حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ

PER-000383 صحابی / صحابیہ مصدقہ صرف عمومی علاقہ معلوم مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
خبیب بن عدی الانصاری رضی اللہ عنہ مدینہ کے ابتدائی صحابہ میں سے تھے اور واقعۂ رجیع، مکہ میں اسیری و قید، اور حرم کی حدود سے باہر تنعیم میں شہادت کے باعث سب سے زیادہ معروف ہیں۔ صحیح بخاری مرکزی روایت محفوظ کرتی ہے: عاصم بن ثابت کی قیادت میں ایک مسلم جماعت کا بنو لحیان نے تعاقب کیا، اور امان کے وعدے کو قبول کرنے کے بعد خبیب اور زید بن الدثنہ گرفتار ہوئے، مکہ لے جائے گئے اور فروخت کر دیے گئے۔ دورانِ قید اس گھرانے کی ایک خاتون نے خبیب کو اپنے دیکھے ہوئے قیدیوں میں بہترین قرار دیا۔ ایک چھوٹا بچہ ان کے قریب آیا جبکہ ان کے ہاتھ میں استرا تھا تو انہوں نے خوف زدہ ماں کو یقین دلایا کہ وہ بچے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ اسی گواہ نے خبیب کو زنجیروں میں بندھے ہوئے انگور کا خوشہ کھاتے دیکھا، ایسے وقت میں جب مکہ میں ایسا پھل دستیاب نہیں تھا، اور اسے اللہ کی طرف سے رزق قرار دیا۔ پھانسی سے پہلے خبیب نے دو رکعت نماز کی اجازت مانگی، نماز مختصر رکھی تاکہ قاتل اسے خوف کی وجہ سے طول دینا نہ سمجھیں، پھر ثابت قدمی سے موت کا سامنا کیا۔ بخاری صراحت کرتی ہے کہ اسیری میں قتل کیے جانے سے پہلے دو رکعت پڑھنے کی سنتی مثال خبیب نے قائم کی۔ اس واقعے کے کئی اطرافی پہلو احتیاط سے بیان کرنے چاہییں۔ ابن سعد نے اُحد میں خبیب کی شرکت مضبوط طور پر درج کی ہے، مگر بدر میں شرکت متنازع ہے۔ بخاری اور ابن عبدالبر انہیں بدر میں حارث بن عامر کے قتل سے جوڑتے ہیں، جبکہ دمیاتی کی رائے، جسے بعد کے محدثین نے نقل کیا، یہ ہے کہ یہ مواد دوسرے صحابی خبیب بن یساف کے ساتھ خلط ہوا؛ ابن اثیر ایک اور روایت نقل کرتے ہیں جس میں حارث کی ہلاکت اُحد میں بتائی گئی ہے۔ رجیع مشن کا مقصد بھی مصادر میں مختلف ہے: بخاری اسے جاسوسی/اطلاعاتی مہم کے طور پر پیش کرتی ہے، جبکہ ابن اسحاق کی سیرت میں عضل اور قارہ کی درخواست پر بھیجے گئے معلمین کا ذکر ہے۔ خبیب کی شہادت یقینی ہے، مگر سال ۳ ہجری اور ۴ ہجری دونوں ملتے ہیں، اور کئی بڑے تواریخ و جدید ٹی ڈی وی خلاصہ ۴ ہجری/۶۲۵ء کو ترجیح دیتے ہیں۔ بعد کی روایات جسم کی بازیابی اور تدفین کے بارے میں مختلف ہیں، اس لیے تنعیم یقینی جائے شہادت ہے، تصدیق شدہ قبر نہیں۔
ولادت

خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کی درست تاریخِ پیدائش اور مقامِ پیدائش مراجعہ کیے گئے ابتدائی اور کلاسیکی مصادر میں مضبوط طور پر ثابت نہیں۔ ان کا نسب انہیں یثرب-مدینہ کے اوس سے وابستہ بنو جحجبا/بنو عمرو بن عوف کے انصاری ماحول سے جوڑتا ہے، مگر قبائلی نسبت بذاتِ خود کسی قطعی مقامِ پیدائش کا ثبوت نہیں۔ اُحد میں شرکت یا مہمِ رجیع کی زمانی ترتیب سے کوئی درست سالِ پیدائش اخذ نہیں کیا جانا چاہیے۔

