حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ

PER-000410 صحابی / صحابیہ مصدقہ منسوب مقام مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
تمیم داری رضی اللہ عنہ، ابو رقیہ، بنو دارِ لخم کے صحابی تھے جنہوں نے ۹ھ میں اسلام قبول کیا۔ کلاسیکی سوانح نگار انہیں پہلے مدینہ اور پھر شام میں مقیم بتاتے ہیں، جبکہ علم الرجال کے اہم مصادر خصوصاً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کی بعد کی رہائش کو بیت المقدس سے جوڑتے ہیں۔ حدیث کے باب میں ان کی روایتیں نہایت اہم ہیں۔ صحیح مسلم میں انہی سے بنیادی تعلیم «الدین النصیحہ» مروی ہے، جس میں دین کو اللہ، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے ائمہ اور عام مسلمانوں کے لیے اخلاص، خیر خواہی اور وفاداری سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سنن ابی داود میں تمیم، عدی بن بداء اور بنو سہم کے ایک شخص کے سفر اور ترکے کے تنازعے کی روایت بھی محفوظ ہے اور اسے قرآن ۵:۱۰۶ میں سفر کے دوران موت کے قریب گواہی کے حکم سے صراحتاً مربوط کیا گیا ہے۔ تمیم داری رضی اللہ عنہ کی سب سے امتیازی صحیح روایت صحیح مسلم ۲۹۴۲ میں جساسہ اور دجال کا واقعہ ہے۔ اسلام سے پہلے وہ عیسائی تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ لخم اور جذام کے مردوں کے ساتھ سمندری سفر میں ایک جزیرے تک پہنچے، جہاں جساسہ نامی مخلوق اور سختی سے بندھے ہوئے ایک شخص سے ملاقات ہوئی جس نے خود کو دجال بتایا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کیا اور تمیم کی خبر علانیہ بیان کی کیونکہ وہ دجال، مکہ اور مدینہ کے بارے میں آپ کی پہلے سے دی ہوئی تعلیم کے موافق تھی۔ کلاسیکی رجال نگاروں نے اسے ایک غیر معمولی صورت قرار دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمیم سے حاصل ہونے والی موافق خبر لوگوں تک پہنچائی۔ بعد میں تمیم عبادت، تلاوتِ قرآن، وعظ اور فلسطین کی مذہبی تاریخ سے وابستہ ہوئے، جس میں خطۂ الخلیل کی زمین اور وقف کی طویل روایت بھی شامل ہے۔ حَرّہ کی آگ سے متعلق ایک کرامت بھی ابتدائی کلاسیکی مصادر میں موجود ہے، مگر ذہبی واضح کرتے ہیں کہ اس کے راوی معاویہ بن حرمل معروف نہیں؛ اس لیے یہ واقعہ صحیح نہیں بلکہ کمزور تائید والی کلاسیکی کرامت کی روایت رہتا ہے۔ ان کی وفات عموماً ۴۰ھ میں رکھی جاتی ہے۔ بیت جبرین میں ایک قدیم مقام ان سے منسوب ہے، لیکن عین قبر کی آزادانہ توثیق نہیں ہوئی اور جدید نقشوں کے متعارض مقامات اب تک حل طلب ہیں۔
ولادت

زیرِ جائزہ کلاسیکی شواہد میں تمیم داری رضی اللہ عنہ کی کوئی قطعی تاریخِ پیدائش یا سالِ پیدائش محفوظ طور پر ثابت نہیں۔ ان کی شناخت تمیم بن اوس بن خارجہ الداری اللخمی کے طور پر ان کی پیدائشی زمانی ترتیب سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ کلاسیکی مصادر ان کے قبولِ اسلام کو ۹ھ میں رکھتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس سے پہلے وہ عیسائی تھے۔ اس لیے جدید تقویم کے مطابق کوئی قطعی تاریخِ پیدائش ازسرنو قائم نہیں کی جانی چاہیے۔

