پیدائش کا سال اور مقام معتبر ابتدائی مآخذ میں معلوم نہیں۔ تئیس برس کی عمر کا بعد کا قول مضبوط ابتدائی شہادت نہ ہونے کے باعث اختیار نہیں کیا گیا۔
جعفر بن عقیل بن ابی طالب
PER-000181
خاندان کی شخصیت
مصدقہ
منسوب مقام
مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
جعفر بن عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ عقیل بن ابی طالب کے فرزند، امام حسین علیہ السلام کے عم زاد اور کربلا کے بنی ابی طالب شہداء میں سے تھے۔ قدیم تاریخی فہرستیں انہیں ۱۰ محرم ۶۱ ہجری، یعنی ۶۸۰ء میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شہادت پانے والوں میں شمار کرتی ہیں۔ ان کی والدہ کے نام میں ام الثغر، الخوصاء اور ام البنین جیسی مختلف صورتیں ملتی ہیں۔ ام الحسن بنت علی کے ساتھ ان کا نکاح قدیم نسبی مآخذ میں منقول ہے، جبکہ ایک ماخذ نام کو ام الحسین لکھتا اور بتاتا ہے کہ اس نکاح سے اولاد نہیں ہوئی۔ الگ قبر کی ابتدائی شناخت موجود نہیں؛ بعد کی زیارتی روایت انہیں امام حسین علیہ السلام کے روضے کے قریب بنی ہاشم کے اجتماعی مدفن سے جوڑتی ہے۔
جعفر ۱۰ محرم ۶۱ ہجری، یعنی ۶۸۰ء میں کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شہید ہوئے۔ مآخذ میں اس شخص کی تعیین پر اختلاف ہے جس کے ہاتھوں ان کی شہادت واقع ہوئی۔
الگ تاریخی قبر معلوم نہیں۔ بعد کی کربلا زیارتی روایت انہیں امام حسین علیہ السلام کے روضے کے قریب بنی ہاشم کے اجتماعی مدفن میں شمار کرتی ہے؛ یہ منسوب اجتماعی تدفین ہے، الگ قطعی قبر نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
جعفر بن عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بنو ہاشم کی طالبی و عقیلی شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا نسب جعفر بن عقیل بن ابی طالب بن عبدالمطلب تک واضح ہے، اس لیے وہ امام حسین علیہ السلام کے عم زاد تھے۔
ان کی والدہ کی شناخت میں قدیم روایتیں متفق نہیں۔ ابو الفرج اصفہانی سے منقول صورت ام الثغر بنت عامر بن ہصان عامری کلابیہ یا الخوصاء بنت الثغر ہے، جبکہ ابن اثیر کی نقل میں ام البنین بنت الشقر بن ہضاب آتا ہے۔ یہ صورتیں ایک کلابی و عامری مادری پس منظر کی طرف اشارہ کرتی ہیں، مگر ذاتی نام کی قطعی تعیین نہیں کرتیں۔ اسی لیے والدہ کی دستیاب نسبی معلومات خالی رکھے گئے اور کسی ایک نام کو یقینی والدہ نہیں بنایا گیا۔
ابن حبیب کے المحبر اور بلاذری کی انساب الاشراف میں ام الحسن بنت علی بن ابی طالب کا پہلے جعدہ بن ہبیرہ اور پھر جعفر بن عقیل سے نکاح منقول ہے۔ مصعب زبیری کے نسب قریش میں اسی زوجہ کا نام ام الحسین کی صورت میں آیا اور کہا گیا کہ جعفر سے ان کے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔ اس نامی اختلاف کے باوجود جعفر اور علی علیہ السلام کی ایک بیٹی کے درمیان نکاح کی اصل نسبت متعدد قدیم نسبی مآخذ میں قائم ہے؛ اسی لیے محفوظ ازدواجی اعتماد کا احتمالی درجہ مناسب سمجھا گیا۔