وفات

خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ واقعۂ رجیع کے بعد مکہ کے حرم سے باہر تنعیم میں قیدی کی حیثیت سے قتل کیے گئے۔ پھانسی سے پہلے انہوں نے دو رکعت نماز کی اجازت مانگی، اور صحیح بخاری بیان کرتی ہے کہ قیدی کے قتل سے پہلے یہ دو رکعت پڑھنے کی مثال انہوں نے قائم کی۔ درست سال متنازع ہے۔ ابن عبدالبر اور بعض سیرت کی ترتیب رجیع کو ۳ ہجری میں رکھتی ہے، جبکہ ذہبی، ابن الجوزی، ابن اثیر اور ٹی ڈی وی اسلام انسائیکلوپیڈی اس واقعے اور خبیب کی وفات کو ۴ ہجری، تقریباً ۶۲۵ء، میں رکھتے ہیں۔ کوئی قطعی دن مضبوط طور پر ثابت نہیں۔ فوری قاتل کی شناخت میں بھی روایتی اختلاف ہے۔ بخاری ابو سروَعہ/عقبہ بن حارث کا نام لاتی ہے، جبکہ ابن اسحاق اور ابن سعد عقبہ کا یہ بیان محفوظ کرتے ہیں کہ کم عمری کے باعث ابو میسرہ نے نیزہ ان کے ہاتھ میں دے کر رہنمائی کی۔ یہ اختلاف اس مضبوط شہادت کو متاثر نہیں کرتا کہ خبیب اسیری کے بعد تنعیم میں شہید ہوئے۔

مدفن یا منسوب مقام

مقام کی نوعیت: مقامِ تدفین نامعلوم۔ خبیب کی جائے شہادت مضبوط طور پر مکہ کے حرم سے باہر تنعیم کے ساتھ منسوب ہے، مگر جائے شہادت کو تصدیق شدہ قبر نہیں بنایا جا سکتا۔ صحیح بخاری ان کے قتل کو بیان کرتی ہے مگر مقامِ تدفین متعین نہیں کرتی۔ بعد کی تاریخی روایات مختلف ہیں: بعض کے مطابق عمرو بن امیہ ضمری نے خبیب کا جسم اتار کر دفن کیا، جبکہ دوسری روایات میں جسم کے چھپ جانے یا تعاقب کرنے والوں کو دوبارہ نہ ملنے کا ذکر ہے۔ چونکہ یہ روایات کسی شناخت پذیر انفرادی قبر یا مستند موجودہ مزار کو ثابت نہیں کرتیں، اس لیے مقامِ تدفین نامعلوم ہی رہتا ہے۔ تنعیم صرف تاریخی جائے شہادت کے طور پر محفوظ ہے، تدفین کے ثبوت کے طور پر نہیں، اور کسی قبر کے نقاط یا مزار کے نقشہ جاتی مقام کا جواز نہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ ایک انصاری صحابی تھے جن کا تعلق اوس اور مدینہ کے بنو جحجبا/بنو عمرو بن عوف کے ماحول سے تھا۔ ابن سعد ان کا نسب خبیب بن عدی بن مالک بن عامر بن مجدعہ بن جحجبا نقل کرتے ہیں۔ اس بنا پر ان کے والد عدی بن مالک مضبوط طور پر معلوم ہیں، جبکہ مراجعہ کیے گئے مصادر ان کی والدہ، زوجہ یا اولاد کے نام قابلِ اعتماد طور پر نہیں بتاتے۔

ان کی ابتدائی زمانی زندگی صرف جزوی طور پر معلوم ہے۔ درست سنِ پیدائش یا صریح مقامِ پیدائش محفوظ نہیں۔ انصاری نسبت ان کا سماجی و قبائلی پس منظر یثرب-مدینہ کی برادری میں رکھتی ہے، مگر اسے قطعی جائے پیدائش نہیں بنایا جا سکتا۔