وفات

اہم کلاسیکی زمانی ترتیب تمیم داری رضی اللہ عنہ کی وفات ۴۰ھ میں رکھتی ہے۔ ابن الجوزی انہیں اسی سال وفات پانے والی نمایاں شخصیات میں شمار کرتے ہیں، اور بعد کی کلاسیکی سوانحی کتابیں بھی یہی عمومی ترتیب محفوظ کرتی ہیں۔ قطعی دن یا مہینہ معتبر طور پر ثابت نہیں۔ ان کی آخری زندگی کا فلسطین اور بیت المقدس سے تعلق مضبوط ہے، لیکن زیرِ جائزہ شواہد اس وسیع علاقائی پس منظر سے آگے کوئی قطعی مقامِ وفات متعین نہیں کرتے۔

مدفن یا منسوب مقام

مقام کی نوعیت: منسوب تدفینی مقام؛ عین قبر کی آزادانہ توثیق نہیں ہوئی۔ ایک دیرینہ مقامی روایت الخلیل کے مغرب میں تاریخی بیت جبرین کی ایک مسجد اور مقام کو تمیم داری رضی اللہ عنہ سے منسوب کرتی ہے۔ موجودہ فلسطینی ورثہ دستاویزات اس مقام میں ایک ایسی قبر کا ذکر کرتی ہیں جو ان سے منسوب ہے، اور آزاد تصویری ذخائر بھی اسی نام کے مقام کے وجود کی تصدیق کرتے ہیں۔ فلسطین، بیت المقدس اور خطۂ الخلیل سے تمیم کا وسیع تاریخی تعلق مضبوط ہے، لیکن زیرِ جائزہ کلاسیکی سوانحی شواہد موجودہ انفرادی قبر کو ان کی اصل قطعی قبر کے طور پر آزادانہ طور پر ثابت نہیں کرتے۔ موجودہ نقشہ جاتی مآخذ اسی نام کے مقام کو کئی سو میٹر کے فرق سے دکھاتے ہیں۔ اس اختلاف کے حل ہونے تک عین مقام کے بارے میں قطعی نقشہ جاتی دعویٰ مناسب نہیں؛ اس لیے بیت جبرین میں منسوب مقام کی نسبت محفوظ رکھی گئی ہے، جبکہ درست نقطہ مزید تطبیق کا محتاج ہے۔

سوانح و تاریخی تعارف

تمیم داری رضی اللہ عنہ بنو دار سے تعلق رکھنے والے صحابی تھے، اور بنو دار لخم کی ایک شاخ تھی۔ ان کی کنیت ابو رقیہ تھی۔ کلاسیکی سوانح انہیں تمیم بن اوس بن خارجہ کے نام سے شناخت کرتی ہیں اور ۹ھ میں ان کے قبولِ اسلام کو محفوظ کرتی ہیں۔

ابتدا میں وہ مدینہ میں رہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد بڑی سوانحی روایت انہیں شام میں رکھتی ہے، اور مِزّی خاص طور پر ان کی بعد کی رہائش کو بیت المقدس سے جوڑتے ہیں۔ اس لیے فلسطین سے ان کا تعلق صرف بعد کی مزاری روایت نہیں بلکہ ان کی بنیادی تاریخی سوانح کا حصہ ہے۔

ان کا خاندانی ریکارڈ نسبتاً واضح ہے۔ ان کے والد اوس بن خارجہ تھے۔ والدہ کا ذاتی نام معتبر طور پر معلوم نہیں، اگرچہ مِزّی ابو ہند داری کو ان کا مادری بھائی بتاتے ہیں۔ کسی زوجہ کی شناخت اتنی محفوظ نہیں کہ اسے عوامی تعارف میں قطعی طور پر پیش کیا جائے۔

تمیم داری رضی اللہ عنہ کی واحد محفوظ طور پر ثابت شدہ اولاد بیٹی رقیہ تھی۔ ابن عبدالبر بیان کرتے ہیں کہ ابو رقیہ کی کنیت انہی کی وجہ سے تھی اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے علاوہ کوئی دوسری اولاد نہ تھی۔ مِزّی الگ طور پر محفوظ کرتے ہیں کہ تمیم کا کوئی بیٹا نہ تھا اور صرف بیٹی رقیہ تھی۔ یوں صفر بیٹے اور ایک بیٹی کا نتیجہ غیر معمولی طور پر مضبوط شہادت رکھتا ہے۔

