قرآن حضرت مریم علیہا السلام کی ولادت کا بیان دیتا ہے مگر کوئی تقویمی تاریخ یا صحیح جائے پیدائش نہیں بتاتا۔ قرآن ۳:۳۵-۳۶ کہتا ہے کہ عمران کی اہلیہ نے اپنے بطن کے بچے کو اللہ کی خدمت کے لیے وقف کرنے کی نذر مانی، پھر ایک لڑکی کو جنم دیا، اس کا نام مریم رکھا اور اس کے اور اس کی نسل کے لیے الٰہی حفاظت مانگی۔ قرآن ۳:۳۷ بتاتا ہے کہ اللہ نے مریم علیہا السلام کو حسنِ قبول بخشا اور انہیں اچھی نشوونما دی۔ قرآن یا صحیح حدیث کوئی متعین سال، عمر، شہر یا مضبوط مطلق زمانی ترتیب نہیں دیتے، اس لیے بعد کی زمانی تعمیرات کو یقینی پیدائشی معلومات کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
حضرت مریم علیہا السلام
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں زیرِ نظر قرآن اور سخت معیار پر صحیح حدیث کے شواہد ان کی تاریخِ وفات، عمرِ وفات، سببِ وفات یا صحیح مقامِ وفات بیان نہیں کرتے۔ قرآن ۲۳:۵۰ کہتا ہے کہ مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے کو ایک بلند، ہموار اور جاری پانی والی جگہ میں پناہ دی گئی، مگر کلاسیکی مفسرین اس مقام کے بارے میں مختلف ہیں اور یہ آیت وفات کی خبر نہیں۔ یروشلم کی بعد کی دورمیشن روایات اور افسس کی آخری رہائش کی روایات ان کے آخری ایام کو مختلف انداز سے بیان کرتی ہیں۔ اس لیے صحیح اسلامی زمانی ترتیب میں ان کی وفات کی تفصیل غیر حل شدہ رہتی ہے۔
مقام کی نوعیت: متنازع / بعد کی مقدس جغرافیائی روایات؛ کوئی صحیح اسلامی تدفین ثابت نہیں۔ حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں زیرِ نظر نہ قرآن اور نہ سخت معیار پر صحیح حدیث ان کی قبر کی جگہ متعین کرتی ہے۔ ایک بڑی قدیم مسیحی روایت یروشلم کی وادیِ قدرون یا گتسمنی میں ایک چٹان تراش قبر کو مقبرۂ مریم کے طور پر محترم مانتی ہے۔ جدید علمی تحقیق اس زیارت گاہ کی مسلسل تعظیم اور تاریخی ارتقا کو دستاویزی شکل دیتی ہے۔ ایک الگ اور بعد کی روایت مغربی ترکیہ میں افسس کے قریب ایک گھر کو مریم علیہا السلام کی آخری رہائش اور وفات سے جوڑتی ہے۔ ابتدائی دورمیشن روایات کے تنقیدی مطالعے عموماً یروشلم کی روایت کو پہلے کا اور افسس کی روایت کو تاریخی طور پر بہت بعد کا اور کمزور سمجھتے ہیں۔ یہ روایات مریم علیہا السلام کی مقدس یاد کی تاریخ کے لیے اہم شواہد ہیں، مگر کسی اسلامی قبر کی توثیق نہیں کرتیں۔ چونکہ اسلامی بنیادی مصادر تدفین کی جگہ متعین نہیں کرتے اور بعد کی روایات بھی یکساں نہیں، اس لیے کسی ایک مزار، شہر، مختص مقام یا نقشہ جاتی نقطے کو مریم علیہا السلام کی ثابت شدہ قبر کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
سوانح و تاریخی تعارف
داستان کا آغاز عمران کی اہلیہ سے ہوتا ہے۔ قرآن ۳:۳۵ میں وہ اپنے بطن کے بچے کو اللہ کی خدمت کے لیے وقف کرنے کی نذر مانتی ہیں۔ بچی کی ولادت پر قرآن ۳:۳۶ نام ’’مریم‘‘ محفوظ کرتا ہے اور ان کی والدہ کی یہ دعا بھی کہ مریم اور ان کی نسل شیطان کے شر سے محفوظ رہیں۔ قرآن والد کے طور پر عمران کا نام دیتا ہے لیکن والدہ کا ذاتی نام نہیں بتاتا۔ حنہ یا حنہ بنت فاقوذ کا نام کلاسیکی تفسیر میں ملتا ہے، اس لیے اسے تفسیری روایت کے طور پر ہی بیان کرنا چاہیے۔
صحیح حدیث ان کی والدہ کی حفاظت والی دعا کو خاص اہمیت دیتی ہے۔ صحیح بخاری میں آتا ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے کو پیدائش کے وقت شیطان کے چھونے سے خصوصی حفاظت ملی۔ یہ روایت قرآنی دعا کے ساتھ معنی کا مضبوط ربط قائم کرتی ہے، مگر اس کے ساتھ بعد کی غیر ثابت نسبی تفصیلات شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔
پھر اللہ حضرت مریم علیہا السلام کو ’’حسنِ قبول‘‘ کے ساتھ قبول فرماتا، عمدہ نشوونما دیتا اور حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میں رکھتا ہے۔ قرآن ۳:۴۴ بعد میں ان قلموں کے ڈالنے کا ذکر کرتا ہے جن سے یہ طے ہونا تھا کہ مریم علیہا السلام کی کفالت کون کرے گا۔ اس لیے زکریا علیہ السلام کا تعلق ان سے سرپرستی، تعلیم اور دینی نگہداشت کا ہے، حیاتیاتی پدریت کا نہیں۔
اس کے بعد ان کی زندگی کا نہایت روحانی منظر آتا ہے۔ جب بھی حضرت زکریا علیہ السلام مریم علیہا السلام کے محراب، یعنی عبادت کے مقام، میں داخل ہوتے تو ان کے پاس رزق پاتے۔ وہ پوچھتے کہ یہ کہاں سے آیا، اور مریم علیہا السلام جواب دیتیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے؛ اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ قرآن صرف ’’رزق‘‘ کہتا ہے۔ طبری اور ابن کثیر سمیت بہت سے کلاسیکی مفسرین بے موسم پھلوں کی روایت نقل کرتے ہیں، اور ابن کثیر صراحت کرتے ہیں کہ اس میں اولیا و صالحین کی کرامات کی دلیل ہے۔
قرآن اس منظر کے فوراً بعد کہتا ہے: ’’اسی موقع پر زکریا نے اپنے رب سے دعا کی‘‘ اور نیک اولاد مانگی۔ امام طبری لکھتے ہیں کہ مریم علیہا السلام کے پاس ایسی عطا دیکھ کر جو عام انسانی اسباب کے بغیر پہنچی، حضرت زکریا علیہ السلام کو امید ہوئی کہ بڑھاپے اور بانجھ اہلیہ کے باوجود اللہ انہیں بھی اولاد دے سکتا ہے۔ ابن کثیر بھی یہی ربط بیان کرتے ہیں، جبکہ قرطبی کہتے ہیں کہ مریم علیہا السلام کا یہ غیر معمولی رزق زکریا علیہ السلام کی دعا کا سبب بنا۔ اگلی آیت میں فرشتے انہیں نماز میں کھڑے ہوئے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دیتے ہیں۔ یوں قرآنی ترتیب کرامتِ مریم، امیدِ زکریا، دعا اور قبولیت کو بہت قریب جوڑتی ہے۔ محتاط دینی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ کے صالح بندے پر ظاہر ہونے والی خاص عطا ایک نبی کے دل میں امید پیدا کرتی ہے اور وہ اسی عبادت کے ماحول میں اللہ سے اپنی حاجت مانگتا ہے
حضرت مریم علیہا السلام کی روحانی فضیلت پھر براہِ راست بیان ہوتی ہے۔ قرآن ۳:۴۲ میں فرشتے انہیں بتاتے ہیں کہ اللہ نے انہیں منتخب کیا، پاکیزہ بنایا اور جہان کی عورتوں پر برگزیدہ کیا۔ اگلی آیت انہیں اطاعت، سجدہ اور رکوع کی تاکید کرتی ہے۔ یوں ان کا مقام صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہونے سے نہیں، بلکہ اپنی عبادت، طہارت اور فرمانبرداری سے بھی قائم ہے۔
قرآن ۳:۴۵-۴۷ میں انہیں مسیح عیسیٰ ابن مریم کی بشارت ملتی ہے۔ مریم علیہا السلام کا سوال صاف ہے: جب کسی مرد نے انہیں چھوا ہی نہیں تو بچہ کیسے ہوگا؟ قرآنی جواب اس حمل کو اللہ کی براہِ راست قدرت کا معجزہ قرار دیتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت میں کسی انسانی باپ کو شامل نہیں کرتا۔
سورۂ مریم اسی واقعے کو زیادہ ذاتی انداز میں بیان کرتی ہے۔ مریم علیہا السلام اپنے گھر والوں سے الگ مشرقی سمت ایک جگہ چلی جاتی ہیں، فرشتے سے ملاقات ہوتی ہے اور وہ فوراً رحمان کی پناہ مانگتی ہیں۔ انہیں پاکیزہ بیٹے کی بشارت دی جاتی ہے، پھر حمل ٹھہرتا ہے اور وہ ایک دور مقام پر چلی جاتی ہیں۔ دردِ زہ انہیں کھجور کے تنے تک لے آتا ہے، جہاں ان کی تکلیف، غم نہ کرنے کی تسلی، نیچے جاری پانی، تازہ پکی کھجوریں اور کھانے پینے کی ہدایت بیان ہوتی ہے۔
