مختلف ہیں۔
قدیم مآخذ ان کی الگ تصدیق شدہ انفرادی قبر متعین نہیں کرتے۔ کربلائی روایت انہیں امام حسین علیہ السلام کے حرم سے وابستہ ہاشمی شہداء کے اجتماعی مدفن میں شمار کرتی ہے۔
سوانح و تاریخی تعارف
حضرت عبداللہ بن حسن علیہ السلام، امام حسن بن علی علیہ السلام کے فرزند، امام علی علیہ السلام اور سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے پوتے اور امام حسین علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ انہیں حسنی خاندان کے بعد کے عبداللہ بن حسن نامی افراد سے الگ رکھنا ضروری ہے، اور خود کربلا کے مآخذ میں ممکن ہے کہ امام حسن علیہ السلام کے ایک سے زیادہ فرزند عبداللہ نام یا متعلقہ کنیت ابو بکر کے ساتھ محفوظ ہوئے ہوں۔ یہ نامی مسئلہ اس لیے اہم ہے کہ بعد کی تمام نکاح اور جنگی روایات لازماً ایک ہی شخص سے متعلق نہیں۔
ان کی درست تاریخ پیدائش معتبر طور پر محفوظ نہیں۔ قدیم بیان انہیں ایسا کم سن لڑکا کہتا ہے جو ابھی بلوغ کے قریب نہیں پہنچا تھا؛ اس سے کم سنی ثابت ہوتی ہے، مگر صحیح عمر نہیں۔ مشہور گیارہ سال کی عمر بعد کی زمانی ترتیب ہے، مستقل پیدائشی ریکارڈ نہیں۔ والدہ کی شناخت میں بھی اختلاف ہے: مقاتل الطالبیین انہیں سلیل بن عبداللہ بجلی کی بیٹی کا فرزند بتاتی ہے، جبکہ ایک دوسری منقول روایت والدہ کو غیر مسمّی امِّ ولد قرار دیتی ہے۔
۱۰ محرم ۶۱ھ، مطابق ۶۸۰ء، روز عاشورا حضرت عبداللہ اہل بیت کی خواتین اور کم سن افراد کے ساتھ تھے، جبکہ امام حسین علیہ السلام آخری حملے کا سامنا کر رہے تھے۔ شیخ مفید اور طبری سے منسوب بیان کے مطابق وہ اپنے چچا کی طرف دوڑے؛ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے انہیں روکنے کی کوشش کی، مگر انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو چھوڑنے سے انکار کردیا۔ ایک حملہ آور نے امام حسین علیہ السلام پر تلوار اٹھائی تو بچے نے چچا کو بچانے کے لیے ہاتھ آگے کیا اور وار سے ان کا بازو شدید زخمی ہوگیا۔
مآخذ اس پر متفق ہیں کہ وہ امام حسین علیہ السلام کے پہلو یا آغوش میں شہید ہوئے، لیکن نام اور ترتیب میں اختلاف ہے۔ ایک روایت میں تلوار چلانے والے کو بحر بن کعب اور دوسری میں ابجر بن کعب کہا گیا ہے۔ بعد کی امامی روایات کے مطابق حرملہ بن کاہل نے تیر مار کر انہیں شہید کیا، جبکہ مقاتل الطالبیین ایک غیر معین مخالف شخص کے ہاتھوں قتل کی روایت بھی محفوظ کرتی ہے۔ ذمہ دار تاریخی نتیجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنے چچا کا دفاع کیا، بازو پر شدید وار سہا اور کربلا کے آخری مرحلے میں شہید ہوئے؛ آخری قاتل کی شناخت مختلف روایات میں بدلتی ہے۔
بعد کی نسبی کتابیں ایک عبداللہ بن حسن کا نکاح سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا سے بھی بیان کرتی اور کہتی ہیں کہ رخصتی سے پہلے ان کی وفات ہوگئی۔ بعض محققین اس شوہر کو کم سن بچے کے بجائے ایک بڑے ہم نام عبداللہ یا ابو بکر کنیت والے فرزند سے متعلق سمجھتے ہیں۔ چونکہ یہ نسبت اس کم سن شہید کے لیے محفوظ طور پر متعین نہیں، اس شخصی ریکارڈ میں کوئی زوجی تعلق درج نہیں کیا گیا۔ قدیم مآخذ ان کی الگ انفرادی قبر متعین نہیں کرتے۔ کربلائی روایت انہیں امام حسین علیہ السلام کے حرم کے قریب اجتماعی طور پر مدفون ہاشمی شہداء میں یاد کرتی ہے؛ یہ اجتماعی تدفینی روایت ہے، الگ نشان زدہ قبر کا قطعی ثبوت نہیں۔
ان کی درست تاریخ پیدائش معتبر طور پر محفوظ نہیں۔ قدیم بیان انہیں ایسا کم سن لڑکا کہتا ہے جو ابھی بلوغ کے قریب نہیں پہنچا تھا؛ اس سے کم سنی ثابت ہوتی ہے، مگر صحیح عمر نہیں۔ مشہور گیارہ سال کی عمر بعد کی زمانی ترتیب ہے، مستقل پیدائشی ریکارڈ نہیں۔ والدہ کی شناخت میں بھی اختلاف ہے: مقاتل الطالبیین انہیں سلیل بن عبداللہ بجلی کی بیٹی کا فرزند بتاتی ہے، جبکہ ایک دوسری منقول روایت والدہ کو غیر مسمّی امِّ ولد قرار دیتی ہے۔
۱۰ محرم ۶۱ھ، مطابق ۶۸۰ء، روز عاشورا حضرت عبداللہ اہل بیت کی خواتین اور کم سن افراد کے ساتھ تھے، جبکہ امام حسین علیہ السلام آخری حملے کا سامنا کر رہے تھے۔ شیخ مفید اور طبری سے منسوب بیان کے مطابق وہ اپنے چچا کی طرف دوڑے؛ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے انہیں روکنے کی کوشش کی، مگر انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو چھوڑنے سے انکار کردیا۔ ایک حملہ آور نے امام حسین علیہ السلام پر تلوار اٹھائی تو بچے نے چچا کو بچانے کے لیے ہاتھ آگے کیا اور وار سے ان کا بازو شدید زخمی ہوگیا۔