تمیم داری رضی اللہ عنہ کی اہم ترین صحیح روایات میں صحیح مسلم ۵۵ کی حدیث «الدین النصیحہ» ہے۔ اس میں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مختصر مگر جامع تعلیم نقل کرتے ہیں کہ دین اللہ، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے پیشواؤں اور عام مسلمانوں کے لیے اخلاص، خیر خواہی اور خیر اندیشی ہے۔ یہ حدیث اسلامی اخلاق کی بڑی بنیادی تعلیمات میں شمار ہوئی۔

تمیم داری رضی اللہ عنہ کا قرآن ۵:۱۰۶ کے قانونی پس منظر سے بھی براہِ راست تعلق ہے۔ سنن ابی داود ۳۶۰۶ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تمیم اور عدی بن بداء کا واقعہ محفوظ ہے جو بنو سہم کے ایک شخص کے ساتھ سفر میں تھے۔ وہ شخص ایسی جگہ فوت ہوا جہاں کوئی مسلمان موجود نہ تھا، پھر ترکے میں سے ایک قیمتی پیالہ گم پایا گیا، اور یہ تنازع سفر میں موت کے قریب گواہی کے قرآنی احکام سے متعلق ہو گیا۔

اس قانونی واقعے کی سب سے مضبوط صورت خود صحیح درجے کی ابو داود کی روایت ہے۔ دوسرے طرق میں آنے والی زیادہ تفصیل کو خود بخود اسی درجے کی قوت نہیں دی جانی چاہیے۔ محفوظ بات یہ ہے کہ تمیم کا واقعہ سفر کے دوران گواہی سے متعلق قرآنی حکم کے معروف تاریخی پس منظر میں شمار ہوا۔

ان کا سب سے مشہور ذاتی واقعہ صحیح مسلم ۲۹۴۲ میں آتا ہے۔ اسلام سے پہلے تمیم عیسائی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لخم اور جذام کے تیس مردوں کے ساتھ ایک طویل مدت تک سمندر میں بہتے رہے، پھر ایک جزیرے تک پہنچے۔

وہاں انہیں جساسہ نامی مخلوق ملی، جس نے انہیں ایک سختی سے بندھے ہوئے شخص کی طرف رہنمائی کی۔ اس شخص نے مختلف مقامات اور حالات کے بارے میں سوال کیے اور نبی کے ظہور کے متعلق پوچھا۔ پھر اس نے خود کو دجال بتایا اور اپنے آئندہ نکلنے کا ذکر کیا، جبکہ مکہ اور مدینہ اس سے محفوظ رہیں گے۔

روایت اس جزیرے کو کسی موجودہ جدید مقام کے ساتھ قابلِ اعتماد طور پر متعین نہیں کرتی۔ اس لیے اس کے جغرافیائی الفاظ کو اسی طرح رہنے دینا چاہیے جیسے روایت میں آئے ہیں، انہیں قیاسی جدید نقاطِ مقام میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔

اس واقعے کا سب سے غیر معمولی پہلو تمیم کی واپسی کے بعد سامنے آتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کیا اور تمیم کی خبر علانیہ بیان کی کیونکہ وہ دجال کے بارے میں آپ کی پہلے سے دی گئی تعلیم کے مطابق تھی۔ مِزّی اور ابن عبدالبر جیسے کلاسیکی رجال نگاروں نے اسے ایک امتیازی طریقۂ روایت کے طور پر ذکر کیا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمیم سے ملنے والی موافق خبر بیان فرمائی۔