پھر حضرت مریم علیہا السلام نومولود کو اٹھائے اپنی قوم کے پاس واپس آتی ہیں۔ لوگ سخت الزام لگاتے اور انہیں ’’ہارون کی بہن‘‘ کہتے ہیں۔ وہ عام کلام سے اپنا دفاع نہیں کرتیں بلکہ بچے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ شیر خوار حضرت عیسیٰ علیہ السلام بول کر خود کو اللہ کا بندہ، کتاب پانے والا، نبی، بابرکت، نماز و زکوٰۃ کا مامور اور اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا قرار دیتے ہیں۔ صحیح مسلم بعد میں ’’ہارون کی بہن‘‘ کی وضاحت یہ محفوظ کرتا ہے کہ پہلے لوگ اپنے افراد کے نام سابقہ انبیا اور صالحین کے ناموں پر رکھتے تھے، اس لیے یہ فقرہ مریم علیہا السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہارون علیہ السلام کی حقیقی بہن نہیں بناتا۔
ولادت کے واقعے کے بعد بھی قرآن مریم علیہا السلام کے مقام کا دفاع جاری رکھتا ہے۔ ان پر عظیم بہتان کی مذمت کی جاتی ہے، انہیں صدیقہ کہا جاتا ہے، ان کی پاک دامنی اور اللہ کے کلمات و کتابوں پر ایمان کی تعریف ہوتی ہے اور انہیں ان کے بیٹے کے ساتھ نشانی قرار دیا جاتا ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایات بھی مریم بنت عمران کو افضل خواتین اور کمال پانے والی خواتین میں شمار کرتی ہیں۔ قرونِ وسطیٰ کے مسلم علماء میں ان کی نبوت کے بارے میں واقعی اختلاف رہا؛ محفوظ عمومی تعبیر یہی ہے کہ وہ اسلام کی عظیم ترین صالح اور صدیقہ خواتین میں سے ہیں، جبکہ نبوت ایک علمی اختلاف رہا۔
حضرت مریم علیہا السلام کی آخری زندگی ان کی ابتدائی داستان جتنی واضح نہیں۔ قرآن ۲۳:۵۰ کہتا ہے کہ اللہ نے انہیں اور ان کے بیٹے کو ایسی بلند جگہ پناہ دی جہاں قرار اور جاری پانی تھا، مگر آیت کسی موجودہ شہر یا مقام کی حتمی شناخت نہیں کرتی اور نہ وفات کا ذکر کرتی ہے۔ بنیادی اسلامی مصادر ان کی تاریخِ وفات، عمر، سببِ وفات یا قبر متعین نہیں کرتے۔ یروشلم کا مقبرۂ مریم اور افسس کی بعد کی روایت مذہبی و تاریخی یادداشت میں اہم ہیں، مگر انہیں ثابت شدہ اسلامی تدفین نہیں کہا جا سکتا۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
محراب میں رزق کا واقعہ مسلم روحانیت میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام مریم علیہا السلام کے پاس رزق پاتے اور وہ اسے اللہ کی طرف منسوب کرتیں۔ ابن کثیر اس واقعے کو کراماتِ اولیا کی دلیل کہتے ہیں۔ طبری، ابن کثیر اور قرطبی پھر اسی غیر معمولی رزق کو حضرت زکریا علیہ السلام کی فوری دعا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت سے جوڑتے ہیں۔ اس لیے یہ واقعہ اس معنی کی مضبوط قرآنی مثال ہے کہ کسی صالح بندے پر اللہ کی خاص عطا دیکھنا انسان کے دل میں اللہ کی قدرت سے نئی امید پیدا کر سکتا ہے اور اسے دعا کی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔
حضرت مریم علیہا السلام کی مادریت اسلامی عقیدے کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ قرآن کسی انسانی باپ کے بغیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کی تصدیق کرتا، مریم علیہا السلام پر بہتان کو سختی سے رد کرتا اور ساتھ ہی انہیں صدیقہ کہہ کر ماں اور بیٹے دونوں کی انسانیت واضح رکھتا ہے۔ یوں ان کی داستان معجزہ، پاک دامنی اور قدرتِ الٰہی کو خالص توحید کے ساتھ جمع کرتی ہے۔