جعفر امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کربلا پہنچے اور ۱۰ محرم ۶۱ ہجری، یعنی ۶۸۰ء کے معرکے میں شہید ہوئے۔ طبرانی، ابن اثیر اور متعدد تاریخی اور کربلا کی روایتی فہرستیں ان کا نام بنی ابی طالب کے شہداء میں محفوظ کرتی ہیں۔ ان سے منسوب رجز کی ایک اہم قدیم صورت ابن اعثم کی «الفتوح» میں محفوظ ہے: اس میں وہ اپنے آپ کو ابطحی و طالبی، ہاشم و غالب کے خاندان سے قرار دیتے، اپنے خاندان کو معزز سرداروں کا خاندان کہتے اور امام حسین علیہ السلام کے بارے میں مفہوم یہ بیان کرتے ہیں کہ «یہ حسین پاکیزہ و برگزیدہ لوگوں کے سردار ہیں»۔ ابن شہرآشوب کی «مناقب آل ابی طالب» میں آخری مصرع کی صورت قدرے مختلف ہے اور مفہوم بنتا ہے کہ «یہ حسین بہترین پاکیزہ لوگوں میں سب سے پاکیزہ ہیں»۔ دونوں محفوظ صورتیں جعفر کی ہاشمی شناخت، امام حسین علیہ السلام سے وفاداری اور میدانِ کربلا میں ان کی عظمت و فضیلت کے اظہار پر متفق ہیں۔
ان کی شہادت کس شخص کے ہاتھوں ہوئی، اس کی تعیین میں مآخذ کا اختلاف ہے۔ ابن اثیر بشر بن خوط ہمدانی کا نام دیتے ہیں، جبکہ کربلا کے دوسرے تاریخی مآخذ عروہ بن عبداللہ خثعمی، عبداللہ بن عمرو خثعمی یا دوسرے نام محفوظ کرتے ہیں۔ اس اختلاف کو حل شدہ حقیقت نہیں بنایا گیا۔ یقینی نتیجہ یہی ہے کہ جعفر امام حسین علیہ السلام کی نصرت میں کربلا کے میدان میں شہید ہوئے؛ ان کی عمر تئیس برس ہونے کا بعد کا قول ابتدائی مآخذ سے مضبوط طور پر ثابت نہیں، اس لیے شامل نہیں کیا گیا۔
ان کی تدفین کے لیے کوئی الگ، ابتدائی اور نام زد قبر ثابت نہیں۔ کربلا کی بعد کی زیارتی روایت بنی ہاشم کے شہداء کو امام حسین علیہ السلام کے روضے کے قریب اجتماعی مدفن سے جوڑتی ہے اور جعفر کو اسی جماعت میں شمار کرتی ہے۔ یہ نسبت مذہبی یاد اور زیارت میں اہم ہے، مگر کسی مخصوص نقشاتی نقطے یا الگ قبر کو تاریخی ثبوت نہیں بناتی۔ ان کی نمایاں اہمیت عقیلی خاندان کی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ عملی وفاداری اور قربانی میں ہے۔
ان کی والدہ کی شناخت میں قدیم روایتیں متفق نہیں۔ ابو الفرج اصفہانی سے منقول صورت ام الثغر بنت عامر بن ہصان عامری کلابیہ یا الخوصاء بنت الثغر ہے، جبکہ ابن اثیر کی نقل میں ام البنین بنت الشقر بن ہضاب آتا ہے۔ یہ صورتیں ایک کلابی و عامری مادری پس منظر کی طرف اشارہ کرتی ہیں، مگر ذاتی نام کی قطعی تعیین نہیں کرتیں۔ اسی لیے والدہ کی دستیاب نسبی معلومات خالی رکھے گئے اور کسی ایک نام کو یقینی والدہ نہیں بنایا گیا۔
ابن حبیب کے المحبر اور بلاذری کی انساب الاشراف میں ام الحسن بنت علی بن ابی طالب کا پہلے جعدہ بن ہبیرہ اور پھر جعفر بن عقیل سے نکاح منقول ہے۔ مصعب زبیری کے نسب قریش میں اسی زوجہ کا نام ام الحسین کی صورت میں آیا اور کہا گیا کہ جعفر سے ان کے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔ اس نامی اختلاف کے باوجود جعفر اور علی علیہ السلام کی ایک بیٹی کے درمیان نکاح کی اصل نسبت متعدد قدیم نسبی مآخذ میں قائم ہے؛ اسی لیے محفوظ ازدواجی اعتماد کا احتمالی درجہ مناسب سمجھا گیا۔