تمیم داری رضی اللہ عنہ ایک سنجیدہ عبادت گزار اور قاریِ قرآن کے طور پر بھی یاد کیے گئے۔ کلاسیکی سوانح نگار طویل قیامِ شب اور کثرتِ تلاوت کی روایات نقل کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ تمیم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بار بار لوگوں کو دینی نصیحت کرنے کی اجازت مانگی، پھر انہیں قرآن پڑھنے، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی اجازت دی گئی؛ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں اس معمول کے بڑھنے کی بھی روایت ہے۔

فلسطین میں ان کی اہمیت صرف سکونت تک محدود نہیں رہی۔ کلاسیکی مصادر خطۂ الخلیل کی بعض آبادیوں کے بارے میں ایک نبوی عطیے یا وعدے کی روایت محفوظ کرتے ہیں جو مسلم اقتدار قائم ہونے کے بعد نافذ ہونا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ تمیمی وقف کی مضبوط روایت سے جڑ گیا، اور جامعہ الخلیل کے مطالعے میں ۱۵۳۸ کے یروشلم شرعی عدالت کے ایک دستاویز سے اس وقف کی حدود کے بعد کے دستاویزی شواہد محفوظ ہیں۔

کم درجے کی ایک کرامت کی روایت تمیم داری رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حَرّہ سے نکلنے والی آگ کے واقعے سے جوڑتی ہے۔ لالکائی، بیہقی، ابو نعیم اور بعد میں ابن کثیر ایسی روایات محفوظ کرتے ہیں جن میں تمیم نے آگ کو گھاٹی یا غار کی طرف موڑ دیا۔ یہ روایت قدیم ہے اور مناقب و کرامات کے لٹریچر میں نمایاں طور پر منتقل ہوئی، لیکن ذہبی صراحت کرتے ہیں کہ راوی معاویہ بن حرمل معروف نہیں۔ اس لیے اسے واضح سندی کمزوری کے ساتھ ایک ابتدائی کلاسیکی کرامت کی روایت ہی کہا جائے، صحیح نبوی حدیث نہیں۔

کلاسیکی زمانی ترتیب عموماً تمیم داری رضی اللہ عنہ کی وفات ۴۰ھ میں رکھتی ہے۔ مقامی دیرینہ روایت تاریخی بیت جبرین، جو الخلیل کے مغرب میں ہے، کی ایک مسجد اور مقام کو ان سے منسوب کرتی ہے، اور موجودہ فلسطینی ورثہ دستاویزات بھی وہاں ایک قبر کو تمیم داری رضی اللہ عنہ سے منسوب بتاتی ہیں۔ فلسطین، بیت المقدس اور خطۂ الخلیل سے ان کا وسیع تاریخی تعلق مضبوط ہے، مگر موجودہ مخصوص قبر کو ان کی اصل انفرادی قبر ثابت کرنے والی آزادانہ ابتدائی توثیق نہیں۔ جدید نقشہ خدمات بھی مقام کے عین نقطے پر نمایاں اختلاف رکھتی ہیں، اس لیے یہ تضاد محفوظ طور پر حل ہونے سے پہلے کوئی قطعی قبر کا نقطۂ مقام درج نہیں کیا جانا چاہیے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

تمیم داری رضی اللہ عنہ تاریخی طور پر اس صحابی کی حیثیت سے اہم ہیں جن کی میراث میں صحیح حدیث، قرآنی قانونی پس منظر، آخرت و فتن سے متعلق گواہی اور فلسطین کی ابتدائی اسلامی مذہبی تاریخ ایک ساتھ جمع ہوتی ہیں۔ صرف «الدین النصیحہ» کی روایت ہی انہیں اسلامی اخلاقی زبان میں مستقل مقام دیتی ہے۔

جساسہ اور دجال کی ان کی روایت اس سے بھی زیادہ منفرد ہے۔ صحیح مسلم نہ صرف تمیم کا بیان محفوظ کرتا ہے بلکہ یہ بھی بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لوگوں کے سامنے اس لیے دہرایا کہ وہ پہلے سے دی گئی نبوی تعلیم کے مطابق تھا۔ کلاسیکی رجال نگاروں نے اس طریقۂ روایت کو تمیم کی خاص امتیازی خصوصیات میں شمار کیا۔