مآخذ اس پر متفق ہیں کہ وہ امام حسین علیہ السلام کے پہلو یا آغوش میں شہید ہوئے، لیکن نام اور ترتیب میں اختلاف ہے۔ ایک روایت میں تلوار چلانے والے کو بحر بن کعب اور دوسری میں ابجر بن کعب کہا گیا ہے۔ بعد کی امامی روایات کے مطابق حرملہ بن کاہل نے تیر مار کر انہیں شہید کیا، جبکہ مقاتل الطالبیین ایک غیر معین مخالف شخص کے ہاتھوں قتل کی روایت بھی محفوظ کرتی ہے۔ ذمہ دار تاریخی نتیجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنے چچا کا دفاع کیا، بازو پر شدید وار سہا اور کربلا کے آخری مرحلے میں شہید ہوئے؛ آخری قاتل کی شناخت مختلف روایات میں بدلتی ہے۔
بعد کی نسبی کتابیں ایک عبداللہ بن حسن کا نکاح سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا سے بھی بیان کرتی اور کہتی ہیں کہ رخصتی سے پہلے ان کی وفات ہوگئی۔ بعض محققین اس شوہر کو کم سن بچے کے بجائے ایک بڑے ہم نام عبداللہ یا ابو بکر کنیت والے فرزند سے متعلق سمجھتے ہیں۔ چونکہ یہ نسبت اس کم سن شہید کے لیے محفوظ طور پر متعین نہیں، اس شخصی ریکارڈ میں کوئی زوجی تعلق درج نہیں کیا گیا۔ قدیم مآخذ ان کی الگ انفرادی قبر متعین نہیں کرتے۔ کربلائی روایت انہیں امام حسین علیہ السلام کے حرم کے قریب اجتماعی طور پر مدفون ہاشمی شہداء میں یاد کرتی ہے؛ یہ اجتماعی تدفینی روایت ہے، الگ نشان زدہ قبر کا قطعی ثبوت نہیں۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
حضرت عبداللہ بن حسن علیہ السلام کربلا میں شہید ہونے والے اہل بیت کے کم سن ترین افراد میں یاد کیے جاتے ہیں۔ خیموں سے نکل کر امام حسین علیہ السلام کی حفاظت کی کوشش کا منظر خاندانی وفاداری، شجاعت اور عاشورا کے دن خاندانِ نبوت پر ہونے والے بے امتیاز تشدد کی مستقل علامت بن گیا۔
ان کا پروفائل اس لیے بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے کہ مضبوط واقعاتی تاریخ کو بعد کی نسبی آمیزش سے الگ کرنا ضروری ہے۔ امام حسن علیہ السلام کے ایک کم سن فرزند کی امام حسین علیہ السلام کے پاس شہادت مضبوط طور پر محفوظ ہے، جبکہ درست والدہ، عمر، آخری قاتل اور نکاح کی نسبت مختلف روایتوں اور ممکنہ ہم نامی کے دائرے میں رہتی ہے۔
ان کا پروفائل اس لیے بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے کہ مضبوط واقعاتی تاریخ کو بعد کی نسبی آمیزش سے الگ کرنا ضروری ہے۔ امام حسن علیہ السلام کے ایک کم سن فرزند کی امام حسین علیہ السلام کے پاس شہادت مضبوط طور پر محفوظ ہے، جبکہ درست والدہ، عمر، آخری قاتل اور نکاح کی نسبت مختلف روایتوں اور ممکنہ ہم نامی کے دائرے میں رہتی ہے۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
امام حسن مجتبیٰؑ
قوی امکان
ماخذ
Maqatil al-Talibiyyin | Abu al-Faraj al-Isfahani | Biographical entry; pagination varies by edition | https://www.masaha.org/book/view/2338/page/95 | Identity as Abd Allah ibn al-Hasan and the competing maternal reportsKitab al-Irshad narrative of Karbala | Shaykh al-Mufid | Karbala narrative; pagination varies by edition | https://al-islam.org/tragedy-karbala/battle-karbala | Young boy not yet adolescent, departure from the women, arm wound and Imam Husayn's consolation
Tarikh al-Rusul wa al-Muluk | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Events of 61 AH; pagination varies by edition | https://ketabonline.com/ar/books/6877/read?index=4612075%2F4612175%2F4612176%2F4612177&page=2928&part=5 | Final-attack narrative and the young nephew's attempt to shield Imam Husayn
Kitab al-Aghani | Abu al-Faraj al-Isfahani | Vol. 16, entry on Sukayna's marriages; pagination varies by edition | https://ketabonline.com/ar/books/10786/read?index=3818773%2F3818819&page=6074&part=16 | Preserves a marriage report concerning an Abd Allah ibn Hasan but does not securely resolve the namesake question
al-Bidaya wa al-Nihaya | Ismail ibn Kathir | Events of 61 AH; pagination varies by edition | https://www.islamweb.net/ar/library/content/59/923/ | Lists Abd Allah among the sons of Hasan killed with Imam Husayn and preserves the young-boy episode
Burial of the Martyrs of al-Taff: A Historical-Analytical Study | Warith al-Anbiya Foundation | Online study; no stable print pagination | https://www.warithanbia.com/productions/10/195 | Later collective-burial tradition near the Husayni sanctuary
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