جعفر امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کربلا پہنچے اور ۱۰ محرم ۶۱ ہجری، یعنی ۶۸۰ء کے معرکے میں شہید ہوئے۔ طبرانی، ابن اثیر اور متعدد تاریخی اور کربلا کی روایتی فہرستیں ان کا نام بنی ابی طالب کے شہداء میں محفوظ کرتی ہیں۔ ان سے منسوب رجز کی ایک اہم قدیم صورت ابن اعثم کی «الفتوح» میں محفوظ ہے: اس میں وہ اپنے آپ کو ابطحی و طالبی، ہاشم و غالب کے خاندان سے قرار دیتے، اپنے خاندان کو معزز سرداروں کا خاندان کہتے اور امام حسین علیہ السلام کے بارے میں مفہوم یہ بیان کرتے ہیں کہ «یہ حسین پاکیزہ و برگزیدہ لوگوں کے سردار ہیں»۔ ابن شہرآشوب کی «مناقب آل ابی طالب» میں آخری مصرع کی صورت قدرے مختلف ہے اور مفہوم بنتا ہے کہ «یہ حسین بہترین پاکیزہ لوگوں میں سب سے پاکیزہ ہیں»۔ دونوں محفوظ صورتیں جعفر کی ہاشمی شناخت، امام حسین علیہ السلام سے وفاداری اور میدانِ کربلا میں ان کی عظمت و فضیلت کے اظہار پر متفق ہیں۔
ان کی شہادت کس شخص کے ہاتھوں ہوئی، اس کی تعیین میں مآخذ کا اختلاف ہے۔ ابن اثیر بشر بن خوط ہمدانی کا نام دیتے ہیں، جبکہ کربلا کے دوسرے تاریخی مآخذ عروہ بن عبداللہ خثعمی، عبداللہ بن عمرو خثعمی یا دوسرے نام محفوظ کرتے ہیں۔ اس اختلاف کو حل شدہ حقیقت نہیں بنایا گیا۔ یقینی نتیجہ یہی ہے کہ جعفر امام حسین علیہ السلام کی نصرت میں کربلا کے میدان میں شہید ہوئے؛ ان کی عمر تئیس برس ہونے کا بعد کا قول ابتدائی مآخذ سے مضبوط طور پر ثابت نہیں، اس لیے شامل نہیں کیا گیا۔
ان کی تدفین کے لیے کوئی الگ، ابتدائی اور نام زد قبر ثابت نہیں۔ کربلا کی بعد کی زیارتی روایت بنی ہاشم کے شہداء کو امام حسین علیہ السلام کے روضے کے قریب اجتماعی مدفن سے جوڑتی ہے اور جعفر کو اسی جماعت میں شمار کرتی ہے۔ یہ نسبت مذہبی یاد اور زیارت میں اہم ہے، مگر کسی مخصوص نقشاتی نقطے یا الگ قبر کو تاریخی ثبوت نہیں بناتی۔ ان کی نمایاں اہمیت عقیلی خاندان کی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ عملی وفاداری اور قربانی میں ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
جعفر بن عقیل رضی اللہ عنہ کی اہمیت کربلا میں عقیلی خاندان کی شرکت اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بنی ابی طالب کی مشترک قربانی کو سمجھنے میں ہے۔ ان کا نام سنی تاریخی فہرستوں، نسبی کتابوں اور امامی روایتِ کربلا میں محفوظ ہے، اس لیے ان کی اصل شناخت اور کربلا میں شہادت مشترک تاریخی بنیاد رکھتی ہے۔
ان کا پروفائل ماخذی احتیاط کی مثال بھی ہے۔ والد کی مضبوط مگر ساختی طور پر خالی نسبت کو ضمنی فائل کے ذریعے رجسٹری کے لیے تجویز کیا گیا، والدہ، ان کی شہادت سے متعلق مختلف منقول ناموں اور زوجہ کے نامی اختلافات واضح رکھے گئے، اور اجتماعی زیارتی مدفن کو الگ ثابت قبر نہیں بنایا گیا۔ اس طرح اہل بیت سے نسبت اور شہادت کا احترام بھی محفوظ رہتا ہے اور غیر ثابت جزئیات تاریخ نہیں بنتیں۔