سفر اور ترکے کا واقعہ انہیں قرآنی قانونی تاریخ میں ایک ٹھوس مقام دیتا ہے۔ صحیح ابو داود کی روایت کے ذریعے تمیم کا واقعہ قرآن ۵:۱۰۶ اور سفر کے دوران موت کے قریب گواہی کے قانون سے مربوط ہوا۔ یہ محض عمومی نسبت نہیں بلکہ متن اور تاریخی واقعے کا حقیقی تعلق ہے۔

بیت المقدس کی طرف ان کی منتقلی اور خطۂ الخلیل کی زمین سے متعلق روایت نے انہیں فلسطین کی اسلامی تاریخ میں بھی اہم بنایا۔ تمیمی وقف کے بعد کے دستاویزی شواہد دکھاتے ہیں کہ صحابی دور سے منسوب یہ روایت کئی صدیوں تک قانونی اور اجتماعی یادداشت پر اثر انداز ہوتی رہی۔

حَرّہ کی آگ کا واقعہ طریقۂ تحقیق کے اعتبار سے اس لیے اہم ہے کہ یہ عبادتی و مناقبی یادداشت کو محفوظ رکھتے ہوئے حدیث کے درجات کو برابر کر دینے سے بچنے کی مثال پیش کرتا ہے۔ متعدد ابتدائی کلاسیکی کتابیں یہ کرامت نقل کرتی ہیں، مگر نامعلوم راوی کے بارے میں ذہبی کی واضح تنبیہ اسے تمیم کی صحیح روایات کے درجے تک پہنچانے سے روکتی ہے۔

