قرآن اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں اس ریکارڈ کے لیے جانچے گئے سخت معیار کے مستند حدیثی شواہد کوئی درست تاریخِ پیدائش، سالِ پیدائش، جائے پیدائش یا بچپن کی زمانی ترتیب فراہم نہیں کرتے۔ قرآن انہیں یقینی طور پر داؤد علیہ السلام کو عطا کیے گئے بیٹے اور بعد میں ان کے جانشین کے طور پر ثابت کرتا ہے، مگر کوئی مطلق تاریخی تاریخ نہیں دیتا۔ اس لیے بائبلی یا جدید قدیم مشرقِ قریب کی زمانی ترتیب سے اخذ کی گئی قبل مسیح کی درست تاریخوں کو یقینی اسلامی پیدائشی معلومات کے بجائے بین الروایتی تعمیرِ نو سمجھنا چاہیے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات قرآن ۳۴:۱۴ میں براہِ راست ثابت ہے۔ اللہ نے ان کی موت کا فیصلہ فرمایا، جبکہ جنات اس وقت تک کام کرتے رہے اور انہیں وفات کا علم نہ ہوا جب تک زمین کے ایک جاندار نے ان کا عصا نہ کھا لیا اور وہ گر نہ پڑے۔ واقعہ صراحت کے ساتھ ثابت کرتا ہے کہ جن غیب نہیں جانتے تھے۔ آیت ان کی عمر، سالِ وفات، صحیح مقامِ وفات یا عصا کے سہارے قائم رہنے کی مدت نہیں بتاتی۔ کلاسیکی روایات میں عموماً تقریباً ایک سال کا ذکر آتا ہے، مگر قرآن ایسی مدت نہیں دیتا اور ابن کثیر تفصیلی روایت کے اہم حصوں پر اسنادی احتیاط کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی درست زمانی وفات غیر متعین ہے۔
مقام کی نوعیت: مقامِ تدفین نامعلوم۔ قرآن اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں اس ریکارڈ کے لیے جانچے گئے سخت معیار کے مستند حدیثی شواہد میں سے کوئی بھی ان کی قبر، قبرستان یا تدفین کے شہر کی شناخت نہیں کرتا۔ بیت المقدس، یروشلم، کے ساتھ ایک مضبوط متعلقہ مقامی تعلق موجود ہے۔ سنن نسائی ۶۹۳، جسے مذکورہ ایڈیشن میں صحیح قرار دیا گیا ہے، بیان کرتی ہے کہ سلیمان بن داؤد نے بیت المقدس کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد اللہ سے ایسا فیصلہ مانگا جو خدائی فیصلے کے موافق ہو، ایک منفرد سلطنت مانگی، اور اس شخص کے لیے مغفرت مانگی جو صرف نماز کی غرض سے وہاں آئے۔ یہ اسلامی روایت میں یروشلم کے ساتھ ایک اہم تعلق ثابت کرتا ہے، مگر تعمیر اور عبادت کی دلیل تدفین کی دلیل نہیں۔ چونکہ کوئی محفوظ اور مستند تدفینی روایت کسی بنیادی مزار یا درست قبر کی شناخت نہیں کرتی، اس لیے حضرت سلیمان علیہ السلام کا مقامِ تدفین نامعلوم رہتا ہے۔ جانچے گئے شواہد کی بنیاد پر کسی ملک، شہر، مزار، مختصات یا نقشہ جاتی نقطے کو مستند قبر کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
سوانح و تاریخی تعارف
حضرت سلیمان علیہ السلام سے متعلق ابتدائی قرآنی مناظر میں سے ایک فیصلہ و قضا کا ہے۔ قرآن ۲۱:۷۸-۷۹ میں داؤد اور سلیمان کو ایک تنازع کے فیصلے میں ساتھ ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ نے دونوں کو حکم اور علم عطا کیا، جبکہ اس خاص معاملے کی بہتر سمجھ سلیمان کو دی۔ یہ آیات ان کی حکمت کو خدائی عطیہ کے طور پر بیان کرتی ہیں، بغیر اس کے کہ داؤد علیہ السلام کے نبوی علم میں کوئی کمی سمجھی جائے۔
پھر سورۂ نمل حضرت سلیمان علیہ السلام کے مخلوقات کے ساتھ منفرد تعلق کو نمایاں کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور بہت سی چیزوں میں سے عطا کیا گیا۔ ان کے لشکر جنات، انسانوں اور پرندوں کی منظم فوجوں کے طور پر بیان ہوتے ہیں، جو عام سیاسی اقتدار کے بجائے اللہ کی عطا کردہ ایک غیر معمولی حکمرانی کو ظاہر کرتے ہیں۔
