صحیح بخاری حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کی مکہ میں قید کے دوران ایک غیر معمولی چشم دید واقعہ محفوظ کرتی ہے۔ جس گھر میں انہیں قید رکھا گیا تھا وہاں کی ایک خاتون نے کہا کہ اس نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ وہ لوہے کی بیڑیوں میں بندھے ہوئے تھے، پھر بھی اس نے انہیں انگور کے ایک خوشے سے کھاتے دیکھا، حالانکہ اس وقت مکہ میں پھل موجود نہیں تھا۔ اسی چشم دید خاتون نے اس منظر کو اللہ کی طرف سے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے لیے عطا کردہ رزق قرار دیا۔ صحیح بخاری اسی بنیادی واقعے کو دو مقامات پر محفوظ کرتی ہے۔
جس خاندان کے پاس حضرت خبیب رضی اللہ عنہ قید تھے، اس گھر کی خاتون نے بعد میں ان کے اخلاق کے بارے میں غیر معمولی گواہی دی۔ اس نے کہا کہ اس نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ اسی گواہی میں وہ ایک خاص دن کا ذکر کرتی ہے جب حضرت خبیب رضی اللہ عنہ لوہے کی بیڑیوں میں بندھے ہوئے تھے۔
اس حالت میں اس نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو انگور کے ایک خوشے سے کھاتے ہوئے دیکھا۔ روایت فوراً اس منظر کی غیر معمولی نوعیت بھی واضح کرتی ہے: اس وقت مکہ میں پھل موجود نہیں تھا۔ متن یہ نہیں کہتا کہ کوئی شخص چپکے سے انگور پہنچا گیا تھا، نہ یہ کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے پہلے سے انہیں ذخیرہ کر رکھا تھا، اور نہ انہیں رزق پیدا کرنے کی کوئی مستقل طاقت دی جاتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ چشم دید خاتون خود اس منظر کی نسبت اللہ کی طرف کرتی ہے۔ وہ اسے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے لیے اللہ کا دیا ہوا رزق قرار دیتی ہے۔ یہی اس واقعے کا عقیدتی مرکز ہے۔ کرامت کا مطلب یہاں کسی صحابی کی ذاتی خود مختار قدرت نہیں، بلکہ ایسی حالت میں اللہ کی طرف سے رزق ملنا ہے جہاں اس کا معمولی سبب روایت بیان نہیں کرتی۔
صحیح بخاری یہی بنیادی واقعہ ایک سے زیادہ مقامات پر نقل کرتی ہے۔ ان دونوں مقامات کو دو الگ کرامات نہیں بنایا جانا چاہیے۔ وہ ایک ہی قید کے واقعے کی حدیثی تکرار ہیں۔ فتح الباری بعد میں الفاظ کی وضاحت اور بعض اضافی روایتی تفصیلات ذکر کرتی ہے، مگر وہ الگ چشم دید سند نہیں بنتی۔
طویل حدیث آگے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی قتل سے پہلے دو رکعت نماز، دعا اور شہادت کا ذکر بھی کرتی ہے، اور حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے جسم کی حفاظت کا الگ واقعہ بھی اسی بڑے تاریخی بیان میں آتا ہے۔ یہ سب اہم ہیں، مگر اس امیدوار میں انہیں انگور کے واقعے کے ساتھ نہیں ملانا چاہیے۔ یہاں شناخت صرف یہ ہے کہ قید اور لوہے کی پابندی میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس انگور کا خوشہ دیکھا گیا، اس وقت مکہ میں پھل موجود نہیں تھا، اور چشم دید گواہ نے اسے اللہ کی طرف سے عطا کردہ رزق کہا۔
خلاصۂ نتیجہ
حیثیتِ واقعہ: یہ صحیح بخاری کی صریح روایت پر قائم اعلیٰ اعتماد والی صحابی کی کرامت ہے۔ محفوظ مرکز یہی ہے کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ قید اور لوہے کی پابندی میں تھے، ایک چشم دید خاتون نے انہیں ایسے وقت انگور کے خوشے سے کھاتے دیکھا جب مکہ میں پھل موجود نہیں تھا، اور اسی نے اسے اللہ کا دیا ہوا رزق قرار دیا۔ مضبوط ترین اشاعت اس رزق والے منظر کو بعد کی نماز، شہادت اور حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے الگ واقعے سے جدا رکھتی ہے۔