صحیح احادیث مریم بنت عمران کو افضل خواتین اور کمال پانے والی خواتین میں شمار کر کے انہیں نسوانی روحانی عظمت کی بڑی مثال بناتی ہیں۔ ان کی نبوت کے بارے میں قرونِ وسطیٰ کا علمی اختلاف بھی بتاتا ہے کہ مسلم علماء نے ان کے بلند مقام کو کتنی سنجیدگی سے لیا، اگرچہ قرآن کا ان کے لیے صریح لقب ’’صدیقہ‘‘ ہے۔
مسلم-مسیحی مکالمے میں بھی حضرت مریم علیہا السلام ایک بڑی مشترک مگر مختلف انداز سے سمجھی جانے والی شخصیت ہیں۔ دونوں روایات ان کی غیر معمولی تعظیم کرتی ہیں، جبکہ قرآن انہیں اپنے مخصوص تصورِ نبوت اور توحید کے اندر بیان کرتا ہے۔ یروشلم اور افسس کی بعد کی مقدس روایات ان کی وسیع تاریخی یادداشت دکھاتی ہیں، مگر انہیں قرآن و صحیح حدیث سے ثابت زندگی اور تدفین کے حقائق سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
خاندانی روابط
ماخذ
Qur'an | Divine revelation; Quran.com | Q 3:35-47 | https://quran.com/3/35-47 | عمران کی اہلیہ کی نذر؛ مریم کی ولادت/نام؛ حفاظت کی دعا؛ زکریا کی کفالت؛ محراب کا رزق؛ انتخاب/پاکیزگی؛ عیسیٰ کی بشارتQur'an | Divine revelation; Quran.com | Q 19:16-34 | https://quran.com/19/16-34 | کنارہ کشی، روح/فرشتے کی بشارت، کنواری حالت میں حمل، ولادت، کھجور/پانی/کھجوریں، قوم کے پاس واپسی، شیر خوار عیسیٰ کا کلام
Qur'an | Divine revelation; Quran.com | Q 4:156 | https://quran.com/4/156 | مریم کے خلاف کہے گئے عظیم بہتان کی مذمت
Qur'an | Divine revelation; Quran.com | Q 5:75 | https://quran.com/5/75 | مریم کو صدیقہ کہا گیا؛ مریم اور عیسیٰ کی انسانی حیثیت پر زور
Qur'an | Divine revelation; Quran.com | Q 21:91 | https://quran.com/21/91 | مریم کی پاک دامنی؛ مریم اور ان کے بیٹے کو جہانوں کے لیے نشانی بنایا گیا
Qur'an | Divine revelation; Quran.com | Q 23:50 | https://quran.com/23/50 | مریم اور ان کے بیٹے کو نشانی بنایا گیا اور جاری پانی والی بلند جگہ میں پناہ دی گئی
Qur'an | Divine revelation; Quran.com | Q 66:12 | https://quran.com/66/12 | مریم صراحت سے عمران کی بیٹی؛ پاک دامنی، اللہ کے کلمات/کتب پر ایمان، فرمانبرداری
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 3431, Book of Prophets | https://sunnah.com/bukhari/60/102 | ولادت کے وقت مریم اور ان کے بچے کو شیطان کے چھونے سے استثنا؛ قرآن ۳:۳۶ کی حفاظتی دعا سے تعلق
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 3432, Book of Prophets | https://sunnah.com/bukhari/60/103 | مریم بنت عمران بہترین خواتین میں تعریف شدہ
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 3769 | https://sunnah.com/bukhari/62/114 | مریم بنت عمران اور آسیہ کمال پانے والی خواتین میں
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 2135, Book of Manners | https://sunnah.com/muslim/38/13 | ’’ہارون کی بہن‘‘ کی صحیح وضاحت: لوگ پہلے انبیاء اور صالحین کے نام پر نام رکھتے تھے
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 2430, Book of Merits | https://sunnah.com/muslim:2430 | مریم بنت عمران بہترین خواتین میں تعریف شدہ
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 2431, Book of Merits | https://sunnah.com/muslim/44/102 | مریم اور آسیہ کمال پانے والی خواتین میں