جب یہ لشکر چیونٹیوں کی ایک وادی سے گزرتے ہیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام ایک چیونٹی کو دوسری چیونٹیوں کو اپنے گھروں میں داخل ہونے کی تنبیہ کرتے سنتے ہیں تاکہ بے خبری میں کچلی نہ جائیں۔ وہ اس کی بات پر مسکراتے ہیں اور فوراً اس لمحے کو عبادت میں بدل دیتے ہیں، اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ انہیں اپنے اور اپنے والدین پر کی گئی نعمت کا شکر ادا کرنے اور ایسے نیک اعمال کرنے کی توفیق دے جو اسے پسند ہوں۔ یہ واقعہ غیر معمولی صلاحیت کے جواب میں نمائش کے بجائے شکر کو مرکزی مقام دیتا ہے۔
پھر ہدہد اہم سیاسی اور دینی معلومات کا ذریعہ بنتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام جب اس کی غیر حاضری محسوس کرتے اور سوال کرتے ہیں تو وہ سبا سے خبر لاتا ہے کہ وہاں ایک عورت حکمران ہے، اس کے پاس ایک عظیم تخت ہے، اور وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ حضرت سلیمان اس خبر کو بغیر جانچ کے قبول نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ اس کی سچائی آزمائی جائے گی۔
وہ سبا کی حکمران کو تحریری پیغام بھیجتے ہیں۔ قرآن بتاتا ہے کہ خط اللہ کے نام، نہایت مہربان، بہت رحم فرمانے والے، سے شروع ہوتا ہے اور اسے دعوت دیتا ہے کہ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو بلکہ فرمانبرداری کے ساتھ آؤ۔ حکمران اکیلے فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے سرداروں سے مشورہ کرتی ہے، اور قرآن اگلے مرحلے کو ایک متوازن سفارتی تبادلے کے طور پر پیش کرتا ہے۔
جب وہ تحفہ بھیجتی ہے تو حضرت سلیمان علیہ السلام اس خیال کو رد کرتے ہیں کہ مادی دولت ان کے پیغام میں موجود دینی مطالبے کا بدل بن سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں جو دیا ہے وہ ان کے لائے ہوئے مال سے بہتر ہے۔ یوں معاملہ تجارتی سودے بازی سے ہٹ کر اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے سوال کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔
حکمران کے پہنچنے سے پہلے حضرت سلیمان علیہ السلام پوچھتے ہیں کہ اس کا تخت کون ان کے پاس لا سکتا ہے۔ قرآن ۲۷:۳۹-۴۰ میں دو پیشکشوں کا ذکر ہے، جن میں ایک ایسے شخص کی ہے جس کے بارے میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ اس کے پاس کتاب کا علم تھا۔ جب تخت سلیمان کے سامنے آ جاتا ہے تو وہ فوراً اسے اپنے رب کا فضل قرار دیتے اور اسے اس بات کی آزمائش کہتے ہیں کہ آیا وہ شکر کریں گے یا نہیں۔ قرآن اس صاحبِ علم شخص کا نام نہیں بتاتا، اس لیے آصف بن برخیا جیسی بعد کی شناختیں بعد کی روایات سے تعلق رکھتی ہیں۔
پھر حکمران کو اس کا تخت بدلی ہوئی حالت میں دکھایا جاتا ہے اور بعد میں وہ ایک ایسے محل میں داخل ہوتی ہے جس کے شیشے کے فرش کو پانی سمجھ لیتی ہے۔ داستان کا اختتام رومان میں نہیں بلکہ توحید میں ہوتا ہے: وہ اعتراف کرتی ہے کہ اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا اور سلیمان کے ساتھ اللہ، رب العالمین، کے سامنے فرمانبرداری کا اعلان کرتی ہے۔ قرآن اسے کبھی بلقیس یا بلقیس کے نام سے نہیں پکارتا اور نہ یہ کہتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے نکاح کیا؛ یہ تفصیلات بعد کی تفسیری اور ادبی روایت سے تعلق رکھتی ہیں۔