ان کا پروفائل ماخذی احتیاط کی مثال بھی ہے۔ والد کی مضبوط مگر ساختی طور پر خالی نسبت کو ضمنی فائل کے ذریعے رجسٹری کے لیے تجویز کیا گیا، والدہ، ان کی شہادت سے متعلق مختلف منقول ناموں اور زوجہ کے نامی اختلافات واضح رکھے گئے، اور اجتماعی زیارتی مدفن کو الگ ثابت قبر نہیں بنایا گیا۔ اس طرح اہل بیت سے نسبت اور شہادت کا احترام بھی محفوظ رہتا ہے اور غیر ثابت جزئیات تاریخ نہیں بنتیں۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
مصدقہ
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
ام الحسن بنت علی
قوی امکان
ماخذ
Al-Muhabbar | Ibn Habib | p. 56, in-law relations of Ali; p. 437, women with three or more husbands | https://shamela.ws/book/12205/56 and https://shamela.ws/book/12205/437 | marriage of Umm al-Hasan bint Ali to Jafar ibn Aqil after Jada ibn Hubayra and Jafar's martyrdom beside HusaynNasab Quraysh | Musab al-Zubayri | p. 43 in the accessed edition | https://shamela.ws/book/2922/43 | spouse-name variant Umm al-Husayn, marriage to Jafar ibn Aqil, and statement that she bore him no child
Ansab al-Ashraf | al-Baladhuri | Vol. 2, p. 193 in the accessed edition | https://www.masaha.org/book/view/1881/page/193 | marriage sequence of Umm al-Hasan bint Ali, Jafar's marriage, and his death with Imam Husayn
Al-Kamil fi al-Tarikh | Ibn al-Athir | Vol. 3, pp. 195-196, events of 61 AH | https://www.islamweb.net/ar/library/content/126/601/ | Jafar's mother-name tradition, martyrdom at Karbala, and one reported attribution for the person through whose action it occurred
Ibsar al-Ayn fi Ansar al-Husayn | Muhammad al-Samawi | p. 92 | https://lib.eshia.ir/27710/1/92 | maternal-name variants and alternative attribution for the person through whose action his martyrdom occurred, derived from earlier Karbala narrative material
Al-Futuh | Ibn A'tham al-Kufi | Vol. 5, p. 111 | https://lib.eshia.ir/40046/5/111 | attributed battlefield rajaz and report of Jafar's combat and martyrdom
Al-Mu'jam al-Kabir | al-Tabarani | report 2803, Husayn ibn Ali section | https://www.islamweb.net/ar/library/content/84/2779/ | independent list placing Jafar ibn Aqil among the martyrs beside Husayn in 61 AH
The Torch of Perpetual Guidance, Section Twenty-Seven | Ali Asghar Azizi Tehrani | digital section; pagination varies | https://al-islam.org/torch-perpetual-guidance-expose-ziyarat-ashura-ali-asghar-azizi-tehrani/section-twenty-seven | later pilgrimage tradition placing Banu Hashim martyrs in a collective burial near Imam Husayn; used only for attributed burial memory
Manaqib Al Abi Talib | Ibn Shahrashub | Vol. 3, p. 254 | https://lib.eshia.ir/16066/3/254 | attributed rajaz variant preserving the final praise of Imam Husayn as 'the purest of the noble and pure'; compared with Ibn A'tham's 'leader of the noblest and purest'
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