Tafsir al-Tabari | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Commentary on Q 3:37; displayed p. 54, printed pagination varies | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/tabary/sura3-aya37.html | حسنِ قبول، زکریا کی کفالت اور مریم کے غیر معمولی رزق پر ابتدائی تفسیر
Tafsir al-Tabari | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Commentary on Q 3:42; printed pagination varies | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/tabary/sura3-aya42.html | انتخاب/پاکیزگی اور مریم کے مقام سے متعلق ابتدائی روایات
Tafsir al-Tabari | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Commentary on Q 19:28; printed pagination varies | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/tabary/sura19-aya28.html | ’’ہارون کی بہن‘‘ کے ابتدائی تفسیری اقوال اور صحیح مسلم کی وضاحت سے ہم آہنگ روایت
Tafsir Ibn Kathir | Isma'il ibn 'Umar Ibn Kathir | Commentary on Q 3:35; displayed p. 54, printed pagination varies | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/katheer/sura3-aya35.html | والدہ کے نام حنہ/حنہ بنت فاقوذ کی بعد کی روایت اور نذر؛ تفسیری نسبت کے طور پر
Tafsir Ibn Kathir | Isma'il ibn 'Umar Ibn Kathir | Commentary on Q 3:42; printed pagination varies | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/katheer/sura3-aya42.html | مریم کا انتخاب، عبادت اور حدیثی فضائل
Tafsir Ibn Kathir | Isma'il ibn 'Umar Ibn Kathir | Commentary on Q 5:75; printed pagination varies | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/katheer/sura5-aya75.html | صدیقہ کو مریم کا بلند ترین صریح مرتبہ قرار دے کر نبوت کی نفی؛ قرونِ وسطیٰ کے اختلاف کا ایک رخ
Tafsir al-Qurtubi | Muhammad ibn Ahmad al-Qurtubi | Commentary on Q 5:75; displayed p. 120, printed pagination varies | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/qortobi/sura5-aya75.html | مریم کی نبوت کے خلاف استدلال کا ذکر، مگر یہ سوال بھی کہ کیا صدیقہ ہونا نبوت کو خارج کرتا ہے
Al-Mizan fi Tafsir al-Qur'an | Muhammad Husayn al-Tabataba'i | Commentary on Q 3:35-41 | https://al-islam.org/al-mizan-exegesis-quran-volume-5-sayyid-muhammad-husayn-tabatabai/surah-aal-imran-verses-35-41 | مریم کے حسنِ قبول، زکریا کی کفالت اور محراب کے رزق کا امامی زاویے سے تجزیہ
Al-Mizan fi Tafsir al-Qur'an | Muhammad Husayn al-Tabataba'i | Commentary on Q 3:42-60 | https://al-islam.org/al-mizan-exegesis-quran-volume-6-sayyid-muhammad-husayn-tabatabai/sura-aali-imran-verses-42-60 | مریم کے انتخاب، فرشتوں سے خطاب اور کنواری حالت میں حمل کا امامی زاویے سے تجزیہ
Sūrat Maryam (Q. 19): Comforting Muhammad | M.A.S. Abdel Haleem, Journal of Qur'anic Studies 22.2 (2020), pp. 60-85 | https://doi.org/10.3366/jqs.2020.0425 | سورۂ مریم کا جدید علمی مطالعہ؛ مریم کو اہم قرآنی شخصیت تسلیم کرتا اور سورت کی ساخت/مقصد کا تجزیہ کرتا ہے
The Islamic Mary as a Protagonist and Qur'anic Daughter | Younus Mirza, The Muslim World 76.2 (2022), pp. 98-106 | https://journals.sagepub.com/doi/10.1177/00209643221081678 | مریم کو اپنی مستقل حیثیت رکھنے والی قرآنی مرکزی شخصیت قرار دینے والا جدید علمی استدلال