دوسری آیات حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کی وسیع ساخت بیان کرتی ہیں۔ قرآن ۲۱:۸۱ اور ۳۴:۱۲ میں ہوا کے ان کے تابع کیے جانے کا ذکر ہے، جبکہ قرآن ۲۱:۸۲، ۳۴:۱۲-۱۳ اور ۳۸:۳۷-۳۸ میں جنات یا شیاطین کے اللہ کے حکم کے تحت غوطہ زنی، تعمیر اور دیگر کام کرنے کا بیان ہے۔ قرآن ۳۴:۱۲ میں پگھلے ہوئے تانبے کے جاری چشمے کا بھی ذکر ہے۔ زبان مسلسل ان قوتوں کو اللہ کی طرف سے سلیمان کے اختیار میں رکھی گئی نعمتوں کے طور پر پیش کرتی ہے۔
یہ فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ قرآن ۲:۱۰۲ جادو کے سیاق میں صراحت کرتا ہے کہ سلیمان نے کفر نہیں کیا، بلکہ شیاطین لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اس لیے سولومن کے نام سے منسوب بعد کی طلسماتی کتابیں، جادوی مہریں اور سحر کی داستانیں ان کی قرآنی نبوی قوت کی تشریح نہیں بن سکتیں۔ اسلامی نقطۂ نظر میں جنات، ہوا اور دوسری غیر معمولی نشانیوں پر ان کا اختیار اللہ کی تسخیر اور معجزے سے تعلق رکھتا ہے، جادو سے نہیں۔
سورۂ ص چند مزید واقعات بیان کرتی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ کی طرف متوجہ بندہ بتایا گیا ہے، ان کے سامنے عمدہ گھوڑے پیش کیے جاتے ہیں، تخت پر ایک جسم رکھے جانے کی آزمائش کا ذکر ہے، پھر بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرتے، مغفرت مانگتے اور ایسی سلطنت کی دعا کرتے ہیں جو ان کے بعد کسی کو نہ دی جائے۔ قرآن اس جسم کی شناخت نہیں بتاتا۔ ابتدائی تفاسیر میں انگوٹھی اور شیطان کی کہانیاں محفوظ ہیں، مگر یہ بعد کی تفسیری روایات ہیں اور انہیں یقینی قرآنی تاریخ نہیں بنایا جا سکتا۔
مستند حدیث ان کی یاد میں محفوظ زندگی کے بعض پہلو واضح کرتی ہے، مگر اپنی ضروری احتیاط بھی لاتی ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک رات بہت سی ازواج کے پاس جانے کا ارادہ کیا تاکہ ہر ایک اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا بیٹا جنے، لیکن انہوں نے «ان شاء اللہ» نہیں کہا۔ روایت کا اصل سبق اللہ پر انحصار ہے، جبکہ صحیح طرق میں عددی الفاظ مختلف ہیں: ستر، نوّے اور ایک سو سب منقول ہیں۔ اسی روایت میں ہے کہ صرف ایک عورت نے نامکمل جسم والے بچے کو جنم دیا، اس لیے یہ کسی ایک قطعی تعدادِ ازواج یا نامزد زندہ اولاد کی فہرست ثابت نہیں کرتی۔
ایک اور مجموعۂ صحیح روایات حضرت سلیمان علیہ السلام کی منفرد سلطنت کی دعا یاد دلاتا ہے۔ جب نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے والے ایک جن پر قابو پایا تو آپ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد کی اور اسی وجہ سے اس جن کو لوگوں کے سامنے بندھا ہوا نہیں رکھا۔ یہ حدیث قرآنی تصویر کو مضبوط کرتی ہے کہ سلیمان کی سلطنت عام انسانی ملکیت نہیں بلکہ ایک غیر معمولی خدائی عطیہ تھی۔
سنن نسائی کی صحیح درجے کی ایک روایت حضرت سلیمان علیہ السلام کو براہِ راست بیت المقدس سے جوڑتی ہے۔ اس میں ہے کہ سلیمان بن داؤد نے بیت المقدس کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد اللہ سے تین چیزیں مانگیں: ایسا فیصلہ جو خدائی فیصلے کے موافق ہو، ایسی سلطنت جو ان کے بعد کسی کو نہ ملے، اور اس شخص کی مغفرت جو صرف نماز کے لیے وہاں آئے۔ یہ روایت بیت المقدس اور یروشلم کے ساتھ ان کے تعلق کے لیے مضبوط اسلامی دلیل ہے، مگر یہ تعمیر اور عبادت کی تاریخ کا ثبوت ہے، مقامِ تدفین کا نہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کا قرآنی بیان غیب کے علم کی حدود پر آخری سبق دیتا ہے۔ قرآن ۳۴:۱۴ میں ہے کہ جب اللہ نے ان کی وفات کا فیصلہ فرمایا تو جنات کام کرتے رہے، یہاں تک کہ زمین کے ایک جاندار نے ان کا عصا کھا لیا اور وہ گر پڑے۔ تب انہیں معلوم ہوا کہ سلیمان وفات پا چکے ہیں۔ آیت صاف بتاتی ہے کہ اگر جن غیب جانتے ہوتے تو ذلت والے کام میں باقی نہ رہتے۔ کلاسیکی روایات میں اکثر یہ اضافہ ملتا ہے کہ وہ تقریباً ایک سال عصا کے سہارے کھڑے رہے، مگر قرآن کوئی مدت نہیں بتاتا اور ابن کثیر اس تفصیلی توسیع کے اہم حصوں پر اسنادی تنقید کے ساتھ احتیاط کرتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی درست تاریخِ پیدائش، سالِ پیدائش، تخت نشینی، مدتِ حکومت، سالِ وفات، عمرِ وفات یا مستند قبر قرآن یا اس ریکارڈ کے لیے جانچی گئی سخت معیار کی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ ان کی والدہ بے نام ہیں، مستند روایات انفرادی ازواج کی شناخت ثابت نہیں کرتیں، اور زندہ رہنے والی اولاد کی محفوظ فہرست نہیں بنائی جا سکتی۔ بیت المقدس ایک مضبوط طور پر ثابت متعلقہ مقام ہے، مگر یروشلم سے تعلق تدفین کی دلیل نہیں۔ یقینی بات قرآنی تصویر ہے: ایک ایسے نبی حکمران کی جس کا علم، اقتدار، سفارت، غیر معمولی نشانیاں اور وفات سب شکر، توبہ اور اللہ پر مکمل انحصار کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
سبا کا واقعہ انہیں قرآنی سفارت کاری کی روشن ترین مثالوں میں شامل کرتا ہے۔ ہدہد معلومات لاتا ہے اور وہ جانچی جاتی ہیں؛ تحریری دعوت اللہ کے نام سے شروع ہوتی ہے؛ مادی تحفہ دینی مسئلے کا بدل بننے کے طور پر رد ہوتا ہے؛ غیر معمولی قوت دوبارہ خدائی فضل کی طرف منسوب کی جاتی ہے؛ اور حکمران کا آخری جواب اللہ کے سامنے فرمانبرداری ہے۔ بعد کا ادب اسے بلقیس کہہ سکتا اور ملاقات کو تفصیل دے سکتا ہے، مگر قرآنی بیان ان اضافوں کے بغیر مکمل ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی داستان جادو اور غیب کے بارے میں اسلامی تعلیم میں بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآن ۲:۱۰۲ انہیں کفر سے صراحت کے ساتھ بری کرتا اور ان کی خدائی عطا کردہ سلطنت کو شیاطین کی جادو کی تعلیم سے جدا کرتا ہے۔ پھر قرآن ۳۴:۱۴ دکھاتا ہے کہ جن ان کی وفات سے بے خبر کام کرتے رہے، یہاں تک کہ عصا گر گیا۔ یہ دونوں آیات ایک طرف سلیمان کو جادوگر بنانے کی تصویر رد کرتی ہیں اور دوسری طرف جنات کے مستقل علمِ غیب کے دعوے کو باطل کرتی ہیں۔
ہوا، جنات کی محنت، پرندوں کی بولی، چیونٹی کا واقعہ، پگھلا تانبا اور سلطنت کے غیر معمولی کاموں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو بعد کی اسلامی صوفیانہ، ادبی اور امامی روایت میں بھی بہت نمایاں مقام دیا۔ ان روایات نے خاص طور پر انگوٹھی، تخت پر جسم، جنات اور سبا کی حکمران سے متعلق قصے بہت بڑھائے۔ ان کی ثقافتی و تاریخی اہمیت اپنی جگہ حقیقی ہے، مگر وہ ایک زیادہ محدود اور واضح قرآنی مرکز کے گرد تفسیری اور عقیدتی تہیں ہیں۔
آخر میں، صحیح درجے کی وہ روایت جو حضرت سلیمان علیہ السلام کو بیت المقدس کی تکمیل سے جوڑتی ہے، اسلامی مقدس جغرافیے میں انہیں دائمی مقام دیتی ہے۔ اس سے عبادت اور تعمیر کے حوالے سے یروشلم کے ساتھ ان کا مضبوط تعلق ثابت ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ مستند تدفینی روایت کی عدم موجودگی یہ تقاضا کرتی ہے کہ زندگی سے وابستہ مقدس مقام اور ثابت شدہ قبر کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔
خاندانی روابط
ماخذ
Qur'an | Divine revelation; Quran.com | Q 2:102 | https://quran.com/2/102 | حضرت سلیمان کو کفر سے صراحت کے ساتھ بری کرتا اور ان کی سلطنت کو شیاطین کی جادو کی تعلیم سے الگ کرتا ہےQur'an | Divine revelation; Quran.com | Q 21:78-82 | https://quran.com/21/78-82 | داؤد اور سلیمان کا فیصلہ؛ دونوں کو حکم اور علم؛ ہوا اور غوطہ زن یا کام کرنے والے شیاطین سلیمان کے تابع
Qur'an | Divine revelation; Quran.com | Q 27:15-19 | https://quran.com/27/15-19 | داؤد اور سلیمان کو علم؛ جانشینی؛ پرندوں کی بولی؛ لشکر؛ چیونٹی کا واقعہ؛ شکر کی دعا
Qur'an | Divine revelation; Quran.com | Q 27:20-44 | https://quran.com/27/20-44 | ہدہد، سبا کی حکمران، خبر کی جانچ، بسم اللہ والا خط، تحفہ رد کرنا، تخت کا واقعہ، شیشے کا محل اور اللہ کے سامنے فرمانبرداری
Qur'an | Divine revelation; Quran.com | Q 34:12-14 | https://quran.com/34/12-14 | ہوا، پگھلا تانبا، جنات کی محنت و تعمیر، عصا کھانے والے جاندار سے وفات ظاہر؛ جن غیب نہیں جانتے
Qur'an | Divine revelation; Quran.com | Q 38:30-40 | https://quran.com/38/30-40 | سلیمان داؤد کو عطا؛ اوّاب؛ گھوڑے؛ تخت پر جسم کی آزمائش؛ مغفرت کی دعا؛ منفرد سلطنت؛ ہوا اور جن؛ اللہ سے قرب
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 3423; Book of Prophets | https://sunnah.com/bukhari:3423 | نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جن پر قابو پانے کے بعد سلیمان کی منفرد سلطنت کی دعا یاد کی
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 3424; Book of Prophets | https://sunnah.com/bukhari:3424 | کثرتِ ازواج کی روایت؛ ان شاء اللہ کہنے کا سبق؛ ایک طریق میں ستر اور نوّے کو زیادہ درست کہا گیا
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 5242; Book of Marriage | https://sunnah.com/bukhari:5242 | متوازی کثرتِ ازواج روایت جس میں ایک سو کا عدد؛ ایک نامکمل بچہ؛ عددی اختلاف کا ثبوت
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 6639; Oaths and Vows | https://sunnah.com/bukhari:6639 | متوازی روایت میں نوّے عورتیں؛ مستند طرق کے اندر عددی اختلاف کی تصدیق
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 461 | https://sunnah.com/bukhari:461 | جن نے نبی کی نماز میں خلل ڈالنے کی کوشش کی؛ سلیمان کی منفرد سلطنت کی دعا یاد کی گئی
Sunan al-Nasa'i | Ahmad ibn Shu'ayb al-Nasa'i | Hadith 693; cited edition grade Sahih | https://sunnah.com/nasai:693 | سلیمان بن داؤد بیت المقدس مکمل کرتے اور حکم، منفرد سلطنت اور نماز سے متعلق مغفرت مانگتے ہیں
Tafsir al-Tabari | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Commentary on Q 38:34; displayed p. 455, pagination varies by printed edition | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/tabary/sura38-aya34.html | ابتدائی تفسیر تخت پر جسم کی آزمائش کے لیے شیطان اور انگوٹھی کی توضیحات محفوظ کرتی ہے؛ اختلافی تاریخ کے طور پر، قرآنی حقیقت نہیں
Tafsir al-Tabari | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Commentary on Q 34:14; displayed p. 429, pagination varies by printed edition | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/tabary/sura34-aya14.html | ابتدائی وفات اور عصا روایات، جن میں ایک سال کی روایات بھی؛ ماخذی تاریخ کا ثبوت
Tafsir Ibn Kathir | Isma'il ibn 'Umar Ibn Kathir | Commentary on Q 34:14; displayed p. 429, pagination varies by edition | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/katheer/sura34-aya14.html | تفصیلی مدت والی مرفوع روایت پر سوال اٹھاتے اور بیشتر گرد و پیش کے مواد کو اہلِ کتاب کی نقل قرار دیتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir | Isma'il ibn 'Umar Ibn Kathir | Commentary on Q 27:23; displayed p. 379, pagination varies by edition | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/katheer/sura27-aya23.html | سبا کی حکمران کے بعد کے نام اور نسب کی روایات؛ واضح کرتا ہے کہ بلقیس کی تفصیل تفسیری تہ سے ہے
Tafsir al-Qurtubi | Muhammad ibn Ahmad al-Qurtubi | Commentary on Q 27:23; pagination varies by edition | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/qortobi/sura27-aya23.html | بلقیس اور نسب کی کلاسیکی روایات؛ قبولیت اور اختلاف کے ثبوت کے طور پر استعمال
BELQIS | Gholam-Hosayn Yusofi, Encyclopaedia Iranica | Vol. IV, Fasc. 2, pp. 129-130 | https://www.iranicaonline.org/articles/belqis-the-queen-of-sheba-saba-whose-meetings-with-solomon-solayman-are-a-favorite-theme-in-persian-and-arabic-literat/ | علمی تصدیق کہ نہ قرآن نہ عہد نامہ قدیم ملکہ کو بلقیس نام دیتا ہے؛ بعد کی ادبی توسیع کا خلاصہ
HARUT and MARUT | Alireza Shapur Shahbazi, Encyclopaedia Iranica | Vol. XII, Fasc. 1, pp. 20-22 | https://www.iranicaonline.org/articles/harut-and-marut/ | قرآن 2:102 اور سلیمان کو جادو سے متعلق کفر سے بری کرنے کا علمی پس منظر
The Making of the Last Prophet — chapter 'Solomon' | reconstruction/study of early Islamic prophetic narrative; JSTOR | chapter pp. 161-171 | https://www.jstor.org/stable/j.ctv31jm8gf.20 | ابتدائی اسلامی نبوی بیانیے میں سلیمان کا جدید علمی تجزیہ اور قرآنی نبی و بعد کی افسانوی توسیع کا فرق
An account of Sulayman | Muhammad Baqir al-Majlisi, Hayat al-Qulub; Al-Islam.org | later Imami devotional compilation; pagination varies online | https://al-islam.org/hayat-al-qulub-vol-1-stories-prophets-muhammad-baqir-majlisi/account-sulayman | وسیع بعد کی روایات پر مشتمل امامی قبولیت کی تاریخ؛ صرف بعد کی روایت کی حدیں شناخت کرنے کے لیے، حاکم دلیل کے طور پر نہیں
سنن نسائی | حدیث ۶۹۳، صحیح درجہ | https://sunnah.com/nasai:693 | حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے بیت المقدس کی تعمیر مکمل کرنے کا مستند اسلامی تعلق؛ مدفن کا ثبوت نہیں
یونیسکو | مسجد اقصیٰ / حرم شریف، قدیم شہر القدس | https://whc.unesco.org/document/221350 | موجودہ مقام اور حرم کے حدود و شناخت کی دستاویز؛ تدفین کی دلیل نہیں
ویکی ڈیٹا | مسجد اقصیٰ / حرم شریف | https://www.wikidata.org/wiki/Q41799263 | موجودہ نقشاتی نقطہ اور القدس میں مقام؛ تدفین کی تاریخی قطعیت کا ثبوت نہیں
تصویری گیلری
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