ابن سعد صراحت کرتے ہیں کہ خبیب اُحد میں شریک ہوئے۔ بدر سے ان کا تعلق کہیں زیادہ غیر یقینی ہے۔ صحیح بخاری کی روایتِ رجیع کہتی ہے کہ حارث بن عامر کے گھرانے نے خبیب کو اس لیے خریدا کہ انہوں نے بدر میں حارث کو قتل کیا تھا، اور ابن عبدالبر بھی انہیں اہلِ بدر میں شمار کرتے ہیں۔ اس کے مقابل ایک مخصوص کلاسیکی ہم نامی کی تصحیح موجود ہے: دمیاتی، جن کی بات عینی اور دیگر شارحین نے نقل کی، کہتے ہیں کہ بدر میں لڑنے والے خبیب بن یساف تھے، خبیب بن عدی نہیں۔ ابن اثیر حارث کی ہلاکت اُحد میں ہونے کی ایک دوسری روایت بھی محفوظ کرتے ہیں۔ اس لیے محفوظ ترین سوانح یہ ہے کہ بدر کی نسبت کو متنازع رکھا جائے، قطعی نہیں۔

خبیب کی محفوظ سوانح کا فیصلہ کن واقعہ مہمِ رجیع ہے۔ صحیح بخاری عاصم بن ثابت کی قیادت میں دس آدمیوں کی جماعت کو جاسوسی یا معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا بتاتی ہے۔ ابن اسحاق کی سیرت ایک مختلف صورت دیتی ہے کہ عضل اور قارہ کے لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے معلمین مانگے اور پھر اس مسلم جماعت کے ساتھ خیانت کی۔ دونوں سلسلے ہذیل کے بنو لحیان کی طرف سے رجیع کے قریب گھات لگانے اور بیشتر افراد کے قتل کے بعد خبیب اور زید بن الدثنہ کی گرفتاری پر متفق ہیں۔

بخاری کے مطابق خبیب اور زید نے امان کا وعدہ قبول کیا، پھر انہیں باندھا گیا، مکہ لایا گیا اور فروخت کیا گیا۔ خبیب حارث بن عامر سے متعلق ایک گھرانے کی تحویل میں آئے۔ ان کی اسیری نسبتاً تفصیل سے اس لیے محفوظ ہوئی کہ اس گھرانے کی ایک خاتون نے بعد میں اپنے ذاتی مشاہدات بیان کیے۔

ایک واقعہ اس استرے کا ہے جو خبیب نے وفات سے پہلے ذاتی صفائی کے لیے مانگا تھا۔ جب ایک چھوٹا بچہ ان کے پاس آیا اور استرا ان کے ہاتھ میں تھا تو بچے کی ماں کو خوف ہوا کہ شاید وہ بدلہ لینے کے لیے بچے کو نقصان پہنچائیں۔ خبیب نے اسے یقین دلایا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ اس گواہ نے بعد میں انہیں اپنے دیکھے ہوئے قیدیوں میں بہترین کہا؛ یوں کمزور بچے کے ساتھ ضبط اور اخلاق ان کے آخری ایام کی سب سے مضبوط اخلاقی شہادتوں میں سے بن گئے۔

اسی گواہ نے بتایا کہ خبیب زنجیر میں بندھے ہوئے انگور کا خوشہ کھا رہے تھے، ایسے وقت میں جب مکہ میں یہ پھل دستیاب نہیں تھا، اور اس نے اسے اللہ کا عطا کردہ رزق کہا۔ صحیح بخاری اس واقعے کو ایک سے زیادہ مقامات پر نقل کرتی ہے، مگر یہ الگ الگ معجزات نہیں بلکہ ایک ہی بنیادی واقعے کی متعدد روایتی جگہیں ہیں۔ اس لیے روایت کو عینی گواہ کے الفاظ تک محدود رکھنا چاہیے اور ماخذ، موسم، مقدار یا طریقۂ حصول کے بارے میں نئی تفصیل نہیں بڑھانی چاہیے۔

جب قتل کا وقت آیا تو خبیب کو مکہ کے حرم سے باہر حل کی طرف لے جایا گیا، جسے ابن سعد، ذہبی اور سیرت کے مواد میں تنعیم کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ وہاں قاتلوں نے انہیں قتل کرنے کی تیاری کی۔ خبیب نے موت سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت مانگی۔

نماز مکمل کرنے کے بعد خبیب نے واضح کیا کہ اگر انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ قاتل طویل نماز کو موت کے خوف کی وجہ سمجھیں گے تو وہ اسے زیادہ طویل کرتے۔ صحیح بخاری صراحت سے بیان کرتی ہے کہ اسیری میں قتل کیے جانے والے شخص کے لیے دو رکعت کی یہ روش سب سے پہلے انہوں نے قائم کی۔ روایات میں قاتلوں کے خلاف ان کی دعا اور یہ اشعار بھی محفوظ ہیں کہ جب وہ اللہ کی راہ میں مسلمان رہتے ہوئے مر رہے ہیں تو موت کس انداز سے آئے، انہیں پروا نہیں۔

ان کے قتل کے فوری عامل کے بارے میں معمولی اختلاف ہے۔ صحیح بخاری ابو سروَعہ یا ابو سروعہ، یعنی عقبہ بن حارث کو قاتل کہتی ہے۔ ابن اسحاق اور ابن سعد عقبہ ہی سے منقول ایک توضیح لاتے ہیں کہ وہ اس وقت کم عمر تھے اور ابو میسرہ نے نیزہ ان کے ہاتھ میں دے کر اسے چلانے میں رہنمائی کی۔ اختلاف فوری عمل کرنے والے پر ہے، خبیب کی شہادت پر نہیں۔

سالِ شہادت بھی تمام کلاسیکی مصادر میں یکساں نہیں۔ ابن عبدالبر اور بعض سیرت کی ترتیب واقعۂ رجیع کو ۳ ہجری میں رکھتی ہے۔ ذہبی، ابن الجوزی، ابن اثیر اور جدید ٹی ڈی وی اسلام انسائیکلوپیڈی اسے اور خبیب کی وفات کو ۴ ہجری، عموماً ۶۲۵ء کے برابر، قرار دیتے ہیں۔ کوئی قطعی دن ثابت نہیں۔

بعد کی تاریخی یادداشت میں خبیب کے جسم کے انجام کے بارے میں مزید روایات شامل ہوئیں۔ بعض کے مطابق عمرو بن امیہ ضمری، اور کچھ نسخوں میں ان کے ساتھ ایک اور صحابی، جسم اتار کر دفن کر گئے۔ دوسری روایات کہتی ہیں کہ جسم اتارے جانے کے بعد دوبارہ نہ ملا یا تعاقب کرنے والوں سے چھپ گیا۔ ان اختلافات سے کوئی یقینی اور شناخت پذیر قبر ثابت نہیں ہوتی۔

اس لیے خبیب کی اہمیت کسی مزار کی روایت پر منحصر نہیں۔ مضبوط ترین مصادر ایک ایسے صحابی کو محفوظ کرتے ہیں جنہوں نے قید میں ایک بے گناہ بچے سے انتقام نہیں لیا، وہ رزق پایا جسے ان کے قید رکھنے والے گھرانے کی خاتون نے غیر معمولی سمجھا، موت سے پہلے نماز کی اجازت مانگی اور قتل یقینی ہونے پر بھی ثابت قدم رہے۔ پھانسی سے پہلے ان کی دو رکعت نماز حدیث کی سطح پر واضح مثال بن گئی۔

ان کی سوانح تاریخی تنقیدِ مصادر کی بھی عمدہ مثال ہے۔ بدر سے متعلق بخاری کی معروف نسبت کے ساتھ ایک نام زد کلاسیکی اعتراض موجود ہے جو اسی نام کے دوسرے صحابی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ مشن کا مقصد، سال، فوری قاتل اور جسم کا انجام سب اپنے اپنے اختلافات رکھتے ہیں۔ ان امتیازات کو محفوظ رکھنا خبیب کی داستان کو کمزور نہیں کرتا؛ بلکہ ان کی شہادت کے یقینی مرکز کو ان تفصیلات سے الگ کرتا ہے جنہیں تاریخی ریکارڈ خود متنازع چھوڑتا ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ واقعۂ رجیع کے سب سے بہتر مستند شہداء میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ واقعہ مدینہ سے باہر ابتدائی مسلم مشنوں کو درپیش خطرات اور امان کے وعدے کی خلاف ورزی کے نتائج کو محفوظ کرتا ہے۔ جماعت کو بخاری کی طرح جاسوسی مہم سمجھا جائے یا سیرت کی روایت کی طرح معلمین، خبیب کی گرفتاری اور شہادت اس واقعے کے مرکزی عناصر رہتے ہیں۔

ان کا سب سے واضح تاریخی اثر قتل سے پہلے نماز ہے۔ صحیح بخاری کہتی ہے کہ خبیب نے اس قیدی کے لیے دو رکعت نماز کی مثال قائم کی جسے قتل کیا جانے والا ہو۔ یوں ان کا آخری عمل مسلم فقہی اور عبادتی یادداشت میں ایک ایسی پائیدار جگہ رکھتا ہے جو بعد کی عمومی مدح سے زیادہ مضبوط سند رکھتی ہے۔

اسی اسیری کی روایت میں ایک نمایاں اخلاقی نمونہ بھی محفوظ ہے۔ خبیب کو اس گھرانے کے ایک بچے کو نقصان پہنچانے کا عملی موقع تھا جو انہیں انتقامی قتل کے لیے قید کیے ہوئے تھا، مگر انہوں نے بچے کی ماں کو یقین دلایا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ واقعے کی عینی راوی خاتون نے انہیں ایک غیر معمولی اچھا قیدی یاد کیا۔

انگور کی روایت بھی ان کی یاد کا مستقل حصہ بن گئی۔ گھرانے کی گواہ نے انہیں زنجیروں میں بندھے ہوئے انگور کا خوشہ کھاتے دیکھا، اس وقت جب مکہ میں پھل دستیاب نہیں تھا، اور اس رزق کو اللہ کی طرف منسوب کیا۔ کلاسیکی شروح اسے غیر معمولی رزق کے طور پر محفوظ کرتی ہیں، مگر ذمہ دارانہ بیان میں بخاری کے متعدد مقامات کو الگ الگ معجزات نہیں بنایا جا سکتا اور نہ گواہ کی بیان کردہ حد سے باہر تفصیل بڑھائی جا سکتی ہے۔

ان کی موت جبر کے سامنے ثابت قدمی کی مثال بھی بن گئی۔ دو رکعت نماز، دعا اور پھانسی سے پہلے اشعار کی روایات نے بعد کی سیرت اور عبادتی یادداشت پر اثر ڈالا۔ بعد کی روایات نے مزید تقاریر، شعری مواد، جسم کی بازیابی اور نشانیوں کے قصے بھی شامل کیے، مگر ان تہوں کو مضبوط ترین حدیثی مرکز سے الگ رکھنا چاہیے۔

آخرکار خبیب کی سوانح دکھاتی ہے کہ صحابہ کی تاریخ میں درست شناخت کتنی اہم ہے۔ بدر کی متنازع نسبت ایک دوسرے صحابی خبیب بن یساف کے ساتھ الجھی ہوئی ہے۔ اس کلاسیکی ہم نامی کے اختلاف کو، اور ساتھ ہی تاریخ و تدفین کے اختلافات کو محفوظ رکھنے سے زیادہ درست سوانح سامنے آتی ہے، جبکہ خبیب بن عدی کی ثابت شدہ جرأت اور شہادت اپنی پوری قوت کے ساتھ برقرار رہتی ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

صحیح البخاری | محمد بن اسماعیل البخاری | حدیث 3989، کتاب 64، حدیث 40 | https://sunnah.com/bukhari:3989 | رجیع میں گرفتاری؛ فروخت اور اسیری؛ بچے اور استرے کے واقعے کی اخلاقی جہت؛ انگور/رزق؛ دو رکعت نماز؛ بدر/حارث نسبت؛ شہادت
صحیح البخاری | محمد بن اسماعیل البخاری | حدیث 4086، کتاب 64، حدیث 130 | https://sunnah.com/bukhari:4086 | رجیع/خبیب روایت کا متوازی مکمل مقام؛ انگور؛ نماز کی مثال؛ قتل؛ بدر کی نسبت
صحیح البخاری | محمد بن اسماعیل البخاری | حدیث 3045، کتاب 56 | https://sunnah.com/bukhari:3045 | قتل سے پہلے دو رکعت نماز؛ شہادت کا سیاق؛ خبیب کی مثال
صحیح البخاری | محمد بن اسماعیل البخاری | حدیث 4087، کتاب 64، حدیث 131 | https://sunnah.com/bukhari:4087 | مختصر روایت میں ابو سروَعہ/عقبہ بن حارث کو قاتل قرار دیتی ہے
سنن ابی داؤد | ابو داؤد السجستانی | حدیث 3112، کتاب 21، حدیث 24 | https://sunnah.com/abudawud:3112 | اسیری؛ حارث/بدر نسبت؛ استرا اور گھر کے بچے کو نقصان نہ پہنچانے کا واقعہ
صحیح ابن حبان | محمد بن حبان البستی | جلد 15، صفحہ 512، حدیث 7039؛ دکھائے گئے نسخے کی صفحات بندی | https://www.islamweb.net/ar/library/content/314/7047/ | رجیع، اسیری، انگور/رزق اور دو رکعت نماز کی مضبوط متوازی روایت
الطبقات الکبریٰ | محمد بن سعد | خبیب بن عدی کا اندراج؛ دکھائے گئے پورٹل میں روایات 5567-5572 | https://hadithportal.com/index.php?bab_id=249&book=80002&chapter_id=4&e=367&f=1&show=bab&sub_idBab=0 | مکمل نسب؛ اُحد میں شرکت؛ رجیع؛ تنعیم؛ اسیری کے گواہ؛ نماز؛ عقبہ/ابو میسرہ فوری عامل کا اختلاف
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب | ابن عبدالبر | جلد 2، باب خبیب، اندراج 632؛ صفحات بندی نسخے کے مطابق مختلف | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1080/672/ | بنو جحجبا/انصاری نسبت؛ بدر کی نسبت؛ ۳ ہجری کی تاریخ؛ گرفتاری اور شہادت
سیر اعلام النبلاء | شمس الدین الذہبی | جلد 1، صفحات 246-247، خبیب بن عدی | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/51/ | مختصر نسب؛ ابن سعد کا اُحد کا ذکر؛ رجیع؛ تنعیم میں قتل؛ شہادت کا تعارف
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری | بدر الدین العینی | جلد 17، مغازی کی روایتِ رجیع کی شرح؛ صفحات بندی ڈسپلے کے مطابق مختلف | https://www.islamweb.net/ar/library/content/303/16073/ | دمیاطی کی ہم نامی والی تنقید محفوظ کرتی ہے کہ بدر/حارث نسبت خبیب بن یساف کی ہو سکتی ہے
السیرۃ النبویۃ، ابن ہشام عن ابن اسحاق | عبدالملک بن ہشام | روایتِ رجیع، جلد 2، دکھائے گئے نسخے میں تقریباً صفحہ 174 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/58/1067/ | خیانت/تعلیمی مشن کی صورت؛ قتل کی یاد؛ عقبہ کے فوری عامل کی توضیح؛ سعید بن عامر کی بعد کی یاد
المنتظم فی تاریخ الملوک والامم | ابن الجوزی | جلد 3، صفحہ 210، سنہ 4 ہجری کے وفیات | https://www.islamweb.net/ar/library/content/421/425/ | مالک سمیت مکمل نسب؛ اُحد؛ اسیری؛ نماز؛ وفات ۴ ہجری میں رکھتا ہے
الکامل فی التاریخ | ابن الاثیر | جلد 2، سنہ 4 ہجری کے واقعات، رجیع | https://www.islamweb.net/ar/library/content/126/281/ | ۴ ہجری کی زمانی ترتیب؛ رجیع میں گرفتاری اور قتل؛ حارث کے اُحد میں مارے جانے کی ایک روایت
البدایہ والنہایہ | ابن کثیر | جلد 5، غزوۂ رجیع/مہمِ عمرو بن امیہ | https://www.islamweb.net/ar/library/content/59/333/ and https://www.islamweb.net/ar/library/content/59/334/ | جسم اتارنے/دفن کی بعد کی روایات اور ان کے اختلافات؛ کوئی جدید شناخت پذیر قبر ثابت نہیں ہوتی
فتح الباری بشرح صحیح البخاری | ابن حجر العسقلانی | جلد 7، صفحہ 443، روایتِ خبیب کی شرح | https://www.islamweb.net/ar/library/content/52/7413/ | قِطف کی لغوی وضاحت بطور خوشہ اور رزق کے الفاظ کی شرح
ٹی ڈی وی اسلام انسائیکلوپیڈی، خبیب بن عدی | م۔ یاشار قندمیر / مرکز تحقیقات اسلامی ٹی ڈی وی | برقی مقالہ؛ اشاعت 1998 | https://islamansiklopedisi.org.tr/hubeyb-b-adi | جدید علمی خلاصہ؛ خبیب بن عدی بن مالک الانصاری کی شناخت؛ وفات ۴/۶۲۵؛ تنعیم میں قتل اور جسم کی بازیابی کی روایات

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