Mary's Prophethood Reassessed | modern peer-reviewed study, Religions 15.4 (2024), article 461 | https://www.mdpi.com/2077-1444/15/4/461 | مریم کی نبوت پر حقیقی قرونِ وسطیٰ کے اسلامی اختلاف کو دستاویزی شکل دیتا ہے، بشمول ابن حزم، قرطبی، ابن کثیر اور اشعری نسبت
Land, fertility rites and the veneration of female saints: Exploring body rituals at the Tomb of Mary in Jerusalem | Nurit Stadler, Anthropological Theory 15.3 (2015), pp. 293-316 | https://doi.org/10.1177/1463499615570779 | یروشلم کے فعال مقبرۂ مریم کی مقدس زیارت گاہ کی روایت کا ہم عصر علمی ثبوت؛ روایت، اسلامی تدفین کی توثیق نہیں
The Earliest Dormition Traditions: Their Nature and Shape | Stephen J. Shoemaker, Oxford Academic | chapter in Ancient Traditions of the Virgin Mary's Dormition and Assumption | https://academic.oup.com/book/27239/chapter/196834097 | ابتدائی یروشلم دورمیشن روایت اور بہت بعد کی/کمزور افسس آخری زندگی کی روایت کا تنقیدی مطالعہ
House of Virgin Mary | Republic of Türkiye Ministry of Culture and Tourism | official current heritage page | https://www.ktb.gov.tr/EN-113810/house-of-virgin-mary.html | جدید افسس زیارت/آخری رہائش کی روایت کا سرکاری ثبوت؛ ثابت شدہ اسلامی تدفین نہیں
آکسفورڈ اکیڈمک | قدیم یروشلمی روایت اور گتسمنی میں مریم کے مقبرے کی تعظیم | https://academic.oup.com/book/27239/chapter/196838069 | قدیم مقدس روایت اور مقام کی تاریخی اہمیت؛ مستند اسلامی قبر کی توثیق نہیں
اوپن اسٹریٹ میپ / میپ کارٹا | مقبرۂ مریم، گتسمنی، القدس | https://mapcarta.com/W280346241 | موجودہ نقشاتی مقام؛ تدفین کی تاریخی قطعیت کا ثبوت نہیں
Tafsir Ibn Kathir | Isma'il ibn 'Umar Ibn Kathir | Commentary on Q 3:37-38; printed pagination varies | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/katheer/sura3-aya37.html ; https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/katheer/sura3-aya38.html | نئی تحقیق: مریم علیہا السلام کے غیر معمولی رزق کو کراماتِ اولیا سے جوڑا گیا اور اسے زکریا علیہ السلام کی اولاد کی دعا کا فوری سبب بتایا گیا
Tafsir al-Tabari | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Commentary on Q 3:38; printed pagination varies | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/tabary/sura3-aya38.html | نئی تحقیق: مریم علیہا السلام کے غیر معمولی رزق کو کراماتِ اولیا سے جوڑا گیا اور اسے زکریا علیہ السلام کی اولاد کی دعا کا فوری سبب بتایا گیا
Tafsir al-Qurtubi | Muhammad ibn Ahmad al-Qurtubi | Commentary on Q 3:37-38; printed pagination varies | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/qortobi/sura3-aya37.html ; https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/qortobi/sura3-aya38.html | نئی تحقیق: مریم علیہا السلام کے غیر معمولی رزق کو کراماتِ اولیا سے جوڑا گیا اور اسے زکریا علیہ السلام کی اولاد کی دعا کا فوری سبب بتایا گیا
تصویری گیلری
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