آخر میں بیت جبرین کا مقام تاریخی طور پر معنی خیز مزاری نسبت اور ثابت شدہ قبر کے فرق کو واضح کرتا ہے۔ تمیم کی بعد کی زندگی کا فلسطینی تعلق مضبوط ہے، جبکہ عین مدفن کا مقام غیر یقینی رہتا ہے۔ دونوں باتوں کو ساتھ محفوظ کرنا ان کی تاریخی اور عقیدتی یادگار کا زیادہ درست بیان فراہم کرتا ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Sunan Abi Dawud | Abu Dawud al-Sijistani | Hadith 3606, Book of Judgments | https://sunnah.com/abudawud:3606 | صحیح درجے کی روایت جو تمیم اور عدی بن بداء کے سفر و ترکے کے مقدمے کو قرآن 5:106 کے گواہی والے پس منظر سے جوڑتی ہے
The Qur'an | Revelation of Allah | al-Ma'idah 5:106-108 | https://quran.com/5/106-108 | سفر میں موت کے قریب گواہی کا قانونی متن؛ صحیح ابو داود کی روایت کے ذریعے تمیم کے مقدمے سے مربوط
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 55a, Book of Faith | https://sunnah.com/muslim:55a | تمیم سے بنیادی حدیث «الدین النصیحہ» مروی ہے
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 55b-55c | https://sunnah.com/muslim:55b | تمیم کی «الدین النصیحہ» روایت کے متوازی صحیح طرق
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 2942a, Book of Tribulations | https://sunnah.com/muslim:2942a | جساسہ اور دجال کا مکمل واقعہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تمیم کی خبر کو موافق شہادت کے طور پر علانیہ بیان کرنا
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 2942d | https://sunnah.com/muslim:2942d | مختصر مستقل طریق جو صراحت کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمیم نے سمندر اور جزیرے کا واقعہ بیان کیا تھا
Al-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Ibn Abd al-Barr | entry 235, Tamim al-Dari | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1080/260/ | نسب، ابو رقیہ کنیت، رقیہ بطور واحد اولاد، 9ھ میں اسلام، پہلے مدینہ پھر شام
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Jamal al-Din al-Mizzi | Vol. 4, pp. 327-328, entry 800 | https://islamweb.net/ar/library/content/1001/845/ | مکمل شناخت، بیت المقدس میں رہائش، راویان، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تمیم سے جساسہ کی خبر بیان کرنا، کوئی بیٹا نہیں اور صرف بیٹی رقیہ
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 2, Tamim al-Dari entry | https://islamweb.net/ar/library/content/60/220/ | عبادت، عوامی وعظ، فلسطین اور زمین کی روایات، اور آگ کے واقعے میں معاویہ بن حرمل کی سند پر صریح تنبیہ
Dala'il al-Nubuwwa | Abu Bakr al-Bayhaqi | Vol. 6, chapter on karamah of Tamim al-Dari | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1005/2063/ | معاویہ بن حرمل کے ذریعے حَرّہ کی آگ کی روایت کی ابتدائی کلاسیکی نقل
Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna | Abu al-Qasim al-Lalaka'i | Vol. 9, pp. 170-171, karamat of Tamim | https://www.islamweb.net/ar/library/content/110/222/ | منصوبے کے CAND-0136 میں تمیم کی کرامت کے لیے قدیم ترین ماخذی طبقہ
Dala'il al-Nubuwwa | Abu Nu'aym al-Isfahani | Vol. 2, section on what appeared through Tamim | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1032/537/ | حَرّہ کی آگ کے مواد کی مستقل کلاسیکی حفاظت
Al-Bidaya wa al-Nihaya | Isma'il ibn Umar Ibn Kathir | Vol. 9, Karamah of Tamim al-Dari | https://islamweb.net/ar/library/content/59/643/ | بیہقی کے حَرّہ کی آگ والے بیان کی بعد کی کلاسیکی نقل
Al-Muntazam fi Tarikh al-Muluk wa al-Umam | Ibn al-Jawzi | Vol. 5, notable deaths of 40 AH | https://www.islamweb.net/ar/library/content/421/810/ | تمیم کی سوانح اور 40ھ کی وفیات میں ان کا ذکر
Fath al-Bari Sharh Sahih al-Bukhari | Ahmad ibn Hajar al-Asqalani | Book of Inheritance commentary, Tamim notice | https://www.islamweb.net/ar/library/content/52/12383/ | تمیم کے فضائل، بیت المقدس میں رہائش، زمین عطیہ کی روایت اور 40ھ میں وفات
Hebron University Journal for Research | Shawkat Ramadan Hijjeh | Vol. 13, Issue 1 (2018), Tamim al-Dari endowment study | https://www.hebron.edu/index.php/en/hurj-b/a-natural-sciences/33-v13-1/336-v13-1-6en.html | 1538 کی یروشلم شرعی عدالت کی دستاویز کا مطالعہ جس میں تمیمی وقف کی حدود بیان ہیں
Palestinian Heritage Encyclopedia | heritage documentation project | Mosque and Maqam of Companion Tamim al-Dari, Bayt Jibrin | https://palturath.com/ar/article/582/ | بیت جبرین کی مسجد اور مقام کی موجودہ ورثہ دستاویزات، جن میں ایک قبر تمیم سے منسوب ہے
Wikimedia Commons | photographic archive | Category: Makam Sheikh Tamim | https://commons.wikimedia.org/wiki/Category:Makam_Sheikh_Tamim | موجودہ نامزد بیت جبرین مقام کی آزاد تصویری دستاویز
Muslim Maps | current heritage mapping service | Grave of Tamim al-Dari, Bayt Jibrin/Hebron | https://muslimmaps.app/palestine/places/grave-of-tamim-al-dari | موجودہ نقشہ جاتی نسبت؛ عین مقام PERSON-V4 میں اس لیے محفوظ نہیں کیا گیا کہ وہ پرانے براہِ راست میدانی سروے کے نقطے سے متعارض ہے
Project Miracle Master Person Map | Internal project registry | CAND-0136 / SAH-KAR-0034 | internal project Library | حَرّہ کی آگ کے واقعے کو PER-000410 تمیم داری سے جوڑتا ہے اور لالکائی کو قدیم ترین ماخذی طبقے کے طور پر درج کرتا ہے

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